سلام وعلیکم محترم قارٸیں کیسے ہیں سب امید کرتے ہیں کہ کہانی کا سب بھرپور مزے لے رہے ہوںگے ہماری ایک محترمہ پیچ فین کو ایک کہانی نہیں مل رہی تھی تو ان ک خواہش پر یہ کہانی پوسٹ ہو رھی اس کہانی کا اصل نام انوکھا حادثہ ھے جو کہ بہت سے لوگوں نے چیج کر کے پتا نہیں کیا کیا رکھا ہوا تھا تو یہ کہانی دوبارہ پوسٹ کی جا رہی تا کہ سب پڑھ لیں
فہرست
انوکھا حادثہ
قسط 1
زندگی میں آنے والے لمحات کیا سے کیا بنا دیتے ہیں اس بارے ہم نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوتا ۔ زندگی اپنے اچھے برے رنگوں کے ساتھ گزرتی جاتی ہے ہر دن اگلے دن کو جنم دیتا ہے اور ہر کہانی اگلی کہانی کو جنم دیتی ہے ۔ ہمارے ارد گرد ہزاروں لاکھوں چہرے ہیں ہر چہرے کے پیچھے ایک کہانی چھپی ہے اور ہم ہر وہی کہانی پسند کرتے ہیں جس سے ہمارا خمیر گندھا ہو جس میں ہمیں دلچسپی ہو۔ ایسے ہی ایک کردار سے میں اس کہانی میں آپ کو ملانے جا رہی ہوں اور جس پہ بیتی ہوتی ہے وہی جانتا ہے حقیقت کیا ہے ہر کسی کی اپنی سوچ ہوتی ہے ۔ تو چلتے ہیں کہانی کی طرف۔
مرا نام ناصر ہے اور میرا تعلق ایک مڈل کلاس فیملی سے ہے امی ابو دونوں سرکاری ملازم ہیں اور ہم تین بہنیں اور ایک بھائی ہیں مجھ سے بڑی دو بہنیں نصرت اور فائزہ پھر میں اور میری بعد فروا جو سب سے چھوٹی ہے ۔ بڑی دو بہنوں کی شادی ہو چکی اور میری بھی ، وہ اپنے اپنے گھر کی ہو چکی گھر میں امی ابو اور میں میری بیوی اور فروا ہوتے ہیں یہ کہانی اس وقت سے شروع ہوتی ہے ۔ اس سے پہلے کی زندگی ایک سادہ زندگی تھی جس میں کوئی بھی غلطی شامل نہ تھی، سکول سے کالج یونیورسٹی اور پھر شادی سارا کچھ ایک دم ہی ہو گیا میں نے بھی زندگی میں کبھی کسی خرابی کی طرف بڑھنے کی کوشش نہیں کی ۔ تعلیم کے سولہ سال گزرنے کے بعد میری فورا سے نوکری بھی لگ گئی اس کے لیے میرے ابو کی بھرپور کوشش رہی اور میری نوکری لگتے ہی میری شادی کرا دی گئی جیسا کہ زیادہ تر گھروں میں یہی ہوا کرتا ہے ۔ میری جب شادی ہوئی جب میری عمر تقریبا تئیس سال تھی اور میری بیوی یعنی حنا کی عمر اٹھارہ سال تھی اور میری بہن فروا کی عمر سولہ سال تھی۔ میری بیوی ایک معصوم اور سادہ طبعیت کی ہے اور فروا اتنی ہی شرارتی اور نٹ کھٹ سی تو اس کے باوجود ان دونوں میں گہری دوستی ہو گئی اور زندگی اپنی تمام تر خوشیوں کے ساتھ گزرنے لگی ۔ ایک دن میں تقریبا دو بجے گھر میں داخل ہوا تو گرمی کا موسم اور شائد مئی کا مہینہ تھا میں جیسے ہی گھر داخل ہوا تو گھر میں خاموشی تھی میں نے یہی سوچا کہ سب سو چکے ہوں گے تو اپنے کمرے کی طرف بڑھتا گیا ہمارا گھر دو منزلہ ہے دو بیڈ روم ڈرائنگ روم کچن اور لاونج نیچے جبکہ تین بیڈ روم اوپر اور ہر کمرے کے ساتھ الگ باتھ روم بھیہیں میں اور حنا اوپر کے پورشن میں رہتے تھے امی ابو نیچے ایک روم میں اور دوسرے میں فروا ہوتی تھی ۔ تو میں لاونج سے گزرا تو مجھے کچن میں کچھ آواز آئی جیسے کسی نے برتن اٹھا کہ رکھے ہوں میں دبے قدموں کچن کی طرف بڑھا میرا ارادہ تھا کہ جو بھی کچن میں ہو گی اسے ڈراوں گا ۔ فروا اور حنا تقریبا ایک جیسی ہی تھیں تب تک میں نے ان پہ اتنا غور نہیں کیا تھا بیوی کا تو ظاہر ہے سارا جسم دیکھ چکا تھا مگر بہن کیسی دکھتی ہے یہ کبھی سوچا تک نہ تھا کہ عام طور پہ ایسی سوچ کو گندگی اور غلاظت ہی سمجھا جاتا ہے اور ایسا ہی ہے ۔ میں جب کچن کے دروازے میں پہنچا تو مجھے لگا کہ حنا برتن دھو رہی ہے اور اس کی پشت میری طرف ہے اس نے وہی کپڑے پہنے ہوئے تھے جو وہ ایک دن قبل پہنے ہوئی تھی لیکن رات کی گرمجوشی کے بعد صبح اس نے کپڑے بدل لیے تھے اور پرانے کپڑوں میں اسے دیکھ کر مجھے یہی خیال آیا کہ اس نے یہی دوبارہ کیوں پہنے ہوں گے ۔ میں دبے قدموں آگے ہوا اور ہاتھ کو تیزی سے اس کے کولہوں کے درمیان گھسا دیا میں نے یہی سمجھا تھا کہ حنا ہی ہو گی اور میرا ہاتھ لگنے سے وہ پیچھے مڑے گی تو اسے بازووں میں بھر لوں گا لیکن جیسے ہی میرا ہاتھ کولہوں کے درمیان لگا مجھے لمحے کے ہزارویں حصے میں یہ علم ہو گیاکہ یہ کم ازکم حنا نہیں ہے ۔ ادھر میرا ہاتھ اپنے کولہوں میں لگتا محسوس کر کہ جیسے ہی اس کے منہ سے اوئی کی آواز نکلی اور وہ بجلی کی تیزی سے پیچھے مڑی تو میں تو جیسے کاٹو تو لہو نہں ایک دم ساکت حیران اور پریشان ہو گیا اور وہ بھی کیونکہ وہ فروا تھی مجھے دیکھتے ہی اس کا چہرہ بھی سرخ ہو گیا اور آنکھیں نیچے جھک گئیں ، مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی ہکلاتے ہوئے میرے منہ سے یہی نکلا سس سوری یہ کپڑے تو حنا کے تھے ہم دونوں بہن بھائی کی حالت بہت خراب ہو چکی تھی اور فروا کے بھی ہاتھ پاوں کانپ رہے تھے ۔ ہم دونوں خاموش کھڑے تھے کہ سمجھ ہی نہں آ رہی تھی کہ بات کیا کی جائے ۔ فروا زمین کی طرف دیکھ رہی تھی اور ہولے ہولے کانپ رہی تھی میں بھی پوری طرح بوکھلا چکا تھا میں نے پھر کہا سوری فری مجھے لگا کہ حنا ہے کہ کپڑے اس کے تھے، میں نے اس کی طرف دیکھا لیکن فروا نے آنکھیں زمین پہ رکھتے ہی جواب دیا کوئی بات نہیں بھیا لیکن آپ یہ غور کر لو کہ ہم میں بہت فرق ہے یہ غلطی پھر نہ ہو جائے۔ میں فروا کی بات سن کر بہت شرمندہ ہوا اور اسے سوری کہتا ہوا تیزی سے کچن سے باہر نکل گیا ۔ میں اسی طرح بوکھلایا ہوا اوپر کمرے کی طرف بھاگا کہ جیسے بھوت دیکھ لیا ہو، کمرے میں جیسے ہی داخل ہوا تو حنا سو رہی تھی اسے سوتا دیکھ کہ میں نے بھی سکون کا سانس لیا اور جوتے اتار کہ جلدی سے باتھ میں گھس گیا ۔ باتھ میں گھستے ہی میں نے اپنے ہاتھ کو دیکھا جسے میں نے انجانے میں اپنی ہی بہن کی گانڈ کے لمس سے آشنا کروا دیا تھا ایک لمحے کے لیے مجھے اپنے ہاتھ کی انگلیاں شکریہ کہتی نظر آئیں لیکن اگلے ہی لمحے ضمیر صاحب نے میری چھترول شروع کر دی کہ بیغرت انسان کچھ تو سوچتے ہوئے بھی سوچو کیا گندی بات سوچ رہے ہو حرامی اور میں نے بوکھلا کہ ہاتھ کمر کے پیچھے کر لیا اور پھر خود ہی اپنی اس حرکت پہ بےبسی سے ہنس پڑا۔ میری زندگی میں ایسا کچھ کبھی کسی غیر سے بھی نہیں ہوا تھا جو میری ہی حماقت سے سگی بہن کے ساتھ ہو گیا اور میرے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا کہ فری نے حنا کے کپڑے پہنے ہوں گے کیونکہ سب سے چھوٹی اور سب کی لاڈلی تھی اور اس کی الماری تو کپڑوں سے بھری ہوئی تھی اس لیے مجھے سو فیصد یقین تھا کہ یہ حنا ہی ہو گی عام طور پہ دوپہر کے کام وہی کرتی تھی ۔ میں نے باتھ میں نہانا شروع کر دیا اور ایک بار پھر غیر ارادی طور پہ میرا نظر میرے ہاتھ پہ پڑی تو اس بار مجھے اپنا لن جھٹکا لیتا ہوا محسوس ہوا جس نےایک بار پھر مجھے پریشان کر دیا ۔ میں اس لمحہ با لمحہ بدلتی حالت سے ایک دم بہت پریشان ہو گیا میرا دل مجھے سمجھا رہا تھا کہ جو ہوا سو ہوا اسے اب بھولنے کی کرو اور ضمیر بھی مجھے ڈانٹ رہا تھا کہ جو غلطی ہوئی وہ بس ایک غلطی تھی اور دوبارہ ایسا سوچنا بھی مت لیکن کوئی ایک اور قوت تھی جو مجھے سمجھا رہی تھی دیکھو میاں کتنی نرم بنڈ ہے ایسی نرم بنڈ تو تمہاری بیوی کی بھی نہیں ہے دیکھو تم نے ہاتھ لگایا تو کیسے مکھن کے جیسی نرم اورملائم تھی کاش کہ چھونے کے لمحات کو زرا اور طویل کرتے۔ اس قوت کے ساتھ پھر ضمیر میاں مجھے سمجھاتے کہ بچے جو ہو گیا بہت غلط تھا لیکن ایک غلطی تھی اسے دوبارہ نہیں دوہراو گے تو اچھا ہو گا دوبارہ دوہراو گے تو زلیل ہو جاو گے ۔ لیکن ساتھ وہ قوت بھی میری برداشت کا برابر امتحان لے رہی تھی کہ کاش تم اسے پیچھے سے جپھی ڈالتے اور اپنا لن اس بنڈ میں گھساتے تو لن کو بھی اس غلطی کا مزہ مل جاتا، یعنی ایک حرکت نے میری سوچ کا سارا انداز بدل دیا تھا۔ خود سے لڑتے لڑتے نہایا اور بستر پہ آ کر گر گیا حنا بھی بدستور سو رہی تھی انہی سوچوں میں تڑپتے جانے کب میری آنکھ لگ گئی اور میں سو گیا ۔ میری جب آنکھ کھلی تو میری بیوی میرے اوپر جھکی ہوئی مسکرا رہی تھی اس نے مجھے آنکھیں کھھولتے دیکھا تو مسکراتے ہوئے میرے ناک کو اپنے ہاتھ کی انگلیوں سے پکڑتے ہوئے بولی میرا سوہنا جاگ گیا اور میرے جواب کا انتظار کرنے سے پہلے ہی میرے ہونٹوں پہ اپنے ہونٹ لگا دئیے۔ میں نے بھی مسکراتے ہوئے اس کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں بھر لیے اور انہیں چوسنے لگا ۔ وہ بیڈ کے کونے پہ بیٹھی تھی اور میرے اوپر گری ہوئی تھی اس کی گانڈ میرے لن کے پاس تھی اور ممے میرے سینے پہ تھے لیکن پاوں زمین کی طرف لٹکے ہوئے تھے۔ میں نے اس کے ہونٹوں کو چوستے ہوئے ایک ہاتھ سے اس کی کمر کو سہلانا شروع کر دیا ۔ ہونٹ چوستے چوستے میں نے کمر کو سہلانا جاری رکھا اور ہاتھ آہستہ آہستہ نیچے کرتا گیا اور اس کے کولہوں کے اوپر ہاتھ رکھا جیسے ہی میرا ہاتھ اس کی گانڈ تک پہنچا میرے زہہن میں ایک دم فروا کی گانڈ کا لمس جگا اور میرے جسم کو ایک جھٹکا لگا میری آنکھیں ایک دم کھل گئیں اور میں نے دیکھا کہ حنا آنکھیں بند کیے میرے ہونٹ چوسنے میں مشغول ہے ۔ ایک لمحے میں ہی ضمیر نے مجھے ملامت کی اور میں نے اپنی توجہ حنا کی طرف کرتے ہوئے اس کے ہونٹ چوسنا شروع کر دئیے لیکن میرے ہاتھ کو بار بار یونہی لگتا جیسے کہ وہ فروا کی گانڈ کے درمیان پھر رہے ہوں۔ حنا کی گانڈ پہ ہاتھ پھیرتے مجھے احساس ہوا کہ یہ گانڈ میری بہن کی گانڈ کی نسبت چھوٹی ہے اور اس پہ گوشت بھی نہیں میں اپنے زہہن کو اس سوچ سے ہٹاتا لیکن اگلے ہی لمحے پھر یہ سوچ میرے زہہن میںچھا جاتی ۔ حنا اس سب سے بے خبر میرے ہونٹ چوسے جار رہی تھی اس نے پہلے میرے نچلے ہونٹ کو چوسا پھر اوپر والے ہونٹ کو اور پھر ایک گہری سی سانس لیکر میرے ہونٹ چھوڑ دئیے اور مسکراتے ہوئے مجھے دیکھنے لگی اور بولی ۔ جناب آئے اور آ کہ سو گئے اور مجھے بتایا تک نہی ایک دم ساری بات میرے زہہن میں آ گئی کہ دن میں کیا ہوا تھا اور میں تھوڑا پریشان ہو گیا۔ وہ اسی طرح میرے اوپر جھکی ہوئی مسکرا رہی تھی مجھ سے اور کوئی جواب نہ بن پڑا تو میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا بس زرا کچھ طبعیت ٹھیک نہیں تھی سر درد تھا تو بس آ کہ سو گیا کہ تم بھی سو رہی تھیں اور باقی سب بھی ۔ اس نے اپنا ایک ہاتھ اپنے ماتھے پہ ہلکا سا مارا اور مسکراتے ہوئے بولی چلیں اٹھیں اب ادھر آپ کی بہن صاحبہ کے سر میں درد ادھر جناب کے سر میں درد اور آپ کی اماں نے شور ڈال رکھا کہ دونوں کو جگا کہ لاو چائے سب مل کہ پیئں ۔ یہ ایک نارمل بات تھی عام حالات میں لیکن کیونکہ میرے اندر چور تھا اس لیے فروا کے سر میں درد کا سن کہ میں اندر سے گھبرا گیا اور ہڑ بڑا کہ اوپر اٹھنے کی کوشش کی لیکن کیونکہ میرے اوپر حنا تھی اس لیے مکمل اوپر نہ ہو سکا، میں نے بوکھلاہٹ میں پوچھا فرحی کو کیا ہوا ۔ میرے اس طرح بوکھلانے سے حنا کھلکھلا کہ ہنس پڑی اور میرے سر کے نیچے سے بازو گزارتے ہوئے مجھے اوپر اٹھانے لگی میں نے بھی اس کا ساتھ دیا اور اٹھ بیٹھا کہ میری ٹانگیں بیڈ پہ لمبی تھیں اور وہ میرے گلے میں بازو ڈالے اپنی ٹانگیں نیچے لٹکائے میرے طرف مڑی میرے گلے سے لگی ہوئی تھی۔ حنا نے مسکراتے ہوئے کہا اسے کچھ نہیں ہوا بس یہی سر درد کا کہہ رہی تھی اور یوں چھوٹی چھوٹی بات پہ پریشان نہ ہوا کریں جانو اور مجھے کس کہ گلے سے لگا لیا۔ میں نے بھی جوابا اسے جپھی ڈال لی اور دل میں سوچا جس وجہ سے پریشان ہوں تمہیں پتہ چلے تو تمہاری بھی ہوش اڑ جائیں گے۔ میں نے نارمل ہونے کے لیے اس کے گال کو چوما اور اس سےپہلے کہ مزید آگے بڑھتا وہ اچھل کہ پیچھے ہو گئی اور ہنستے ہوئی بولی چلیں اب جلدی سے ہاتھ منہ دھو کہ نیچے پہنچیں میں فروا کو لیکر جاتی ہوں ، میں نے بھی ہنستے ہوئے اس کی طرف بازو کھولے اور اسے بازوں میں آنے کا اشارہ کیا لیکن اس نے منہ سے زبان نکال کہ مجھے چڑایا اور دروازہ کھول کر باہر نکل گئی۔ میں بھی جلدی سے بیڈ سےاٹھا اور ہاتھ منہ دھو کر نیچے اتر گیا جہاں امی لاوئنج میں بیٹھی ہوئی سبزی چھیل رہی تھیں میں نے ان کو سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا اور پوچھا کیا حال ہے اب طبعیت کیسی ہے ان کی نظر میں ماؤں جیسی ازلی فکر تھی ۔ میں ہنستے ہوئے ان کے پاس پہنچا اور انہیں کہا ارے امی جی اب میں بالکل ٹھیک ہوں دھوپ میں زرا سا سر درد ہو گیا تھا۔ امی نے مجھے دلاسہ دیا اور موسم کو برا بھلا کہنےلگیں اور پھر بولیں جاو فریج میں تمہارے لیے شربت رکھا ہے وہ نکال کہ پی لو اور ان نکمیوں سے بھی بولو کہ چائے لائیں۔
انوکھا حادثہ
قسط 2
میں امی کے پاس سے مڑا اور کچن کی طرف جانے لگا اتنے میں سامنے سے ابو بھی آتے دکھائی دئیے میں نے ان کو سلام کیا اور کچن کی طرف بڑھ گیا کچن کے دروازے پہ پہنچا تو دونوں دوسری طرف مڑی چائے بنا رہی تھیں اور آپس میں باتیں کر رہی تھیں میری نظر پڑی تو دونوں کی کمر میری طرف تھی میری نظر فورا پھسلتی ہوئی ان دونوں کی گانڈ کا موازنہ کرنے لگی اور یہ دیکھتے ہی مجھے بہت عجیب لگا کہ حنا کی نسبت فروا کی گانڈ موٹی تھی حالانکہ وہ عمر میں حنا سے چھوٹی تھی لیکن ایسا لگ رہا تھا کہ دو چھوٹے سائز کے تربوز کسی نے کاٹ کہ پتلی کمر پہ لگا دئیے ہیں اس کی نسبت حنا کی گانڈ چھوٹی تھی اور لمبوتری شکل میں تھی۔ میں ان کے پیچھے کچن کے دروازے میں کھڑا بغور ان کی گانڈ کا مقابلہ کر رہا تھا کہ اچانک فروا پیچھے ہٹی اور اس نے کچن کے کاونٹر کے نیچے بنے دراز کو جھک کہ کھولا اور اس میں سے کچھ نکالنے لگی۔ اس کے اس طرح جھکنے سے اس کی گانڈ پیچھے سے باہر نکل آئی اور مجھے اس کی درمیانی گلی کا علاقہ واضح طور پہ محسوس ہوا وہ شائد دس سیکنڈ یا اس سے بھی کم وقت جھکی لیکن میری نظر جیسے اس پہ چپک سی گئی اور وہ جب اوپر ہوئی تو اس کی کمیض اور شلوار دونوں اس کے چوتڑوں کے درمیان دھنس گئیں اور کچن کے دروازے پہ کھڑے ہی میں نے اس شلوار کے کپڑے کی قسمت پہ رشک کیا ۔ میرے دل میں اچانک یہ شدید خواہش پیدا ہوئی کاش میی اس شلوار کا کپڑا ہوتاہر وقت اپنی بہن کے جسم کو محسوس تو کرتا۔جتنی شدت سے مجھے یہ خواہش آئی تھی اتنی ہی شدت سے مجھے شرمندگی نے گھیرلیا کہ کمینے انسان کچھ بھی سوچنے لگ جاتے ہو کچھ تو شرم کرو بہن ہے وہ تمہاری۔اس سے پہلے کہ ضمیر صاحب میری اور چھترول کرتے کہ پیچھے مڑ کہ دیکھتی حنا کی نظر مجھ پہ پڑ گئی اور وہ ہنستے ہوئے حنا سے بولی لو جی امی کا پیغام آ گیا۔ فروا نے بھی مڑ کہ میری طرف دیکھا اور جیسے ہی ہماری آنکھیں ملیں اس کی آنکھوں میں مجھے شرم اور ہونٹوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ نظر آئی اور وہ دوسری طرف مڑتے ہوئے بولی امی کو بتائیں بس چائے پہنچنے والی ہے ۔ میں نے بھی کہا امی تو کہہ رہی ہیں اتنی دیر میں تو میں پائے بھی پکا لیتی تھی جتنی دیر ان لڑکیوں نے چائے پہ لگا دی ہے میں جا کہ بتاتا ہوں ابھی کہ کہتی ہیں بیس منٹ اور ہیں ۔ میری بات ختم ہوتے ہی فروا فورا پیچھے مڑی اور بولی کوئی ضرورت نہیں ہے ماسی فتنہ بننے کی یہیں رکو اور ہمارے ساتھ ہی چائے لے کہ جانا ۔ اس کے یوں کہنے پہ حنا اور میں مسکرا پڑے اور سچی بات یہی تھی کہ اس کی گانڈ میں پھنسی کمیض دیکھنے کا میرا بھی دل کر رہا تھا اور بار بار میری نظر اس پہ پڑ رہی تھی ۔ فروا نے پھر حنا سے کہا بھابھی آپ کپ لگا دیں ٹرے میں چائے ابل نہ جائے میں چائے دیکھ لیتی ہوں اور یہ کہتے ہوئے اس نے میری طرف مڑ کہ بھی دیکھا جس کی مجھے بالکل توقع نہ تھی اور میں مزے سے ٹکٹکی باندھے اس کی گانڈ کے نظارے میں گم تھا فروا نے میری طرف دیکھا اور مجھے اپنی گانڈ کی طرف دیکھتے محسوس کر کہ اس نے ایک عجیب سی نظر مجھ پہ ڈالی جس میں ہزاروں شکوے اور شکایت تھی۔ آنکھوں کی زبان دنیا کی آسان ترین زبان بھی ہے اور مشکل ترین بھی کہ اگر احساسات ملتے ہوں تو یہ زبان بہت ہی آسان ہے احساس اور محبت نہ ہو تو یہ زبان سب سے مشکل بن جاتی ہے۔ اپنی یہ بہن کہ جو مجھے شائد اپنی جان کے برابر ہی عزیز تھی جس سے بے انتہا پیار بھی تھا میں اس کی نگاہ کا شکوہ ایک دم سمجھ گیا کہ اسے یوں میرا اس کا جسم دیکھنا اچھا نہیں لگا۔ اب بچی تو وہ بھی نہیں رہی تھی اور نہ میں بچہ تھا بس ایک حادثے نے مجھے میرے مقام سے گرا دیا تھا اور افسوس یہ تھا کہ میں سنبھلنے کے بجائے مزید گرتا ہی جا رہا تھا شائد میری بہن کی سفید گول مٹول گانڈ جس کی اٹھان برفیلی پہاڑیوں کے جیسی تھی اور جس کی گئرائی بھی ناقابل بیان کہ جس گہرائی میں گرنے والے ہمیشہ اسی گہرائی میں رہنا چاہیں ۔۔ لیکن اس کا جسم جتنا بھی حسین ہو معاشرتی مزہبی اخلاقی طور پہ میرا اس پہ کوئی حق نہ تھا اور یہی ہمیں پڑھایا سمجھایا بھی گیا تھا کہ تم اس پھل کے مالی اور رکھوالے تو ضرور ہو لیکن یہ کھانا کسی اور کے نصیب میں ہے اور بالکل اسی طرح وہ بھی جانتی تھی کہ مالی جتنا بھی توجہ دے جتنا بھی پیار کرے یہ پھل یہ پہاڑیاں یہ گہرائیاں اس کی نہیں ہیں چھونا تو درکنار یہ انہیں دیکھنے کا بھی حقدار نہیں تو اسی لیے معاشرتی سچائی کو سامنے رکھتے ہوئے اس کا یہ عمل اپنی جگہ درست تھا وہیں مجھے بھی یہ عمل زلت کی گہرائی میں گراتا گیا اور مجھے اپنا آپ بہت برا اور کم ظرف محسوس ہوا میں کچن کے دروازے میں ہی کھڑا تھا لیکن مجھ پہ جیسے گھڑوں پانی پڑ چکا تھا ۔ میں اپنے آپ کو کوس رئا تھا کہ اچانک فروا کی مسکراتی آواز میرے کانوں میں پڑی میں نے بوکھلا کہ دیکھا تو وہ میرے سامنے کھڑی تھی مجھے یوں اپنی طرف دیکھتے ہوئے وہ بولی اگر آپ کا ارادہ یہیں بت بن کہ کھڑے ہونے کا نہیں تو چلیں چائے تیار ہو چکی ہے۔ میں نے اس کے ہنستے چہرے اور اس کے پیچھے کھڑی حنا کے چہرے کی طرف دیکھا تو وہ بھی مسکرا رہی تھی میں ایک دم کورنش بجا لانے والے انداز میں جھکا اور اسے فرشی سلام کرتے ہوئے بولا ملکہ عالیہ کا اقبال بلند ہو خادم استقبال کے لیے تیار ہے ۔میرے یہ کہنے پہ حنا بھی مسکرائی اس کے ہاتھ میں بھی ٹرے تھی اور مسکراتے ہوئے بولی آپ بہن بھائی یہاں شاہی انداز بناتے رہو میں تو جا رہی ہوں چائے لیکر اور ہمارے پاس سے گزرتی گئی، فروا نے اچٹتی ہوئی نظر مجھ پہ ڈالی اور وہ بھی حنا کے پیچھے چل پڑی، میں بھی ان دونوں کے پیچھے چل پڑا لیکن ایک دو قدم اٹھاتے ہی میری نظر ایک بار پھر بھٹک گئی اور سیدھی بہن کی تازہ رس بھری جوان مٹکتی ہوئی گانڈ کی اچھل کود میں کھو گئی جو اس کے ہر قدم کے ساتھ اچھل کہ اوپر نیچے ہو رہی تھی۔ میں نے ایک بار پھر اپنی نظر کو اپنے دل کو کوسا لئکن بہت کوشش کے باوجود بھی اپنی نظر کو وہاں سے نہ ہٹا سکا اور چلتے چلتے لاونج میں پہنچ گئے وہاں امی ابو کی موجودگی کے پیش نظر میں نے آنکھیں جھکا لیں اور شریف بچہ بن کہ بیٹھ گیا لیکن دل میں چور گھس چکا تھا اس سے چھٹکارا کیسے ممکن تھا۔ میں نے جیسے ہی اپنے سامنے پڑی پیالی کو اٹھا کہ منہ سے لگایا تو اور ایک گھونٹ بھرا تو مجھے یوں لگا جیسے میں نے نمک اور مرچ سے بھری کوئی چیز پی لی ہو، میں سمجھ تو گیا کہ یہ شرارت کی گئی ہے کیونکہ باقی سب نارمل انداز میں چائے پی رہے تھے میں نے ایک نظر سب کو دیکھا تو سبھی نارمل تھے لیکن اس دشمن جاں کے چہرے پہ دبی دبی مسکراہٹ تھی میں سمجھ گیا کہ یہ شرارت اسی کی ہے ۔ میں نے سوچا کہ بول دوں لیکن پھر کچھ سوچ کہ چپ ہو گیا اور نمک اور مرچ سے بھری چائے پینے لگا جو کہ آسان کام تو نہ تھا لیکن میں باقیوں کی طرح نارمل رہتے ہوئے چائے کے گھونٹ بھرنے لگا۔ اس دوران ہم لوگ باتیں بھی کرتے رہے باقی سب کی چائے تقریبا ختم ہو رہی تھی جبکہ میں مشکل سے آدھا کپ پی پایا تھا لیکن میں نے ایک دو بار فروا کی طرف دیکھا جس کے چہرے پہ اب بےچینی کے تاثرات تھے اور مجھے چائے پیتا دیکھ کہ وہ بار بار پہلو بدل رہی تھی لیکن میں نارمل انداز میں گھونٹ بھر رہا تھا ۔ جیسے ہی ابو نے کپ نیچے چھوڑا فروا تیزی سے اٹھی اور میرے آگے سے آدھا کپ فورا اٹھا لیا اور تھوڑا چہرے پہ جبری مسکراہٹ لاتے ہوئے بولی ارے بھائی آپ نے بھی جلدی چائے ختم کر لی جب کہ ابھی آدھا کپ باقی تھا وہ ٹرے میں باقی کپ اس طرح رکھ رہی تھی کہ میرا آدھا کپ کسی کو نظر نہ آئے۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں کے کونوں میں پانی جھلملا رہا تھا ۔میں سمجھ گیا کہ وہ میرے چپ رہنے سے اب خود پہ ناراض ہو رہی ہے اور تبھی اس نے مجھ سے آدھا کپ پکڑلیا ہے فروا کپ سمیٹ رہی تھی تو امی نے حنا سے کہا بیٹی تم میرے اور ان کے کپڑے استری کر دو اور فرحی تم برتن دھو کہ رکھ دو شاباش، فرحی تو برتن سمیٹ کر کچن کی طرف چلی گئی اور حنا کپڑے استری کرنے چلی گئی اور میں امی ابو کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگ گیا دل تو میرا چاہ رہا تھا کہ جا کہ فرحی کو دیکھوں لیکن میں وہاں سے نہ اٹھا ہمیں باتیں کرتے کوئی پانچ منٹ گزرے تھےکہ امی نے مجھے کہا جاو فریج سے میری دوائی تو نکال لاو آج دن میں مجھے کھانا یاد ہی نہیں رہی۔ اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا ابو نے زرا سخت لہجے میں امی سے کہا بیگم تم کم از کم اپنا خیال تو رکھا کرو گھر بچیوں نے سنبھالا ہوا ہے ماشااللہ سے اور تم اپنی صحت کا خیال خود کیا کرو ۔ میں چپکے سے اٹھا اور کچن کی طرف چل دیا کچن کے دروازے میں پہنچا تو فرحی برتن دھو رہی تھی اس نے قدموں کی چاپ سے مڑ کہ مجھے دیکھا تو اس کی آنکھیں جھلملائی ہوئی تھیں وہ پھر برتن دھونے لگ گئی میں نے کچھ بولے بغیر فریج کھول کہ امی کی دوائی اور پانی نکالا اور واپس چل دیا ۔ امی کو دوائی دی اور پانی بھی دیا انہوں نے دوائی کھا کہ مجھے دوائی اور گلاس پکڑایا اور میں وہ لیکر کچن کی طرف چل دیا، کچن کے قریب پہنچا تو فرحی کچن سے باہر نکل رہی تھی مجھے دیکھتے ہی واپس پیچھے ہٹ گئی میں جونہی کچن میں داخل ہوا اس نے ہاتھ بڑھا کہ مجھ سے گلاس اور دوائی لے لی اور گلاس کو سینک میں رکھ کہ فریج میں دوائی رکھنے لگی۔ جیسے ہی وہ فریج میں دوائی رکھنے کے لیے جھکی میری نظر ایک بار پھر اس کی گانڈ کے درمیان پڑی اور میں وہاں کھڑا ہو کہ اسے دیکھنے لگ گیا ۔ اس نے فریج کا دروازہ بند کیا اور میری طرف مڑ کہ مسکراتے ہوئے بولی کیا ایک بار مرچوں کی دھونی سے فرق نہیں پڑا جناب کو اور باز بالکل نہیں آئے۔ میں سمجھ گیا کہ وہ کیا کہہ رہی ہے لیکن میں نے ظاہر نہ ہونے دیا اور چہرے پہ مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا ارے گڑیا یہ تو مرچیں تھیں تم زہر بھی پلا دو تو قسم سے ایسے ہی خوشی سے پی جاؤں ۔ میری بات پوری ہوتے ہی وہ بجلی کی تیزی سے آگے ہوئ اور مجھے تھپڑ مارنے کی کوشش کی اس کی آنکھوں میں ایک دم آنسو بھر آئے اور روئانسی آواز میں مجھے مارنے کو لپکی۔ وہ جیسے ہی میرے قریب ہوئی اور اس نے بازو مجھے مارنے کے لیے اوپر اٹھایا میں نے وہی بازو پکڑ کہ اسے اپنے طرف کھینچ لیا اور وہ اپنے ہی زور میں میرے سینے سے آ لگی۔ جیسے ہی وہ میری سینے سے لگی تو اس کی نرم اور موٹے تازے ممے بھی میرے سینے سے لگے اور میں نے ایک بازو اس کی کمر کے گرد سے لپٹا کہ اس کو اپنے ساتھ جوڑ لیا۔ ہم بہن بھائی آپس میں بہت فری تھے اور عید پہ کسی خوشی کے موقعہ پہ گلے مل لینا یہ عام سی بات تھی اور اس سے کبھی کوئی گندہ خیال زہہن میں نہیں آیا تھا ۔
انوکھا حادثہ
قسط 03
فروا کے لیے تو میرے ساتھ گلے ملنا شاید نارمل بات تھی اس لیے وہ بلا جھجک میرے گلے لگ گئی اس سے پہلے بھی ہم کئی ار گلے لگ جاتے تھے اس میں کوئی بڑی بات تو نہ تھی بلکہ ہزاروں لاکھوں بہن بھائی صورتحال کے ساتھ گلے ملتے رہتے ہیں لیکن اس بار وہ نہیں جانتی تھی کہ میرے اندر کچھ اور ہے یا شاید جانتی بھی تھی لیکن اگنور کر رہی تھی ۔ میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔ میں نے گلے سے لگائے ہی اس کے نرم مموں کی نرمی اور شیپ اپنی چھاتی پہ محسوس کی اور اس کی کمر کے گرد بازو لپیٹے اس کی جسم کی نرمی کو اپنے اندر تک محسوس کیا لیکن میں ساتھ اپنے یہ جزبات اسے بھی محسوس نہیں ہونے دینا چاہتا تھا اس لیے میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور پیار سے کہا کیا بات ہے فرحی اتنی جزباتی کیوں ہو رہی ہو، اس نے روتی ہوئی آنکھوں سے مجھے دیکھا اور میرے سینے پہ ہلکا سا مکا مارتے ہوئے بولی بدتمیز ایک تو مرچوں والی چائے بھی پی لی اور اب فضول باتیں بھی کرتے ہو بہت برے ہو آپ ۔ میں نے دوسرا بازو بھی اس کی کمر کے گرد کس لیا اور غیر محسوس انداز میں ہاتھ تھوڑا نیچے کر لیے جس سے میرا ہاتھ اس کی گانڈ جدھر سے شروع ہوتی تھی مطلب کمر کے نچلے حصے تک پہنچ گیا۔ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا پاگل خود سوچو نا امی کے سامنے میں بولتا تو تمہیں کتنی ڈانٹ پڑ جاتی امی ابو سے اور حنا بھی تھی تو مجھے اچھا نہیں لگا کہ امی ابو سے تمہیں ڈانٹ پڑواؤں زرا سا نمک مرچ ہی تو پینا تھا وہ بھی تم نے آدھا ہی پینے دیا میں نے بات سنجیدہ انداز میں شروع کی اور آہستہ آہستہ بات کو مزاق کے انداز میں لے گیا اس کو بھی اندازہ ہو گیا اس نے اپنا آپ تھوڑا مجھ سے اور پیچھے کیا تو میں نے بھی ہاتھ ڈھیلے کر دئیے لیکن بازو کا حلقہ نہ توڑا اس سے میرے ہاتھ اس کی گانڈ پہ تھوڑا اور نیچے کھسک گئے، اس کی آنکھوں سے آنسو اس کے گالوں پہ آ چکے تھے۔ میں نے پھر کہا کہ دیکھو میں نے کسی کو نہیں بتایا اب تم ایسے منہ بناو گی تو سب کو پتہ چل جائے گا کچھ بات ہے پھر سب کو کیا وضاحتیں دو گی چلو اچھے بچوں کی طرح منہ دھو لو۔ اس نے میری طرف روتی ہوئی آنکھوں سے پھر ہنستے ہوئے دیکھا اور میرے سینے پہ ایک اور مکا مارا جواب کے طور پہ میں نے بھی بازو کا حلقہ کھولہ اور دائیں ہاتھ کا مکا بنا کہ وہیں پیچھے سے اس کی گانڈ پہ ہلکا سا مکا دے مارا اور کہا جلدی منہ دھو لو اس سے پہلے کہ کوئی کچن میں آ جائے، اس نے پلکیں اٹھا کہ میری طرف دیکھا اور ہلکی آواز میں بولی۔ بدتمیز انسان ۔ میں نے مسکراتے ہوئے اس کو چھوڑ دیا اور وہ کچن میں لگے واش بیسن کی طرف ہوئی تو مجھے فورا خیال آیا کہ یہ واش بیسن کے آگے کھڑی ہو گی اور پھر جھکے گی تو واش بیسن کے پاس پڑے فریج پہ میری نظر پڑی وہ اس دوران دوسری طرف مڑ چکی تھی میں تیزی سے فریج کی طرف بڑھا اور اس کا دروازہ کھولنے لگا لیکن میں نے دروازہ نہ کھولا وہ جیسے ہی وہ منہ دھونے لگی تو منہ دھونے کے لیے وہ تھوڑی آگے کو جھکی ہوئی تھی جس سے اس کی گانڈ تھوڑی سی پیچھے کو باہر نکلی جس کے انتظار میں میں فریج کا دروازہ پکڑے کھڑا تھا اور میری توقع کے بالکل مطابق اس کی گانڈ تھوڑا پیچھے ہوئی تو میری ٹانگ اس کی گانڈ سے ٹکرائی جو اسے محسوس ہوا اور وہ منہ دھوتے دھوتے آگے ہو گئی ۔ میرا اندازہ تھا شائد وہ آگے نہیں ہو گی لیکن جیسے ہی وہ آگے ہوئی میں نے فریج سے ہانی کی بوتل نکال لی۔ وہ بھی منہ دھو کہ واپس مڑی تو چاند چہرہ جیسے کھلا کھلا نظر آیا اس کی بڑی بڑی سیاہ آنکھیں اور بالوں کی ایک آوارہ ماتھے پہ بھیگی ہوئی لٹ ۔۔گورے گورے گال اور نرم نرم ہونٹ میں تو اپنی بہن کو دیکھ کر مبہوت ہو گیا میں نے اسے پہلی بار ایک لڑکی سمجھ کہ دیکھا تھا تو مجھے یوں لگا کہ جیسے کوئی حور میرے سامنے کھڑی ہو میں اس کی حسن کی گئرائی میں ڈوب سا گیا۔ اس نے جب مجھے یوں کھوئے ہوئے دیکھا تو میری آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی اور بولی اوئے جناب کدھر گم ہو گئے ہو؟؟ میں نے ہڑ بڑا کہ اسے دیکھا اور کہا مجھے لگا تھا میں جنت میں کسی حور کے سامنے کھڑا ہوں اس لیے گم صم ہو گیا تھا۔ ساتھ ہی میں نے پانی کی بوتل اسے پکڑائی وہ کھلکھلا کہ ہنس پڑی اور پانی کی بوتل ایسے ہی لیکر منہ سے لگا لی اور بوتل کے ساتھ ہی پانی پینے لگی ۔ پانی پی کہ اس نے مجھے بوتل واپس تھمائی اور میں نے اسے دکھاتے ہوئے وہی بوتل اپنے منہ سے لگا لی اور پانی پینے لگا میں پانی پی رہا تھا کہ اس نے بوتل کے نچلے حصے پہ مکا مارا جس سے بوتل میرے منہ سے نکل گئی اور کچھ پانی میرے اوپر گرا وہ کھلکھلا کہ ہنس پڑی اور بولی آپ پہلی فرصت میں کسی آنکھوں والے ڈاکٹر کے پاس جانا ویسے جانا تو پاگلوں والے ڈاکٹر کے پاس بھی بنتا ہے آپ کا یہ کہتے ہوئے اس کی آنکھیں بھی مسکرا رہی تھیں اور مجھے پہلی بار لگا میری بہن کتنا مکمل مسکراتی ہے۔ پاگلوں والے ڈاکٹر کے پاس کیوں جاوں اوئے منحوس لڑکی ؟؟ میں نے مصنوعی غصے سے اس کی طرف دیکھا تو وہ ہنستی ہوئی میرے پاس سے گزر کہ کچن کے دروازے کی طرف بڑھ گئی اور کچن کے دروازے پہ رک کہ اس نے باہر کی طرف دیکھا اور پھر میری طرف مڑی اور اور اپنے اوپر والے ہونٹ سے نیچے والا ہونٹ دبا کر بولی ۔ وہ اس لیے جناب کہ کوئی ہوشمند بندہ بہن کے ہپس پہ مکا نہیں مارتا ہوتا یہ کام پاگلوں کے ہی ہو سکتے ہیں ۔ یہ کہہ کہ اس نے مجھے زبان نکال کہ منہ چڑایا اور میرا جواب سنے بغیر ہی باہر بھاگ گ میں کچن میں ہی اس کی بات پہ حیران کھڑا رہ گیا کہ یہ چھوٹی مجھے کیا کہہ گئی ہے خیر میں نے پانی کی بوتل بھر کہ فریج میں رکھی اور باہر چلا گیا اور امی ابو کے پاس بیٹھ کر باتیں کرنے لگا ۔ تھوڑی دیر بعد حنا اور فروا بھی آ گئیں اور ہم سب مل کہ باتیں کرنے لگے ۔ پھر وہ دونوں اٹھ کر کچن میں کھانا پکانے لگ گئیں اور میں امی ابو کے پاس بیٹھ گیا ۔میں محلے میں بہت ہی کم نکلتا تھا کیونکہ میری عمر کے لڑکے محلے میں بہت کم تھے بہت سے لڑکے بیرون ملک نوکری کے لیے جا چکے تھے جو یئاں پہ تھے وہ بھی اپنے کام دھندے میں مصروف ہوتے تھے تو میں گھر سے باہر کم ہی نکلتا تھا۔ امی ابو کے ساتھ باتوں میں مجھے فروا کے ساتھ ہوئی وہ باتیں بھول گئیں اور میں کچھ حد تک نارمل ہو گیا ۔ کھانا لگا ہم نے کھانا کھایا اور لڑکیوں نے برتن سمیٹے اور پھر ہم مطلب میں اور حنا اٹھ کر اوپر چل دئیے ۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی میں نے حنا کو پیچھے سے جپھی ڈال لی اور وہ بھی فورا میری طرف مڑی اور میرے گلے لگ گئی لیکن اس کے گلے لگتے ہی مجھے پہلا جو احساس ہوا اس سے مجھے پسینہ بھی آ گیا اس کے گلے لگتے ہی مجھے یہ محسوس ہوا کہ ارے اس کے ممے تو فرحی سے بھی چھوٹے ہیں ۔ ادھر حنا میری اندرونی کشمکش سے بے خبر میرے دل سے لگ چکی تھی اور اس نے میرے ہونٹ چوسنے شروع کر دئیے لیکن اس طرف میری حالت عجیب ہو چکی تھی میرے بازو اس کی کمر کے گرد تھے لیکن میرے ہاتھ میں جو لمس تھا وہ حنا کے جسم کا نہ تھا مجھے یوں لگ رہا تھا میرے بازووں میں میری بہن فروا ہے اور وہ میرے گلے لگی ہوئی ہے جبکہ حقیقت کچھ اور تھی۔ میرے اندر کچھ عجیب سی قوت تھی مجھے جو یہ احساس دلا رہی تھی میرے ہاتھ میں میری انگلیوں پہ جہاں جہاں فرواکا جسم لگا تھا میرا جسم اسی کو دوبارہ محسوس کر رہا تھا حنا مائینس ہو چکی تھی اور فروا حواس پہ پوری طرح سوار ہو رہی تھی حنا پوری گرمجوشی سے مجھے چومے جا رہی تھی وہ میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چوستی اور وہاں سے میرے گال تک پہنچتی پھر اس نے ہونٹ چوستے چوستے مجھے دبوچ لیا اور میں بھی بیتابی سے اسے چومنے لگا اور میرے ہاتھ اس کی جسم کے کمزور نشیب و فراز میں الجھتے گئے۔ اور وقتی طور پہ میں فروا کو بھولتے ہوئے اپنی بیوی کے جسم میں کھو گیا اور اسے پیار کرنے لگا۔ میں اس کے ہونٹ چوستے اس کے گال تک پہنچا اور پھر دونوں ہاتھوں میں اس کے بتیس سائز کے گول مٹول ممے پکڑ لیے اس کا ایک مما میری مٹھی میں پورا آ جاتا تھا کیونکہ اس کے ممے زیادہ بڑے نہیں تھے ۔ تھوڑی ہی دیر میں ہم مکمل ننگے ہو چکے تھے اور وہ وہ بالکل ننگی میرے نیچے لیٹی ہوئی تھی ۔ میں نے جیسے ہی اس کی ٹانگوں کو اوپر کیا تو اس نے اپنا ایک ہونٹ دوسرے ہونٹ کے نیچے دبا کہ سسکی بھری اس کے اس طرح کرنے سے مجھے فورا فروا کا یہ انداز یاد آ گیا اور ایک بار پھر مجھے حنا کے بجائے اپنے نیچے فروا محسوس ہوئی ۔ میں نے اپنے لن کو اس کی پھدی کے پتلے ہونٹوں پہ رگڑا تو حنا نے سسکتے ہوئے اپنی پھدی کو اوپر اٹھا دیا۔ میں نے لن کو پھدی کے سوراخ پہ رکھا اور حنا کے چہرے کی طرف دیکھا اور پوچھا کیا خیال ہے پھر جانی ۔۔ اس نے شرماتے ہوئے کہا جو آپ کا دل کرے اور آنکھیں بند کر لیں میں نے لن کو پھدی کے سوراخ پہ دبایا تو لن کی نوک پھدی کے سوراخ میں اتری جو کہ اندر سے گیلی ہو چکی تھی جیسے میں نے لن پہ اپنا دباو بڑھایا تو حنا کے چہرے پہ ہلکی تکلیف کے آثار پیدا ہوئے اور اس نے ہونٹ بھینچ لیے اس کے اس طرح ہونٹ بھینچنے سے مجھے ایک بار پھر فروا کی یاد آئی اور ایک دم مجھے بہت جوش سا آیا جس کے تحت میں نے ایک زور کا دھکا مارا جس سے میرا لن تقریبا آدھا حنا کی پھدی میں گھس گیا۔ حنا کے منہ سے ایک تیز سسکی نکلی اور اس کے چہرے پہ درد کے آثار پیدا ہوئے اور ساتھ اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا اوئی " بہن چود " یہ گالی سنتے ہی مجھے بہت عجیب سا لگا کہ اس سے قبل ہم نے ایسے گالم گلوچ کبھی نہیں کی تھی لیکن حنا کے اس طرح کہنے پہ مجھے بہت عجیب لگا اور مزے کی شدت ایک دم بہت بڑھ گئی میں نے اس کے ہونٹ اپنے ہونٹ میں بھرے اور اسکی ٹانگوں کو تھوڑا اور اوپر کیا اور لن کو تھوڑا پیچھے نکال کہ ایک اور زور کا جھٹکا دیا اس بار میرا لن آدھے سے زیادہ حنا کی پھدی میں گیا اور وہ نیچے سے مچل اٹھی اور مجھے سینے پہ مکے مارنے لگی میں نے اس کے ہونٹ چھوڑے تو وہ بہت تیز تیز سانس لینے لگی جیسے بہت دور سے دوڑتی آئی ہو ۔ اب بتاو مجھے گالی دو گی بدتمیز عورت ۔۔ میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے پوچھا جو درد کے مارے بھیگ چکی تھیں ۔ یہ سوال پوچھتے میرا بھی دل کر رہا تھا وہ جواب ہاں میں دے لیکن ظاہر ہے اس کو یہ تو نہیں بتایا جا سکتا تھا کہ مجھے گالی پسند آئی ہے ۔ اس نے تیز سانسوں میں تھوڑا مسکراتے ہوئے کہا تو اتنے زور سے جھٹکا کیوں مارا تھا پھر آرام سے نہیں کر سکتے تھے ۔ ابھی اس کی بات پوری نہیں ہوئی تھی کہ میں نے آدھے لن کو اس کی پھدی سے باہر کھینچا لیکن باہر نہ نکالا اور پھر ایک زوردار دھکا لگا دیا اس بار پورا لن اس کی پھدی کی پھسلن کی وجہ سے اس کی پھدی میب اترا اور ساتھ اس کی دبی دبی چیخ نکلی اور اس چیخ کے ختم ہوتے ہی وہ پھر بولی اففف بہن چود بہن چود آرام سے کرو نا یہ کیا کر رہے ہو اس کے منہ سے گالی نکلتے ہی مجھے بہت عجیب سا لگا اور مجھے یوں محسوس ہوا مزے کی ایک لہر میری کمر کے نچلے حصے سے نکلی ہے اور پورے جسم میں سرائیت کر گئی ہے میرا پورا لن اپنی بیوی کی تنگ پھدی میں گھس چکا تھا جو کہ پہلی بار تو نہ تھی لیکن اب ایک رشتے کی سوچ نے اس احساس کو بہت الگ کر دیا تھا ایک انوکھا احساس جس کے لیے لفظ کوئی نہیں تھے ضمیر اور دل کی کشمکش الگ تھی لیکن جسم کو ملنے والا مزہ اور تھا ۔ اپنی بیوی میں اپنی ہی بہن کو محسوس کرنے کا ایک اور سا مزہ جس میں ندامت بھی تھی اور شرمندگی بھی۔ میں نے اس کی طرف دیکھا اور منہ اوپر کر کے اس کے ہونٹ چوسنے لگ گیا اس کی ٹانگیں اوپر اٹھی ہوئیں تھیں اور میں اس کی ٹانگوں کے درمیان تھا۔ اس کے سسکتے وجود پہ میرے ہونٹ چوسنے کا مثبت اثر ہوا اور وہ جوابا مجھے چومنے لگ گئی ۔ میں نے اس کے چہرے کو ہاتھوں میں بھرا اور اس کو چومنے لگا ۔ اپنے اندر ایک طرح کی شرمندگی مجھے بھی تھی کہ میں یہ کیا سوچ رہا ہوں انتہائی گھٹیا سوچ مجھ میں جانے کیوں آ رہی ہے لیکن پھدی کی جکڑ مجھے مزے اور سرور میں ڈبو رہی تھی۔ میں نے اس کے چہرے کو چومتے ہوئے لن کو آہستہ آہستہ آگے پیچھے کرنا شروع کیا تو اس کے جسم نے بھی ایک دم میرا ساتھ دینا شروع کر دیا میں نے دیکھا تو حنا کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں اور اس نے نیچے والے ہونٹ کو اوپر والے ہونٹ سے دبایا ہوا تھا۔ میں نے تھوڑا اوپر ہوتے ہوئے اس کے ممے پکڑ کہ نچلز کو مسلنا شروع کر دیا اور اس کے چہرے کو ہونٹوں کو چوستا بھی گیا اور اس سے پوچھا میری جانی ۔۔ حنا نے اسی طرح جھٹکے لیتے ہوئے بند آنکھوں کے ساتھ ہلکی سی ہوں کی۔ میں نے اس سے پھر پوچھا اب مزہ آ رہا ہے نا جانی کو؟؟ ساتھ میں نے ہلکے ردھم میں جھٹکے لگانا جاری رکھے اور اس کو چومتے ہوئے اس کے ممے دباتا گیا۔ اس کے چہرے پہ ایک شرمیلی سی مسکراہٹ آئی اور اس نے اپنے بازو میرے گلے میں ڈال کہ ایک لمحے کے لیے آنکھیں کھولیں اور میرے ہونٹ چومتے ہوئے بولی تو ایسے کرو گے تو مزہ ہی آئے گا نا پہلے تو بالکل جانوروں کی طرح کیا تھا۔ میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا اور مصنوعی سنجیدگی طاری کرتے ہوئے کہا اوئے تم نے کس کس جانور کا لیا ہوا ہے کہ تمہیں یہ جانوروں کی طرح لگا ہے۔ اس کے چہرے پہ مسکراہٹ اور غصہ دونوں بیک وقت آئے اور اسی طرح سسکتے ہوئے بولی ہاں یہ گدھے جتنا بڑا لن ہے بہن چود جیسے گدھے لن نکالے پھرتے ہیں اسی طرح لمبا اور موٹا ہے میری نازک سی پھدی کی ستیاناس نکال دیتا ہے ابھی اس کی بات جاری تھی کہ میں نے ایک اور زوردار جھٹکا لگایا اور لن کو پورا باہر کھینچ کہ زور سے دوبارہ گھسایا میں چاہتا تھا مجھے وہ پھر گالی دے ۔ لیکن اب کی بار اس کے منہ سے سسکی کے ساتھ افففف امی ی ی ی نکلا اور اس نے مجھے ٹانگوں میں دبا لیا میں نے اس کے منہ سے یہ نکلتے ہی اپنے چہرے پہ سنجیدگی طاری کر لی اور اسے چومتے ہوئے کہا جانی اوئے ۔۔ اس نے نیچے سے سسکتے ہوئے اوں اوں کی اور بند آنکھیں رکھتے ہوئے مجھے کمر پہ مکے مارنے لگ گئی مجھے بھی ہنسی آ گئی میرا لن اس کی بھیگی ہوئی پھدی کے انتہائی اندر تھا میں نے لن کو باہر کھینچ کر ایک اور دھکا مارا حنا کے منہ سے ایک بار پھر افففف امی ی ی ی جی نکلا۔ اب کی بار میں نے مسکراتے ہوئے کہا جانی یہاں خود ہی صبر کرو امی اس وقت تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکیں گی ۔ حنا نے میرے نیچے سسکتے سسکتے کہا گندے منحوس بے شرم انسان کچھ تو شرم کریں زرا اس کو پسینہ آ چکا تھا اس کے بال اس کے چہرے کے گرد پھیل چکے تھے، میں نے ایک ہاتھ سے اس کے چہرے سے بال ہٹائے اور ہلکے دھکے لگانا شروع کر دئیے اور ساتھ ہی اسے کہا جانی اب تم نے ہی امی امی لگا رکھا ہے میں تمہیں یہی بتا رہا کہ یہاں تم نے خود ہی صبر کرنا ہے ان کا دور تو چلا گیا اب۔ یہ کہتے ہوئے میں ساتھ ساتھ اس کے ممے مسلتا گیا اور اس کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ اور لطف کا انداز بنتا گیا لیکن مصنوعی غصے سے بولی بہت بدتمیز ہو آپ کچھ بھی بولتے جاتے ہو گدھے جیسے لن سے میری ستیاناس بھی کر رہے ہو ساتھ بدتمیزیاں بھی کرتے ہو۔ میں نے اس کے ہونٹ چوستے ہوئے اس کی ناک پکڑ کہ ہلائی اور کہا جانی اب یہ سب تم سے ہی کروں گا کہ میری جان تم ہی تو ہو نا۔ ساتھ مین ہلکے ہلکے دھکے لگا رہا تھا اور لن کو ادھے سےزیادہ اس کی پھدی میں اندر باہر کیے جا رہا تھا سیکس ہم تقریبا روز ہی کرتے تھے لیکن اس طرح کی گفتگو ہمارے درمیان پہلی بار ہو رہی تھی اور اس گفتگو نے میرے مزے اور لطف کو دوبالا کر دیا تھا بہن کی سوچ کا ایک افسوس اب کہیں پیچھے رہ گےا تھا اور اس بات چیت نے ہمیں جہاں فری کر دیا تھا وہاں مجھے بہت مزہ بھی آ رہا تھا۔ حنا کے منہ سے بھی ہلکی ہلکی سسکیاں نکل رہی تھیں میں نے اس امید میں اسے دھکے زور سے لگائے تھے کہ وہ مجھے بہن کی گالی دے گی مگر اس کے منہ سے امی امی نکلا تھا۔ میں اب بات کو مزید آگے بڑھانا چاہتا تھا میں نے پھر اسی امید پہ ایک اور جھٹکا مارا اس بار اس نے آہ آہ کیا اور ٹانگیں اپنی پیٹ سے لگا لیں مطلب اس کے گھٹنے اس کے پیٹ سے جا لگے اور اس نے اپنا منہ سختی سے بند کر لیا۔۔ میں نے اس کی طرف دیکھا اور ایک لمحے کے لیے رک کہ پوچھا جانی کیا ہوا۔۔اس نے مصنوعی غصے سے کہا تمہاری ماں کی پھدی ہوئی ہے کہا ہے آرام سے کرو مگر گدھے جیسا لن میری نازک پھدی میں اتنے زور سے مارتے ہو اس کی گالی سن کہ مجھے بہت عجیب لگا میں نے بھی ایک اور جھٹکا مارا اور ہنستے ہوئے اسے کہا اب تمہاری ماں کی پھدی تو نہیں مار سکتا جانی تیری ہی ماروں گا نا زرا برداشت کر اور اس کے جواب کا انتظار کیے بغیر ہی جھٹکوں کی مشین چلا دی اس نے بھی اپنے بازو میرے گردن میں ڈال کہ نیچلا حصہ اوپر اٹھا کر میرا ساتھ دینا شروع کر دیا اب دو جوان جسم ایک دوسرے کو جکڑ چکے تھے اگلے ایک منٹ کے اندر اس کے جسم میں اکڑ پیدا ہو چکی تھی اور اس نے میرے جسم کو دبوچا ہوا تھا مین بھی اس کے جسم کو دبوچے اسے چومتے جھٹکے لگا رہا تھا کہ اس کی منہ سے مجھے چومتے بے معنی سسکیاں اور آوازیں نکلنے لگیں اور اس جا جسم ایک دم اکڑا اور وہ زور سے بولی اففف بہن چود میں گئی۔ اس کے بہن چود کہنے سے میری آنکھوں کے سامنے ایک دم فروا کا مسکراتا ہوا چہرہ اور موٹی سی بنڈ آنکھوں کے سامنے گھومی اور میرے لن سے منی کی پچکاریاں نکلنے لگیں اور حنا کی پھدی کو بھرنے لگیں لیکن میری آنکھوں کے سامنے فروا کی موٹی بنڈ پہ گرنے لگیں اور میری آنکھیں بند ہوتی گئیں اور میں حنا کی پھدی میں فارغ ہوتے ہی اس کے اوپر گرتا گیا
انوکھا حادثہ
قسط 04
صبح جب آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ حنا واش روم میں نہا رہی تھی میں بھی اٹھا اور اس کے ساتھ شرارتیں کرتے ہوئے نہایا ہاتھ منہ دھویا اور وہ کچن کی طرف چل پڑی ( اگر میں ان سب باتوں کی تفصیل لکھوں گی تو کہانی بور اور غیر متعلقہ باتوں میں الجھ جائے گی اس لیے صرف وہی واقعات لکھے جائیں گے جو ایک بھائی کو بہن کی طرف لے گئے ) میں بھی تھوڑی دیر بعد اٹھ کہ نیچے گیا ناشتہ کیا اور دفتر کی طرف نکل گیا۔ دفتر میں کام کرتے وقت کا پتہ ہی نہ چلا اور پھر دفتر سے چھٹی کر کہ میں دو بجے نکلا اور گھر کی طرف روانہ ہو گیا۔ میں نے گیٹ کھولا اور اندر داخل ہو گیا ہر گھر کے گیٹ میں اب یہ ہوتا ہے کہ چھوٹا گیٹ باہر سے کھول کہ اندر آ سکتے ہیں بہت گھروں کے گیٹس میں یہ ایک عرصہ تک سسٹم رہا ہے ۔ میں گیٹ ہمیشہ آہستہ آواز میں کھولتا تھا کہ گھر کے باقی لوگ ڈسٹرب نہ ہوں کیونکہ امی ابو بھی دوپہر کو آرام کرتے تھے اور یہ روز مرہ کی روٹین تھی ۔ میں نے آہستگی سے گیٹ کھولا اور گھر میں داخل ہوا اور گیٹ کو بند کر کہ گھر کی اندرونی طرف بڑھا ۔ میرا ارادہ یہی تھا کہ خاموشی سے اوپر جاتا ہوں جتنی دیر میں نہاوں گا حنا کھانا بنا لے گی یا گرم کر لے گی اور یہی سوچتا میں لاونج سے گزر رہاتھا امی ابو کے کمرے کی طرف دیکھا تو دروازہ بند تھا جبکہ فروا کے کمرے کا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا جو کہ معمول کی بات تھی۔ میں فروا کے کمرے کے باہر سے گزر رہا تھا کہ اندر کسی چیز کے گرنے کی ہلکی سی آواز آئی اور میرے بڑھتے قدم رک گئے۔ پہلے میں نے سوچا کہ چھوڑوجو بھی گرا ہے میں نہیں دیکھتا پھر خیال آیا کہ ایک نظر دیکھ لو کوئی ایسی چیز نہ گری ہو جس سے کوئی نقصان کا خطرہ ہو ۔ یہ سوچ زہہن میں آتے ہی میں فروا کھ کمرے کی طرف بڑھا اور نیم وا دروازے کو کھول کہ اندر دیکھا میرا ارادہ تھا کہ زور سے باووو کی آواز نکالوں گا اور اسے ڈراوں گا اس لیے دروازہ کھولتے ہی میں نے سانس روک کر باووو کی آواز نکالنے کا منہ بنایا لیکن دروازہ کھلتے ہی جومنظر سامنے تھا میرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ میں نے شائد یہ منظر پہلے بھی کئی بار دیکھا تھا لیکن اس میں مجھے تب کچھ عجیب یا نیا نہیں لگا تھا لیکن کیونکہ اب سوچ بدل چکی تھی تو یہ نظارہ بھی مجھے بہت اثر انگیز لگا ۔ سامنے پلنگ پہ فروا کروٹ لیے لیٹی تھی اور اس نے ہلکے پیلے رنگ کی قمیض اور سفید رنگ کی کاٹن کی ٹراوزر نما شلوار پہن رکھی تھی اور اس کے پاس پلنگ کے قریب ایک کتاب پڑی ہوئی تھی شائد وہ کتاب گرنے کی آواز مجھے آئی تھی۔ اس کی قمیض کا پچھلا دامن کروٹ لینے کی وجہ سے اس کی وسیع و عریض گانڈ سے ہٹ چکا تھا اور سفید رنگ کی شلوار میں قید موٹی تازی گانڈ الگ ہی جوبن دکھا رہی تھی۔میرا منہ جو باوو کی آواز نکالنے کے لیے کھلا تھا کھلا ہی رہ گیا مجھے ایک سکتہ سا ہو گیا کہ جو نظارہ تھا شائد میری آنکھیں اس کی تاب نہ لا سکتی تھیں اس کے جسم کی اس ادا نے میرے ہوش اڑا دئیے تھے ۔ میرا لن اپنی ہی بہن کی گاند دیکھ کر جھٹکے کھا رہا تھا اور میرے خود کو لاکھ روکنے کوسنے کے باوجود بھی میری نظر وہاں سے نہیں ہٹ رہی تھی نظروں کی اس کمینگی کے بعد میں خود کو کوستے ہوئے کمرے میں داخل ہوا اور کتاب کو نیچے سے اٹھانے لگا میں نے جھک کہ کتاب اٹھائی اور اوپر اٹھتے ہوئے میری نظر ایک بار پھر سوئی ہوئی بہن کے جسم پہ پڑی اس بار کیونکہ میں زیادہ قریب سے دیکھ رہا تھا تو مجھے احساس ہوا کہ اس کی شلوار کافی نیچے تک باندھی ہوئی ہے کیونکہ شلوار کے نیفے سے گانڈ کی درمیانی گلی جدھر سے شروع ہو رہی تھی وہ جگہ واضح تھی یہ نظر پڑھتے ہی میرے لن نے ایک جھٹکا کھایا اور میں وہیں بیٹھتا چلا گیا میرا گلا خشک ہو گیا اور سانس جیسے گلے میں اٹک گئی اور آنکھیں بہن کی کمر اور گانڈ سے جیسے چپک گئیں ۔میں ٹکٹکی باندھے فروا کی گانڈ کو دیکھنے لگ گیا کہ اس کی گانڈ کدھر سے شروع ہو رہی ہے اور اس کی بناوٹ کیا ہے ۔ شلوار اتنی باریک تھی کہ جہاں سے ٹائیٹ تھی وہاں سے جسم کا گورا رنگ چھلک رہا تھا مین دنیا سے بے خبر بہن کے جسم کو دیکھے جا رہا تھا کہ اچانک میری نظر کمرے کے کھلے دروازے پہ پڑی
میں تیزی سے اٹھا اور دروازے کی طرف بڑھا کہ کھلے دروازے سے اگر کوئی مجھے دیکھ لے گا تو کیا سوچے گا مین اٹھ کر دروازے کے پاس پہنچا تو ایک انجانی طاقت نے مجھے پھر پیچھے مڑنے پہ مجبور کیا اور میں نے پیچھے مڑ کہ دیکھا تو میری بہن اسی طرح بے خبر سو رہی تھی میرے ضمیر نے مجھے بہت ملامت کرنا شروع کر دی کہ یہ کیا کمینگی کر رہے ہو گھر میں کوئی دیکھ لے تو کیا سوچے گا اگر وہ جاگ جائے تو پھر اسے کیا منہ دکھاو گے ابھی پہلی بات بھی پرانی نہیں ہوئی وہ یہی سوچے گی کہ تم نے جان کہ ہاتھ مارے تھے اس سوچ کے آتے ہی میں اس کے کمرے کے دروازے سے باہر نکلا اور اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا اپنے کمرے کا دروازہ میں نے آہستگی سے کھولا تو دیکھا حنا بھی بے سدھ سو رہی ہے میں نے بغیر کچھ سوچے کمرے کا دروازہ بند کر دیا اور وہی کمینی سوچ میرے زہہن میں ایک بار پھر اتر آئی کہ حنا بھی سو رہی ہے امی ابو بھی کمرے میں ہیں تو کیوں نا زرا سا فرحی کو اور دیکھ لیا جائے۔ تھوڑا سا اس کا جلوہ دیکھ لینے میں کیا حرج ہے ۔۔ اس سوچ کے ساتھ ہی میں واپس مڑا لیکن ضمیر صاحب بھی بڑے فرض شناس تھے فورا بولے ارے کمینے تیری سگی چھوٹی بہن ہے اس کو دیکھنے چلا ہے کچھ تو غیرت کر لے ۔ لیکن دوسری سوچ بھی بڑی بھاری تھی فورا سے پہلے جواب آ گیا اچھا گانڈ دیکھنے سے کیا فرق پڑ جائے گا میں نے کون سا کچھ کرنا ہے بہن کے ساتھ صرف گانڈ ہی دیکھنی ہے زرا پاس بیٹھ کر ۔ پھر بھی یہ بہت غلط بات ہے ضمیر نے ایک بار پھر ٹوکا لیکن ہوس غالب رہی اور میں سیڑھیاں اتر کر نیچے آ گیا ۔ اپنے ہی گھر میں چوروں کی طرح گھومنا بہت عجیب لگ رہا تھا میرا چہرہ جل رہا تھا اور ہاتھ پاوں کانپ رہے تھے میں نے کھڑا ہو کہ زرا خود کو نارمل کیا اور کچن کی طرف بڑھ گیا کچن میں جا کہ ایک گلاس پانی پیا اس دوران بھی میرے دل و دناغ میں کشمکش جاری رہی لیکن آخری فتح ہوس کی ہوئی اور ایک بھائی ایک رشتہ بہن کی گانڈ کی پہاڑیوں کے پیچھے اوجھل ہو گیا اور بہن کی گانڈ کی کشش بھائی کو اس کے کمرے کے دروازے تک لے آئی ۔ میں بھی تب تک خود کو یہ سمجھا چکا تھا کہ بس تھوڑی دیر دیکھنا ہے اور کچھ بھی نہیں بس دیکھ کہ مڑ جانا ہے مین نے ایک گہری سانس لی اور اس کے کمرے میں داخل ہو کہ دروازہ بند کر دیا کمرے کی کھڑکی کے سامنے سے پردے ہٹے ہوئے تھے جس کی وجہ سے کمرے میں تاریکی نہ تھی۔ میں دبے پاؤں چلتا ہوا فروا کے پاس پہنچا تو وہ اسی طرح کروٹ لیے ہوئے سو رہی تھی میں نے جھانک کہ اس کے چہرے کی طرف دیکھا تو اس کا آدھا چہرہ بالوں سے ڈھانپا ہوا تھا اس نے ایک ہاتھ اپنے گال کے نیچے رکھا ہوا تھا اور دوسرا ہاتھ بھی چہرے کے پاس تھا ہاتھوں کے اس طرح رکھنے سے اس کے ممے تقریبا کور ہو چکے تھے ۔ میں نے پیچھے ہٹ کر دیکھا تو اس کی قمیض گانڈ سے ہٹی ہوئی تھی مگر اس کی کمر پھر بھی بہت کم نظر آ رہی تھی میں نیچے فرش پہ اس کی گانڈ کے پیچھے بیٹھ گیا اور اس کی گانڈ کو دیکھنے لگ گیا۔ اب ضمیر صاحب مکمل طور پہ چپ ہو چکے تھے میں نے اس کی گانڈ کے درمیانی کریک کودیکھا جو اس کی گانڈ کی بڑی بڑی پہاڑیوں کو الگ کر رہا تھا اور گانڈ کی خوبصورتی کو نمایاں کر رہا تھا میری نظر ادھر پڑتے ہی میرا لن جھٹکا کھا کہ کھڑا ہو گیا اور بے ساختہ میں نے اپنے لن کو ہاتھ میں لے لیا ۔ اس حرکت پہ ضمیر نے مجھے ایک بار پھر ملامت کی کہ اب اتنے گر چکے ہو کہ سگی بہن کی گانڈ دیکھ کر لن کھڑا کیے بیٹھے ہو ۔ اس سے پہلے کہ ضمیر صاحب کچھ اور کہتے ایک سوچ نے مجھے پھر پکڑا کہ بعد میں شرمندہ ہوتے رہنا اب دیکھ لو اچھے سے کہ یہ موقعے بار بار نہیں ملا کرتے۔ میں نے بھی اس آواز کی ہاں میں ہاں ملائی اور دایاں ہاتھ آگے بڑھا کہ ہاتھ کی انگلی اورانگوٹھے کی چٹکی میں اس کی ومیض کا دامن پکڑ لیا اس دوران میری بھرپور کوشش رہی کہ ہاتھ اس کے جسم سے نہ ٹکرائے، میرے ہاتھ ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے گلہ خشک تھا سانس تیز چل رہی تھی لیکن لن بھی کھڑا تھا ۔ میں نے قمیض کا دامن چٹکی میں پکڑے اسے آہستہ آہستہ اوپر کرنا شروع کر دیا جس سے اس کی قمیض کا دامن کمر سے کندھوں کی طرف اٹھنا شروع ہو گیا۔ تھوڑی سی محنت کے بعد اس کی قمیض بہت حد تک اوپر ہو گئی اس کی ننگی کمر دیکھتے مجھے لگنے والے جھٹکوں کی تعداد تیز ہو گئی اور میں نے اپنے بائیں ہاتھ سے کن کو مسلنا شروع کر دیا ۔ اب صورتحال یہ تھی کہ میری چھوٹی بہن میرے آگے کروٹ لیے لیٹی ہوئی تھی میں اس کی قمیض اوپر کر کہ اس کی کمر ننگی کر چکا تھا اور اس کے پیچھے بیٹھا لن کو سہلا رہا تھا عزت غیرت محبت پیار سب بےمعنی ہو چکا تھا ایک درندگی کمینگی مجھ پہ سوار ہوچکی تھی . میں اس کی گانڈ کی کشش میں پوری طرح کھو چکا تھا اور مجھے احساس ہوا کہ میری بہن کا جسم تو میری بیوی کی نسبت بہت خوبصورت اور پر کشش ہے اس کے جسم کی اٹھان تو بہت زبردست ہے حنا تو بس ایویں سی ہے اصلی خوبصورتی تو یہ ہوا کرتی ہے ۔ اس سوچ کے آتے ہی اندر سے ایک اور سوچ ابھری کہ یہ دیکھنے مین اتنی پیاری ہے چھونے میں کیسی ہو گی۔ پھر سوچ ابھری ابھی کل ہی تو چھو کہ دیکھا تھا بے ساختہ میری نظر اپنے ہاتھ پہ پڑی اور وہ فریادیں کرتا ہوا محسوس ہوا کہ کاش یہ لمس پھر نصیب ہو جائے خبردار جو بہن کو ہاتھ لگایا تو ۔ مجھے اندر ہی اندر کسی نے زور سے ڈانٹا۔ایسی کمینگی بھول کہ بھی مت کرنا تم۔ دیکھو ابھی کل اتنے زور سے ہاتھ تو لگا تھا اب زرا آہستہ سے لگا لوں گا تو اسے کون سا پتہ چلنا ہے اندر سے پھر ایک اور آواز آئی۔ نہیں اگر وہ جاگ گئی تو اسے کیا منہ دکھاو گے پھر ۔۔ لیکن ہوس تھی کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی دیکھو ہلکا سا ہاتھ اوپر والی پہاڑی پہ رکھ دو کچھ نہیں ہوتا وہ سو رہی ہے ۔ اس آواز کے زیر اثر میں نے دایاں ہاتھ اس کی گانڈ کے اوپری حصے سے ہلکا سا لگا دیا۔ اب صورتحال یہ بنی ہوئی تھی کہ وہ کروٹ کے بل بیڈ پہ لیٹی تھی میں فرش پہ اس کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا اور اس کی قمیض کو اوپر کر کہ اس کی کمر کو ننگا کر چکا تھا میرا دایاں ہاتھ اس کی گانڈ کے اوپری حصے پہ تھا اور بائیں ہاتھ سے میں لن کو سہلا رہا تھا۔ مجھ پہ ہوس پوری طرح سوار ہو چکی تھی اور مجھے یہ بالکل بھی احساس نہیں تھا کہ میں غلط کر رہا ہوں کہ مجھے ہوس یہ سمجھا چکی تھی ان لمحوں سے مزہ کشید کرو پچھتانے کے لیے عمر پڑی ہوئی ہے ۔ اسی سوچ کے زیر اثر میں نے ہاتھ کو اس کے اوپر ہلکا سا پھیرا اور دبایا لیکن اس کی نیند میں کوئی فرق نا آیا تو میں نے ہاتھ نیچے کھسکاتے ہوئے گانڈ کی گلی میں رکھ دیا فروا کی گانڈ کی گلی اتنی کھلی تھی کہ میری دو انگلیاں اس کی گلی کے درمیان سما رہی تھیں ۔ میں نے اس کی نرم نرم گانڈ کے درمیان انگلیوں کو پھیرا تو مجھے اس کی گانڈ سے ہلکی ہلکی گرمی نکلتی محسوس ہوئی میں نے ہاتھ پیچھے کر کہ گانڈ کے باہری حصے پہ رکھا تو وہ ٹھنڈا تھا لیکن میں نے ہاتھ جیسے ہی گلی میں رکھا مجھے وہ پھر تھوڑی گرم محسوس ہوئی۔ انسانی خواہشات کہاں پوری ہوتی ہیں یہ تو ایک حاصل کی تمنا ہے جب تک ساری بات پوری نہ ہو بات کدھر بنتی ہے میرے دل میں بہن کو ننگا دیکھنے کی خواہش ابھرتی چلی گئی
انوکھا حادثہ
قسط 05
جیسے ہی میرے زہہن میں بہن کو ننگا دیکھنے کی خواہش پیدا ہوئی میں دھیرے سے اوپر اٹھا اور دروازے کی طرف بڑھا اور دروازے کو آہستہ سے کھول کر باہر جھانکا تو باہر اسی طرح ویرانی تھی اور چپ کا عالم تھا۔ میں نے دروازہ بند کیا اور پھر بہن کی طرف پلٹا جو اسی طرح بے سدھ لیٹی ہوئی تھی۔ میں دبے پاوں اس کے پاس پہنچا اور گھٹنے فرش پہ ٹیکتے ہوئے نیچے فرش پہ بیٹھ گیا اس کی قمیض کمر سے اوپر کر چکا تھا اور شلوار اس کی کمر سے نیچے تھی اور یہ تو مجھے پتہ تھا کہ اس کی شلوار میں الاسٹک ہوتی ہے ۔ میں نے بالکل آہستہ آہستہ ہاتھ آگے بڑھائے اور دونوں ہاتھ کی انگلی اور انگوٹھے کے درمیان اس کی شلوار گانڈ کے اوپری اور نیچے والے حصے سے پکڑ لی میرا ایک ہاتھ اس کے گانڈ کے اوپری حصے سے شلوار کو پکڑے ہوئے تھا اور دوسرا ہاتھ نچلے حصے کے اوپر سے شلوار کو نیفے کے اوپر سے پکڑے ہوئے تھا۔ میں نے ایک گہری سانس لی اور بہن کی طرف دیکھا جو اسی طرح سوئی ہوئی تھی میں نے بہت آہستہ سے شلوار کو اوپر کھینچا تو الاسٹک کی وجہ سے شلوار آرام سے اوپر ہوتی گئی اور اوپر ہوتی شلوار کی جھلک سے اس کی موٹی تازی گول مٹول گانڈ سامنے نظر آتی گئی۔ میں بہت ہلکی رفتار سے شلوار کو اوپر اٹھا رہا تھا جو اس کے جسم سے تقریبا ایک فٹ تک اوپر ہو چکی تھی ۔ میں نے بہن کی طرف دیکھا جو بے خبر سو رہی تھی اور میں نے اوپر اٹھی شلوار کو نیچے کی طرف کرنا شروع کر دیا۔ شلوار کا اوپری حصہ تو آرام سے اترتا گیا لیکن نچلے حصے کے نیچے شلوار ہونے کی وجہ سے نچلا حصہ آدھا ننگا ہوا اور اوپر والا حصہ مکمل طور پہ ننگا ہو گیا اس کی گانڈ کی شکل D کے جیسی تھی اور میں نے شلوار کو آہستگی سے اس کی گانڈ سے اتار کہ نیچے کر دیا ۔ میرا لن تو پہلے سے کھڑا تھا جو یہ سفید گول مٹول برفانی پہاڑیاں دیکھ کر اور بے قابو ہونے لگا۔ میں نے شلوار کو آرام سے اس کی گانڈ پہ چھوڑا اور اطمینان کی سانس لی۔ اس کی شلوار اترنے کی وجہ سے اس کی گانڈ کا اوپری حصہ سارا اور نچلہ حصہ آدھے سے زیاہ ننگا تھا اور اس کی گلی سامنے کھلی ہوئی تھی۔ میں نے ایک نظر اس کو دیکھا اور پھر دروازے کو دیکھا دروازے کو بند پا کر میں نے اپنا چہرہ اس کے گانڈ کے قریب تر کر دیا اور غور سے بہن کی گانڈ کے درمیاں جھانکنے لگا۔ اس کی کھلی ہوئی گلی مین گہرے گلابی رنگ کا ننا مناسا سوراخ جھانک رہا تھا اور اس کے تھوڑا سا آگے پھدی کی باریک لائن زرا سی نظر آ رہی تھی۔ اس کی گانڈ کا سوراخ دیکھتے ہی مجھے حیرت کا ایک جھٹکا لگا کیونکہ حنا کی گانڈ کا سوراخ تو ڈارک براوں تھا اورلمبوتری شکل کا تھا جبکہ یہاں o شکل کا ایک چھوٹا سا سوراخ تھا جو گلابی رنگ کا تھا ۔ میں نے دائیں ہاتھ کی انگلی کو آگے بڑھایا اور اس کو گانڈ کے سوراخ پہ ہلکا سا مس کیا۔ گانڈ کا پورا سوراخ میری انگلی کی پور کے نیچے آ گیا ۔ میں زندگی کے سب سے حسین لمحات میں تھا یہ مزہ یہ لطف مجھے زندگی میں کبھی نہیں آیا تھا ۔ کل تک بہن کے لیے جان دینے والا بھائی اسے ننگی کر کہ اس کی گانڈ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا زرا سے ہوس مجھے کہاں سے کہاں لے گئی تھی۔ میری بہن کی بالکل سفید گانڈ جیسے گول گول پہاڑیوں پہ برف پڑی ہوئی ہو میرے سامنے تھی اور گہری کھلی ہوئی گلی میں اس کا گلابی رنگ کا سوراخ بالکل سامنے نظر آ رہا تھا۔ میں نے اسی طرح بیٹھے بیٹھے بائیں ہاتھ سے لن کو سہلانا شروع کر دیا اور اپنا ایک ہاتھ اس کی گانڈ کے اوپری حصے پہ ہلکا سارکھ دیا ۔ میرا دایاں ہاتھ اس کی گانڈ پہ تھا اور بائیں ہاتھ سے لن کی مٹھ لگا رہا تھا اور مجھے جو مزہ مل رہا تھا وہ کبھی حنا کی پھدی مارنے میں بھی نہیں ملا تھا۔ اس کی گانڈ کےاوپری حصے کو سہلاتے سہلاتے میں نے ہاتھ نیچے گلی میں کیا اور اس کے چھوٹے سے سوراخ کو سہلانے لگ گیا اور ایک نظر بہن پہ بھی ڈالی جو اسی طرح سوئی ہوئی تھی۔ میں انگلی کو اس کے سوراخ پہ گول گول گھوماتااور سوراخ کے اوپر دباتا اس کا سوراخ سارا مجھے اپنی انگلی کی پور کے نیچے محسوس ہو رہا تھا مجھے ایسے لگا جیسے بہن کی بڑی سی موٹی گانڈ مجھے کہہ رہی ہے بھائی تم پہلے مرد ہو جو اس تک پہنچے ہو اس سے ہہلے ان اونچائیوں تک اس گہرائی تک کوئی نہیں پہنچا تم پہلے مرد ہو جو یہاں تک پہنچ چکے ہو ورنہ ان کو چھونا تو دور کسی نے دیکھا تک نہیں ہے ایک عجیب انوکھے احساس نے مجھے پکڑا ہوا تھا اور میں لن کو سہلاتا جا رہا تھا میں نے اس کی گانڈ کے سوراخ کو سہلاتے سہلاتے انگلی باہر نکالی اور اپنے منہ کے قریب لے گیا میرا ارادہ تھا کہ تھوڑی سی تھوک لگا کہ سوراخ کو گیلا کرتا ہوں لیکن میں نے ہاتھ منہ کے قریب کیا تو مجھے احساس ہوا کہ میرا گلہ خشک ہے اور میں نہیں تھوک سکتا، میں نے اسی طرح بائیں ہاتھ سے لن کو سہلاتے سہلاتے منہ آگے کیا اور بہن کی گانڈ کے اوپری حصے پہ ہونٹ لگا کہ ہلکا سا چوم لیا۔ واہ واہ مجھے ایسے لگا کہ میں نے مکھن کی طرح نرم کسی چیز کو چوما ہے میں نے منہ اوپر کر کہ دیکھا تو بہن بدستور سو رہی تھی میں نے ایک بار پھر اس کی گانڈ کو چوم لیا۔ میں مزے کی انتہا کو پہنچا ہوا تھا اور اس کے جاگنے کا ڈر بھی کسی کونے میں چھپا ہوا ضرور تھا مگر مجھے اس کی پیاری سی گانڈ سے جو انمول مزہ مل رہا تھا اس کے لیے میں ہر قیمت ادا کرنے کو تیار تھا۔میں نے اس کی گانڈ کو مسلسل چومنا شروع کر دیا یہاں لوگ اس کو شاید مبالغہ آرائی سمجھیں مگر مجھے حنا سے ہونٹ چوسنے میں وہ مزہ نہیں آیا تھا جو فروا کی گانڈ پہ پیار دے کہ ایا تھا۔ حنا میری زندگی کی پہلی لڑکی تھی لیکن وہ مجھے اپنی گانڈ کی طرف بہت کم جانے دیتی تھی اس کا کہنا تھا کہ یہ ہمارے مزہب میں جائز نہیں اور مجھے گانڈ دیکھنے کی ایک بڑی حسرت تھی جو آج بہن کی شکل میں پوری ہو رہی تھی اس لیے میں لگاتار اس پیاری دلنشین گانڈ کو چومے جا رہا تھا۔ اس کی گانڈ کو چومتے چومتے میں پیچھے ہٹا اور ایک نظر بے سدھ سوئی ہوئی بہن کو دیکھا اور اپنے دائیں ہاتھ سے اس کی موٹی گانڈ کے اوپری حصے کو ہلکا سا پکڑ کہ اوپر کیا جس سے اس کی کھلی ہوئی گلی اور کھل گئی اور اس کی گانڈ کا سوراخ زیادہ نمایاں ہو گیا ۔ اس کی پھدی کی تھوڑی سی لکیر نظر آ رہی تھی باقی وہ اس کی شلوار کے نیچے تھی۔ میں نے اس کی گانڈ کو آہیستگی سے کھولتے ہوئے اپنا منہ اس کی گلی میں ڈال کہ سوراخ پہ ایک پیار کرنے کی کوشش کی۔ مجھے یہ احساس ہو گیا کہ میرے ہونٹ سوراخ کے ارد گرد لگتے ہیں ۔ میں نے کبھی بھی حنا کے ساتھ یہ کچھ نہ کیا تھا اور نا کبھی سوچا تھا لیکن بہن کی گانڈ دیکھ کر میں خود بخود ایسی حرکات کرتا جا رہا تھا۔ میں نے گلی میں سوراخ پہ ایک پیار کیا اور مڑ کہ فروا کی طرف دیکھا تو وہ اسی طرح سوئی ہوئی تھی میں نے اس کی گانڈ کوآئستگی سے کھولتے ہوئے پھر منہ اس کے درمیاں گھسایا اور اپنی زبان نکال کہ اس مقدس سوراخ کو چاٹنے لگ گیا میں نے زبان کی نوک سے سوراخ کے درمیان سے چاٹنا شروع کیا اور زبان کو سوراخ پہ گھول گھماتا گیا ۔ سرور اور مزے کی ایک لہر میرے سارے جسم میں دوڑتی گئی اور میں نے بائیں ہاتھ سے لن کو سہلانا شروع کر دیا۔ میری زبان بہن کی گانڈ کے سوراخ پہ پھر رہی تھی اور میں مزے میں ڈوبا لن کو سہلا رہا تھا اور میری بہن بے سدھ سو رہی تھی مین تھوڑی دیر کے بعد منہ باہر نکالتا اور اسے سوتا دیکھ کہ پھر گانڈ چاٹنے لگ جاتا لیکن کب تک ۔۔ آخر میرے جسم کا سارا خون میرے چہرے میں جمع ہوتا گیا اور میں بہن کی بنڈ چاٹتے چاٹتے فارغ ہو گیا میری زبان اس کے سوراخ پہ تھی لیکن میرا کام ہو چکا تھا۔ کوئی دس سیکنڈ میرے لن کو مسلسل جھٹکے لگتے رہے اور میرا لن مسلسل منی نکالتا رہا اتنی دیر میں کبھی حنا میں بھی فارغ نہیں ہوا تھا۔ فارغ ہوتے ہی میں نے منہ بہن کی گانڈ سے باہر نکالا تو دیکھا اس کی گانڈ کا سوراخ میری تھوک سے چمک رہا تھا میں وہیں سے کھسک کہ بیڈ کے سائیڈ ٹیبل کی طرف ہوا اور وئاں سے ٹشو پیپر نکالے میں اپنی شلوار کے اندر ہی فارغ ہوا تھا ۔ میں نے ٹشو پیپر سے بہن کی موٹی گانڈ کے درمیان اپنی لگی ہوئی تھوک صاف کی اور ٹشو پیپر کو ڈسٹ بن میں ڈال دیا۔ فارغ ہونے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ اففف یہ میں نے کیا کر دیا بہن کی ننگی گانڈ سامنے دیکھ کر مجھے بہت شرمندگی ہوئی میں نے شلواد کو پکڑ کر آہستگی سے اس کی گانڈ کے اوپر کر دیا اور خود کو کوستا اس کے کمرے سے باہر نکلا۔ فارغ ہونے کے بعد مجھے اپنا آپ بہت گھٹیا محسوس ہو رہا تھا ۔ باہر اسی طرح خاموشی تھی لیکن کمرے کے اندر ایک قیامت گزر چکی تھی گھر کے چوکیدار کے ہاتھوں ہی گھر کی سب سے قیمتی چیز بےوقعت ہو چکی تھی ۔ میں شرمندہ شرمندہ بہن کے کمرے سے نکلا اور اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا خوش قسمتی سے سب سوے ہی ہوئے تھے ۔ میں اپنے کمرے میں گیا تو حنا بھی سو رہی تھی میں جلدی سے باتھ میں گھسا اور گندے کپڑے نکال کہ بالٹی میں پانی بھرا اور اس میں ڈال دئیے اور نہانے لگا ۔ نہانے کے بعد باتھ میں لٹکا ٹراوزر شرٹ پہن کہ میں باہر نکلا تو حنا بدستور سو رہی تھی۔ مجھے نہاتے ہوئے بھی بہت شرمندگی محسوس ہوتی رہی وقتی ہوس میں اتنا کچھ کر تو دیا تھا لیکن اب مجھے اپنا آپ بہت برا بھی لگ رہا تھا۔ خیر میں شرم کے مارے بیڈ پہ چپکے سے لیٹا تا کہ حنا کی نیند خراب نہ ہو۔ مجھے بھوک تو لگی ہوئی تھی لیکن دل کے چور کی وجہ سے میں نے اسے نہ اٹھایا اور بیڈ پہ لیٹ گیا۔ تھوڑی ہی دیر میں یہ سب کچھ سوچتے سوچتے میری آنکھ لگ گئی۔ میری آنکھ کھلی تو شام ہو چکی تھی اور میں بیڈ پہ اکیلا تھا۔ حنا شائد نیچے جا چکی تھی میں بیڈ سے اٹھا ہاتھ منہ دھویا اور نیچے اتر گیا۔ سیڑھیاں اترتے ہی سامنے امی بیٹھی ہوئی تھیں میں نے ان کو سلام کیا اور سامنے لاونج میں جا کر ٹی وی کے سامنے بیٹھ گیا انہوں نے مجھے سلام کا جواب دیا اور بولیں تم دفتر سے مڑ کہ کس وقت آئے ہو اور کھانے کے لیے کسی کو جگایا کیوں نہیں بھوکے ہی سو گئے۔ اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دیتا فروا کمرے سے نکلتی دکھائی دی اس نے بھی امی کی بات سن لی تھی اس کے ہاتھ میں ٹرے تھی جس پہ چائے اور بسکٹ رکھے تھے۔ وہ مسکراتی ہوئی کچن سے نکلی اور بولی ارے امی آپ بھائی کے لیے بالکل پریشان نہ ہوں کھانے پینے کے لیے ان کی پسند بڑی یونیک ہو گئی ہے اور دوپہر میں یہ بالکل بھی بھوکے نہیں رہے اپنی پسند کا کھانا یہ پیٹ بھر کہ کھا چکے تھے۔ وہ یہ بات کرتی ہوئی میری طرف چلی آ رہی تھی اور میں ہونق بنا اس کی بات سن رہا تھا۔ میرے کچھ بولنے سے پہلے ہی امی نے اسے پوچھا کیوں کیا کھایا تھا اس نے جو تم یہ کہہ رہی ہو ۔ وہ میرے سامنے میز پہ چائے رکھتے ہوئے زیر لب بڑبڑائی جناب کوئی آدھا گھنٹہ بہن کا ہضم شدہ کھانا نکال کہ کھانے کی کوشش کرتے رہے ہیں ۔ یہ بات کہتے ہوئے اس کے چہرے پہ عجیب سے تاثرات تھے اور وہ اتنی مدھم آواز میں بولی کہ امی کو سمجھ ہی نہ آئی لیکن مجھے تو ساری بات واضح سنائی دی تھی ۔ میرا تو چہرہ فق ہو گیا اور ایک دم مجھے ماتھے پہ پسینہ آ گیا میرے وہم و گماں میں بھی نہیں تھا کہ اسے یہ سب پتہ ہو گا لیکن اس نے اتنی واضح بات کر دی تھی ۔ امی نے اس سے پھر پوچھا کیا کہا ہے تم نے؟ اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور بولی امی بھیا نے کھانا کھا لیا ہو گا ویسے بھی یہ برگر بہت پسند کرتے ہیں تو میں کہہ رہی تھی شائد یہ برگر کھا چکے ہوں اس لیے اب ان کے لیے چائے لائی ہے یہ کہتے ہوئے وہ میری طرف مڑی جب وہ میری طرف مڑتی تو امی کی طرف اس کی کمر ہو جاتی تھی اس نے کہا امی یہ دیکھیں مین ان کے لیے بسکٹ بھی لائی ہوں اور پلیٹ میری طرف بڑھاتے ہوئے چہرے پہ دنیا جہاں کی نفرت سجاتے ہوئے ہلکی آواز میں اس نے کہا یہ لو گھٹیا انسان بسکٹ ٹھونسو ۔۔ مجھے یوں لگا جیسے میں آسمان سے زمین پہ آ گرا ہوں زمین پھٹے اور میں اس میں سما جاوں
فروا کے اس حملے نے مجھے چاروں شانے چت کر دیا تھا میں تو یہ سوچ کہ خوش تھا کہ اسے کچھ علم نہیں لیکن اس کی بات اور اس کا انداز بتا رہا تھا کہ وہ سب جانتی ہے لیکن امی کے سامنے اس نے میرا پردہ رکھا ہے۔ لیکن اس کی نٹ کھٹ طبیعت کا پتہ بھی کوئی نہیں تھا کہ کب کون سی بات کر بیٹھے ۔ مجھے ٹھنڈے پسینے آ گئے اور اس ڈر نے مجھے بے چین کر دیا کہ یہ سب جان گئی ہے اب اگر امی کو بتاتی ہے تو میرا کیا ہوگا۔ فروا میرے سامنے کھڑی تھی اور وہ امی کی طرف مڑتی تو مسکرانے لگتی میری طرف مڑتی تو اس کے چہرے پہ بہت غصہ نظر آتا۔ اس دوران میں بھی لاجواب ہو چکا تھا اور مجھے لگ رہا تھا کہ مجھ پہ بوکھلاہٹ طاری ہو چکی ہے۔ فروا نے مجھے یوں پریشان دیکھا تو امی کی طرف مڑی اور ہنستے ہوئے بولی ۔ امی یہ بھائی کو دیکھیں میں نے زرا سی بات کی اور ان کے تو ہوش ہی اڑ گئے ہیں اپنی بار زرا سا بھی مزاق نہیں برداشت کر سکتے خود جو مرضی ہو کرتے پھرتے ہیں ۔ میرے تو جیسے ہوش اڑ گئے یا ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے اس وقت اگر ہمسائیوں کے طوطے ہوتے تو انہوں نے بھی اڑ جانا تھا۔ اس کی یہ بات کچن کے دروازے سے نکلتی حنا نے بھی سن لی میری نظر امی پہ پڑی اور پھر کچن سے نکلتی حنا پہ اور پھر سامنے کھڑی دشمن جان و لن پہ نظر پڑی جو سنجیدہ شکل بنائے میرے سامنے کھڑی تھی ۔ میرا حال تو یہ تھا کہ کاٹو تو لہو نہیں۔ امی نے ہی اسے آواز دی کہ کیا بات کہہ دی ہے تم نے ایسی بھائی کو۔ اس نے امی کی طرف دیکھا اور پھر مجھے دیکھا اور بولی میں یہ ڈرٹو بھیا ( کمانڈر سیف گارڈ کارٹون سیریز جنہوں نے دیکھی ہے وہ اس کردار سے واقف ہوں گے ) کو بول رہی تھی کہ مجھے شاپنگ کروا دیں لیکن ان کے تو ہوش اڑ گئے ہیں لگتا ہے بھابھی سے بہت ڈرنے لگ گئے ہیں ۔ اس کی اس بات پہ میں نے بھی سکون کا سانس لیا کہ اس نے بات بدل لی ورنہ میں تو بےبس ہو چکا تھا۔ ادھر میں نے سکون کا سانس لیا ادھر اس کی بات پوری ہوتے ہی حنا بولی ۔ امی میں نے کچھ نہیں کہا فروا تو میری بہن ہے یہ جب چاہے ان سے شاپنگ کر لے یہ خود ہی پریشان ہوئے ہوں گے ۔امی حنا کی بات سن کہ ہنس پڑیں اور بولی ارے بچہ میں جانتی ہوں تم نے ایسا کچھ نہیں کہا یہ چڑیل بس مزاق کرتی رہتی ہے نا تم سے بہن جیسا ہی تو پیار کرتی ہے ۔ حنا امی کے پاس بیٹھ گئی تو فروا نے ایک نظر ادھر دیکھا اور بولی ہاں میں بہن ہی تو ہوں نا ان کی یہاں تک اس نے اونچی آواز میں کہا اور پھر اس کے بعد ہلکی آواز میں جھکتے ہوئے پلیٹ سے بسکٹ اٹھاتے ہوئے بولی لیکن تمہارے گندے میاں مجھے تمہاری سوکن بنانے کے چکر میں لگ گئے ہیں
فروا کے پے درپے حملوں سے میں بالکل پریشان ہو چکا تھا مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا بولوں ۔ وہ میرے سامنے کھڑی تھی اور تھوڑی دور امی اور حنا بیٹھی ہوئی تھیں ۔ میں چائے کی پیالی اور بسکٹ کی طرف دیکھتا اور کبھی ان سب کی طرف کیونکہ صورتحال ہی عجیب بن چکی تھی مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کیا بولوں۔ فروا نے نیچے جھکتے چائے کی پیالی اٹھا کر میری طرف بڑھائی اور بسکٹ کی پلیٹ میری طرف بڑھاتے ہوئے ہلکی آواز میں بولی ۔ اب جو زائقہ آپ کو پسند ہے جدھر زبان لگا کہ چاٹتے ہیں وہ زائقہ تو نہیں ہے لیکن پھر بھی کھا لیں ورنہ خالی چاٹنے سے پیٹ نہیں بھرتا ڈرٹو۔ اس کے چہرے پہ عجیب تاثرات تھے جیسے مجھ سے بہت ناراض ہو لیکن وہ طنزیہ انداز میں بات کیے جا رہی تھی اور میں بالکل چپ چاپ اس کی باتیں سن رہا تھا کیونکہ ان باتوں کا میرے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ اب امی اور حنا کو یہی لگ رہا تھا کہ وہ مجھے شاپنگ کے لیے راضی کر رہی ہے ۔ مجھے بےبس دیکھ کر حنا نے آواز لگائی ارے بھائی اتنی پریشانی کیا ہے دس ہزار میں دیتی ہوں جائیں اس کو شاپنگ کروا کہ لائیں۔ میرے بولنے سے پہلے ہی فروا بولی ارے نہیں بھابھی پیسے بھی یہ خود لگائیں گے آپ سے تو بالکل نہیں لینے۔ میں نے بھی تھوک نگلتے ہوئے کہا ہاں ہاں میں خود شاپنگ کروا دوں گا جب بھی کہو ۔ مجھے اپنے اوپر سے بوجھ تھوڑا کم محسوس ہوا لیکن یہ فکر مجھے کھائے جا رہی تھی اب فروا کا رویہ کیسا ہو گا یہ تو مجھے باتیں مار مار کہ ہی مار ڈالے گی۔ فروا بھی مڑ کہ ان کے پاس چلی گئی اور میں چائے سامنے رکھے چپ بیٹھا تھا ۔ پھر مجھے خیال آیا کہ چائے تو پی لوں اور میں نے چائے پینی شروع کر دی اور ایک نظر ان پہ بھی ڈالتا جو آپس میں باتیں کیے جا رہی تھیں
انوکھا حادثہ
قسط 06
میں نے چائے پیتے پیتے ان کی طرف دیکھا تو وہ تینوں آپس میں باتیں ہی کیے جا رہی تھیں میں چائے پینے کے ساتھ ساتھ ان کی طرف بھی دیکھ لیتا تھا۔ فروا نے مجھے بار بار ادھر دیکھتے میری طرف دیکھا اور پھر پاس بیٹھی حنا کے گلے میں بازو ڈال کہ اس کے منہ کے ساتھ منہ لگا کہ مجھے آواز دی ۔ بھائی کیا خیال ہے پھر میں نے جیسے اس کی طرف دیکھا تو اس نے آنکھ مارتے ہوئے مجھے اشارہ کیا بھابھی کو بتاوں پھر یا رہنے دوں ۔ مجھے تو لگا کیسے یہ لڑکی مجھے مروائے گی میں نے بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا اور اس سے پوچھا کیا بتانا ہے بھلا؟؟ ارے ے ےےےے اس نے اسی طرح آنکھیں مٹکاتے ہوئے کہا وہی جس کا پتہ چلنے کے بعد آپ کی شامت آنا لازمی ہے ۔ لو اب ایسی بھی کیا بات ہو گئی ہے امی نے حنا کے کچھ بولنے سے پہلے ہی پوچھ لیا ۔ ارے امی بھیا کہہ رہے تھے کہ تم میرے ساتھ شاپنگ پہ جاو گی تو بس دو تین سو کہ چیزیں ہی لے کہ دوں گا اس نے حنا کے گال کے ساتھ اپنے گال رگرتے ہوئے مجھے آنکھ ماری۔ میں نے سکون کا سانس بھرا اور ہنس کہ چپ ہو گیا کہ چور کی داڑھی میں تنکا مجھے یہی لگ رہا تھا کہ وہ چاٹنے والی ننگا دیکھنے والی بات کرنے والی ہی ہو گی۔ امی نے کہا اب اتنا بھی کنجوس نہیں ہے وہ اور آج تو دیر ہو گئی ہے کل جانا اور زیادہ خرچہ نہ کروا دینا ایسے فضول میں ۔ اب اس کی اپنی بیوی بھی ہے تو اخراجات بھی ہوتے ہیں بندے کے۔ فروا نے امی کی یہ بات ہنسی میں اڑا دی اور بولی کوئی بات نہیں بھائی کو دو بیویوں کے خرچے کی پریکٹس ہونی چاہیے نا تا کہ یہ دوسری شادی سے باز رہیں ۔ اچھا اچھا فضول نہ بولا کرو اور کل چلی جانا بھائی کے ساتھ تم ۔ امی نے گویا بات ختم کر دی۔ پانچ ہزار فروا کو میری طرف سے بھی ملیں گے حنا نے بھی سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اعلان کیا تو فروا ایک بار پھر اس کے گلے لگ گئی اور اسے چوم کہ بولی میری پیاری بھابھی آپ تو بہت اچھی ہو بس یہ بھیا ہی کھڑوس سے ہیں ۔ اور ہنسنے لگ گئی میں نے بھی تھوڑا سکون کا سانس لیا ۔ تھوڑی دیر میں ابو بھی آ گئے اور ہماری باتیں چلنے لگیں اور آپس میں باتیں کرتے کرتے امی کی نظر میرے سامنے کپ پہ پڑی تو امی نے سختی سے کہا فرحی ابھی تک کپ کیوں نہیں اٹھایا بھائی کے سامنے سے۔ وہ تیزی سے اٹھی اور بھاگتی ہوئی میرے قریب آئی اور بولی یار آپ ہی بتا دیتے نا ڈرٹو بھائی یہاں تک اس کی آواز سب تک پہنچی اس کے بعد ہلکی آواز میں بولی گندگی اور غلاظت کے بادشاہ ۔ اور کپ اٹھا کر کچن کی طرف چل دی۔ مجھے اس کا یوں طنز کرنا بہت عجیب لگ رہا تھا مگر میں اور کر بھی کچھ نہیں سکتا تھا۔ تھوڑی دیر بعد وہ لوگ اٹھ کہ کچن چلی گئیں اور کھانا پکانے لگ گئیں میں بھی ڈر کے مارے باہر ہی بیٹھا رہا ان کی طرف نہ گیا پھر ہم نے کھانا کھایا اور ہم کمرے میں چلے گئے ۔ کمرے میں جاتے ہی مجھے حنا نے بازوں میں پکڑ لیا اور تھوڑے غصے سے بولی یہ کیا حرکت کی ہے جناب ؟ اب چور کی داڑھی میں تنکا تو نہ تھا مگر دل میں چور تو تھا ہی تو بوکھلاہٹ طاری ہونا بھی فرض قرار پائی مجھے یوں لگا کہ فروا نے حنا کو بتا دیا ہے اور تمام برے خدشات میرے زہہن میں دوڑنے لگے ۔ میں نے سوچا اب کیا بہانہ کروں اور ادھر میرے چپ رہنے سے حنا نے پھر مجھے بازووں کا گھیرا تنگ کرتے ہوئے کہا بتائیں نا کیوں کیا ہے ایسا؟؟ ادھر میرے گلے میں آواز پھنس چکی تھی کہ اب کیا بولوں کہ بات ہی کوئی نہ تھی بولنے کو۔ اب اگر بہن نے شاپنگ کا کہہ دیا تھا تو اس پہ اتنا ہونق بننے کی کیا ضرورت ہے یار ۔حنا نے مجھے بانہوں میں لیتے ہوئے چہرے پہ ایک کس کرتے ہوئے کہا۔ میں نے سوچا ایک حرکت کی ہے اور ایسے لگتا ہے ابھی پکڑا جاؤں گا آخر میرا کیا بنے گا ۔۔ چہرے پہ مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا ارے مجھے یہ تھا کہ میں اسے اکیلی کو لے جاوں تو شائد تمہیں اچھا نا لگے اس لیے تھوڑا کنفیوز تھا نا اور میں نے اس کے ہونٹ چوم لیے۔ آپ بھی بالکل پاگل ہو اسکے ساتھ جانے سے میں کیوں برا مناوں گی بھلا؟ اس نے مجھ سے چپکتے ہوئے کہا مجھے اچھا لگے گا آپ بہن کو پہلے کی طرح بلکہ پہلے سے زیادہ پیار کرو آپ کے پیار میں کمی آئی تو اسے اور امی کو یہی لگے کا میری وجہ سے کمی ہے اس لیے آپ مجھ سے بھی زیادہ اسے توجہ دیا کرو۔ میں مسکرا دیا اور دل میں سوچا جو توجہ اسے دے رہا ہوں تمہیں پتہ چلے تو میرا سر ہی توڑ دو گی لیکن اوپر سے مسکراتے ہوئے کہا جو حکم میری رانی اور اس کی کمر کے گرد بازوں کا گھیرا سخت کرتے اسے تھوڑا اوپر اٹھا لیا اور کہا جیسے میری رانی کہے گی ویسا ہی ہو گا۔۔ اس نے میری ناک کو چٹکی میں پکڑ کہ ہلایا اور ہنستے ہوئے بولی بالکل جناب کل پھر اسے شاپنگ کے لیے لے کہ جانا ہے اور دس ہزار آپ دو گے اور پانچ میں او کے،؟؟ میں نے کہا بالکل جناب ایسا ہی ہو گا۔ اور تم بھی ہمارے ساتھ چلوگی۔۔ اونہو اس نے سر کو نفی میں ہلایا نہ جی بہن کے ساتھ جانا اور وہ کوئی آدم خور نہیں جو آپ کو کھا جائے گی میرے ساتھ جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ مجھے یہ خطرہ تھا کہ اگر ہم اکیلے گئے تو میں اس کا سامنا کیسے کروں گا لیکن میری بات کو حنا نے ریجیکٹ کر دیا اور وہ جانے پہ بالکل بھی راضی نہ ہوئی میں نے بھی ضد نہ کی اور اسے چومتے دباتے بیڈ تک پہنچ گیا۔ کیونکہ دن میں اچھے سے فارغ ہو چکا تھااس لیے میرا لن تو کھڑا تھا مگرمجھے سیکس کی خواہش حنا سے بالکل نہیں ہو رہی تھی ۔ میں اس سے باتیں کرتا رہا اور پھر ہم سو گئے ۔ صبح اٹھ کہ پھر دفتر اور وہی روٹین مگر دن بھر مجھے یہی سوچ ستاتی رہی کہ اس کا سامنا کیسے کروں گا اب گھر بھی تو جانا تھا سو مرتا کیا نا کرتا گھر کی طرف چل پڑا ۔ گھر میں جیسے ہی میں داخل ہوا تو سامنے وہی دشمن جان کپڑے تار سے اتار رہی تھی مجھے گھر داخل ہوتے ہی جیسے دیکھا تو وہیں سے اونچی آواز میں بولی اوہ لوٹ کر بدھو گھر کو آئے اور پھرہنسنے لگ گئی۔ میں چلتے چلتے اس کےپاس پہنچا اور کہا ہاں تو میں اور کدھر جاتا گھر ہی آنا تھا نا۔ جی سب سمجھتی ہوں تبھی جناب نے دروازہ بھی بہت آرام سے کھولا اور بند کیا ہے مگر روز روز چانس نہیں ملا کرتے یہ کہتے ہوئے وہ مسکرائی اور کپڑے لیکر کمرے کی طرف چل پڑی۔ اسکے کمرے کی طرف جانے سے میری نظر اس کی تھرتھراتی مٹکتی گانڈ پہ پڑی اور وہیں کی ہو کہ رہ گئی اس کی گانڈ ہر قدم کے ساتھ اچھلتی اور اوپر نیچے ہوتی تھی۔ کمرے کے دروازے پہ پہنچ کہ وہ رکی اور میری طرف مڑی میں جو اس کی گانڈ کے نظارے میں کھویا ہوا تھا اس کے مڑنے سے بوکھلا گیا اور مجھے اس طرح بوکھلاتا دیکھ کہ وہ ہنس پڑی اور نچلے ہونٹ کو ایک سائیڈ سے دوسرے ہونٹ سے دبا کہ بولی جناب کھانا کون سا کھائیں گے پکا ہوا یا ہضم شدہ؟ میں نے جب دیکھا کہ وہ بار بار وہی بات کر رہی ہے تو میں نے بھی ایک کارڈ کھیلنے کا فیصلہ کیا اور اس کی طرف بڑھتا چلا گیا مجھے یوں اپنی طرف آتا دیکھ کر وہ بھی گھبرا سی گئی اور اس کے چہرے پہ پریشانی کے تھوڑے سے تاثرات ابھرے لیکن میں اس کی طرف بڑھتا گیا اور اس کے سامنے جا کہ رکا میں اس کے سامنے جا کہ کھڑا ہوا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا ہاں تو کیا فرما رہی ہیں مس فرحی آپ اور کھانا کھلا بھی سکتی ہیں یا بس باتیں ہی ہیں ۔ میں نے بار بار اس کے ایک بات دہرانے سے تنگ ہو کہ یہ کہا کہ ایک ہی بار بلی تھیلے سے باہر آ جائے۔ اور میری ایک ہی بات نے اس کو کنفیوز کر دیا اس کے چہرے پہ بیک وقت شرمندگی اور کنفیوژن کے تاثرات ابھرے اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور پلکیں جھکا کہ بولی پکا ہوا کھانا کچن مین ہے اور ہضم شدہ باتھ میں ۔ جو بھی پسند ہے جا کر کھا لیں ۔ اور پلکیں جھکا کہ مسکرانے لگی۔ میں نے بدستور اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے کہا جو شرم کے مارے سرخ ہو رہا تھا میں نے بھی تھوڑا کھل کہ بولنے کا فیصلہ کر لیا تھا کہ اگر ایک لڑکی کھل کہ بول رہی ہے اب مجھے بھی کھل کہ ہی بولنا چاہیے اور جو بھی بات ہے اس کا سامنا اسی طرح ہو سکتا ہے ورنہ تو یہ مجھے دباتی ہی رہے گی۔ میں نے کہا کھانا تو مجھے ہضم شدہ ہے پسند ہے مگر دیگ میں سے خود نکالوں تو تب کی بات ہے ورنہ نہیں ۔ اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور بولی تو جناب کی دیگ اوپر کمرے میں انتظار کر رہی ہے ادھر جائیں دوسرے کے برتن جُوٹھے کرنا اچھی بات نہیں ہے اور پھر نظریں جھکا لیں ۔ میں بدستور اسے دیکھے جا رہا تھا اس کے چہرے کے تاثرات بہت عجیب تھے کبھی لگتا تھا اسے بہت برا لگا ہے اگلے ہی لمحے لگتا وہ مجھے تنگ کر کہ لطف لے رہی ہے اس چھوٹی سی موٹی گانڈ اور مموں والی بہن نے مجھے الجھا کہ رکھ دیا تھا جو عمر میں مجھ سے چھوٹی مگر باتوں اور سوچ میں مجھے بڑی لگنے لگ گئی تھی۔ اس سے پہلے کہ اسے میں جواب دیتا سیڑھیوں سے قدموں کی چاپ آئی اور ہم نے ادھر دیکھا تو حنا اترتی ہوئی آ رہی تھی۔ فروا نے اسے دیکھا پھر مجھے دیکھا اور اونچی آواز میں بولی چلیں کام آسان ہو گیا بھابھی ان کو دیگچی سے کھانا نکال کہ دو تط تک میں تیار ہو لوں موصوف کو بڑی بھوک لگی ہے کہتے ہیں دیگچی میں ہی دےدو پلیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ حنا اس بات پہ ہنس پڑی اور میرے پاس پہنچ آئی اور اسے کہا تم باتیں کم کرو اور جلدی سے تیار ہو جاو ابھی تم نے کپڑے بھی نہیں پہنے ہوئے۔ میں نے اپنے سر پہ ہاتھ مارا اور افسردہ چہرہ بنا کہ کہا ہائے ری قسمت بہن تو پاگل تھی ہی اب بیوی بھی پاگل ہو گئی اس کو سامنے کپڑے پہنے ہوئی لڑکی کپڑوں کے بغیر لگ رہی ہے ۔ میری اس بات پہ دونوں ہنس پڑیں اور فروا نے کہا کوئی حال نہیں ہے ان کا اور بھابھی لے کہ جاو انہیں ورنہ شام یہیں ہو جانی ہے اور کہتے ہوئے کمرے میں گھس گئی۔ اس کے کمرے میں جاتے حنا نے مجھے دیکھا تو میں نے اسے اچارہ کیا کہ جناب آگے چلیں تو وہ ہنس کہ میرے بازو سے لگ گئی اور مجھے پکڑ کہ کچن کی طرف چلنے لگی۔ میں نے بھی پیار سے اسے کہا جانی تم بھی ساتھ چلو نا بازار اکھٹے جاتے ہیں۔ اس نے میری طرف دیکھا اور بولی یار جانی سمجھا کرو نا اب فروا نے کہا ہے آپ کو تو میرا ساتھ جانا اچھا نہیں ہے اسے آپ پہلے بھی شاپنگ تو کراتےرہے ہو اس میں نئی بات کیا ہے؟ اب اگر میں جاوں تو شاید امی کو بھی عجیب لگے گا اور میں یہ سب نہیں چاہتی تو پلیز آپ اس کے ساتھ چلے جاو۔ مجھے حنا کی بات سمجھ آ گئی اور مجھے ڈر بھی تھوڑا کم ہو چکا تھا اس لیے میں نے کہا چلو ٹھیک ہے میں اس لیے کہہ رہا تھا کہ تمہیں برا نہ لگے یہ باتیں کرتے ہوئے ہم کچن میں پہنچ چکے تھے۔ حنا نے مجھے ساتھ لگتے ہوئے ایک کس کی اور بولی مجھے بالکل برا نہیں لگے گا جانی ۔ اور میرا اتنا خیال رکھنے کے لیے شکریہ۔ میں نے جوابا اسے کس کی اور پھر وہ میرے لیے کھانا نکالنے لگی۔ کھانا کھاتے بھی ہم باتیں کرتے رہے ۔ کھانا کھا کہ میں جب فری ہوا اور ہم باہر نکلے تو سامنے کمرے سے فروا بھی نکل رہی تھی اسے دیکھ کہ میرا منہ کھل گیا کالے رنگ کے لباس میں انتہائی تنگ پاجامہ اور لمبے چاک والی قمیض جس کے چاک اس کی سائیڈ سے بہت اوپر تھے اور گلے میں ہلکا سا دوپٹہ تھا قمیض بالکل ایسی تھی جیسی کسی نے جسم کے ساتھ چپکا کہ سی ہوئی ہو۔ چہرے پہ میک اپ کے نام پہ آنکھوں میں ہلکا سا کاجل اور ہونٹوں پہ صرف لائنر لگائے کھلے بالوں کے ساتھ وہ کوئی حور پری لگ رہی تھی ۔ حنا نے بھی اسے دیکھا اور بولی واہ جی ماشااللہ نظر نہ لگ جائے میری بہن کو اور آگے بڑھ کہ اس کے ماتھے پہ پیار دے دیا ۔ حنا ہم دونوں کے اس طرح دیکھنے سے شرما سی گئی اور بولی کیا خیال ہے پھر چلیں ہم؟ اس سے پہلے میں کچھ کہتا تو حنا بولی ابو نے کہا تھا گاڑی پہ جانا اور چابی مجھے دی تھی ۔ یہ بات سنتے تو میرے ارمانوں پہ منوں پانی پھر گیا میرا ارادہ تو تھا کہ بائیک پہ پیچھے بیٹھے گی تو جسم کا ٹچ مزہ دے گا لیکن یہاں تو معاملہ ہی خراب ہو گیا تھا۔ میں نے اپنے تاثرات کو چھپاتے ہوئے چابی لی اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا ۔ وہ بھی گاڑی میں بیٹھی اور ہم گھر سے نکل آئے گاڑی میں مکمل خاموشی تھی
انوکھا حادثہ
قسط 07
گاڑی گھر سے تھوڑا ہی آگے نکلی تھی میں جان کہ فروا کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا مجھے یقین تھا کہ وہ کوئی ایسی ہی بات کرے گی اس نے دو تین بار مجھے دیکھا اور پھر مجھے اپنی طرف نہ دیکھتے پا کر مجھ سے بولی گاڑی کہیں سائیڈ پہ روکو مجھے آپ سے کوئی بات کرنا ہے ۔ میں نے اس کی طرف دیکھا اور گاڑی چلاتے ہی بولا ہاں تو بولو نا میں سن رہا ہوں ۔ میں اندر سے تیار ہو گیا کہ اب یہ نہیں چھوڑے گی لیکن اب مجھ میں ڈر کے ساتھ ساتھ حوصلہ بھی تھا اور میں نے یہ سوچ لیا تھا کہ اس کے غصہ ہونے سے مجھے غصہ نہیں کرنا بلکہ اس کی بات کو مزاق اور اس کی تعریف میں بدلنا ہے شائد اس سے بات بہتر ہو سکے۔ نہیں گاڑی سائیڈ پہ لگاو اس نے تھوڑا سختی سے کہا۔ میں نے ہنس کہ اس کی طرف دیکھا اور گاڑی ایک طرف روڈ کے کنارے لگا دی جدھر سے ایک آئس کریم والا گزر رہا تھا میں نے گاڑی سائیڈ پہ لگاتے ہوئے اسے کہا اتنہ غصہ کس لیے چڑیل تم جو کہو گی وہی کروں گا آرام سے کہہ دو بس۔ اور اس کی بات سننے سے پہلے ہی میں نے آئس کریم والے کو آواز لگائی اور فروا کچھ کہتے کہتے چپ ہو گئی۔ آئس کریم والا میرے پاس پہنچا تو میں نے اس سے تھوڑا مسکراتے ہوئے پوچھا یار آئس کریم کتنی ٹھنڈی ہے میری بہن کا غصہ ٹھنڈا کرنا ہے ۔ وہ بھی ہنس کہ بولا باو جی برف جمی ہوئی ہے مگر غصے کو آئس کریم سے ہی ختم نہیں کیا جا سکتا باجی کو کوئی اور تحفہ بھی دیں ۔ میں نے اس سے دو آئس کریم کونز پکڑیں اسے پیسے دیے اور ایک کون فروا کو پکڑا دی ۔ اور آیس کریم والے کے پیچھے ہٹنے پہ اسے دیکھا جس کے چہرے پہ سنجیدگی کے تاثرات تھے ۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا جی گڑیا اب فرماو۔ اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے دانت پیستے ہوئے کہا زرا بھی شرم نہیں آئی کوئی شرمندگی ہی نہیں آپ کو اپنی گھٹیا حرکت پہ؟ ایک بار بھی آپ نے نہیں سوچا میں آپ کی سگی بہن ہوں؟ یہ زلیل حرکت کرتے آپ کا ضمیر کدھر تھا مجھے یہ بتاو مجھے کس غلطی کی سزا دی ہے تم نے؟ کیوں کیا تم نے میرے ساتھ ایسا؟ میں چپ چاپ اسے سنتا رہا کہ اسے بولنے کا موقع دوں تا کہ اس کا سارا غصہ باہر نکلے اس کے بعد جواب دوں گا کیونکہ اس نے بات کسی اور کو نہیں بتائی تھی اگر بتا دیتی تو وہ مشکل ہو جاتا اس اکیلی کو ہینڈل کرنا مجھے مشکل نہیں لگ رہا تھا۔ میں نے اس کی طرف دیکھا وہ بہت غصے میں تھی اور مجھے چپ دیکھتے ہوئے غرائی اب چپ کیوں ہو مجھے بتاو آپ کو زرا بھی شرم کیوں نہیں آئی؟ میں نے اس کی طرف دیکھا اور کہا سچ بتاوں تمہیں ؟ تو اور کیا میں جھوٹ سے بہل جاون گی مجھے سب سچ بتاو یہ کمینگی کیوں کی ؟ وہ مجھے کبھی تم کہتی کبھی آپ اور یہ صورتحال بھی میرے حق میں تھی۔ میں نے جیب سے موبائل نکالا اور اسے دیکھتے ہوئے موبائل کھولا اور کہا ۔ ایک بات تو تم جانتی ہو میرا کسی بھی لڑکی سے کوئی تعلق نہیں رہا کبھی۔ ابھی میں نے اتنا ہی کہا تھا کہ وہ فورا بول پڑی تو یہی مجھے بتاو کہ اسی بات پہ تو ہم سب بہنیں فخر کرتی تھیں اور کزنز میں محلے میں سر اٹھا کہ چلتی تھیں آپ کی شرافت کی وجہ سےمگر اب یہ کیا ہوا ہے؟ یہ حرکت کیوں کی مجھے صاف بتاو۔ میں نے موبائل اس کی طرف بڑھایا اور کہا یہ دیکھو سامنے موبائل پہ اس کی اور حنا کی تصویر تھی اس نے ایک نظر سکرین پہ دیکھا اور بولی یہ کیا ہےاس میں کیا دیکھوں؟ میں نے کہا یہ دیکھو حنا بالکل وایٹ بورڈ کی طرح پلین اور سیدھی ہے اس میں کیا کشش ہے؟؟ کیا میرا دل یا خواہشات نہیں ہیں؟ اب اسے دیکھو اس میں کوئی نسوانی حسن نہیں ہے میری بات سنتے وہ اورسرخ ہو گئی مگرمیں نے اسے بولنے کا موقع نہ دیا اور پھر کہا یہ ساتھ تم خود کو دیکھو جیسے ایک ماڈل ہو ایک خوبصورت لڑکی حسن کا مکمل مجسمہ زرا اپنے سامنے تو دیکھو میں نے یہ کہتے ہوئے اس کے مموں پہ نظر ڈالی اس نے میری آنکھوں کے تعاقب میں اپنے اٹھے ہوئے گول ممے دیکھے تو فورا اپنی چادر درست کرنے کی کوشش کی تو میں نے فورا کہا کوئی فائدہ نہیں یہ چھپائے بھی نہیں چھپتے۔ میری بات سنتے وہ اور سرخ ہو گئی لیکن مجھے غصے کے ساتھ اس کے چئرے پہ شرم بھی نظر آئی اور وہ مجھے ایک نظر دیکھتے بولی بدتمیز کچھ تو شرم کرو سگی بہن ہوں مین آپ کی۔ میں نے کہا کہ میں کب انکار کر رہا ہوں کہ تم بہن نہیں ہو میں تو یہ بتا رہا کہ بھوکے آدمی کو بھوجا رکھ کہ بھی کھانے میں دال ملے اور پاس چکن بروسٹ بھی پڑاہو نظر تو پڑ سکتی ہے میری زندگی میں کوئی بھی لڑکی نہیں آئی اور آئی بھی تو حنا بیشک وہ اچھی ہے مگر اس میں جسمانی خوبصورتی بالکل بھی نہیں ہے اور تمہارے تو پاوں کے بھی برابر نہیں اب میں کیا کروں خود ہی بتاو تم اتنی حسین ہو کہ میں تمہیں دیکھ کہ بہک گیا تھا میں جانتا ہوں یہ غلط ہیی ہے لیکن اس میں میرا اتنا بھی قصور نہیں ہے ۔ میری یہ بات سن کہ وہ آنکھیں نیچے کرتے ہوئے بولی آئس کریم بھی کھا لیں کپڑوں پہ گر جائے گی ۔ میں نے گئری سانس لی اور آئس کریم کھانے لگا وہ بھی پلکیں جھکائے آئس کریم کھاتے ہوئے بولی ۔ یہ سب بہت ہی غلط ہوا ہے میں نے فورا کہا بس غلطی ہو گئی مجھ سے نا۔ آپ کو زرا بھی گھن نہیں آئی ایسا کرتے ہوئے اس نے اپنے پاوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ؟ گھن کیسی چڑیل؟؟ مجھے پتہ ہوتا تم جاگ رہی ہو میں تو گھنٹہ اور نہ چھوڑتا تمہیں میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ بدتمیز انسان میں اب ماروں گی آپ کو اپنی گندی حرکت پہ زرا بھی شرمندہ نہیں ہو رہےہو۔ میں نے پھر کہا جس نے کی شرم اس کے پھوٹے کرم اور شرماتا ہی رہتا تو یہ حسین برفانی پہاڑ کدھر دیکھ سکتا یہ کہتے ہوئے میں نے اس کی موٹی رانوں کی طرف دیکھا اس نے میری نظر کے تعاقب میں اپنی رانوں کو گھورت مجھے دیکھا تو ہاتھ پاؤں کی طرف بڑھاتے ہوئے شرماتے ہوئے بولی گاڑی چلاو اب بدتمیز ورنہ میں اب جوتی سے ماروں گی آپ کو۔ میں نے ہنستے ہوئے گاڑی چلا دی اور وہ بھی چپ ہو گئی میں نے جب فروا کی تعریف کی تھی اور اس کا مقابلہ حنا سے کر کہ اسے خوبصورت کہا تھا تو اس کا رویہ بدل گیا تھا اور مجھے یقین ہو گیا کہ عورت واقعی تعریف کی بھوکی ہے۔ لیکن میں بھی چہ تھا کہ وہ اگلی بات اب خود کرے اور میں جانتا بھی تھا وہ زیادہ دیر چپ نہیں رہے گی اور کچھ بولے گی اور جب بولے گی تو مجھے کوئی نہ کوئی پوائنٹ مل جائے گا میں بھی اس لیے چپ چاپ گاڑی چکا جا رہا تھا۔ جیسا میں نے سوچا تھا وہی ہوا اور دو منٹ سے بھی پہلے وہ بول پڑی بات سنیں میں نے گاڑی چلاتے اس کی طرف دیکھا تو وہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی ۔ میں نے پوچھا ہاں فرحی کیا بات ہے؟ وہ اسی طرح کھڑکی سے باہر دیکھتے بولی آپ نے بھابھی کو منہ دکھائی میں گولڈ چین دی تھی نا؟ ہاں تو؟ میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو وہ مسلسل باہر دیکھتے ہوئے بولی ادھر منہ دکھائی میں گولڈ چین اور مجھے اتنا کچھ کر کہ صرف شاپنگ ؟ پھر وہ سہیل وڑائچ کے انداز میں بولی کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟؟ میں بے ساختہ ہنس پڑا اور اسے کہا وہاں میں روز بہت کچھ کرتا ہوں نام منہ دکھائی کا ہوتا ہے ورنہ ہوتا اور بھی بہت کچھ ہے ۔ اس نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور پھر باہر دیکھتے ہوئے بولی تو اس پہ آپ کا حق بھی ہے مجھ پہ یہ حق تو نہیں تھا نا میرا یہ حق تو کسی اور کا تھا جو آپ نے چرا لیا ۔ میں نے اپنا بایاں ہاتھ اس کی طرف کیا اور اس کی گانڈ کی سائیڈ پہ ہلکا سا تھپڑ مارا اور کہا میں نے کچھ نہیں چرایا یہ دیکھو سارا کچھ یہیں ہے وہ باہر دیکھ رہی تھی میرے اس طرح چھونے پہ بے ساختہ اچھل پڑی اور بولی بدتمیز کچھ شرم کریں یہ سڑک ہے اور اپنی کمیض سے اپنے موٹے چوتڑوں کو سائیڈ سے ڈھانپنے کی کوشش کرنے لگی اور مجھے اس کو دیکھ کر ہنسی آ گئی مجھے ہنستا دیکھ کہ وہ بھی شرمندہ شرمندہ ہنسنے لگ گئی۔ میں نے اس کی منہ دکھائی والی بات سنی تو میرے زہہن میں ایک انوکھا خیال آیا میں نے گاڑی چلاتے چلاتے ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا اور ایک بینک کے سامنے میں نے گاڑی کھڑی کر دی ۔ اس نے میری طرف دیکھا مگر کچھ نہ بولی میں گاڑی سے نیچے اترا اور اے ٹی ایم مشین کے پاس پہنچا اور پچاس ہزار روپے نکلوا لیے۔ پیسے لیکر میں گاڑی میں پلٹا اور بیٹھتے ہوئے پچاس ہزار روپے اس کی گود میں ڈال دئیے ۔ اتنے پیسے اپنی گود میں دیکھ کہ وہ حیران ہوتے ہوئے بولی یہ سب کیا ہے ؟؟ اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا یہ منہ دکھائی سمجھو یا گانڈ دکھائی مگر اب یہ تمہارے ہیں ۔ وہ ایک نظر پیسوں پہ ڈال کہ بولی بدتمیز انسان امی مجھے جان سے مار دیں گی اور کچھ سوچ کہ بھی بولا کرو ۔ میں نے کہا ابھی تو تم کہہ رہی تھیں کہ مجھے کچھ دیا نہیں ہے اب دیا ہے تو بھی بحث کر رہی ہو ۔ چلو اس سے گولڈ کی کوئی چیز لے لیتے ہیں اور امی کو میں سنبھال لوں گا۔ اس کے چہرے پہ بے یقینی کے تاثرات تھے اس نے مجھ سے کنفرم کرتے پوچھا اوئے ڈرٹو بھائی کیا ہو گیا ہے کوئی نشہ تو نہیں کیا ہوا؟؟ میں نے بھی ہنستے ہوئے کہا کچھ نہیں کچرا رانی یہ سب تمہارے لیے ہی ہیں اگر تم وہاں چپ رہ سکتی ہو تو یہ تو کچھ بھی نہیں ہیں ۔ فروا نے میری طرف شرما کہ دیکھا اور بولی گندے بدتمیز ہو آپ لیکن اب کی بار اس کے چہرے پہ شرم اور مسکراہٹ تھی پیسہ واقعی سب کچھ بدل سکتا ہے۔ میں نے کہا کوئی بات نہیں پہلے ہم جیولر کے پاس جاتے ہیں اور وہاں سے تم بھی گولڈ چین اور جو کچھ لیتی ہو لے لو۔ اس نے میری طرف دیکھا اور شرارتی انداز میں بولی سوچ لو اب میں کنڈی لگا کہ سویا کروں گی مت ایسانا ہو کل افسوس کرو ۔ میں ہند پڑا اور کہا تم بیشک لاک بھی کر لینا مجھے کوئی افسوس نہیں ہو گا اور نہ مجھے تم پہ خرچ کرنے سے افسوس ہوتا ہے۔ سچ کہہ رہے ہو آپ؟ اس نے میری طرف بے یقینی سے دیکھا میں نے بھی اس کی آنکھوں میں دیکھتے کہا ہاں جب دل کرے آزما لینا۔ اچھا تو یہ بات ہے تو مکان کا اوپر والا پورشن میرے نام کر دو گے؟ ابو نے مکان میرے نام پہ بنایا ہوا تھا اور یہ بات سب کو پتہ تھی مجھے یہ بات سن کہ ہنسی آئی اور میں نے ہاتھ بڑھا کہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور گاڑی چلاتے چلاتے ہی کہا صرف اوپر والا پورشن کیوں؟ میں سارا گھر تمہارے نام کر دیتا ہوں اس میں کیا ہے یار؟ فروا کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں مگر وہ کچھ نہ بولی اور چپ ہو گئی۔ میں نے بھی جب اسے جزباتی ہوتے دیکھا تو پھر کہا فرحی تم جو بھی مانگو گی تمہیں ملے گا میں تمہاری کوئی بات رد نہیں کر سکتا اور ساتھ اس کے ہاتھ کو ہلکا سا دبا دیا۔ فرحی نے ڈبڈائی آنکھوں سے مجھے دیکھا اور ہنس کہ چپ ہو گئی۔ اس ساری گفتگو کے دوران ہم مارکیٹ میں پہنچ گئے اور میں نے ایک جگہ دیکھ کر گاڑی پارک کی اس نے بھی پیسے اٹھا کر اپنی بٹوے میں ڈال لیے میں نے گاڑی روکی تو وہ نیچے اترنے کے لیے دوسری طرف مڑی تو میں نے ہاتھ بڑھا کہ اس کی گانڈ دباٸ لیکن وہ کچھ نہ بولی میں گاڑی بند کر کے نیچے اتر آیا
میں گاڑی سے باہر نکلا تو فروا جو میرا انتظار کر رہی تھی چلتی ہوئی میرے پاس پہنچ آئی اور وہ تھوڑی الجھی ہوئی لگ رہی تھی جیسے کچھ کہنا چاہتی ہو۔ میں نے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا ہاں گڑیا کیا مسلہ ہے؟ وہ اپنے ہاتھ دوسرے ہاتھ میں مروڑتے ہوئے مجھ ایک نظر دیکھ کہ پھر آنکھیں جھکا کہ بولی بھیا یہ گگ گانڈ او نہیں منہ دکھائی بہت زیادہ ہے امی شک کریں گی اور مجھے ڈانٹیں گی آپ پھر سوچ لو ہم انہیں کیا بتائیں گے ۔ میں ایک لمحے میں سمجھ گیا کہ اس کے اندر بھی اس بات کا ڈر ہے تبھی ہچکچا رہی ہے ۔ میں ہنس کہ قریب ہوا اور کہا پاگل امی کو یہ شک کبھی نہیں ہو گا کہ کچھ منہ دکھائی ہے اگر تم نہ بتاو تو انہیں کیا پتہ؟ میں کہہ دون گا میں نے خود دیا ہے تو وہ کچھ نہیں کہیں گی اب انہیں یہ تو نہیں پتہ کہ میں تمہاری کے ٹو جتنی اونچی پہاڑی دیکھ چکا ہوں آخری بات میں نے تھوڑے مزاق کے انداز میں کہی جس سے وہ بے ساختہ سرخ ہو گئی اور زیر لب بولی بہت بدتمیز اور گندے بچے ہو آپ۔ میں نے اسے دوکان کی طرف بڑھنے کا اشارہ کیا لیکن اس نے نچلا ہونٹ اوپر والے ہونٹ میں دباتے چہرے پہ مسکراہٹ لاتے ہوئے سر کو دائیں بائیں انکار میں ہلا دیا ۔ میں نے چہرے پہ سوالیہ انداز لاتے ہوئے اس سے پوچھا اب کیا ہے؟؟ وہ تھوڑا قریب ہو کہ بولی میں آپ کے آگے نہیں چلتی آپ پیچھے سے گھورو گے۔ میں تھوڑا شرارتی لہجے میں بولا اب سر بازار نہیں گھر جا کہ آرام سے دیکھ لوں گا تم بے فکر رہو ۔ اس نے بھی ہنستے ہوئے کہا بدتمیز میں جوتی سے ماروں گی۔ میں نے کہا جان لے لو چاہے تم کو کس نے روکا ہے ۔ وہ بھی ہنس پڑی اور بولی ہم راہ میں کیوں کھڑے ہیں بھلا؟ میں نے کہا تم مجھ سے چھپ رہی ہو کئی اور دیکھ رہے ہوں گے یہ ساری باتیں ہم ہلکی آواز میں کر رہے تھے ۔ وہ میری بات سن کہ جلدی سے جیولر کی دوکان کی طرف بڑھ گئی اور پہلی بار اس لباس میں میں نے اسے پیچھے سے دیکھا بلاشبہ وہ بہت حسین لگ رہی تھی موٹے چوتڑ جن کا درمیانی علاقہ کافی وسیع تھا بالکل الگ الگ ہلتے نظر آ رہے تھے میں اس کی گانڈ دیکھتے دیکھتے اس کے پیچھے دوکان میں داخل ہوا ۔ ہمیں دیکھتے ہی ایک درمیانی عمر کے بندے نے کرسی سے کھڑے ہوتے استقبال کیا اور ہمیں سلام کیا ہم نے بھی جوابا سلام کیا تو اس نے آگے بڑھ کہ فروا کہ سر پہ ہاتھ پھیرا اور کہا خدا سہاگ سلامت رکھے ماشااللہ بہت خوبصورت جوڑا ہو بہت اچھا کیا والدین نے جو تم لوگوں کی جلدی شادی کروا دی اور اس نے ہمیں کرسی پہ بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ اس کی یہ بات سنتے ہی فروا نے جلدی سے میری طرف دیکھا اس کا چہرہ شرم سے سرخ ہو گیا تھا میں نے آنکھ کا ایک کونا ہلکا سا دبا کہ اسے اشارہ کیا۔ پھر رسمی گفتگو کے بعد میں نے ان انکل کو کچھ گولڈ چین دکھانے کا کہا۔ انکل نے گولڈ سیٹ جس میں بہت سی چین تھیں ہمارے آگے رکھ دین میں نے فروا کو اشارہ کیا تو اس نے ایک گولڈ چین اٹھائی اور کہا مجھے یہ پسند ہے دوکاندار انکل نے اس چین کو تولا اور ہمیں قیمت بتائی جو کہ میرے اندازے سے کم ہی تھی ۔ میں نے وہ چین پیک کروائی اور انکل کو کہا کہ انگوٹھیاں دکھا دیں اور انہوں نے انگوٹھیاں دکھائ اب کی بار میں نے ایک انگوٹھی اٹھائی اور فروا کی طرف اشارہ کیا تو اس نے اپنا ہاتھ آگے بڑھا دیا۔ میں نے اس کے ہاتھ کو دیکھا تو مجھے بہت عجیب لگا اور ایک لمحے کے لیے مجھے آنکھوں کے سامنے حنا کے پتلے ہاتھ اور کمزور انگلیاں نظر آئیں اور دوسری طرف فروا کے موٹے خوبصورت ہاتھ اور مخروطی انگلیاں۔ میں نے اس کا نرم و ملائم ہاتھ پکڑا اور اس کو انگوٹھی پہنا دی ۔ اس کے چہرے پہ شرم کے تاثرات تھے ۔ انکل نے یہ دیکھا تو بولے ماشااللہ بیٹی بہت پیاری ہے یہ جو بھی پہنے اس پہ کھل اٹھتا ہے۔ فروا شرما کہ ہنس پڑی اور میں نے انگوٹھی اور چین کی قیمت ادا کی اور ہم دوکان سے نکل آئے۔ دوکان سے نکلتے ہی فروا نے مجھے پھر کہا بھائی بدتمیز بتایا کیوں نہیں کہ ہم بہن بھائی ہیں۔ میں نے اس کی طرف دیکھا اور کہا یار اگر خیال میں ہی تم تھوڑی دیر کے لیے میری بیوی بن رہی ہو تواس سے اچھا اور کیا ہو گا سچ میں تو تم ہاتھ بھی نہیں لگانے دیتی ہو۔ اس نے تھوڑا سنجیدہ ہونے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کوئی ضرورت نہیں ہے مجھے خیال میں بھی بیوی بنانے کی مگر اس کے چہرے پہ دبی دبی مسکراہٹ تھی۔ ہم ساتھ چلتے بھی جا رہے تھے۔ میں نے کہا چھوڑو یہ سب بس ایک بات مان لو ؟ اس نے چلتے چلتے میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ میں نے کہا کہ پہلی بار یہ چین تمہیں میں پہنواوں گا ۔ اس نے ایک گئری سانس خارج کی اور مسکرا پڑی اور بولی ٹھیک ہے کوئی مسلہ نہین۔ میں نے کہا تم ہنسی کیوں تو پھر ہنستے ہوئے بولی اب ڈر لگتا ہے آپ کی خواہشات سے تو میں نے سوچا پتہ نہیں کیا بات منوانے لگے ہو۔ میں نے تھوڑی سنجیدہ شکل بنائی اور اس کو دیکھتے ہوئے کہا ایسا سوچنا بھی مت کہ میں تم سے کچھ زبردستی کروں گا تم میرے لیے سب کچھ ہو جیسے تم خوش ویسے میں۔ اس نے میری طرف ہونٹ پھیلا کہ مسکراتے دیکھا اور کچھ نہ بولی۔ ہم کپڑے والی دوکان میں گئے وہاں سے فروا نے اپنے لیے دو سوٹ لیے میں نے پھر ایک سوٹ امی اور حنا اور ابو کے لیے بھی لے لیا اس کے بعد اس نے کاسمیٹکس کی دوکان سے کچھ چیزیں اور لیں اور یہ سب لےکر ہم گاڑی کی طرف چل پڑے اس شاپنگ کے دوران میں نے دو بار چانس بنا کہ اس کو چھوا مگر وہ بالکل نارمل رہی ۔ میں نے گاڑی کی ڈگی کھولی اور سامان اس میں رکھا اور پھر دروازہ کھول کہ ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھ کر اس کا دروازہ کھولا اور سیٹ پہ ہاتھ رکھ لیا۔ وہ جیسے ہی سیٹ پہ بیٹھی تو میرا ہاتھ اس کی موٹی گانڈ کے نیچے دب گیا مجھے یوں لگا کہ نرم نرم مکھن کسی نے میرے ہاتھ پہ رکھ دیا ہے اس نے ہاتھ کو اپنے نیچے دیکھا اور پھر مجھے دیکھتے ہوئے بولی بدتمیز آدمی یہ سڑک ہے اور باز آ جاو اب آپ لیکن مزے کی بات تھی کہ اس کے چہرے پہ غصہ بناوٹی تھا۔ اس نے یہ سب کہتےہوئے گانڈ اوپر اٹھائی تاکہ میں ہاتھ نکال لوں میں نے اس کی گانڈ اوپر ہوتے محسوس کی تو ہاتھ کو اور اگے کر کہ اس کی گلی میں گھسا کہ رگڑنا شروع کر دیا
انوکھا حادثہ
قسط 08
اففف بدتمیز انسان اس نے ایک سسکی بھری اور میرا ہاتھ پکڑ کہ اپنے نیچے سے نکال دیا میں نے بھی زیادہ مزاحمت نہ کی اور ہنسنے لگا اس نے مجھے ہنستا دیکھ کہ میرے بازو پہ ایک مکا مارا اور خود بھی شرمندہ شرمندہ ہنسنے لگی اور بولی بہت بہت گندے ہو آپ اتنی گندی حرکتیں اور وہ بھی سگی بہن سے افف۔ میں نے بھی شریر انداز میں کہا اب بھائی بھی کیا کرے اس کی زندگی کی حسین ترین لڑکی اس کی اپنی ہی بہن ہو تو اتنا حق تو بنتا ہی ہے۔ وہ بولی کوئی حق شق نہیں بنتا ایویں نا بولا کرو میں کوئی آپ کا حق نہیں ہوں ۔ میں نے پھر ہنستے ہنستے کہا میں نے بتایا ہے تم سے پوچھا نہیں ہے اور مکا ہوا میں لئرا کہ کہا ساڈا حق ایتھے رکھ وہ بھی ہنس پڑی اور بولی گاڑی چلائیں زیادہ شوخے نہ بنین ۔ میں نے گاڑی چلاتے ایک نظر اسے دیکھا اور کہا فرحی ایک بات کہوں اگر برا نہ مناو اس نے سوالیہ نظروںسے میری طرف دیکھا تو میں نے ہاتھ بڑھا کہ اس کی چھاتی پہ آئے دوپٹے کو سائیڈ پہ کر دیا ۔ اس کا چہرہ ایک دم سرخ ہو گیا اور اس نے پھرتی سے دوبارہ دوپٹہ چھاتی پہ رکھ لیا اور سر نیچے جھکا کہ بولی بھائی نہیں پلیز یہ نہیں ۔ میں نے اس کو کہا پلیز فرحی ایک بار ۔ مگر اس نے سر کو نا میں ہلا دیا اور بولی نہیں پلیز آپ گاڑی سامنے دیکھ کہ چلائیں ۔ میں نے گاڑی چلاتے چلاتے گئیر چینج کیا اور اس کی ران کو گانڈ کے پاس سے ہلکا سا ٹچ کیا اس نے میری طرف دیکھا اور بولی آپ کا دل ابھی تک بھرا نہیں ہے اس سے گندے۔ میں نے دیکھا کہ چھاتی والے ری ایکشن سے یہ ری ایکشن کم ہے تو میں نے بھی ہمت کرتے ہوئے اس کی گانڈ کو سائیڈ سے پکڑ کہ ہلکا سا دبایا اور کہا یہ میرے پاس پوری رات ہو تو بھی میرا دل نہیں بھرے گا۔ فروا کی بڑی بڑی آنکھیں پھیل سی گئیں اور وہ مجھے دیکھتے ہوئے بولی بدتمیز پوری رات کیا کرو گے اس کا؟ میں نے جواب دینے کے بجائے زبان نکال کہ اسے دکھائی تو وہ منہ پہ ہاتھ رکھ کہ شرماتے ہوئے بولی افففففف چھی چھی گندے ڈرٹو شرم کرو ۔ میں نے ہاتھ اس کی گانڈ کے نیچے گھسا دیا اس نے اپنا چہرہ ہاتھوں میں چھپایا ہوا تھا اور وہ کھڑکی کی طرف مڑ گئی میں نے اس کی ٹانگ کو پکڑا اور کہا فرحی اسے دوسری ٹانگ پہ رکھ لو اس نے منہ چھپائے ہوئے کہا بھیا پلیز سڑک پہ نہیں کریں کوئی بھی دیکھ سکتا ہے ۔ میں نے کہا چلو میں ٹچ نہیں کرتا تم بیٹھ جاو نا اس طرح ۔ وہ کچھ نہ بولی لیکن ٹانگ کو ٹانگ پہ رکھ کہ منہ چھپا کہ بیٹھ گئی ۔ گاڑی چلاتے چلاتے میں ساتھ اس کے موٹی گانڈ کو دیکھ رہا تھا جو میری طرف سے ٹانگ پہ ٹانگ رکھنے سے نمایاں ہو رہی تھی اور میری بہن اپنے گورے ہاتھوں سے منہ چھپائے ہوئے بیٹھی تھی۔ میں نے ایک ہاتھ ادھر کیا اور اس کی گانڈ پہ پھیرتا گیا اس نے منہ اسی طرح چھپایا ہوا تھا میں ساتھ ساتھ گاڑی بھی چلا رہا تھا اور اس کی گانڈ کو بھی سہلا رہا تھا ۔ میں نے اس کی قمیض میں سے اندر ہاتھ ڈالتے ہوئے اس کی ننگی کمر کو چھوا تو اسے ایک جھٹکا لگا اور وہ آگے جھکتی گئی کہ اس کا ماتھا ڈیش بورڈ پہ جا لگا۔ میں قمیض میں ہاتھ ڈالے اس کی کمر سہلا رہا تھا اور میری بہن منہ چھپائے ڈیش بورڈ پہ جھکی ہوئی تھی مجھے لگ رہا تھا کہ وہ اپنے آپ پہ کنٹرول کھو رہی ہے ۔ اس کے منہ سے سسکیاں نکل رہی تھی۔ اس نے سسکتے سسکتے میری طرف دیکھا تو اس کا چہرہ سرخ تھا اور آنکھیں جیسے عجیب سی ہو رہی تھیں وہ کانپتے ہوئے بولی بھیا بس کر دیں اس حالت میں تو سب کو شک ہو جائے گا گھر پہنچنے والے ہیں مجھے سیٹ ہونےدیں پلیز ۔ اس کی بات سے مجھے بھی احساس ہوا اور میں نے اپنا چہرہ دیکھا جو کہ لال ببوکا ہو رئا تھا۔ میں نے ہاتھ اس کی کمر سے نکالا اور گاڑی روڈ کی ایک سائیڈ پہ لگا دی اور سیٹ سے ٹیک لگا کہ خود کو نارمل کیا اور فروا کو دیکھا جس کا جسم ہولے ہولے کانپ رہا تھا ۔ میں گاڑی سے نیچے اترا اور قریبی دوکان سے جوس کے دو ڈبے لیکر واپس پلٹا اور گاڑی میں بیٹھا تو فروا کی طرف دیکھتے ہی میری ہنسی چھوٹ گئی۔ اس کی آنکھیں جیسی نشیلی ہو چکی تھیں بال بکھرے ہوئے تھے اور دوپٹہ گلے میں تھا جس سے اس کا ایک مما پوری طرح واضح تھا ۔ میں نے ہنستے ہوئے جوس اس کی طرف بڑھایا تو اس نے مجھے بازو پہ ایک زوردار مکا مارا اور بولی بدتمیز جنگلی کچھ تو شرم کیا کرو ننھی سی بچی کی جان لو گے اب مجھے ہنستا دیکھ کہ وہ تھوڑا بناوٹی غصے سے بولی بدتمیز انسان کچھ شرم کرو نا اتنا تو سوچو کہ مجھے پہلی بار کوئی چھو رہا ہے اور وہ بھی سڑک پہ ۔۔ چھی چھی گندے انسان ہو آپ اور ساتھ اس نے جلدی سے جوس پینا شروع کر دیا اور جلدی جلدی جوس ختم کر کہ وہ زور سے پیچھے سیٹ پہ گری جیسے میلوں کا سفر طے کر کہ آئی ہو اور اس کے ہاتھ بے جان انداز میں اس کی گود میں گر گئے ۔ اس کے بالوں کی ایک لٹ چہرے پہ گری ہوئی تھی اور اس کی آنکھیں بند ہو رہی تھیں اور گال اناروں کی طرح سرخ ہو چکے تھے مجھے بھی احساس ہو گیا کہ مجھے یہ حرکت گاڑی میں نہیں کرنی چاہیے تھی۔میں نے کچھ نہ کہا اور گاڑی کو سٹارٹ کر کہ گھر کیطرف چل پڑا۔ وہ اسی طرح سیٹ پہ لیٹی ہوئی تھی اس کا دوپٹہ گلے میں تھا اور اس کے گول مٹول ممے پوری شان کے ساتھ اکڑے ہوئے تھے اس کی آنکھیں بند تھیں اور میں بار بار اس کے ممے دیکھ رہا تھا جو کہ بالکل گنبد کی طرح گول تھے یا جیسے بڑے سائز کی ٹینس بال درمیان سے کاٹ کر لگا دی گئی ہو۔ میں گاڑی چلاتے چلاتے بار بار اس کے چہرے اور مموں کو دیکھ رہا تھا اس کی آنکھیں بند تھیں وہ اسی طرح بند آنکھیں رکھے ہوئے بولی سامنے دیکھ کہ گاڑی چلاو بے شرم انسان ۔ میں تو یہ سوچ رہا تھا اس کی آنکھیں بند ہیں اور اسے علم نہیں تو میں بوکھلا کہ بولا منحوس بند آنکھوں سے تمہیں کیا پتہ میں گاڑی سامنے دیکھ کہ نہیں چلا رہا میں تو سامنے دیکھ کر گاڑی چلا رہا ہوں ۔ اس کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی اس نے آنکھیں کھولے بغیر ہی کہا جی جی میں سب سمجھ رہی ہوں جو آپ کب سے بار بار دیکھ رہے ہو ۔ اس کی بات مکم ہوتے ہی میں نے گنگناتے ہوئے کہا کہ ہے دیکھنے کی چیز اسے بار بار دیکھ ۔۔ بہت بہت بدتمیز ہو آپ اس نے اسی طرح آنکھیں موندھے ہوئے کہا ۔ اور سامنے دیکھو اب گھر کے قریب ہیں تو نارمل ہو جاو ایسا نہ ہو کہ کسی کو شک میں ڈال دو وہ یہ کہتے ہوئے سیٹ پہ سیدھی ہوئی اور بازو گردن کے پیچھے کر کہ اپنے بال سیٹ کرنے لگی اس کے یوں کرنے سے اس کے موٹے ممے اچھل کر واضح ہو گئے جس سے میرا منہ کھل گیا ۔ اس نے بال سیٹ کرتے کرتے مسکرا کہ کہا منہ میں مکھی گھسے نہ گھسے کہیں گاڑی ضرور گھسا دو گے ۔ میں اس کی بات پہ شرمندہ ہو گیا اور سامنے دیکھ کہ گاڑی چلانے لگا۔ اس نے خود کو سیٹ کیا اور سامنے کے شیشے میں اپنا جائزہ لیا اور مطمئن ہو کہ بیٹھ گئی اور بولی اب امی کو آپ سنبھالنا یار مجھے ڈانٹ نہ پڑوانا ۔ میں نے اس کی طرف دیکھا اور کہا گڑیا تم وہ بات راز رکھ سکتی ہو تو یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے وہ ہنس پڑی اور بولی بنتے تو بہت بہادر ہو لیکن ہو زرا بھی نہیں ایک دم ڈر جاتے تھے اور اسی ٹون میں بولی جب بندہ برداشت نہ کر سکے تو رسک ہی نہ لیا کرے نا میں بھی ہنس پڑا اور کہا بس پتہ نہیں کیسے ہو گیا یہ سب؟ ساری حسرتیں پوری ہوتے دیکھ کہ مجھ سے رہا ہی نہیں گیا ۔ اس نے میری طرف دیکھ کہ منہ بنایا اور بولی کچھ تو معیار رکھو بھیا اتنی گندی حسرتیں آپ کی۔ میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا اوئے چپ کرو خبردار جو اپنی کسی بھی چیز کو گندہ یا برا کہا تو ۔ وہ ہنس کہ بولی پاگل ہو گئے ہو آپ میں نے اس کی طرف ایک بھرپور نظر ڈالی اور اسے سر سے پاوں تک دیکھتے ہوئے کہا ہاں تم ہو ہی اتنی پیاری اور ساتھ ہی ہاتھ بڑھا کہ اس کے کولہے پہ رکھ دیا اس نے ٹانگ پہ ٹانگ رکھی ہوئی تھی اس نے میری طرف دیکھا اور پھر باہر دیکھنے لگ گئی میں نے ہاتھ کو کھسکا کہ اس کے کولہوں کے نیچے کیا اس نے بھی اوپری جسم سے کھڑکی کی طرف ہوتے ہوئے گانڈ میری طرف کر دی میں نے اس کی نرم ملائم گانڈ کے درمیاں ہاتھ پھیرتے ہویے اس کی گلی کے اندر سوراخ تلاشنے شروع کر دئیے جیسے ہی میری انگلیاں اس کی پھدی کے ہونٹوں سے ٹکرائیں تو اس نے ایک لمبی سسسسسی کی اور فورا سیدھی ہو گئی اور بولی بدتمیز اب محلے میں پہنچ آئے ہم ۔ میں نے بھی یہ دیکھتے ہوئے اس کے نیچے سے ہاتھ نکال لیا سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے بازار سے گھر آتے ہوئے وقت کا احساس بالکل بھی نہیں ہوا تھا۔ خیر ہم گیٹ پہ پہنچے تو اس نے کہا میں گیٹ کھولتی ہوں اور دوسری طرف مڑی تو میں نے دیکھا گلی میں کوئی نہیں ہے تو اس کی گانڈ میں پھر ہلکی سے انگلی چڑھائی۔ وہ بنا کچھ بولے نیچے اتری اور گیٹ کھولنے لگ گئی۔ جیسے اس نے گیٹ کھولا تو میں اسے دیکھ رہا تھا اس نے زبان نکال کہ منہ چڑایا میں نے گاڑی اندر کی تو وہ بھی گیٹ بند کر کہ ڈگی کے پاس پہنچ آئی میں بھی گاڑی سے نےچے اترا اور ڈگی کھول دی۔ وہ آگے ہوئی اور جھک کہ ڈگی سے سامان اٹھانے لگی میں نے ایک نظر ادھرادھر دیکھا تو سامنے کوئی نہیں تھا پیچھے گیٹ بند تھا میں نے دیکھا جھکنے سے اس کی موٹی گانڈ واضح ہو رہی تھی میں نے ادھر ادھر دیکھ اور اس کی گانڈ سے قمیض کا دامن اوپر اٹھا کہ اس کی گانڈ کو سہلانے لگ گیا وہ شاپر اٹھاتے ہوئے بولی منحوس خود بھی مرو گے مجھے بھی مرواو گے کچھ خیال کرو گھر میں سب ہوں گے۔ میں نے کہا فکر نہ کرو سامنے کوئی نہیں ہے اور اس کی کمر کو گانڈ کے پاس سے پکڑ کہ اپنا نیم کھڑا لن اس کی گانڈ کی گلی میں دھنسا دیا ۔ میرا لن اپنی گانڈ میں محسوس کر کہ وہ جھٹکے سے پیچھے ہوئے اور اپنا آپ مجھ سے چھڑا لیا اور میرے سینے پہ ایک مکا مارا اور منہ چڑاتے ہوئے اندر بھاگ گئی ۔ میں بھی اس کے اس طرح کرنے سے مسکراتا ہوا اس کے پیچھے اندر بڑھتا گیا میں بھی فروا کے پیچھے پیچھے گھر میں داخل ہوا تو وہ اندر سب کو مل کہ بیٹھ چکی تھی میں بھی کمرے میں داخل ہوا اور سب کو سلام کر کہ بیٹھ گیا ۔ فرحی کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی اور اس نے خوشی خوشی سب کو ان کی چیزیں نکال کہ دیں ۔ سب نے چیزوں کی تعریف کی جیولری والا شاپر اس کے پاس صوفے پہ پڑا تھا اور اس پہ ابھی کسی کی نظر نہیں پڑی تھی میں صوفے سے اٹھا اور فروا کے پاس سے وہ شاپر اٹھایا فروا نے مجھے دیکھا تو اس کے چہرے پہ زرا پریشانی کے تاثرات آ گئے ۔ میں نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر شاپر لئیے ابو کے پاس ان کے قدموں میں جا بیٹھا اور ان کے گھٹنوں پہ ہاتھ رکھ دئیے ابو بھی میرے اس طرح کرنے سے سیدھے ہو کہ بیٹھ گئے ۔ میں نے امی کی طرف دیکھا اور پھر ابو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ابو میں آپ سے معافی چاہتا ہوں مجھ سے تھوڑی سی غلطی ہو گئی ہے ۔ وہ چپ مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہے تھے میں نے پیچھے مڑ کہ فرحی کی طرف دیکھا ماحول ایک دم سنجیدہ ہو گیا تھا حنا بھی پریشان ہو کہ کھڑی تھی میں نے فرحی کو اپنے پاس انے کا اشارہ کیا تو فرحی اٹھ کر میرے پاس آ گئی ۔ اس کے چلنے میں بھی جھبجھک نمایاں تھی وہ میرے پاس پہنچی تو میں نے شاپر سے وہ چھوٹا سا بکس نکالا اور اس میں سے چین نکال کہ ابو کو دکھائی اور پھر فرحی کا ہاتھ پکڑ کہ انگوٹھی دکھائی اور کہا ابو پہلی بار آپ سے کچھ پوچھے بغیر میں نے یہ فرحی کو لیکر دئیے ہیں اگر آپ کو برا لگے تو پلیز مجھے معاف کر دیں ۔ اور اپنا سر ان کے گھٹنوں پہ لگا دیا ۔ ابو نے ہلکی سی چپت میرے سر پہ لگائی اور بولے مجھےتو ڈرا ہی دیا تھا اور میرا بازو پکڑ کہ مجھے اور فرحی کو کھڑا کیا اور ایک طرف سے مجھے گلے لگایا اور دوسرے بازو میں فرحی کو رکھی اور کہا پاگل انسان مجھے اس بات سے جتنی خوشی ہوئی ہے تم سوچ بھی نہیں سکتے ۔ امی بھی ہنس پڑیں وہ بھی اپنی جگہ سے اٹھیں اور حنا کو اپنے بازو میں لیکر ہمارے قریب آ گئیں حنا کے چہرے پہ بھی اب مسکراہٹ تھی ۔ امی نے بھی چین لے کر دیکھی اور انگوٹھی بھی اور خوشی کا اظہار کیا ۔ امی ابو کو خوش دیکھ کہ میں نے فروا کو دیکھا تو اس کے چہرے پہ بھی اطمینان اور مسکراہٹ تھی۔ امی نے اسے کہا کہ چلو جاو یہ چیزیں رکھو اور حنا کے ساتھ کام کرو اب ۔ فروا نے چیزیں اٹھائی اور کمرے کی طرف بڑھ گئی میں بھی اٹھا اور کپڑے تبدیل کرنے اپنے کمرے کی طرف چل پڑا اب چھوٹی چھوٹی بہت باتیں ہیں کہانی کو غیر ضروری طوالت سے بچانے کے لیے میں صرف اہم باتیں ہی لکھوں گی وہ سارا کچھ لکھتی رہی تو کہانی بہت لمبی ہو جائے گی
انوکھا حادثہ
قسط 09
میں کپڑے تبدیل کہ کہ نیچے ایا اور کچن کی طرف گیا کچن میں داخل ہوا تو حنا سامنے کھڑی کھانا پکا رہی تھی اس نے مجھے کچن میں آتے دیکھا تو تیزی سے میری طرف بڑھی اور مجھے گلے لگا لیا اور بے تحاشہ چومنے لگی۔ میں نے کہا ارے یہ کیا ہو گیا ہے جانی آج بہت بے صبری ہو رہی ہو اور بازو اس کے کمر کے گرد لپیٹ دئیے ۔اس نے مجھے چومتے ہوئے کہا تھینکس تھینکس ۔۔ بہت سارا تھینکس۔ میں نے بھی جوابا اسے چوما اور کہا ارے کس بات کا تھینکس؟؟ آپ نے فروا کو جو چیزیں لیکر دی ہیں تو بہت اچھا کیا ہے مجھے بہت خوشی ہوئی اور آپ ایسے ہی سب گھر والوں کا خیال رکھنا۔ میں نے بھی مسکراتے ہوئے حنا کو گلے سے لگا لیا لیکن جتنی تیزی سے وہ میرے گلے لگی تھی اتنا ہی جلدی اس نے مجھے دھکا دے کر اپنا آپ چھڑایا اور پیچھے کی طرف اشارہ کرتے پیچھے ہٹ گئی۔ میں نے پیچھے مڑ کہ دیکھا تو فروا کچن کے دروازے پہ کھڑی مسکرا رہی تھی ہمیں الگ ہوتے دیکھ کہ بولی ارے کوئی بات نہیں اپ لوگ جاری رکھو میں غلط وقت پہ آ گئی ویسے کچن ان کاموں کے لیے تو نہیں ہوتا یہ کہتے ہوئے وہ ہنس پڑی ۔ حنا کا چہرہ بھی شرم سے لال ہو گیا اور میں بھی چپ کھڑا رہا پھر حنا نے ہی پہل کی اور اسے کہا کہ ادھر آو اب سلاد کاٹ دو کھانا تیار ہی ہے تو حنا تھوڑی جھینپ گئی تھی اور یہ کہتے ہوئے چولہے کی طرف مڑ گئی ۔ میں نے فروا کی طرف دیکھا اور اسے آنکھ مارتے ہوئے کہا کہتے ہوتے ہیں کباب میں ہڈی لیکن تم تو ہڈی کے بغیر گوشت سے بھری ہو اور آنکھوں سے اس کے مموں کی طرف اشارہ کیا ۔ فروا نے میرا اشارہ دیکھا تو مجھے غصے سے آنکھیں نکالتے ہوئے آگے آئی تو میں نے دیکھا اس نے ایک پرانی شلوار اور قمیض پہن رکھی تھی جو کہ اسے بہت فٹ تھی قمیض کے دامن آگے سے اس کے گھٹنوں کے اوپر تک تھے اور شلوار بھی اس نے انتہائی نیچے کر باندھی ہوئی تھی ۔ اس کی قمیض کے چاک سے شلوار اور قمیض کے درمیان خاصہ جسم کولہوں کے اوپر سے نمایان ہو رہا تھا ۔ وہ میرے قریب کھڑی ہو کہ سلاد کاٹنے لگ گئی حنا اس کے دوسری طرف تھی ۔ میں نے پیچھے ہو کہ اس کی باہر کو ابھری ہوئی گانڈ کو دیکھا اور پھر اوپر اس کے موٹے ممے کو دیکھا حنا ساری اس کے دوسری طرف اس کے بھاری جسم کے پیچھے چھپ چکی تھی۔ میں فروا کے اوپر سے حنا کی طرف جھانکا اور حنا کے منہ کے آگے دےگچی میں جھانکتے ہوئے پوچھا کیا پکا رہی ہو اور اپنا ہاتھ فروا کی گانڈ کو سہلاتے ہوئے درمیان میں رکھ دیا ۔ حنا نے میرے چہرے کی طرف دیکھا اور کہا آلو گوشت پکا رہی ہوں ۔ میں نے اسی طرح فروا پہ جھکے ہوئے ہاتھ اس کی گانڈ میں اچھی طرح گھسا کہ پھیرا اور کہا ہاں گوشت بھی ہڈی کھ بغیر لگ رہا ہے یہ تو بہت ہی مزے کا ہو گا۔ خلاف توقع فروا بالکل چپ آگے کھڑی تھی اس نے کوئی بات نہ کی اور سر جھکائے سلاد کاٹتی رہی ۔ میں جب پیچھے ہوا تو میں نے ایک نظر دیکھا تو فروا کی قیمض گانڈمیں دھنس چکی تھی اور اس کے چہرے پہ ہلکا سا پسینہ بھی چمک رہا تھا۔ میری بات کے جواب میں وہ فریج کی طرف مڑتے ہوئے بولی مجھے یقین ہے اس گوشت میں اگر ایک بھی ہڈی ہوئی وہ آپ کے آگے ہی جائے گی کہ آپ کے نصیب میں ہڈیاں ہی ہڈیاں ہیں یہ کہتے ہوئے اس نے حنا کو دیکھا جو سامنے دیگچی کی طرف متوجہ تھی اور مجھے دیکھ کہ اپنے منہ پہ ہاتھ پھیرا اور ہاتھ سے اشارہ کیا کہ میں تمہیں دیکھ لوں گی۔ میں نے بھی کہا مجھے کوئی فکر نہیں میری بہن کے نصیب میں گوشت ہی گوشت ہے میں تمہارے حصے سے گوشت لے لوں گا ساتھ میں نے اس کے مموں کی طرف اشارہ کیا۔ حنا اپنے کام میں مصروف تھی اور اس کے وہم و گماں میں بھی نہ تھا کہ ہم میں کیا اشارے بازی چل رہی ہے۔ اپنے مموں کی طرف گھورتے دیکھ کہ اس نے اپنے مموں پہ ہلکے سے دوپٹے کو ٹھیک کرنے کی کوشش کی لیکن مجھے وہ یوں لگاجیسے پجارو پہ مہران کار کا کور چڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہو۔ اس نے میری طرف دیکھ کہ منہ چڑایا تو جوابا میں نے فلائنگ کس کر کہ اس کی طرف بھیجا تو اس نے ہاتھ کے جھٹکے سے میری کس کو دور پھینکنے کا اشارہ کیا اور بولی آپ کا کام کیا ہے کچن میں چلیں جائیں امی ابو کے پاس بیٹھیں ہر وقت ماسی مصیبتے نہ بنا کریں ۔ میں نے ہنستے ہوئے ان دونوں کو دیکھا اور کچن سے باہر نکل آیا
میں کچن سے نکلا اور باہر آ کر امی ابو کے پاس بیٹھ گیا تھوڑی دیر میں انہوں نے کھانا لگایا اور ہم نے کھانا کھایا پھر لڑکیاں برتن سمیٹنے لگیں اور میں اوپر کمرے میں چلا گیا۔ دن بھی خوار ہونے کے بعد میرا لن بری طرح اکڑ رہا تھا اس لیے میں لن کو ٹانگوں میں دبائے اوپر چلا گیا اور کمرے میں لیٹ کر حنا کا انتظار کرنے لگا ۔ حنا کو آنے میں تھوڑی دیر ہوئی تو میں نے شرٹ اتار دی اور ٹراوزر کو تھوڑا نیچے کر کہ لن کو باہر نکال لیا جو بالکل اکڑا ہوا تھا میں نے لن کو ہاتھ میں لیا اور سوچنے لگا اس بہن چود کی وجہ سے مجھے کتنا خراب ہونا پڑ رہا ہے ۔ لیکن پھر دوسری سوچ آئی کہ لن کا کیا قصور ہے فرحی کا جسم اتنا پیارا ہے کہ کسی کو بھی اچھا لگ سکتا ہے اس میں اس لن کا یا تمہارا کیا قصور؟ یار مگر وہ تمہاری سگی بہن ہے یہ کہاں کی انسانیت ہے کہ تم اس کو اپنی ہی بہن میں ڈالنے کا سوچو، لیکن دل نے ایک بار پھر لن کی سائیڈ لی بہن وہ تمہاری ہے لن کی تو نہیں اور ویسے بھی تم اسے پیچھے سے کرنا اگر کبھی موقع ہوا اس کا کنوارہ پن نا خراب کرنا۔ پھر دل نے کہا ابے بھوتنی کے ایویں خوش ہو رہا ہے جانے وہ تمہیں موقع بھی دیتی ہے کہ تم خواہ مخواہ خوش ہو رہے ہو شکر کرو کہ ابھی تک چپ ہے ۔ یہ سوچتے سوچتے میرا زہہن دن میں ہونے والے واقعات کی طرف چلا گیا کہ کیسے کیسے میں نے اس کے جسم کو چھوا اور اس کا ری ایکشن کیا تھا۔ اس کے جسم اور لمس کا سوچتے میرے میں خواری بڑھتی گئی اور میں لن کو سہلانے لگا میں لن کو سہلا رہا تھا کہ اچانک دروازہ کھلا اور فروا ہاتھ میں چائے کا کپ لیے اندر داخل ہوئی ایک لمحے کے لیے مجھے بھی بریک لگی اور وہ بھی ایک لمحے کے لیے رکی اور صورتھال محسوس کرتے اس نے فورا پیچھے مڑ کہ دیکھا۔ میں بھی جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور اس کی طرف دیکھا اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور سائیڈ ٹیبل پہ چائے کا کپ رکھتے ہوئے بھولی وہ بھابھی کپڑے استری کر رہی تھیں تو مجھے چائے کا کپ دے کر بھیجا تھا لیکن کیونکہ آپ انہیں اتنا مس کر رہے ہیں تو میں ان کو بھیجتی ہوں یہ بات کرتے ہوئے اس کے چہرے پہ دبی دبی مسکراہٹ تھی ۔ مجھے جیسے ہی یہ پتہ چلا کہ حنا ابھی نیچے ہے تو میں فورا شیر ہو گیا اور ہاتھ بڑھا کہ اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔ میرا ہاتھ پکڑنے سے فروا فرش کو دیکھنے لگ گئی مگر اس نے مجھ سے ہاتھ نہ چھڑوایا ۔ میں نے دوسرا ہاتھ آگے کیا اور ٹھوڑی سے پکڑ کہ اس کا چہرہ اوپر کیا تو اس نے مجھے دیکھتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں اس کی پلکیں اور ہونٹ لرز رہے تھے اور وہ جو کچھ کہنا چاہ رہی تھی مگر لفظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کہ اپنی طرف کھینچا اور اپنے گلے سے لگا لیا میرا اوپری جسم ننگا تھا اور نیچے ٹراوزر تھا جس میں میرا اکڑا ہوا لن تھا۔ میں نے جیسے ہی اس کو بازوں میں لیا تو میرا لن اسکی ٹانگوں کے درمیان اس کی پھدی پہ لگا اور اس کے ممے میرے ننگے سینے سے ٹکرائے اس کی آنکھیں بند تھیں اور ایک لمحے میں وہ ساری میرے جسم سے ٹکرا رہی تھی اس کی نرم نرم رانیں مجھے اپنی رانوں پہ محسوس ہوئین میں نے ایک نظر اس کی بند آنکھوں اور لرزتے ہونٹوں کو دیکھا اور جھک کہ اس کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں بھر لیے ۔ مجھے یوں لگا جیسے نرم نرم سٹرابھری شہد میں بھگو کہ میرے ہونٹوں میں آئی ہے فروا کے جسم کو ایک جھٹکا لگا اور وہ مجھ میں پیوست ہو گئی ۔ میں نے اس کے ہونٹوں کو چوستے ہوئے کہا میری جان میں تجھے مس کر رہا تھا اسے نہیں ۔ فروا نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے نرمی سے الگ کیے اور گہری سانس لیتے ہوئے جھکی پلکوں سے بولی بھیا جو کچھ ہو رہا ہے وہ بہت غلط ہے آپ پہ میرا کوئی حق نہیں نا آپ کو مجھ پہ اگر ایسا ہوتا رہا میں خود کو سنبھال نہیں پاؤں گی پلیز مجھے مجبور نہ کریں میں نے اس کے ہونٹوں پہ انگلی رکھ کہ اسے چپ کروا دیا اور اس کے گال چومنے لگ گیا اور کہا فرحی جو ہو رہا ہے اسے بس ہونے دو اور یہ یاد رکھو تمہارے لیے میری جان بھی حاضر ہے سب سے پہلے تم ہو باقی سب بعد میں ہین ۔ اس نے میری طرف دیکھا اور شرما کہ بولی آپ کی بیگم آتی ہوں گی پکڑے گیے تو دونوں مارے جائیں گے مجھے جانے دو پلیز ۔ لیکن اس نے اپنا آپ مجھ سے چھڑوانے کی کوئی کوشش نہ کی۔ میں نے آگے ہو کہ اس کے ہونٹوں کو پھر ہونٹوں میں بھر لیا اور وہ خاموش کھڑی ہو گئی میں اس کے ہونٹ چوستے ہوئے دایاں ہاتھ اوپر کیا اور اس کا ایک مما ہاتھ میں بھر لیا بلکہ بھرنے کی کوشش کی کیونکہ نرم و ملائم مما چھوتے ہی مجھے اندازہ ہو گیا تھا یہ میرے ہاتھ میں پورا نہیں ہو رہا۔ ممے پہ ہاتھ لگتے ہی وہ اچھل پڑی اور سسی کر کہ مجھ سے الگ ہونے کی کوشش کی لیکن میں نے اس کے ہونٹوں کو ہونٹوں میں قید کر لیا اور دوسرے ہاتھ سے کمر اور گانڈ کو سہلانے لگا۔ کچھ دیر یہ مزہ لیتے تو میں بھول ہی گیا کہ میں کیا کر رہا ہوں میں مزے سے اس کے ہونٹ چوسے جا رہا تھا اچانک وہ جھٹکے سے پیچھے ہوئے اور مجھے چھاتی پہ مکا مارا اور بولی منحوس مجھے بھی ساتھ مروا گے بھابھی کبھی بھی اوپر آسکتی ہیں مجھے اس کی بات سے احساس ہوا کہ وہ درست کہتی ہے تو میں نے اسے چھوڑ دیا ۔ اس نے پیچھے ہٹ کہ دو تین گئری سانسیں لیں اور اپنے ہونٹوں پہ ہاتھ پھیر کر بولی بدتمیز انسان آپ کے ارادے بہت غلط ہیں لیکن پلیز میرے ساتھ حد پار نہ کرنا پلیز میری یہ بات یاد رکھنا مجھے حد سے زیادہ کچھ نہ کرنا کہ کل مجھے شوہر کے سامنے شرمندگی ہو یہ کہتے ہوئے اس کے چہرے پہ تھوڑے پریشانی کے تاثرات بھی تھے میں سمجھ گیا کہ وہ بھی جزبات کے ہاتھوں مجبور ہے مگر ڈرتی بھی ہے اور ڈرنا بھی چاہیے ۔ تو میں نے اس کے گال کو ہلکا سا تھپتپھایا اور کہا فکر نہ کرو گڑیا ایسا کچھ نہیں ہو گا جس سے تمہیں نقصان پہنچے۔ اس نے سر کو ہلکا سا ہلایا اور بولی مین اب جاوں؟ میں کچن سے نکلا اور باہر آ کر امی ابو کے پاس بیٹھ گیا تھوڑی دیر میں انہوں نے کھانا لگایا اور ہم نے کھانا کھایا پھر لڑکیاں برتن سمیٹنے لگیں اور میں اوپر کمرے میں چلا گیا۔ دن بھی خوار ہونے کے بعد میرا لن بری طرح اکڑ رہا تھا اس لیے میں لن کو ٹانگوں میں دبائے اوپر چلا گیا اور کمرے میں لیٹ کر حنا کا انتظار کرنے لگا ۔ حنا کو آنے میں تھوڑی دیر ہوئی تو میں نے شرٹ اتار دی اور ٹراوزر کو تھوڑا نیچے کر کہ لن کو باہر نکال لیا جو بالکل اکڑا ہوا تھا میں نے لن کو ہاتھ میں لیا اور سوچنے لگا اس بہن چود کی وجہ سے مجھے کتنا خراب ہونا پڑ رہا ہے ۔ لیکن پھر دوسری سوچ آئی کہ لن کا کیا قصور ہے فرحی کا جسم اتنا پیارا ہے کہ کسی کو بھی اچھا لگ سکتا ہے اس میں اس لن کا یا تمہارا کیا قصور؟ یار مگر وہ تمہاری سگی بہن ہے یہ کہاں کی انسانیت ہے کہ تم اس کو اپنی ہی بہن میں ڈالنے کا سوچو، لیکن دل نے ایک بار پھر لن کی سائیڈ لی بہن وہ تمہاری ہے لن کی تو نہیں اور ویسے بھی تم اسے پیچھے سے کرنا اگر کبھی موقع ہوا اس کا کنوارہ پن نا خراب کرنا۔ پھر دل نے کہا ابے بھوتنی کے ایویں خوش ہو رہا ہے جانے وہ تمہیں موقع بھی دیتی ہے کہ تم خواہ مخواہ خوش ہو رہے ہو شکر کرو کہ ابھی تک چپ ہے ۔ یہ سوچتے سوچتے میرا زہہن دن میں ہونے والے واقعات کی طرف چلا گیا کہ کیسے کیسے میں نے اس کے جسم کو چھوا اور اس کا ری ایکشن کیا تھا۔ اس کے جسم اور لمس کا سوچتے میرے میں خواری بڑھتی گئی اور میں لن کو سہلانے لگا میں لن کو سہلا رہا تھا کہ اچانک دروازہ کھلا اور فروا ہاتھ میں چائے کا کپ لیے اندر داخل ہوئی ایک لمحے کے لیے مجھے بھی بریک لگی اور وہ بھی ایک لمحے کے لیے رکی اور صورتھال محسوس کرتے اس نے فورا پیچھے مڑ کہ دیکھا۔ میں بھی جلدی سے اٹھ کھڑا ہوا اور اس کی طرف دیکھا اس نے ایک نظر مجھے دیکھا اور سائیڈ ٹیبل پہ چائے کا کپ رکھتے ہوئے بھولی وہ بھابھی کپڑے استری کر رہی تھیں تو مجھے چائے کا کپ دے کر بھیجا تھا لیکن کیونکہ آپ انہیں اتنا مس کر رہے ہیں تو میں ان کو بھیجتی ہوں یہ بات کرتے ہوئے اس کے چہرے پہ دبی دبی مسکراہٹ تھی ۔ مجھے جیسے ہی یہ پتہ چلا کہ حنا ابھی نیچے ہے تو میں فورا شیر ہو گیا اور ہاتھ بڑھا کہ اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔ میرا ہاتھ پکڑنے سے فروا فرش کو دیکھنے لگ گئی مگر اس نے مجھ سے ہاتھ نہ چھڑوایا ۔ میں نے دوسرا ہاتھ آگے کیا اور ٹھوڑی سے پکڑ کہ اس کا چہرہ اوپر کیا تو اس نے مجھے دیکھتے ہوئے آنکھیں بند کر لیں اس کی پلکیں اور ہونٹ لرز رہے تھے اور وہ جو کچھ کہنا چاہ رہی تھی مگر لفظ اس کا ساتھ نہیں دے رہے تھے میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کہ اپنی طرف کھینچا اور اپنے گلے سے لگا لیا میرا اوپری جسم ننگا تھا اور نیچے ٹراوزر تھا جس میں میرا اکڑا ہوا لن تھا۔ میں نے جیسے ہی اس کو بازوں میں لیا تو میرا لن اسکی ٹانگوں کے درمیان اس کی پھدی پہ لگا اور اس کے ممے میرے ننگے سینے سے ٹکرائے میں نے مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور کہا ایسے ہی چلی جاوں؟ ایسے ہی کیا مطلب اس نے اپنی پلکیں جھپکائیں اب اور کیا چاہتے ہو منحوس آدمی اتنا کچھ کر تو لیا ہے۔ میں نے کہا اس سے کدھر دل بھرتا ہے یار اب تو شروع بھی نہیں ہوا تھا اس کے چہرے پہ شرمیلی مسکراہٹ آ گئی اور سر جھکاتے ہوئے بولی بہن کے لیے یہ بھی بہت زیادہ ہے میں نے ہاتھ آگے بڑھا کہ اس کولہوں سے پکڑا جس سے وہ سامنے سے میرے ساتھ لگ گئی اور میرا لن جھٹکے کھاتا ہوا اس کی پھدی کے اوپر جا لگا۔ اس نے دونوں بازو میری چھاتی پہ رکھے اور بولی بھیا پلیز بھابھی اوپر آ سکتی ہیں سمجھنے کی کوشش کرو ۔ میں نے ہاتھ اس کی موٹی تازی گانڈ پہ پھیرتے ہوئے کہا مجھے ایک بار یہ دیکھنے دو پھر چلی جانا ۔ اس نے میری طرف آنکھیں اٹھا کہ دیکھا اور سر ہاں میں ہلایا تو میں نے اسے چھوڑ دیا تو وہ پیچھے ہٹی ایک نظر مجھے دیکھا اور مڑ کہ ہنستے ہوئے دروازے سے باہر بھاگ گئی اور میں ہونق بنا اسے دیکھتا رہا ۔ دروازے سے باہر نکل کہ اس نے مجھے منہ چڑایا اور بولی رات کو نیچے آنے کی ضرورت نہیں ہے میں دروازہ بند کر کے سووں گی اور زبان نکال کر نیچے بھاگ گئی۔ میں بیڈ پہ بیٹھا اور چائے پینے لگا ساتھ جو کچھ ہو رہا تھا اس پہ سوچنے لگا اچانک میرے زہہن میں ایک جھماکا ہوا اور مجھے فروا کی بات گونجنے لگی کہ میں کمرہ بند کر کہ سوؤں گی اسے یہ بات کرنے کی کیا ضرورت تھی میں ساتھ چائے پیتا رہا اور ساتھ یہ سوچتا رہا کہ مجھے رات کو اس کے کمرے میں جانا چاہیے یا نہیں ۔ چائے پی کہ میں نے کپ سائیڈ ٹیبل پہ رکھا ہی تھا کہ حنا کمرے میں داخل ہوئی اس نے مجھے یوں بیٹھا دیکھا تو ہنس کہ بولی میں نیچے جا رہی ہوں سونے کے لیے جناب کے ارادے خطرناک لگتے ہیں اس کے ہاتھ میں پانی کا جگ تھا وہ پانی کا جگ ٹیبل پہ رکھنے کے لیے جھکی تو میں نے اس کی گانڈ پہ ہلکا تھپڑ مارتے ہوئے کہا آج تم اپنی ماں کے پاس بھی جا کہ سو جاو میں وہاں بھی نہیں چھوڑوں گا ۔ اس نے میری طرف غصے سے دیکھا اور بولی بس کچھ بھی بول جاتے ہو کچھ تو شرم کیا کرو ۔ میں نے ہنستے ہوئے اسے اپنے اوپر کھینچ لیا اور اس کے جسم سے چادر الگ کر کہ اتار دی اس کے بعد اس کے ہونٹ چوستے ممے دباتے ہوئے بھرپور سیکس کیا لیکن کیونکہ اس میں میری کوشش کے باوجود بھی اس نے کوئی گالی نہ دی تو وہ پھر ایک روٹین سیکس تھا ۔ حنا سیکس کے بعد فارغ ہو کہ مدہوش نیند سو چکی تھی مگر میں نا تو فارغ ہوا تھا نا ہی مجھے نیند آ رہی تھی میں نے خود کو بہت روکا لیکن ایک انجانی قوت مجھے مجبور کر رہی تھی کہ نیچے فروا کے کمرے میں جاو مجھے دماغ کہتا کہ کمرہ بند ہو گا مگر دل کہتا کہ چیک تو کر لو شائد نہ بند ہو اسی طرح آخر کار میں کمرے سے نکلا اور نیچے چل پڑا اپنے کمرے سے نکلتے میں نے باہر سے دروازہ بند کر دیا کہ اگر حنا جاگے بھی تو باہر نہ آئے امی ابو کا مجھے پتہ تھا وہ کمرے سے نکلے بھی تو دوسرے کمرے میں نہیں جاتے ہیں ۔ میں نیچے اترا تو یہ دیکھ کر میرا دل اچھل کہ حلق میں آ گیا کہ فروا کے کمرے کادروازہ پوری طرح کھلا ہوا تھا میںدبے قدموں چلتا ہوا اس کمرے کےدروازے میں پہنچا تو سامنے فروا بیڈ پہ الٹی لیٹی ہوئی تھی کمرے میں سبز رنگ کا بلب جل رہا تھا میں نے اندر داخل ہوتے ہوئے دروازہ بند کیا اور کنڈی لگا دی ۔ میں دبے پاؤں چلتا ہوا فروا کے پاس پہنچا تو اس کی گانڈ سے قمیض ہٹی ہوئی تھی میں نے شلوار کے نیفے کو پکڑ کہ کھینچا تو ڈھیلی الاسٹک ایک دم اترتی چلی گئی اس نے شلوار کو نیچے رکھا تھا کہ جیسے ہی میں نے شلوار اتارنا شروع کی تو اس کی ساری گانڈ میرے سامنے ننگی ہوتی گئی ۔گانڈ کی کھلی گلی کا ایک حسین نظارہ میرے سامنے تھا۔ میں نے فروا کے پاس پڑا تکیہ اٹھایا اور فروا کے پیٹ کے نیچے ہاتھ ڈال کر اسے اوپر اٹھایااور تکیہ اس کی پھدی کے نیچے رکھ دیا جس سے اس کی گانڈ اوپر اٹھ گئی مجھے یقین تھا کہ اگر فروا جاگ بھی گئی تو کچھ نہیں بولے گی ۔ لیکن میں نے جب اس کی طرف دیکھا تو وہ مجھے سوئی ہوئی ہی لگ رہی تھی۔ تکیہ پیٹ کے نیچے ہونے کی وجہ سے اس کے موٹے چوتڑ اور نمایاں ہو چکے تھے میں نے اس کے ننگے چوتڑوں کو ہاتھ سے ہلکا سا سہلایا اور دائیں ہاتھ سے ایک حصہ پکڑ کہ بائیں ہاتھ سے اس کی گانڈ کے سوراخ اور پھدی کے موٹے ہونٹوں کو سہلانے لگ گیا ۔ ہلکی روشنی میں اس کی پھدی کے موٹے گلابی ہونٹ اور ان کی شروعات میں چھوٹی سی پھدی اپنی جوانی کا مظاہرہ کر رہی تھی اب کی بار میں مکمل اعتماد میں تھا
انووکھا حادثہ
قسط 10
میں نے فروا کے پاس بیٹھتے ہوئے اس کی گانڈ کو کھولا اور اس کی سائیڈ کو چومتے ہوئے منہ اس کی گانڈ میں گھسا دیا منہ گانڈ میں گھساتے ہی میں نے زبان نکالی اور اس کی گانڈ کے سوراخ پہ رکھ کہ دبائی مگر زبان کدھر اس ننے منے سوراخ میں جاتی۔ میں نے اس کی گانڈ کے حصے پکڑ کر مخالف سمت میں کھینچے ہوئے تھے اور مسلسل اپنی زبان کو اس کی گانڈ کے سوراخ میں گھسانے کی کوشش کر رہا تھا۔ میں زبان کی نوک کو سوراخ کے رنگ پہ گھماتا اور پھر اسے سوراخ میں گھسانے کی ناکام کوشش کرتا۔ اور پھر میں نے منہ اوپر کر کہ دیکھا تو فروا اسی طرح سوئی ہوئی تھی میں نے منہ اوپر کیا اور اس کا جو ایک گال سامنے تھا اسے چوم لیا ۔ فروا نے اسی طرح بند آنکھوں کے ساتھ اپنا ایک ہاتھ اوپر کر کہ اپنے گال کو صاف کیا ۔ اس کی اس حرکت سے میرے چہرے پہ مسکراہٹ آ گئی اور میں سمجھ گیا کہ وہ جاگ رہی ہے میں پھر نیچے ہوا اور اس کی قمیض کو کمر سے اوپر کر دیا یہاں تک کہ اس کی برا کے سٹریپ نظر آنے لگ گئے میں نے اس کی برا کے سٹریپ کھول دئیے اور اس کی قمیض کو اکھٹا کر کہ اس کے کندھوں تک ہٹا دیا اور اس کی کمر کو سہلاتے ہوئے اس کے کندھوں سے زرا نیچے چومنے لگ گیا۔ میں کندھوں کے ایک طرف سے چومتا ہوا درمیان تک جاتا اور پھر وہاں سے دوسری طرف۔ حنا کی گوری کمر ہلکی روشنی میں جیسے چمک رہی تھی میں نے چومتے چومتے اس کے چوتڑوں کو سہلانا بھی جاری رکھا اور اس کی ٹانگوں کے پاس بیٹھتے ہوئے میں نے اس کی شلوار ٹانگوں سے باہر نکال دی ۔ فروا کی آنکھیں بند تھی اور وہ اسی طرح خود کو سویا ہوا ظاہر کر رہی تھی ۔ لیکن مجھے اب یقین تھا کہ وہ جاگ رہی ہے میں نے اس کی شلوار اتاری اور اس کے پیٹ کے نیچے سے تکیہ نکال کہ اس سیدھا کر دیا ۔ اس نے ہلکی سی اونہہ کی اور اپنا ایک بازو اپنے چہرے پہ رکھ دیا جس سے اس کی آنکھیں ڈھانپ گئیں ۔ اس کی یہ ادا دیکھ کہ مجھے ہنسی بھی ائی مگر میں نے وقت ضائع کرنا مناسب نا سمجھا اور اس کی ٹانگوں کے درمیاں بیٹھتے ہوئے میں نے اس کی سڈول ٹانگیں ہوا مین اٹھا کر ایسے رکھیں کہ اس کے گھٹنے پیٹ سے جا لگے اور اس کی پھدی کے گئرے گلابی موٹے ہونٹ ابھر کر سامنے آ گئے ۔ میں نے بلب کی ہلکی سی روشنی میں اس کی چھوٹی سی پھدی کو دیکھا جو میری انگلی سے بھی لمبائی میں کم تھی ۔ اس کی پھدی سامنے دیکھتے ہی ہی میں نے بے اختیار اپنے ہونٹ اس پھدی پہ لگا کہ پوری اسے اپنے ہونٹوں میں بھر لیا اور اس کی پوری پھدی میرے ہونٹوں میں آ گئی۔ اس کے ساتھ اس کے جسم کو ایک جھٹکا لگا اور فروا کے منہ سے اونہہ ہوں نکلا اور اس نے اپنے جسم کو اوپر اٹھایا اور اس کا ایک ہاتھ میرے سر پہ آ گیا ۔ میں نے پھدی کو ہونٹوں میں لیے چوسنا جاری رکھا جس کا ہلکا سا نمکین زائقہ مجھے منہ مین محسوس ہوا تومیں اوپر ہوا اور نیچے پڑی ڈسٹ بن میں وہ تھوک دیا ۔ میری نظر فروا کے چہرے پہ پڑی تو اس کی آنکھیں تو بند تھیں مگر چہرے پہ بے چینی کے تاثرات تھے۔ میں نے پھر نیچے ہوتے ہوئے اس کی پھدی کو چوما اور گانڈ کے سوراخ کو چاٹنے لگ گیا میں نے دونوں ٹانگیں ایک ہاتھ سے سنبھالیں اور دائیں ہاتھ سے اس کی پھدی کو مسلتے ہوئے گانڈ چاٹنے لگا ساتھ ساتھ میں فروا کے چہرے کی طرف بھی دیکھ لیتا جو کہ آدھا بازو کے نیچے چھپا ہوا تھا میں نے گانڈ کے سوراخ کو چاٹتے ہوئے اس پہ تھوک چھوڑی اور منہ پیچھے کر کہ دائیں ہاتھ کی انگوٹھے کے ساتھ والی انگلی سوراخ پہ رکھ کہ دبائی تو انگلی انتہائی آرام سے اس کی گانڈ میں اترتی چلی گئی ۔ میں نے فروا کی ننی منی سی پھدی کو سارا منہ میں لیا ہوا تھا اور اس کے دوسرے چھوٹے سے سوراخ میں میری انگلی گھسی ہوئی تھی مجھے عجیب لگا تھا کہ میری انگلی اندر جاتے ہوئے وہ زرا بھی ہلی نہیں تھی جبکہ اس کی گانڈ کا سوراخ بہت تنگ تھا ۔ میں چوستے چوستے اوپر ہوا اور چہرا اس کی موٹی رانوں کے درمیان رکھ کہ اس کی پھدی اور گانڈ کے سوراخوں کو دیکھنے لگ گیا۔ اس کی پھدی مکمل صاف تھی اس کے جسم پہ کوئی بال نہ تھا اور میں اسے دیکھتے ہوئے اس کے جسم کا حنا سے موازنہ کرنے لگ گیا۔ میں نے دیکھا کہ اس کی پھدی اور گانڈ کے ہونٹ اور سوراخ گہرے گلابی ہین جبکہ حنا کی پھدی اور گانڈ کے سوراخ تو کالے ہیں اس کی پھدی اور گانڈ دیکھ کہ مجھ پہ ہوس تو آتی تھی لیکن اس طرح پیار کبھی نہین آیا تھا ۔ میں نے اوپر سے نیچے دونوں سوراخوں کا جو کہ بلکل ننے منے تھے بھرپور معائنہ کیا جو میری تھوک لگنے سے چمک رہے تھے۔ میں نے ایک انگلی اس کی پھدی کے سوراخ پہ رکھ کہ نوک اندر کی طرف دبائی تو پھدی اندرونی ہونٹوں کے پاس سے گیلی گیلی محسوس ہوئی جس سے میرے انگ انگ میں ایک کمینی سی خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ میری بہن کو بھی مزہ آ رہا ہے مین نے اسی طرح ٹانگیں اوپر کیے انگلی کی اگلی پور پھدی کے ننے سے سوراخ میں اندر باہر کرنی شروع کر دی انگلی اندر باہر کرتے میں نے دیکھا کہ اس کے ممے ابھی تک قمیض میں ہیں تو میں نے دل ہی دل میں اپنے آپ کو بے ساختہ گالی دی کہ بہن چود آج سب کچھ نہیں دیکھے گا تو کب دیکھے گا۔ میں نے انگلی کرنا روک کہ اس کی ٹانگیں نیچے چھوڑیں اور اسےسیدھا لیٹنے دیا اور قمیض کا دامن اس کے پیٹ سے اٹھا کر اس کے چہرے پہ رکھ دیا کیونکہ جب وہ الٹی تھی تو میں اس کی قمیض پیچھے سے اوپر کر چکا تھا اس لیے اب کی بار سامنے سے بھی وہ آرام سے اوپر ہو گئی ۔ برا کے سٹریپ بھی میں کھول چکا تھا قمیض اوپر کرتے ہی میں نے آرام سے برا کو بھی اس کے مموں سے الگ کر دیا۔ اب کی بار جو نظارا تھا وہ میری زندگی کا حاصل تھا مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ کنوارے ممے کیا ہوتے ہیں انتہائی گول سفید اور گلابی رنگ کے دو گنبد نما ممے میری بہن کی چھاتی پہ فخر سے تنے جیسے مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ کوئی ہے ہم جیسا، مموں کے بالکل درمیان ایک ننا سا موتی کے دانے جتنا گلابی نپل اور ایک خاص بات دونوں نپل پہ ایک ایک چھوٹا سا بال تھا جو ان کے حسن کو نکھار رہا تھا میں نے دونوں ہاتھ آگے بڑھائے اور دونوں ممے ہاتھوں مین پکڑنے کی ناکام کوشش کی ناکام اس لیے کہ حنا کا مما میرے ہاتھ میں آ جاتا تھا مگر یہ ممے میرے ہاتھ میں نہیں آ رہے تھے میری بہن نے اپنا چہرہ ڈانپا ہوا تھا۔ میں نے اپنا منہ آگے کیا اور اس کا ایک مما منہ میں لیکر چوسنے لگا اور دوسرا مما ہاتھ میں پکڑ لیا اور ایک ہاتھ نیچے کر کہ اس کی پھدی کو سہلانے لگا میں نے جیسے ہی یہ شروع کیا تو اس کی تیز تیز سانسیں مجھے اپنے سر پہ محسوس ہوئیں اور اگلے تیس سیکنڈ کے اندر اس کا جسم اکڑتا گیا اور اس کی سانسیں تیز ہوتی گئیں ۔ میں اس کی پرواہ کئی بغیر اپنی حرکت جاری رکھے گا اس کا مما چوستے دوسرا دباتے اور ہھدی کو سہلاتے گیا اور اس کا جسم اکڑا اور اسے دو تین زوردار جھٹکے لگے اور اس کے منہ سے اوں اوں نکلا اور پھر اس کا جسم ڈھیلا ہوتا گیا اور میرا ہاتھ جو اس کی پھدی پہ تھا اس پہ نمی کی مقدار بڑھتی چکی گئی میری پیاری سی بہن فارغ ہو چکی تھی میں نے فروا کو فارغ ہوتے دیکھا تو سکون کی ایک لہر میرے جسم میں دوڑ گئی مجھے یقین ہو گیا کہ اب ہم مین ایک نیا تعلق بن گیا ہے میرا کن بہت اکڑا ہوا تھا اور اس کو مسلسل جھٹکے لگ رہے تھے میں بھی خواری کی آخری حدوں کو چھو رہا تھا فرحی کو فارغ ہوتے دیکھ کر میں اس کے اوپر سے پیچھے ہٹا تا کہ ٹشو پیپر لیکر اس کی پھدی کو صاف کر سکوں ۔ میں جیسے اس کی اوپر سے نیچے اترا اس نے ایک سسکی بھری اور اوں اوں کرتے الٹی ہو گئی اس کے الٹا ہوتے ہی میری نظر اس کی موٹی صحمت مند گانڈ پہ پڑی اور میرے چہرے پہ مسکراہٹ آ گئی۔ میں نے سائیڈ ٹیبل سے ٹشو پیپر لیے اور اس کی گانڈ کے درمیاں ہاتھ ڈالتے ہوئے پھدی کی شروع کی جگہ کو صاف کرنا شروع کر دیا ۔ اس کے منہ سے پھر اوں اوں کی آواز آئی اور اس نے ٹانگیں کھول دیں ۔ میں نے پھدی کو اچھے سے صاف کر کے ٹشو پیپر ڈسٹ بن میں پھینکے اور اس کے اوپر چڑھ گیا میں نے اپنا اکڑا ہوا لن اس کے چوتڑوں کے درمیان رکھا اور نیچے ہوتے ہوئے دبایا تو میرا لن اس کی موٹی گانڈ کی بڑی سی گلی میں نیچے سے اوپر پھنس گیا یعنی میرے ٹٹے اس کی پھدی پہ لگے اور لن کی نوک اس کی بڑی گانڈ سے ہوتی ہوئی کمر کی طرف ہو گئی۔ میں اس کے اوپر لیٹ گیا اور دونوں ہاتھ اس کے کندھوں کے زرا نیچے سے گزارتے ہوئے اس کے ممے پکڑ لیے اور اس کی گردن کو چومنے لگ گیا۔ فروا نیچے چپ لیٹی ہوئی تھی میں نے ہاتھ میں اس کے ممے دبانے کی کوشش شروع کر دی میرے ہاتھ میں اس کے ممے تھے اور ہاتھ کی پشت پہ بیڈ کا گدا تھا لیکن بلاشبہ اس کے ممے گدے سے زیادہ نرم تھے۔ میری رانیں اس کے نرم چوٹروں کے سلکی لمس سے آشنا ہو رہی تھیں اور لن اپنی زندگی میں پہلی بار ایک موٹی تازی رس بھری گانڈ کے درمیان تھا ۔ میری سانس بھی تیز ہو چکی تھی میں نے اس کے ممے ہلکا ہلکا دباتے ہوئے لن کو گھسے مارنا شروع کر دئیے اور اپنا بوجھ اس سے اٹھا کر اپنے گھٹنوں پہ منتقل کر دیا ۔ میرا لن پیچھے ہٹ کہ اس کی گانڈ کے سوراخ تک آتا اور دھکا لگنے سے اس کی چوڑی گانڈ کے سوراخ اور سائیڈ گلی سے رگڑ کھاتا ہوا اس کی کمر کی طرف جاتا ۔ مجھے زندگی کا یہ انوکھا احساس اور مزہ مل رہا تھا اور میں سرور سکون لطف کے ایک نئے جہاں سے آشنا ہو رہا تھا۔ اوپر سے میں اس کی گردن چوم رہا تھا فروااب ہلکی ہلکی سسکیان بھرنا شروع ہو چکی تھی اور اس نے ہاتھ کی مٹھیوں میں تکیے کو دبوچا ہوا تھا اس کے بال کھل کہ اس کا چہرہ ڈھانپ چکے تھے اور میرے دھکے کے ساتھ وہ پورا ہلتی تھی۔ گردن چومتے چومتے میں نے اس کے کان کی ایک لو کو منہ میں لے لیا اور اسے ہونٹوں کے درمیان مسلتا گیا۔ میرے اس حرکت سے فروا کے جسم سے اففففف سسسسسسسی اآااااااائی کی آواز نکلی اور اس کے جسم کو ایک جھٹکا لگا اور اس نے اپنی گانڈ پہلے تو بھینچی پھر اسے اوپر کو اٹھا دیا ۔ اس کے اس ری ایکشن سے میرا لن سلپ ہوا اور اس کی پھدی سے رگڑ کھاتا ہوا اس کی رانوں کے درمیان دھنس گیا ۔ لن کو جب اس کی پھدی کے گیلے گیلےنرم ہونٹ محسوس ہوئے تو اس کی تو جیسے عید ہو گئی اور مجھے بھی پتہ چل گیا کہ یہ فروا کا کمزور ترین پوائنٹ ہے۔میں نے لن کو اسی طرح پھدی سے رگڑتے ہوئے اوپر نیچے کرنا شروع کر دیا اور فروا کے کان کی لو کو ہونٹوں میں چوستا گیا اور میرے ہاتھوں میں اس کے نرم و ملائم گول ممے تھے۔ اس کا کانپتا لرزتا جسم مجھے بتا رہا تھا کہ بھائی دیکھ لو یہ ہوتا ہے کنوارا پن اور ان چھوئی لڑکی کیسے ری ایکٹ کرتی ہے اس کی کمر تو یعنی پیٹ تو بیڈ پہ تھا لیکن گانڈ اوپر اٹھ چکی تھی اور اس کی تیز سانسوں سے کمرہ گونج رہا تھا ۔ مجھے بھی احساس ہو رہا تھا کہ میں بہن کی زندگی کا پہلا مرد ہوں اور یہ احساس بہت انوکھا تھا لزتوں کا سفر ایک بار پھر منزل کی طرف بڑھتا گیا اس کے جسم کے اکڑواو نے میرے اکڑے ہوئے لن کی بھی بس کر دی اور میں اس کی پھدی کے باہر سےلن رگڑتے ہوئے فارغ ہونے کے قریب ہوتا گیا۔ اس بار بھی اس کی چڑھتی جوانی نے اس کے جسم کو اکڑا دیا اس نے گانڈ اوپر اٹھا کہ اپنی رانیں بھینچ لیں اور میں بھی اس کی رانوں کی نرمی کے آگے ہار گیا ۔ میرے لن نے ایک زوردار پچکاری اس کی ٹانگوں کے درمیان چھوڑی اور میں اس کے اوپر گرتا گیا اور اس کے جسم کو بھی جھٹکے لگتے گئے۔ ہم دونوں فارغ ہو کہ ہانپ رہے تھے اس کا اور میرا چہرہ بھی پسینے سے بھیگ چکا تھا ۔ وہ نیچے سے کسمسائی اور روہانسی آواز میں بولی گندے ڈرٹو میرے اوپر سُو سُو کیوں کر دیا ہے ۔ مجھے ہانپتے ہوئے بھی ہنسی آ گئی اور میں نے اس کی گردن پہ پیار دیا اور کہا جانی یہ سو سو نہیں ہے میں فارغ ہوا ہوں ۔ اس نے آنکھیں موندھی ہوئی تھیں میں بھی اس کے اوپر سے اٹھا اور تراوزر اوپر کیا ، اور بیڈ سے نیچے اترا تو وہ ننگی اسی طرح بیڈ پہ پڑی ہوئی تھی میں نے ایک نظر بہن کی طرف دیکھا اور باہر کی طرف مڑا تو اس کی ہلکی سی آواز آئی گندے بیوقوف خود کو دھو کہ جاو اوپر بھابھی جاگتی ہوئی تو کیا جواب دو گے۔ مجھے ایک دم اپنا آپ بہت احمق محسوس ہوا میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ اسی طرح الٹی ننگی لیٹی ہوئئ تھی اور آنکھیں بند تھیں ۔ میں جلدی سے باتھ میں گیا اور خود کو صاف کر کہ باہر نکلا تو فروا بیڈ پہ اسی طرح سو رہی تھی میں نے ٹشو پیپر لیے اور اس کی رانوں کو اچھی طرح صاف کرنے لگا اور صاف کر کہ میں نے اس کی گانڈ کیسائیڈز کو چوم لیا اور پھر کھول کہ ایک بار سوراخ کو دیکھا ۔ میرا دل تو نہیں کر رہا تھا لیکن جانا بھی مجبوری تھی تو میں نے اس کے ننگے جسم پہ چادر دی اور کمرے کا دروازہ آہستگی سے کھول کر باہر دیکھا اور باہر نکل آیا اور دبے قدموں اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔ اپنے کمرے میں آرام سے داخل ہوا تو حنا بےسدھ سو رہی تھی میں بھی جا کہ اس کے پاس لیٹ گیا اور جلد ہی میری آنکھ لگ گئی
انوکھا حادثہ
قسط 11
میری صبح آنکھ کھلی تو میں نے خود کو بیڈ پہ پایا اور دیکھا تو میرا لن اکڑا ہواتھا میں نے نظر دوڑائی تو حنا سامنے باتھ میں نہا رہی تھی اور دروازہ آدھا کھلا ہوا تھا۔ میری آنکھ کھلتے ہی مجھے بیتی رات کے پل یاد آئے اور میرے چہرے پہ مسکراہٹ پھیلتی گئی میں نے اپنے اکڑے لن کو دیکھا اور بیڈ سے نیچے اترا اور ٹراوزر کو اتار کہ باتھ کی طرف بڑھا قدموں کی چاپ سن کہ حنا نے مجھے مڑ کہ دیکھا اور ننگا دیکھتے ہوئے ہنس کہ دروازہ بند کرنے کی کوشش کی لیکن میں جلدی سے باتھ میں داخل ہو گیا وہ بھی ہنسنے لگی اور تولیہ اٹھانے کو لپکی لیکن میں نے اسے دبوچ لیا اور پیار کرنے لگا وہ ہلکی ہلکی مزاحمت کرتے ہوئے ہنسنے لگی اور بولی چھوڑو نا جانو اب نہیں کرنا پہلے ہی میری پھدی سوجی ہوئی ہے ۔ میں نے اس کی بات کو ہنسی میں اڑا دیا اور کہا جانی ڈالنا تو ہے ہی اب تیری مرضی پیار سے لو یا میں زبردستی کروں ۔ وہ روہانسی آواز مین واش بیسن پہ جھکتے ہوئے بولی بہت بہن چود ہو زرا بھی نہین سنتے اور مجھے تنگ کرتے ہو۔ میں نے اس کی گانڈ پہ تھپڑ مارا اور کہا بہن چود ہو گی تم خود اور میں تمہیں نا کروں تو تیری اماں کے پاس جاوں یہ کہتے ہوئے میں نے اپنا لن اس کی پھدی کے ہونٹوں پہ رگڑنا شروع کر دیا اس نے غصے سے مجھے دیکھا اور بولی جانی گھٹیا بات نا کیا کرو ورنہ ۔۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ورنہ کیا کرو گی جانی اور لن کی ٹوپی کو اس کی پھدی کے سوراخ پہ رکھ کہ دبایا اس کا جسم پانی سے گیلا تھا تو میرے لن کی ٹوپی سلپ ہو کہ اس کی پھدی میں اتری تو اس نے ہائےےےےےےے کرتے ہوئے گانڈ کو اور اٹھایا تا کہ پھدی واضح ہو سکے اور بولی مجھے گالی نا دیا کرو ورنہ میں بھی گالی دوں گی اس کے چہرے پہ درد کے تاثرات تھے میں نے لن کو باہر نکالا اورپھر ٹوپی کو اس کی پھدی پہ رکھتے ہوئے کہا شروعات تم کرتی ہو اپنی بار پھر برداشت نہیں کرتی ۔ اس کے چہرے پہ ہلکے درد کے اثرات تھے اور بولی سچ کہتی ہوں نا نیچے امی کچن میں دیکھ رہی ہوں گی یہاں تم نے مجھے پکڑ رکھا ہے اور رات سے دوسری بار چود رہے ہو ۔ ہائے کیا سوچیں گی وہ ۔ میں نے لن کو کھینچ کہ ایک دھکا مارا اور آدھا لن اس کی پھدی میں گھسا کہ کہا وہی سوچیں گی جو تیری اماں سوچتی ہوں گی کہ تم کیسے لیتی ہو گی ۔ ہائے ےےےے بدتمیز بیغرت کچھ شرم کرو حنا نے درد سے کراہتے ہوئے کہا۔ یار جانی اب میں تم سے کرتے بھی شرماتا رہا تو مزہ کیسے لوں گا میں نے پورا لن اس کی پھدی میں دھکیلا ۔ پورا لن جا کہ بھی مزے کی وہ لہر مجھ میں نہیں آئی تھی جتنی فروا میں صرف رگڑنے سے آئی تھی۔ شرم تو نہ کریں مگر گندی بات بھی تو نہ کریں مجھے نہیں اچھا لگتا نا اس نے میرے جھٹکوں کے درمیان ہلتے ہوئے مجھے پیچھے مڑ کہ دیکھتے ہوئے کہا۔ جانی شروعات تو نے کی ہے مجھے بہن چود کہہ کر ۔ میں نے جھٹکے مارتے ہوئے اسے کہا تو اس کے چہرے پہ شرم آ گئی اور بولی گدھے جتنا لن مجھ میں زور سے مارتے ہو تو میں کیا کہوں پھر؟؟ میں نے کہا تم بس مزہ لیا کرو نا اور ساتھ جھٹکے مارتے ہوئے اس کے اوپر جھکتے ہوئے اس کے ممے پکڑے لیکن اس کے ممے پکڑتے ہی مجھے عجیب سا لگا وہ فروا کے مقابلے میں کچھ نہیں تھے ۔ جیسے ہی مجھے فروا کا خیال آیا تو مجھے حنا کا جسم بالکل بیکار لگنے لگا اور بجائے مزے کے ایک بوریت سی مجھ پہ چھانے لگی ۔ میں نے اپنے آگے جھکی ہوئی حنا کو دیکھا لیکن مجھے اس میں کوئی دلچسپی محسوس نہ ہو رہی تھی مجھے بس ایک روبوٹ جیسا احساس ہوا اور اسی لمحے میرے زہہن میں خیال آیا کہ خود جو ہوا سو ہوا اب اس کا تو حق پورا کروں اور پھر میں مشین کی طرح اس میں دھکے لگاتا گیا اور وہ تھوڑی ہی دیر میں فارغ ہو کہ آگے ہوتی گئی ۔ اس نے میرا لن دیکھا تو اسی طرح اکڑا ہوا تھا اس نے اپنے منہ پہ ہاتھ رکھ لیا اور بولی جانی یہ تو ابھی اکڑا ہوا ہے ۔ میں نے سنجیدہ ہوتے کہا تو اس کا اکڑاو ختم کرنا تمہارا فرض ہے نا ۔ اس نے مسکراتے چہرے سے کہا جانی مجھ سے نہیں برداشت ہوتا آپ فارغ ہی نہیں ہوتے تو میں کیا کروں ۔ میں نے کہا مجھے فارغ کرو جیسے بھی ممکن ہے وہ میرے گلے لگتی ہوئی بولی بہن چود یہ کھوتے والا لن مجھ سے بار بار نہیں لینے ہوتا اور میرے ہونٹ چومنے لگی اور ایک ہاتھ سے میرے لن کو سہلانے لگی اور اس کی مٹھ مارنے لگی ۔ میں نے اس کو ساتھ لپٹا کہ زور سے اس کے ہونٹ چوسنے لگا اور ایک ہاتھ سے اس کی گانڈ کو پکڑ کہ زور سے دبایا اور پھر دوسرے ہاتھ سے اس کے ممے کو دبایا ۔ مجھ میں ایک وحشت سی چھا گئی تھی اس کے منہ سے سسکی نکلی اور بولی بہن چود میں تیرا ساتھ نہیں دے سکتے موٹے کٹے یہ گدھے جیسا لن مجھ سے نہیں لینے ہوتا ۔ تو اس کو ٹھنڈا کرنا تیرا کام ہے نا کمینی عورت میں نے بھی اس کے گال کاٹتے ہوئے اسے دبایا ۔ آہ کی آواز کے ساتھ وہ بولی کوشش کر تو رہی ہوں یار اب کیا کوئی اور تیرے آگے رکھوں؟ یہ کہتے ہوئے اس نے میرے ہونٹ چوستے ہوئے میرے لن کو زور سے مسلنا شروع کر دیا ۔ ہاں جانی رکھ نہ کس کو رکھے گی میرے آگے کوئی اپنی ہی رکھنا سیکسی سی ۔ میں نے وحشت میں اسے بھنبھوڑتے ہوئے کہا۔ میری اتنی مفت کی کوئی نہیں ہے اپنی ہی دیکھو ساری موٹی تازے بنڈ والی ہیں میری ساری معصوم اور کمزور ہیں یہ گدھے جیسا لن نہیں لے سکتی کوئی بھی ۔ میں نے اسے چوستے ہوئے کہا جانی تیری بھی بڑی سیکسی ہیں نا کئی ۔ اس نے مجھے جواب دئیے بغیر میرے لن کو مسلنا جاری رکھا اور میرے ہونٹ چوستی گئی مجھ پہ بھی خماری چڑھتی گئی اور میں اس کے ہاتھ میں فارغ ہوتا گیا ۔ وہ جلدی سے مجھے چھوڑ کہ پیچھے ہٹی اور نہانا شروع کر دیا میں بھی خودکو ریلیکس کرتا رہا اور پھر نہا کہ باہر نکلا حنا مجھ سے پہلے نیچے جا چکی تھی میں کچن میں داخل ہوا تو ناشتے کی تیاری زوروں پہ تھی امی بھی کچن میں تھین اور فروا بھی۔ فروا نے بھی نہا کہ لباس بدلا ہوا تھا اور کل کی نسبت یہ لباس اس کے جسم کو کور کیے ہوئے تھا اس نے ایک نظر مجھے دیکھا تو شرما کہ دوسری طرف مڑ گئی میں بھی امی کو سلام کر کہ باہر آ گیا ۔ تھوڑی دیر میں انہوں نے ناشتہ لگایا اور میں ناشتہ کر کہ دفتر چلا گیا ۔ دفتر سے چھٹی ہوئی تو میں گھر کی طرف نکلا تو مجھے سب باتوں کا خیال آیا ۔ میں گھر داخل ہوا تو حسب معمول گھر میں خاموشی تھی ۔ میں نے دیکھا کہ امی ابو کا کمرہ بھی بند تھا اور فروا کا بھی۔ میں نے فروا کے کمرے کا دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر وہ لاک تھا میں مایوس ہو کہ اپنے کمرے کی طرف چل پڑا ۔ حنا ٹی وی دیکھ رہی تھی مجھے دیکھتے ہی وہ اٹھی مجھے گلے ملی اور مجھ سے کھانے کا پوچھا اور میرے ہاں کہنے پہ وہ کھانے لینے چلی گئی ۔ میں بستر پہ لیٹ گیا فروا کو نہ دیکھ کہ مجھے ایک مایوسی سی ہو گئی تھی میرا دل کر رہا تھا کسی بھی طرح مین اسے دیکھ لوں لیکن اب یہ وقتی مشکل نظر آ رئا تھا ۔ مجھے اوپر کمرے میں عجیب سی بے چینی تھی میں کسی بھی طرح فروا کو دیکھنا چاہتا تھا اور میرا کمرے میں کوئی دل نہیں لگ رہا تھا ۔ میں تھوڑی ہی دیر اوپر رہا پھر نیچے اتر ایا اور امی کے پاس بیٹھ گیا جو کہ برامدے میں بیٹھی ہوئی تھیں ۔ تھوڑی ہی دیر بعد مجھے فروا اہنے کمرے سے نکلتی دکھائی دی اس نے مجھے دیکھ کر منہ بنایا اور پھر مسکرا دی۔ اسے دیکھتے میرے چہرے پہ بھی جیسے رونق آ گئی۔ میں امی کے پاس تخت پوش پہ بیٹھا ہوا تھا اور امی نے تکیے سے ٹیک لگائی ہوئی تھی اور نیم دراز تھیں ۔ مین ان کے پاوں والی طرف بیٹھا ہوا تھا۔ فروا ان کے سر والی سائیڈ آ کہ بیٹھ گئی اور مسکراتے ہوئے بولی یہ ماسی فتنہ امی کو کیا ہوا دے رہی ہیں۔ میں نے امی کی طرف دیکھا اور کہا دیکھ لیں امی مجھے کیا کہہ رہی ہے تو امی کے چہرے پہ بھی مسکراہٹ آ گئی ہمارے درمیان ہنسی مزاق ایک معمول کی بات تھی اور امی جانتی تھیں کہ ہم آپس میں یوں ہنسی مزاق کرتے رہتے ہیں امی نے اپنا ایک ہاتھ اوپر کر کہ اس کے سر پہ پھیرا تو میں ان کے قدموں کی طرف تھا امی نے تقریبا سائیڈ کروٹ لی ہوئی تھی اور وہ نیم دراز تھیں ۔ فروا نے مجھے دیکھا اور زبان نکال کر چڑایا اور امی کی طرف اشارہ کیا ۔ میں نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا تو وہ امی کے موٹے چوتڑوں کی طرف اشارہ کر رہی تھی جن سے قمیض ہٹی ہوئی تھی میں نے ادھر دیکھتے ہوئے فروا کی طرف دیکھا تو وہ میرا منہ چڑا رہی تھی مجھے یہ بات زرا بھی اچھی نہ لگی میں نے آنکھوں سے اسے گھورا تو اس نے سر جھکا لیا اور چپ ہو کہ بیٹھ گئی ۔ فروا کی اس حرکت نے مجھے بھی الجھا کہ رکھ دیا میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا فروا ایسا کچھ اشارہ کر سکتی ہے۔ ایک عجیب سی چپ ہمارے درمیان چھا گئی کچھ دیر کے بعد فروا اٹھی اور کچن کی طرف چل دی دو تین منٹ بعد میں بھی اس کے پیچھے کچن کی طرف گیا تو وہ کچن میں چائے بنا رہی تھی قدموں کی آہٹ پہ وہ میری طرف مڑی میں نے دیکھا تو اس کے چہرے پہ سنجیدگی کے تاثرات تھے۔ میں نے اس کے قریب ہونا چاہا تو وہ اچھل کہ ایک طرف ہو گئی اور چائے والا مگ میری طرف کر کہ بولی مجھے ہاتھ مت لگانا بس ورنہ میں ابھی امی کو آواز دیتی ہوں ۔ میں ہنس کہ رک گیا اور کہا کیا بات ہو گئی ہے ایسی کہ تم اتنی ناراض ہو رہی ہو ؟ ابھی باہر مجھے گھورا کیوں تھا اس نے ماتھے پہ سلوٹ ڈالے میری طرف دیکھا اور آنکھوں کے کونے بھیگ چکے تھے۔ اففف سوری فرحی میں نے اس کی طرف دیکھا اور اس کے آگے ہاتھ جوڑتے اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور کہا فرحی میرا مقصد تمہیں ڈانٹنا نہیں تھا وہ تو میں امی کی وجہ سے کہہ رہا تھا میں اس سے پہلے کچھ اور بولتا تو وہ غصے سے پھنکاری کیوں امی کے ساتھ رشتہ ہے تو بہن کے ساتھ رشتہ نہیں تھا وہاں تو آپ کی غیرت جاگ گئی مگر بہن کے معاملے میں کیوں نا جاگی؟ میں اتنی ہی بری تھی کہ میرا جسم دیکھتے آپ سارے رشتے بھول گئے؟ میں نے آگے ہو کہ اس کے پاؤں پکڑ لیے اور کہا ملکہ عالیہ جو کہو گی وہی ہو گا پلیز غصہ تھوک دو اور اپنے ہاتھوں سے اس کے پاؤں پکڑ لیے۔ اور اس کی طرف دیکھنے کے بجائے فرش کو دیکھنے لگ گیا۔ دل تو کرتا ہے یہی مگ آپ کے سر میں دے ماروں ۔ اس کی غصے والی آواز آئی جس کی شدت اب پہلے سے کم تھی۔ جو بھی مارو مگر مجھے معاف کر دو میں نے اسی طرح بیٹھے ہوئے کہا اچھا چلو آپ کو معاف کر دیا لیکن میں جو کچھ بھی کہوں گے اگلی بار آپ اس پہ انکار نہیں کرو گے یہ وعدہ کرو ۔ میں نے کہا بالکل وعدہ ہے تم جو بھی کہو گی میں مان لوں گا کوئی بحث نہیں کروں گا ۔ او کے اب اٹھ جاو اور میرے پیر چھوڑ دو میں نے اس کے پیر چھوڑے اور سیدھا کھڑا ہو کہ اسے دیکھا اس کے چہرے پہ دبی دبی مسکراہٹ تھی ۔ اگلا حکم کیا ہے ملکہ عالیہ؟ میں نے اس کی طرف دیکھ کر کہا۔ جاو جا کر امی کے پاس بیٹھو اور وہیں بیٹھنا جدھر پہلے بیٹھے تھے میں نے اس کی بات سن کہ او کے کا اشارہ کیا اور باہر نکل کہ امی کے پاس بیٹھ گیا اب سامنے ابو بھی کرسی پہ بیٹھے ہوئے تھے میں نے ایک نظر امی کی طرف دیکھا اور یہ زندگی میں پہلی بار تھا کہ میں ان کو کسی اور نظر سے دیکھ رہا تھا امی کے جسم کے نشیب و فراز اور چہرہ فلمسٹار صائمہ کے جیسا ہے کچھ لوگ اسے ضرور جانتے ہوں گے اور ان کے چہرے میں ایک عجیب سی کشش تھی ۔ میں نے ایک نظر ان پہ ڈالی اور شریف ہو کہ بیٹھ گیا تھوڑی ہی دیر میں فروا بھی چائے لیکر آ گئی اور حنا بھی پہنچ آئی اور ہم لوگ گپ لگاتے ہوئے چائے پینے لگے ابو اور حنا سامنے کرسیوں پہ بیٹھے تھے جبکہ میں اور فروا امی کے دائیں بائیں بیٹھے تھے۔ امی نے ایک ٹانگ فولڈ کی ہوئی تھی اور دوسری ٹانگ اٹھا کر بینڈ کی ہوئی تھی فروا والی طرف سے ان کی ٹانگ اوپر اٹھی ہوئی تھی۔ فروا نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا بھائی پیچھے ہو کہ بیٹھو آپ کے بیٹھنے کے انداز سے لگتا ہے آپ ابھی نیچے گر جاؤ گے ۔ میں نے اس کی بات سنتے ہی اپنا آپ تخت پوش پہ کر لیا ۔ اور سب میرے اس طرح کرنے پہ ہنس پڑے مجھے بھی فروا کی اس بات کی سمجھ نہ آئی تھی فروا اچانک امی کے پیچھے ہوتے ہوئے بسکٹوں کی پلیٹ میری طرف بڑھاتے ہوئے بولی بھیا یہ بسکٹ لیں اور اس کا اوپری چہرہ اور دھڑ امی کے پیچھے ابو اور حنا سے اوجھل ہوا تو اس نے بسکٹ کی پلیٹ مجھے تھمانے کے بہانے امی کے چوتڑوں کے پیچھے دوسرا ہاتھ اس طرح گھسیٹا کہ ان کی قمیض ان کے بھاری چوتڑوں سے ہٹ گئی اور اور ان کے بھاری کولہوں سے اوپر کمر کا کچھ حصہ جھلکنے لگا ۔ فروا نے مجھے آنکھ مارتے ہوئے پلیٹ واپس کھینچ لی اور آگے مڑ گئی ۔ میں ایک عجیب صورتحال کا شکار ہو چکا تھا سامنے ابو اور حنا تھے اور دوسری طرف ایک نظارہ تھا میں چاہ کہ بھی اس طرف نہیں دیکھ سکتا تھا ۔ فروا کہنے کو تو چائے پی رہی تھی مگر وہ بار بار مجھے بھی نوٹ کر رہی تھی اور میں چاہ کہ بھی امی کی طرف نہیں دیکھ پا رہا تھا ساتھ مجھے سامنے بیٹھے ابو اور بیوی کا بھی خیال تھا ۔ دل مین چور نہ ہو تو بندہ ہزار بار بھی دیکھتا ہے اپنے دل میں چور ہو تو ایک بار دیکھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے ۔ امی اسی طرح بیٹھی ہوئی تھیں اور چائے پی رہی تھی اور اسی طرح ہماری چائے ختم ہو گئی اور وہ برتن اٹھا کر کچن میں چلی گئیں اور میں باہر ہی بیٹھا رہ گیا اور امی پھر نیم دراز ہو گئیں اور میری طرف ان کی کمر تھی اور سامنے ابو بیٹھے ہوئے تھے ۔ میں نے دل ہی دل میں فروا کو کوسا کہ منحوس نے مجھے کس کام پہ لگا دیا ہے کہ اب زلالت کی انتہا ہی ہو گئی ہے ۔ میں بیٹھا اپنے آپ کو کوس ہی رہا تھا ابو بھی اخبار پڑھ رہے تھے کہ مجھے فروا آتی ہوئی دکھائی دی اس کے چہرے پہ ہمیشہ کی طرح مسکراہٹ تھی اور مجھے دیکھتے ہی وہ مسکراہٹ اور گئری ہو گئی ۔ اور مجھے مخاطب کرتے ہوئے بولی علامہ اقبال بھی اگر بھائی کو دیکھتے تو شرمندہ ہو جاتے اتنا تو انہوں نے پاکستان کے لیے نہیں سوچا تھا جتنا بھائی سوچ رہے ہیں اور لگتا ہے انہوں نے سوچ سوچ کہ اپنا ایک نیا جہان بنا لینا ہے ۔ امی ابو بھی اس کی بات پہ ہنس پڑے میں نے بھی مسکراتے ہوئے کہا جس کی تم جیسی بہن ہو گی اسے سوچنا تو پڑے گا ہی پتہ نہیں کس کے نصیب پھوٹیں گے ۔ میری بات سن کہ وہ شرمائی اور بولی اپنی قسمت پہ ناز کیا کرو میرے جیسی بہن ملی ہے اور کوئی ہوتی تو لگ پتہ جاتا اس نے امی ابو سے نظر بچا کہ مجھے آنکھ ماری اور ہنسنے لگ گئی اس کی یہ بات سن کہ مجھے بھی ہنسی آ گئی۔ وہ چلتے ہوئے آئی اور میری اور امی کے درمیان بیٹھ کہ ان پہ اسی طرح نیم دراز ہو گئ امی نے بھی اوپری بازو اس کے سر پہ رکھتے ہوئے اسے اپنے ساتھ لگا لیا ۔ بوڑھی گھوڑی لال لگام بڈھی لڑکی کیسے چونچلے کر رہی ہے میں نے اس کا منہ چڑایا تو جوابا وہ امی کی طرف چپکتی ہوئی مجھے ٹھینگا دکھانے کے لیے ہاتھ ایسے لائی کہ اس کے ہاتھ کے ساتھ امی کی قمیض کا دامن ان کے چوتڑوں سے پوری طرح ہٹتا گیا اور اس نے پوری گانڈ پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے مجھے انگوٹھا دکھایا ۔ اس کی اس حرکت سے تو میری جیسے سانس رک گئی اور میں نے فورا ابو کی طرف دیکھا مگر وہ اخبار پڑھ رہے تھے اور ان کے سامنے اخبار تھی ۔ امی دیکھیں نا بھائی مجھے آپ سے پیار کرتے دیکھ کہ جلتے ہیں یہ کہتے ہوئے اس نے ہاتھ ان کے اوپر رکھنے کے بہانے سے پھر ان کی بڑی سی گانڈ پہ پھیرتے ہوئے اوپر والے چوتڑ پہ رکھا اور مجھے آنکھ ماری ۔ مجھے یہ بالکل سمجھ نہیں آ رہی تھی اب میں کیا بولوں یا کیا کروں ۔ امی نے اسکو اسی طرح مڑے ہوئے کہا ارے بھائی کو تم اتنا کچھ بولتی ہو اس کا بھی مزاق سن لیا کرو ۔ میں کیوں سنوں ان کا مزاق ان کا کام ہے میرے نخرے اٹھائیں یہ بات اس نے ایک یقین اور فخر سے کہی
انوکھا حادثہ
قسط 12
میرے جواب دینے سے ہہلے ہی امی نے کہا ہاں تو بھائی بہنوں کا مان ہوتے ہیں نا اور ایسے ہی بہن کو بھائی پہ فخر ہونا چاہیے ۔ امی کی اس بات پہ مجھے شرم سی محسوس ہوئی اور اپنا آپ بہت گھٹیا سا لگا فروا کے چہرے پہ ہلکی سی مسکراہٹ تھی اور وہ امی سے اس طرح چپکتے ہوئے بولی امی جب بھائی اور بیٹے اتنے ہی اچھے خیال کرنے والے ہوں تو ہمیں بھی ان کا تھوڑا خیال کرنا چاہیے ہے نا؟ ساتھ اس نے میری طرف بھی پلٹ کہ دیکھا۔ تھوڑا سا کیوں بیٹا بہت سا خیال کرنا چاہیے بھائیوں میں تو بہنوں کی جان ہوتی ہے اور تمہارا اور ہے ہی کون بھلا؟ امی نے اسی طرح لیٹے لیٹے فروا کو جواب دیا۔ ابو اخبار پڑھ رہے تھے اور میں بھی فروا کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا جو آگے نیم دراز امی پہ تقریبا چڑھ کہ لیٹی ہوئی تھی اس کے اور امی کے چوتڑ میرے سامنے تھے مگر مجھے دیکھتے ہوئے ایک جھجھک سی محسوس ہو رہی تھی۔ ہاں امی میں بھی یہی سوچ رہی تھی یہ ڈرٹو بھائی اتنا خیال کرتے ہیں تو مجھے بھی کرنا چاہیے بس زرا ان کو تنگ کرنے میں بھی مزہ آتا ہے یہ کہہ کر وہ ہنس پڑی اور پھر تھوڑی سنجیدہ ہوتے ہوئے بولی اب دیکھ لیں نا ہمسائے میں یہ ظہیر لوگ زرا بھی اپنی بہنوں کا خیال نہیں کرتے ۔ امی نے اس کی بات سنی اور کہا بچہ باقیوں کو دفع کرو تمہارا بھائی خیال کرتا ہے نا تو یہ بہت ہے اور ہمیں بھی اچھا لگتا ہے تم لوگ پیار سے رہتے ہو بس اسی طرح پیار سے رہا کرو ۔ فروا نے ان سے چپکتے ہوئے ان کے گال کو چوم لیا اور کہا ایسا ہی ہو گا امی اور پھر ہمارے درمیان سے اٹھ گئی ۔ اس کے اٹھتے ہی امی کی آدھے سے زیادہ کمر ننگی میرے سامنے آ گئی اور میری تو جیسے سانس رک گئی انتئائی سفید رنگ کی سڈول کمر جس کی سائیڈز ابھری ہوئی اور کمر کے درمیان بھی ایک گلی بنتی ہوئی نیچے ابھری ہوئی پہاڑیوں کی طرف جا رہی تھی اور پہاڑیوں کی بھی اپنی اٹھان تھی فخر سے تنی ہوئی پہاڑیاں یہ بتا رہی تھی کہ جس نے بھی ان کو دیکھا ہو گا اس گئرائی میں اترنے کی خواہش کیے بغیر نہیں رہ سکا ہو گا ۔ فروا نے مجھے امی کی طرف دیکھتے دیکھا میں نے بھی مڑ کہ فروا کی طرف دیکھا تو اس نے مجھے اشارہ کیا اور کمرے کی طرف بڑھ گئی ۔ میں اٹھا اور اس کے پیچھے چل دیا کمرے میں داخل ہوا تو فروا آگے کھڑی تھی میں نے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا اور مڑ کہ دروازے کی طرف بھی دیکھا تو وہ ہنس پڑی اور بولی یہ چوروں کی طرح پیچھے مڑ کہ کیا دیکھتے ہو بھائی ہو میرے کوئی ڈیٹ پہ محبوبہ سے ملنے تو نہیں گئے۔ مین تھوڑا سا شرمندہ ہوا اور آگے بڑھ کہ اسے گلے سے لگا لیا اس نے بھی بازو پھیلا کہ مجھے بانہوں میں لے لیا اور بولی بھیا پلیز بہت احتیاط کی ضرورت ہے آپ بھی محتاط رہو زرا بھابھی میکے جائیں گی پھر ہم تفصیل سے بات کر لیں گے اس وقت تک آپ پلیز محتاط رہو ساری عمر کا رشتہ زرا سی حماقت سے خراب نا ہو جائے ۔ میں نے اس کو بازوں میں بھرے ہوئے کہا ٹھیک ہے میری سمجھدار گڑیا ایسا ہی ہو گا ۔ ہاں امی والا وہ ۔۔ میں اتنا کہہ کر چپ ہوا تو وہ بولی میری طرف سے ایک مذاق تھا باقی آپ کی مرضی ہے میں آپ کو تنگ کر رہی تھی۔ یہ کہہ کر وہ مجھ سے الگ ہوئی اور بولی اب پلیز کچھ دن نارمل رہنا اور میرے جواب کا انتطار کیے بغیر کمرے سے نکلتی چلی گئی مجھے بھی اس کی بات سمجھ آ گئی اور میں اس کے پیچھے کمرے سے باہر نکلا اور پھر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔ اگلے کچھ دن اسی روٹین میں گزرے کہ بس نارمل گپ شپ اور گفتگو چلتی رہی اور کوئی خاص بات نا ہوئی البتہ حنا کے ساتھ سیکس میں گالیاں بڑھتی جا رہی تھیں اور ہم ایک دوسرے کو ماں بہن کی ننگی گالیاں دینے لگ گئے تھے کچھ دن اس روٹین میں گزرتے گیے پھر ایک دن جمعے کی شام جب ہم سب چائے پی رہے تھے تو حنا نے امی سے کہا کہ امی میں امی کو دیکھنے جانا چاہتی ہوں ۔ اس کے جواب دینے سے قبل ہی ابو نے مجھے زرا سختی سے کہا کہ اتنے دن ہو گئے ہیں بیٹا یہ بات تمہیں خود سوچنی چاہیے تھی کل ہی بہو کو اس کے میکے پہنچاو ۔ میں نے بھی سر جھکا کہ کہا جی ابو۔ امی بھی ہنس پڑیں اور بولی ضرور جاو بیٹا اور بیشک دو تین دن رہ آنا ۔ حنا بھی امی کے گلے لگ گئی اور ان کا شکریہ ادا کرنے لگی لیکن فروا نے منہ بنا لیا ۔ امی نے اسے دیکھا اور پوچھا تجھے کیا ہوا ہے لڑکی ؟ تو وہ منہ بسورتے ہوئے بولی میں اکیلی کیا کروں گی بھابھی کے بغیر ؟ حنا نے اٹھ کہ اسے گلے سے لگا لیا اوربولی میری بہن اداس ہوتی ہے تو میں جاتی ہی نہیں ۔ امی نے کسی کے بولنے سے پہلے کہا ارے بچہ تم ضرور جاو دو تین دن کی ہی تو بات ہے یہ بھی بس پاگل ہی ہے ۔ اس کے بعد سب گپ شپ لگاتے گئے اور پھر اگلے دن ہم اس کے گھر کی طرف تیار ہوئے اور میں تیار ہو کہ نیچے اترا تو سیڑھیوں کے پاس فروا کھڑی تھی مجھے دیکھتے ہی وہ کچھ کنفیوز سی لگی تو میں نے پوچھا کیا ہوا چڑیل ؟؟ وہ اپنی انگلیاں مروڑتے ہوئے سر جھکائے ہکلاتے ہوئے بولی ا آ آپ رات وہیں رکو گے یا لوٹ کہ آو گے؟ میں نے شرارتی لہجے میں کہا اگر دروازہ لاک نہ ہونے کی گارنٹی ہو تو لوٹ۔ کہ آوں گا۔ اس نے اسی طرح سر جھکائے ہوئے کہا لاک بھی نہیں ہو گا اور دروازہ کھلا بھی ہو گا ۔ یہ کہتے ہوئے وہ مڑی اور اندر بھاگ گئی اور میرا دل بلیوں اچھلنے لگا میں فروا کی بات سن کہ خوشی سے جھوم اٹھا اور مجھے بہت اچھا لگا کہ فروا نے مجھے واضح اشارہ دے دیا ہے ۔ تھوڑی دیر میں حنا بھی نیچے آئی اور سب سے مل کہ ہم گھر سے نکل پڑے۔ میں حنا کے امی ابو کے گھر پہنچا وہاں چائے پی کھانا کھایا اور ان سب کے روکنے کے باوجود بھی میں وہاں سے نکل آیا اور کوئی دس بجے کے قریب گھر پہنچا اور گھر میں داخل ہوا تو امی کچن سے نکل کہ آ رہی تھیں ۔ میں نے ان کو سلام کیا تو انہوں نے بھی جواب دیا اور مجھ سے ان سب کی خیر خیریت دریافت کی ۔ پھر انہوں نے مجھے کہا کہ جاو جا کہ آرام کرو میں بھی کمرے میں جا رہی ہوں ۔ میں نے فروا کے کمرے کی طرف دیکھا تو دروازہ بند تھا ۔ مجھے بند دروازہ دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی اور میں اوپر کی طرف بڑھ گیا میں چاہتے ہوئے بھی فروا کے بارے میں امی سے نہ پوچھ سکا کیونکہ دل میں چور تھا ورنہ اور بات تو کوئی نہ تھی۔ میں مایوس سا اوپر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا اور وہاں جا کہ کپڑے تبدیل کر کے بیڈ پہ بیٹھ گیا اور سوچنے لگا کہ کیا کروں نیچے جاؤں یا نہیں پھر خیال آیا امی ابھی کمرے میں گئی ہیں تو جاگ رہی ہوں گی آدھا گھنٹہ انتظار کر لیتا ہوں۔ میں بیڈ پہ بیٹھ گیا ابھی مجھے بیٹھے پانچ منٹ بھی نہیں ہوئے تھے کہ دروازہ کھلا اور مجھے سرخ چہرہ لیے فروا دروازے پہ نظر آئی اس کا چہرہ جزبات کی شدت سے سرخ تھا میں بھی اسے دیکھتے کھل اٹھا لیکن وہ دروازے سے اندر نا آئی تو میں بیڈ سے نیچے اتر کہ اس کی طرف بڑھا تو وہ ایک دم پیچھے ہٹی اور سرگوشی میں بولی ڈرٹو بھیا آو ایک سرپرائز دوں ۔ مجھے وہ یہ کہتی ہوئی کنفیوز سی لگی لیکن میں نے کہا او کے چلو کیا سرپرائز ہے اس نے شرارتی آنکھوں سے مجھے دیکھا اور بولی دیکھ کہ ہوش اڑ جائیں گے بس زرا شور نہ مچانا دبے پاؤں چلیں اور جلدی ۔ یہ کہتے ہوئے وہ دوسری طرف مڑ کہ چل دی میں نے بھی جلدی سے ہاتھ اس کی گانڈ کے درمیان رکھا اور پیچھے چلتا گیا اس نے بھی کوئی اعتراض نہ کیا اور سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی میں بھی اس کے پیچھے پیچھے سیڑھیاں اترتا گیا جیسے ہی ہم سیڑھیاں اتر کے نیچے پہنچے اس نے مڑ کہ میری طرف دیکھا اور ہونٹوں پہ انگلی رکھ کہ مجھے چپ رہنے کا اشارہ کیا اور آگے بڑھ گئی میں نے پھر ہاتھ اس کی موٹی گانڈ کی گلی میں رکھ دیا اور رکھ کہ اندر کی طرف دبا دیا اس نے مڑ کہ مجھے دیکھا مگر کچھ بولے بغیر آگے چلتی گئی میں بھی بنا کچھ سوچے اس کے پیچھے چلتا گیا چلتے چلتے وہ رکی تو میں نے اس سے نظر ہٹا کہ دیکھا تو وہ امی ابو کے کمرے کی کھڑکی کے آگے کھڑی تھی جہاں ہم کھڑے تھے وہاں ہلکا ہلکا اندھیرا تھا اور ہم ہیولوں کی طرح نظر آ رہے تھے کھڑکی کے آگے وہ رکی تو میں نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو اس نے کھڑکی کی طرف اشارہ کیا میں نے دیکھاکہ پردے کے درمیان سے کافی ساری جھری تھی اور اندر کمرے میں بلب روشن تھا لیکن سامنے جو نظارہ تھا مجھے خواب میں بھی اس کی توقع نہ تھی امی کی ٹانگیں ہوا میں تھیں اور ابو ان کی ٹانگوں کے درمیان اپنا لن ان کی پھدی میں گھسا کہ دھکے لگا رہے تھے اور ہم ابو کی پشت کی طرف تھے یعنی ہمیں ابو کی گانڈ کے نیچے سے امی کی گانڈ اور پھدی میں ان کا لن آتا جاتا سامنے نظر آ رہا تھا لیکن ان کے چہرے نظر نہیں آ رہے تھے ۔ ابو کا لن جو تقریبا پانچ انچ لمبا تھا امی کی پھدی میں مسلسل اندر باہر ہو رہا تھا اور نیچے ان کی گانڈ کا گئرا براون سوراخ کھل اور بند ہو رہا تھا لیکن ان کی آواز باہر نہیں آ رہی تھی میں تو اس نظارے میں کھو سا گیا اور مجھے احساس ہی نہ رہا کہ میری بہن میرے ساتھ کھڑی یہ سب دیکھ رہی ہے میرا لن یہ منظر دیکھتے ہی کھڑا ہو چکا تھاامی کا گورا سفید جسم مجھے سامنے جو حصے تھے نظر آ رہے تھے اور ان کے بازو ابو کی کمر پہ تھے اور ان کی ٹانگیں ہوا میں بلند تھیں یہ دیکھتے ہی میں نے اپنے لن کو پکڑ کہ مسلہ میرا چہرہ شدت جزبات سے سرخ ہو چکا تھا کہ مجھے اپنے ساتھ فروا لگتی ہوئی محسوس ہوئی اس کی نظریں بھی اندر کا منظر دیکھ رہی تھیں اور اس کا ہاتھ بھی اپنی رانوں کے درمیان تھا میں نے بائیں ہاتھ سے اپنا لن سہلایا اور دایاں ہاتھ فروا کی کمر سے نیچے اس کے کولہوں سے پکڑ کہ ساتھ لگا لیا اس کے ممے میرے سائیڈ سینے پہ لگے اور میری ساتھ جڑتی گئی میں نے لن کو سہلاتے ہوئے ہاتھ اس کے چوتڑوں میں پھیرتے ہوئے ایک انگلی سے اس کا سوراخ تلاش کرنا شروع کر دیا ۔ فروا نے میری طرف دیکھا اندھیرے کی وجہ سے مجھے اس کے تاثرات نظر تو نہ آئے وہ اپنا منہ میرے کان کے قریب کرتے ہوئے سرگوشی میں بولی ننی سی جان پہ اتنا ظلم نہ کرو ڈرٹو بھائی آپ کے لیے بہتر سوراخ وہ سامنے والا ہے آپ کا وہ ادھر جا سکتا ہے مجھ معصوم سے نہیں برداشت ہو گا اس کی سرگوشی میں بھی شرارت تھی ۔ میں نے بھی اس کے کان میں بات کرنے کے بہانے اس کے کان کی لو کو چوما تو وہ سسکتے ہوئے میرے سینے سے لگ گئی اور مجھے اپنی بانہوں میں کس کہ چہرہ میرے سینے پہ چھپاتے ہوئے بولی بدتمیز یہ نظارہ روز نہیں ملتا یہ دیکھنے دو پہلے ۔ میں سمجھ گیا کہ وہ پہلے بھی یہ دیکھتی رہی ہے لیکن میں کچھ نہ بولا اور اسی طرح اسے خود سے لپٹائے اندر دیکھنے لگا فروا کی گرم سانسیں مجھے چہرے اور گردن پہ محسوس ہو رہی تھیں اندر چودائی اپنے پورے زوروں پہ تھی لیکن کھڑکی بند ہونے کی وجہ سے ہم آواز سے محروم تھے ۔ امی کے گورے چوتڑوں کے درمیان ان کا سوراخ بہت حسین لگ رہا تھا ۔ ابو ان کے اوپری جسم پہ جھکے کچھ چوم رہے تھے جو ان کے نیچے ہونے کی وجہ سے ہمیں نظر نہیں آ رہا تھا امی نے ابو کی کمر کو سہلانا جاری رکھا ہوا تھا ابو لن کو پھدی سے کھینچ کہ باہر تک لاتے اور اگلا دھکا زور سے لگاتے جس سے ان کے ٹٹے زور سے پھدی اور گانڈ کے سوراخ کی درمیانی جگہ لگتے ۔ جب وہ لن کو زور سے اندر دھکیلتے تو گانڈ کا سوراخ بند ہو جاتا اور جب وہ لن کو پھدی سے باہر کھینچتے تو سوراخ نیچے کھل جاتا ۔ میں زندگ میں پہلی بار کسی کا لائیو سیکس دیکھ رہا تھا جس کی مجھے کوئی توقع تک نہ تھی ۔ فروا میرے سینے سے لگی تھی اس کے ممے میرے سینے پہ دبے ہوئے تھے اور میرے ہاتھ اس کے چوتڑوں پہ تھے میرا لن اس کی نرم نرم ہھدی سے اوپر اس کی ناف کی طرف کھڑا تھا اور ہم دونوں جزبات کی شدت میں ڈوبے ہوئے تھے ۔ اچانک ابو جھٹکے لگاتے لگاتے رکے اور انہوں نے اپنا لن پھدی سے باہر نکالا تو پھدی کے ہونٹ اور لن گیلے ہونے کی وجہ سے چمک رہے تھے امی کی ٹانگیں اسی طرح ہوا میں رکھتے ابو نے انہیں کچھ کہا اور لن کو پھر پھدی کی طرف بڑھایا ۔ امی نے ایک ہاتھ سے ابو کے لن کو پکڑا اور گانڈ کے سوراخ پہ ہلکا سا رگڑا ابو نے شائد ہاتھ پہ تھوک لگا کہ ان کی گانڈ پہ ڈھیر سارا تھوک لگایا اور لن کو سوراخ کی طرف بڑھایا تو امی نے لن کو پکڑ کہ سوراخ پہ فٹ کیا ان کے چہرے ہمیں نظر نہیں آ رہے تھے صرف پیچھے کھڑے ہونے کی وجہ سے نچلے جسم کی حرکات واضح تھیں ابو نے اپنا اکڑا ہوا لن جو کہ امی کی پھدی کے پانی سے گیلا چمک رہا تھا اسے موٹی گوری سفید گانڈ کے گہرے براون سوراخ پہ رکھا تو پورا سوراخ ان کی لن کی نوک کے نیچے دب گیا وہ امی کے اوپر سوار تھے اور امی کے گھٹنے ان کے پیٹ سے لگے تھے باہر فروا میرے سینے سے لگی تیز تیز سانسیں لے رہی تھی اور میرے ہاتھ اس کے موٹے چوتڑون کا طواف کر رہے تھے اور اس کے نرم نرم ممے میری چھاتی سے پیوست تھے میں نے ہاتھ اس کے شلوار کی سائیڈز میں لائے اور اسکی شلوار کھینچ کہ اس کے چوتڑوں سے نیچے کر دی اور اپنے اکڑے ہوئے لن کو باہر نکالتے ہوئے اس کی قمیض کا دامن اوپر کرتے ہوئے اس کی نرم نرم رانوں میں دھنسا دیا جو اس کی پھدی کے ہونٹوں سے رگڑ کھاتا ہوا اس کی ٹانگوں سے پیچھے گیا اور میں نے اس کے ننگے بھاری چوتڑ ہاتھوں میں پکڑنے کی کوشش کی فروا نے منہ پہ ہاتھ رکھ کہ اپنی سسسکی روکی اور مجھے چھاتی پہ ہلکا سا مکا مارا اور سرگوشی میں بولی گندے زرا دیکھنے دو نا اور خود بھی دیکھو ۔ میں نے اندر دیکھا تو لن کی نوک امی کی گانڈ کے سوراخ کو کھولتی ہوئی اندر گھس چکی تھی اور وہ امی کے اوپر جھکے شائد ان کے ممے چوم رہے تھے یا چہرہ کیونکہ وہ ان کے نیچے ہونے کی وجہ سے نظر نہیں آ رہا تھا لیکن حرکات سے یہی لگ رہا تھا کہ کچھ چوم رہے ہیں ۔ پھر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے وہ آہستہ آہستہ لن کو اندر دباتے گئے جیسے سرنج لگانے والے آہستہ سے سوئی گھساتے ہیں اور ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے پورا لن امی کی گانڈ میں غائب ہو گیا ۔ میں فروا کی رانوں میں لن دبائے اس کے چوتڑ پکڑے ہلکے ہلکے دھکے لگا رہا تھا اور لن اس کی پھدی سے رگڑ کھاتا ہوا اس کی ٹانگوں میں آگے پیچھے ہو رہا تھا اور ہم دونوں اندر کے نظارے کو دیکھ رہے تھے ۔ پورا لن امی کی گانڈ میں غائب ہوتے دیکھ کہ فروا نے سسکی بھری اور بولی اففففف برمودا ٹرائی اینگل میں جہاز کئی ننے منے بچوں سمیت غرق ہو گیا۔ جدھر ہم کھڑے تھے وہاں اندھیرا تھا مگر مجھے اس کی سرگوشی میں شرارت واضح محسوس ہوئی ۔ میں بھی مسکراہٹ کو دباتے ہوئے بولا برمودا ٹرائی اینگل کے بجائے کے ٹو کی پہاڑیاں سمجھ لو جن کے درمیان اندھی گئری کھائی ہے کہ جو اا کھائی میں گرا تو لاپتہ ہی ہو گیا وہ بھی دبی دبی آواز میں ہنس پڑی ۔ کمرے کے اندر لن اب پوری رفتار سے اندر باہر ہو رہا تھا اور ابو لن کو کھینچ کہ باہر لاتے اور نوک باہر نکلنے سے پہلے ہی پھر زوردار دھکے سے لن کو اندر دھکیل دیتے امی نے دونوں ہاتھوں سے اپنے بھاری چوتڑ تھام رکھے تھے اور ہر جھٹکے پہ وہ ان کو گانڈ اٹھا کہ رسپانس دے رہی تھیں میں نے بھی دائیں ہاتھ سے فروا کی گانڈ کی گلی کو ٹٹولا اور اس کے سوراخ کو سہلانے لگ گیا ۔ وہ انتہائی شوق سے اندر کھ مناظر دیکھتے ہوئے ہلکا ہلکا سسک رہی تھی ۔ اندر کے مناظر دیکھتے ہوئے وہ پھر بولی اے عظیم ماں تیری عظمت کو سلام اس گندے بھائی کی انگلی نے مجھے دو دن جلن کیے رکھی اور اپ ان کی تین انگلیوں جتنا سوئی سمجھ کہ لے رہی ہو ۔ اسکی اس بات پہ مجھے بہت ہنسی آئی اور میں نے اپنک منہ اس کی گردن پہ دبا کہ اپنی ہنسی کو کنٹرول کیا تو اس نے ایک بار پھر سسکتے ہوئے کہا او بہن چود دیکھنے دو نا یہ سب دیکھوں گی تو سیکھوں گی نا اور پوری رات پڑی ہے ابھی پہلے یہ دیکھ لو میں کونسا بھاگ رہی ہوں ۔ میں نے مسکراتے ہوئے منہ پیچھے کیا اور اندر کا نظارہ دیکھنے لگا جہاں اب لگتا تھا ابو ایک منٹ مشکل سے نکال پائیں گے کیونکہ ان کے جھٹکے شدت اختیار کرتے جا رہے تھے فروا نے اسی طرح میرے سینے سے لگے پوچھا اوئے ڈرٹو بھابھی کو ایسے ہی کرتے ہو کیا؟ میں نے ایک لمبی سانس بھری اور کہا نہیں فرحی میرا ایسا نصیب کدھر کہ اس طرح کر سکوں اور دوسرا اس کی گانڈ تو بس ہڈیاں ہی ہیں اتنی پیاری کدھر؟ ویسے امی کا جسم شاندار ہے نا فروا نے اندر دیکھتے ہوئے پھر سرگوشی کی۔ میں نے اسی طرح اس کی گانڈ کو ٹٹولتے ہوئے کہا فرحی جتنا بھی شاندار ہو تمہاری اس کے برابر کچھ بھی نہیں ہے تم سب سے خوبصورت ہو تمہارے جسم کا ایک ایک حصہ کمال ہے ۔ فروا میرے ساتھ اور چپک گئی اور اندر دیکھنے لگی میں بھی اس کے جسم کو سہلاتا اندر دیکھتا گیا جہاں ابو نے طوفانی دھکے لگائے اور پھر لن کو زوردار طریقے سے امی کی گانڈ میں گھسیڑتے ہوئے ان کا جسم جھٹکے کھانے لگا نیچے امی کا جسم بھی کمان کی طرح اوپر اٹھ چکا تھا اور ان کی شاندار چدائی آخری لمحات پہ تھی ابو کے جسم نے دو تین جھٹکے لیے اور انہوں نے اپنا آپ امی پہ ڈھیلا چھوڑ دیا نیچے امی بھی ڈھیلی پڑتی گئیں لو جی طیارہ منزل پہ پہنچ گیا آخر فروا نے ایک بار پھر تبصرہ کیا میرا لن اس کی پھدی کے نیچے تھا جس پہ اب واضح اس کی پھدی سے نمی رستی محسوس ہو رہی تھی مجھے بھی لگا کہ کہ اب ابو اٹھ کہ باہر ہی نہ آئیں تو میں نے فروا سے کہااب چلیں ان میں سے کوئی باہر نہ آئے تو وہ دبی دبی ہنسی کے درمیان بولی اب تھوڑی دیر یہ ہل بھی نہیں سکیں گے آپ فکر نہ کرو ۔ اس کی بات ابھی منہ میں ہی تھی کہ ابو نے اپنا لن امی کی گانڈ سے باہر کھینچا تو امی کی گانڈ کا o شیپ کا کھلا سوراخ سامنے نظر آیا تو میرے ساتھ فروا کے جسم کو بھی جھٹکا لگا اور بولی افففف یہاں تو پوری غار بنی ہوئی ہے تو ۔ میں بھی اتنے کھلے سوراخ کی توقع نہیں کر رہا تھا لن نے واقعی سوراخ کو کھول کہ رکھ دیا تھا ابو جیسے ہی لن کھینچ کہ اوپر سے نیچے اترے تو امی نے بھی ٹانگیں سیدھی کیں اور ایک دم الٹی ہوتی گئیں ابو ان کے اوپر سے نیچے اترے اور ان کی گانڈ کو ہلکا سا تھتپھا کہ سائیڈ پہ لیٹے اور اپنی ایک ٹانگ ان کی گانڈ سے زرا نیچے رکھتے ہوئے ان سے چپک گئے ۔ امی نے بھی اوپر سے منہ ان کے منہ سے جوڑا اور ہونٹ چوس کہ آنکھیں بند کر لیں ۔ میں اس منظر میں کھویا ہوا تھا کہ فروا پھر بولی لو جی دونوں کو شانتی مل گئی اور تن من دھن لن سب سکون میں کھو گئے اور میرے سینے سے لگی مسکرا گئی ۔ میں نے کہا چل گڑیا اب اوپر چلتے ہیں اور اسے چھوڑ دیا وہ مجھ سے پیچھے ہٹی اور سر ہلا دیا اور میرے ساتھ چلنے لگی لیکن مجھے یہ دیکھ کہ عجیب لگا کہ اس نے شلوار اوپر نہیں کی۔ میں نے ہاتھ بڑھا کہ اس کی ننگی گانڈ کے درمیان رکھ دیا اور وہ میرے ساتھ چپکی چلتی گئی ۔ اسی طرح جب ہم سیڑھیاں چڑھنے لگے تو اس کی گانڈ تھوڑی سی کھل گئی اور میرا ہاتھ اس کی پھدی کے ارد گرد لگا اور مجھے جگہ گیلی محسوس ہوئی اور میرے اندر ایک کمینی خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ فروا کو بھی یہ سب اچھا لگ رہا ہے ہم کمرے میں داخل ہوئے تو فروا ایک دم میرے سینے سے لگ گئی اور تھوڑی سنجیدہ انداز میں بولی بھیا میں آ گئی ہوں لیکن اب میرا کنوارہ پن آپ کے ہاتھ ہے تو پلیز اس کا خیال رکھنا باقی میں آپ کو نہیں روکتی لیکن پلیز کل مجھے کسی اور کی ہونا ہے آپ کی حسرت ہے بڑی گانڈ دیکھنا تو میں اس لیے آ گئی ہوں اپنی حسرت پوری کر لیں ۔ میں نے اسے بازوں میں بھینچ کر اس کے ماتھے پہ پیار کیا اور کہا تم فکر نہ کرو جانی تمہیں مجھ سے کوئی نقصان نہیں ہو گا ۔میں جانتی ہوں یہ تو تبھی آپ کے پاس آئی ہوں فروا نے مجھے یہ کہا تو میں نے اس کے ہونٹوں کو ہونٹوں میں بھر لیا اور پہلی بار اس نے جوابا میرے ہونٹ چوسنا شروع کر دئیے میں نے اس کے اوپری ہونٹ کو چوستے ہوئے اپنے ہاتھ اس کے مموں پہ رکھے تو اس نے ایک دم میرے ہاتھ پکڑ لیے اور ہونٹوں سے ہونٹ چھڑاتے ہوئے بولی بھیا پلیز ان کو نہ دبائیں میں نے سنا ہے مرد کا ہاتھ لگنے سے ان کی شیپ خراب ہو جاتی ہے اس کی آنکھیں سرخ ہو چکی تھیں اور ان میں نشہ تھا میں نے کہا ٹھیک ہے گڑیا مگر ننگی تو ہو جاو پلیز ۔ اس نے میری بات مانتے ہوئے بازو اوپر اٹھا دئیے اور میں نے اس کی قمیض پکڑ کر بازو سے باہر نکال دی اور پھر اس کی اتری ہوئی شلوار کیف ہاتھ بڑھایا تو اس نے ایک ہاتھ میرے کندھے پہ رکھتے ہوئے شلوار اتار دی ۔ کمرے میں لایٹ جل رہی تھی اور فروا کا ننگا جسم دھمک رہا تھا میں نے اس کو دل سے لگایا اور اس کی برا کے ہک کھول دیے اور اپنے جسم سے کپڑے نکال کہ پھینک دئیے اب ہم بہن بھائی بالکل برہنہ ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے فروا کا سینہ تیز سانس لینے کی وجہ سے اوپر نیچے ہو رہا تھا لیکن وہ میری آنکھوں میں دیکھ رہی تھی پھر اس نے بازو اٹھائے اور اپنے بالوں کو سیٹ کرنے لگی جس سے اس کے ممے ابھر کہ سامنے ہوئے تو بھوکوں کی طرح اس پہ ٹوٹ پڑا اور اسے بازو میں بھر کہ بے تحاشہ چومنے لگا فروا بھی شرمیلی ہنسی ہنستے ہوئے مجھ سے چمٹ گئی اور میری کمر کو سہلانے لگی ۔ میں نے دونوں بازو اس کے چوتڑوں کے نیچے سے گزارے اور اسے اٹھا لیا اور بیڈ کی طرف چل پڑا جیسے ہی میں نے اسے اٹھایا تو وہ ہنستے ہوئے بولی بھیا دیکھنا کل ڈولی بھی اٹھاو گے اس کے لیے بھی کچھ چھوڑنا ۔ میں نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا اور اسے بیڈ پہ آرام سے لٹاتے ہوئے اس کے اوپر سوار ہو گیا
انوکھا حادثہ
قسط 13
جیسے ہی میں اس کے ننگے جسم پہ سوار ہوا تو فروا نے مسکراتے ہوئے کہا ننی سی جان پہ ظلم نہ کرنا بھیا سارا کچھ آپ کو سونپ چکی میرا اعتماد میری وہ نہ کھول دینا ۔ میں نے ہستے ہوئے اس کے ہونٹ اپنے ہونٹوں میں بھر لیے اور دونوں ہاتھوں میں اس کے نرم گال تھام لیے ۔ اس نے بھی میرے ہونٹ چوسنا شروع کر دئیے اور مزے کی ایک لہر میرے وجود میں دوڑتی گئی میں اس کے اوپری ہونٹ کو چوستا اور وہ میرے نچلے ہونٹ کو ہونٹوں میں بھر لیتی میں نچلے ہونٹ پہ آتا تو وہ اوپری ہونٹ کو ہونٹوں میں پکڑ لیتی۔ مزے اور سرور سے بے خود ہوتے ہوئے میں نے اپنا لن اس کی نرم رانوں میں اس کی پھدی کو رگڑتے ہوئے دبایا اور اس کے ہونٹ چوستا گیا پھر میں نے اس کے ایک گال کو چوما اور پھر دوسرے گال کو چوما پھر اس کی آنکھوں کو باری باری چوما اور اور گالوں سے ہوتے ہوئے گردن پہ پیار کیا ۔ اس کے مموں کو ہلکا سا پیار کرتے ہوئے میں نے اپنے لونٹ اس کے مموں کے درمیان لگاتے ہوئے نیچے گھسیٹے تو اوئی امیییییییی کرتے ہوئے فروا سسکنے لگ گئی اور اس کی سانسیں بہت ہی تیز چلنے لگیں میں مسلسل پیار کرتے اوپر سے نیچے کا سفر کرنے لگا اور ہونٹ اس کی پھدی پہ رکھ کہ اس کی پھدی کے ہونٹوں کو چوم لیا جس سے فروا کا سارا جسم زور سے کانپا اور اس نے کہا بھائی ایک بات تو بتائیں اس کی آواز میں لڑکھڑاہٹ تھی اگر ہماری گلی میں ٹرک گھسے تو کیا ہو گا؟ اس بے موقع سوال کی مجھے کوئی سمجھ تو نہ آئی مگر میں نے کہا کہ ظاہر ہے بہت ٹوٹ پھوٹ ہو جائے گی ٹرک کی بھی اور گلی کے کونے کے مکان کی دیواریں بھی ۔ ساتھ ساتھ میں اس کی رانوں کو چوم رہا تھا میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں نیم بند تھی اور اس نے نچلا ہونٹ اوپر والے ہونٹ سے دبایا ہوا تھا۔ تو بھیا جب آپ اپنا وہ مجھ میں ڈالو گے تو بھی ٹوٹ پھوٹ بہت ہو گی نا مجھے ڈر لگتا ہے اس نے سسکتے ہوئے کہا۔ میں اس کی بات سمجھ گیا اور کہا ڈرو نہیں سب بہتر ہو جائے گا بس مزہ لو اس ساری صورتحال کا ۔ اس نے پھر کہا اس دن بھی مزہ ہی لیا تھا پھر دو دن گانڈ میں جلن ہوتی رہی آپ نے بھی انگلی ہی چڑھا دی تھی۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا ابھی دیکھ کہ آئی ہو تھوڑی سی برداشت سے کتنی بڑی بڑی چیزین لیجا سکتی ہیں اس نے ہنستے ہوئے میرے سر پہ ہلکا سا تھپڑ مارا اور بولی مجھے ان سے کدھر ملا رہے ہو ہماری عمر سے زیادہ تو انہیں یہ کام کرتے وقت گزر گیا ہے ۔ میں نے کہا فکر نہ کرو میں تمہیں بھی عادی کر دوں گا پھر جلن نہیں ہو گی ۔ اس نے زیر لب کہا بدتمیز نہ ہو تو۔ میں پھر اسے چومنے لگ گیا اور وہ میرے نیچے سسکتی گئی۔ تھوڑی دیر ایسے چوستے چومتے ہی گزری تھی کہ وہ پھر بولی بھیا اب جان بچنی تو مشکل ہے بس یہ خیال کرنا درد کم سے کم ہو ۔ میں اس کے اوپر ہوا اور اس کی آنکھوں میں دیکھا اور کہا کہ فکر نہ کرو بہنا میں تم میں کچھ نہیں گھساتا بس ہم یوں ہی پیار کریں گے ۔ اس کے چہرے پہ بے یقینی کے تاثرات ابھرے اور بولی کیا سچ کہہ رہے ہو؟ میں نے کہا ہاں بے فکر رہو تمہاری مرضی کے بغیر کچھ نہیں ہو گا اور اسے الٹا ہونے کا اشارہ کیا اور فروا ایک دم الٹی ہو گئی میں اس کے اوپر چڑھتے ہوئے اس کی گردن پہ اور کندھوں کے درمیان پیار کرتے ہوئے ہاتھوں سے اس کے کندھے سہلاتا گیا اور وہ نیچے سسکتی مچلتی گئی ۔ میرا دل کر رہا تھا میں بہن کو اس کے گورے کنوارے بدن کو چومتا ہی جاوں اور پھر میں چومتا ہی گیا اسے چومتے چومتے مجھے شائد دس منٹ ہو گئے تھے میں اس کی کمر اس کے چوتڑوں کو چومتے ہوئے اس کی پنڈلیوں تک جاتا اور پھر پاوں کے تلوے چومتے ہوئے اوپر رانوں کی طرف جاتا پھر اس کی گانڈ کی سائیڈ پہ چومتے ہوئے سوراخ پہ زبان پھیرتے اس کی پھدی کو چوستا اور اوپر کمر کی طرف بڑھ جاتا ۔ اس دس منٹ کی کوشش میں فروا ایک بار فارغ ہو کہ پھر سسکیاں بھر رہی تھی اور ہماری صرف سانسیں کمرے میں گونج رہی تھی۔ فروا نے سسکتے ہوئے پھر پوچھا بھائی کتنی دیر اور کرو گے؟ میں نے بھی اسے چومتے ہوئے کہا پوری رات صرف چومنا ہے بس ۔ اس نے کراہتے ہوئے کہا بھیا ننی سی جان پہ اتنا ظلم مت کرو مجھ سے نہیں برداشت ہوتا اس کے ساتھ اس نے سیدھا ہونے کی کوشش کی تو میں اس کے اوپر سے اتر کر اسے سیدھا کیا فروا نے سیدھی ہوتے ہی اپنے ٹانگیں اٹھا لیں اور ایک ہاتھ اپنی پھدی پہ رکھ دیا ۔ میں سمجھ گیا کہ فروا بہت گرم ہو چکی ہے میں نے اس کا ہاتھ نرمی سے ہٹایا اور اس کی پھدی کو چوم لیا فروا نے ایک جھٹکا کھایا اور اپنے ہاتھ میرے سر کے بالوں میں پھیرتی ہوئی اونچی آواز میں بولی افف بھائی نہیییییی نہیییی اور اس کا جسم نیچے سے اوپر اٹھتا گیا اور اس نے میرا سر اپنی نرم رانوں میں دبا لیا میری بہن ایک بار ہھر منزل پہ پہنچ چکی تھی فروا کے فارغ ہوتے ہی میں اس کے اوپر سے اترا اور اسی طرح ننگا باتھ میں گیا وہاں جا کہ منہ دھویا اور کلی کی اور پھر منہ خشک کر کے کمرے میں آیا میرا لن اسی طرح کھڑا تھا ۔ فروا بیڈ پہ ننگی لیٹی ہوئی تھی مجھے دیکھتے ہی بولی بھائی یہ کھمبا کیسے بیٹھے گا؟ میں نے مسکراتے ہوئے کہا ابھی دیکھا نہیں کتنی محنت ہوتی ہے کھمبا گرانے میں ۔ تو فروا منہ پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بولی اففف یہ تو میرے بس سے بہت باہر کی بات ہے میں تو ایسا نہیں کر سکوں گی ۔ میں اس کے پاس چڑھ کہ بیڈ پہ بیٹھ گیا اور اس کے مموں سے نیچے اس کے پیٹ پہ ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔ فروا پھر ہچکچاتے ہوئے بولی بھائی کوئی اور آسان طریقہ نہیں ہے اندر گھسائے بغیر؟ میں نے کہا فرحی طریقے تو بہت ہیں مگر وہ میں تم پہ ایپلائی نہیں کرنا چاہتا ۔ میں بس ایک ہی طریقہ کرنا چاہتا جو اب ابو نے آخر پہ کیا ۔ اس نے منہ پہ ہاتھ رکھا بھائی ایک انگلی نے مجھے اتنی جلن کی تھی یہ تو بہت موٹا ہے ۔ میں نے کہا چلو پہلے انگلی ٹرائی کرتے ہیں اگر درد ہوا تو پھر اور کچھ نہیں کروں گا صرف اوپر رگڑوں گا۔ فروا نے سر ہلایا اور الٹی ہوتی گئی میں اٹھا اور ڈریسنگ ٹیبل سے زیتون کا تیل اٹھایا اور اس کی طرف مڑا تو وہ سوالیہ نظروں سے پوچھنے لگی اسے کدھر لگاو گے؟ میں نے کہا تمہاری اس موٹی تازی گانڈ کے سوراخ پہ ۔ تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئی اور بولی باہر جو تخت پوش پڑا ہے اس کی چادر اٹھا لائیں یہ چادر گندی ہو گئی تو بیگم کو کیا جواب دو گے۔ مین اس کی حاضر دماغی پہ حیران رہ گیا اور مڑ کہ باہر نکلا اور تخت پوش سے چادر اٹھا کہ لائی ۔ فروا بھی بیڈ سے نیچے اتری اور میرے ساتھ مل کہ چادر بچھانے لگی جب وہ چادر بچھانے کے لیے جھکی تو میں اسکے پیچھے بیٹھ گیا اور دونوں ہاتھوں سے اس کی گانڈ کو کھول لیا بدتمیز بے شرم وہ بھی ہنستے ہوئے آگے جھک گئی اور بولی بس اسے نہ چھوڑنا آپ ۔ میرے ساتھ لگی اور چیزین بھی تو ہیں ۔ میں نے بھی ہنستے ہوئے کہا ہاں اور بھی ہیں مگر اس کا مول کوئی نہیں اور ساتھ اس کی گانڈ کو چومنے لگا وہ آگے بیڈ پہ ہوئی اور الٹی لیٹ گئی ۔ میں نے بھی زیتون کا تیل ہاتھ پہ گرایا اور اس کے چوتڑوں پہ ملنے لگا۔ اس کے چوتڑ میرے ہاتھ لگانے سے ہل رہے تھے میں نے پھر اس کے گانڈ کے ایک حصے کو پکڑ کہ کھولا اور اسے کہا کہ دوسرے حصے کو تم کھولو ۔ اس نے بنا کچھ کہے ہاتھ نیچے کیا اور دوسرا حصہ مخالف سمت کھینچ کر کھولا۔ اس کے اس طرح کرنے سے اس کی گلی کا کریک واضح ہوا اور ننا منا گلابی سوراخ بھی سامنے جھانکنے لگا میں نے تیل اس کی گلی کے اوپر کر کہ گرایا تو تیل کی دھار سوراخ کے ارد گرد لگی اور پھر ایڈجسٹ ہوتے سوراخ کے اوپر تیل گرنے لگا۔ فروا نے ہلکی سی اون اوں کی مگر وہ نہ ہلی۔ میں نے پھر تیل کی بوتل چھوڑی اور دونوں ہاتھوں سے اس کی گانڈ کو مسلنے لگا وہ نیچے لیٹی سسک رہی تھی میں نے ہاتھ اس کی گانڈ پہ پھیرتے پھیرتے اس کی گلی میں گھسایا اور ایک انگلی سے سوراخ پہ تیل ملنے لگا تیل نے اس کے سوراخ کو بہت نرم کر دیا تھامیں نے پھر انگلی کو تیل کہ بوتل میں ڈالا اور تیل سے لتھڑی ہوئی انگلی اس کی گانڈ کے سوراخ پہ رکھ کہ دبائی تو انگلی آرام سے اس کی گانڈ میں اتر گئی میں نے انگلی باہر نکالی انگلی کے ساتھ تیل لگایا اور پھر سوراخ میں گھسا دی اور کوئی دس بار اسی طرح کیا دسویں بار مجھے جب انگلی آرام سے جاتی لگی تو میں نے دو انگلیاں گھسانے کی کوشش کی تو فروا سسک اٹھی اور گانڈ کو ٹائیٹ کر لیا فروا کے دو انگلیاں گانڈ میں جانے سے سسکتے ہی میں نے انگلیاں فورا سے پہلے باہر کھینچ لیں فروا اسی طرح الٹی لیٹی ہوئی تھی اس نے تھوڑا سا منہ اوپر کیا اور کراہتے ہوئے بولی بھیا مانتی ہوں کہ ابھی جو ہم دیکھ کہ آئے وہ کوئی میجک ٹرک نہیں تھی امی نے کسی جادو کے زور سے اسے غائب نہیں کیا تھا مگر ان کی ہمت میں اور میری میں فرق اتنا کہ وہاں ہزارویں بار ہوئی ہو گی ادھر پہلی بار ہے نا پلیز ۔ میں اس کے اوپر ہوا اور اس کا گال چوم کہ کہا سوری فرحی میرے جزبات بہک گئے تھے سوری ۔ ارے پاگل مزاق کر رہی آپ سے، کریں لیکن تھوڑی سی احتیاط۔ میں سمجھ رہی آپ تنگ ہو رہے لیکن مجھے بھی بہت درد ہو گیا تھا لیکن آپ کرو پلیز ۔ فروا نے یہ کہا اور اپنے آگے پڑھا ہوا سرھانہ اپنے پیٹ کے نیچے رکھا اور دونوں ہاتھوں سے اپنے کولہے پکڑ کہ مخالف سمت کھینچ لیے اور منہ آگے کر لیا ۔ میں نے پھر تھوڑا سا تیل ہتھیلی پہ گراتے ہوئے اس کی گانڈ کے سوراخ پہ لگایا اور دو انگلیاں گھسا دیں لیکن انگلیاں گھسانے کی رفتار بہت کم رکھی فروا اس بار بھی سسکی لیکن اس نے گانڈ ٹائیٹ نہ کی ۔ میں نے انگلیاں نکالی اور تیل سے لتھڑ کہ پھر انہیں سوراخ میں دھکیلا اور کوئی دس بارہ بار مسلسل کیا جس سے میری انگلیاں پہلے کی نسبت اب روانی سے سوراخ میں اترنے لگیں شدت جزبات سے میرا چہرہ جلنے لگا فروا بھی نیچے مسلسل کراہ رہی تھی۔ پھر میں نے تیل کو اپنے لن پہ اچھی طرح لگایا اور لن کو تیل سے تر کرتے ہوئے فروا کی گانڈ پہ بھی اور تیل گرا دیا اس کی گانڈ بھی تیل سے لتھڑی ہوئی تھی اور اس حالت میں جب میں نے لن کو اس کی گانڈ پہ رکھا تو جو مزہ ملا وہ ناقابل بیان تھا ۔ میں نے لن کو گانڈ کی گلی میں رکھا اور اس کے اوپر لیٹتا گیا اور فروا کی گردن کو چومتے ہوئے بولا فرحی اب اندر کرنے کی کوشش کروں ؟ فروا نے سر کو ہاں میں ہلاتے ہوئے اپنا چہرہ چھپا لیا میں تھوڑا اوپر ہوا اور لن کو اس کے چھوٹے سے سوراخ پہ رکھ کہ ہلکا سا زور لگایا تو تیل سے لتھڑے گلابی رنگ کے سوراخ نے لن کو اپنے اندر آنے کا رستہ دے دیا مجھے یوں لگا کہ لن کے گرد کسی نے مکھن رکھ کہ دبا دیا ہے فروا کے منہ سے بے اختیار ایک ہلکی سی چیخ نکلی اور وہ درد سے کراہتے ہوئے بولی بھیا پلیز رک جاو۔ میں وہیں رک گیا اور اس کی گردن چومتے بولا بہت درد ہے تو باہر نکال لوں گڑیا؟ اس نے سر نفی میں ہلایا اور کہا نہیں بس ایک منٹ رکو میں برداشت کر لوں گی اب امی کی اتنی بے عزتی تو نہیں کرا سکتی کہ آپ کہو امی کی کیسی بیٹی ہے زرا ان پہ نہیں گئی اس کے چہرے پہ ہلکا درد کا احساس بھی تھا اور مسکراہٹ بھی۔ میں اس کے گالوں کو چومنے لگا اور نیچے سے ہاتھ گزار کہ اس کے ممے پکڑ کہ ہلکے ہلکے سہلانے لگا ۔ تھوڑی دیر میں جب دیکھا کہ فروا تھوڑا ریلیکس ہو چکی تو میں نے لن کو اندر گھسانا شروع کر دیا نرم نرم سوراخ کو لن کھولتا ہوا اندر ہونے لگا اور میرے دیکھتے دیکھتے فروا کا چہرہ سرخ ہوا اور پسینے کے قطرے اس پہ چمکنے لگے۔ فرحی بس یا اور؟ میں نے ہانپتے ہوئے کہا۔ پورا جانے دو جتنا بھی ہے فروا نے دانت بھینچ کر کہا اور میں اسی طرح پورا لن اندر گھساتا گیا
انوکھا حادثہ
قسط 14
میرا پورا لن فروا کی گانڈ میں اتر چکا تھا اور میں فروا کے اوپر اس کے جسم کی نرمی اور لمس محسوس کر رہا تھا اور نیچے فروا سسک رہی تھی سسکتے سسکتے اس نے میری طرف منہ کر کہ دیکھا تو اس کی آنکھوں سے نکلے آنسو اس کا چہرہ بھگو چکے تھے ۔ میں نے ہونٹ آگے کیے اور اس کے گال پہ آئے آنسو چوم لیے اور بے ساختہ اس کے بال سہلانے لگ گیا لن جڑ تک اس کی نرم گانڈ میں دھنس چکا تھا فروا نے مجھے دیکھا تو مسکرا دی اور جیسے اس کے چہرے پہ شفق پھیل گئی ۔ بھیا آپ کی گڑیا جوان ہو گئی آج۔ اس نے روتے چہرے کے ساتھ مسکراتے ہوئے کہا۔ میں نے پھر آگے ہو کہ اس کے گال کو چوم لیا میں لن کو اس کی گانڈ میں کوئی حرکت نہ دے رہا تھا اور اس کے اوپر لیٹا ہوا تھا ۔ فروا نے کہا بھیا دو منٹ ایسے ہی رکو زرا باتیں کرتے ہیں ۔ میں نے کہا بولو نا گڑیا تمہیں کس نے روکا ہے ؟ بھیا جو ہونا تھا ہو گیا لیکن بس یہ دیکھنا کسی کو اندازہ نہ ہو جائے ہمیں یہ احتیاط کرنا ہو گی فروا نے اسی طرح لیٹے ہوئے کہا۔ ہاں درست کہتی ہو ہم احتیاط کریں گے میں نے اس کیگردن اور کان کی لو چوستے ہوئے کہا جیسے ہی میں نے اس کے کان کو چوما اس نے سسک کہ گانڈ اوپر اٹھائی اور میری تو جیسے عید ہو گئی میں نے اس کے کان کو چوسنا شروع کر دیا اور نیچے سے فروا نے اپنا گانڈ اوپر اٹھانا شروع کر دی۔ میں تو مزے سے بے حال ہو گیا اور اپنا وزن گھٹنوں پہ منتقل کرتے ہوئے لن کو اندر باہر کرنے لگ گیا تیل سے لتھڑا ہونے کی وجہ سے لن مسلسل اندر باہر ہونے لگا لیکن بہت ہی جلد مجھے محسوس ہو گیا کہ میں فارغ ہونے والا ہوں میں نے فروا کو دیکھا تو وہ بھی فل جوبن پہ سسک رہی تھی اور درد کو برداشت کرتے ہوئے لن کو اپنے اندر سمونے کی کوشش کر رہی تھی اگلے دو منٹ میں ہی ہماری بس ہو گئی جیسے ہی میرے لن نے اس کی گانڈ میں پچکاری ماری تو ایک غراہٹ کے ساتھ اس نے اپنی گانڈ کو اوپر اٹھایا اور پھر تکیے پہ گر کہ ہانپنے لگ گئی میں بھی اس کی نرم گانڈ کے اندر فارغ ہوتے بہن بھائی کی محبت کو امر کرتا گیا ۔ محبت اپنی تکمیل کو پہنچ چکی تھی محبت جو بلندی کا سفر ہے بہن کے نرم مموں کی اٹھان اور گانڈ کی پہاڑیوں تک کا سفر اور بہن کی نظر سے بھائی کی ہوس کو محبت کو اپنے جسم کو تاڑتے ایک سکون کا ملنا کہ مجھ میں کچھ تو ہے کہ بھیا بھی دیوانے ہوئے پھرتے ۔ احساس ایک الگ چیز ہے جہاں پیدا ہو جائے وہاں سوچ بدل جاتی ہے نئے راستے نکل آتے ہیں لیکن ڈر سے آگے جیت ہے ہمت کے آگے سب ممکن ہے حوصلہ ہو تو نقلی ٹانگوں پہ لوگ ماونٹ ایورسٹ سر کر لیتے اور اصلی پاوں پہ چلنے والے بے حوصلہ دامن کوہ تک نہیں پہنچ سکتے ۔ محبت کا سفر تو جاری رہتا ہے کبھی اونچائی کبھی کھائی کبھی میدان تو کبھی صحرا در صحرا ۔ فارغ ہونے کے کچھ دیر تک میں اپنا لن فروا کی گانڈ میں گھسائے اس کے اوپر لیٹا اسے چومتا رہا پھر آہستہ سے اس کے اوپر سے لن کو کھینچتے ہوئے اوپر ہوا اور پہلی بار مجھے یہ دیکھ کہ حیرت ہوئی کہ میرا لن فارغ ہونے باوجود نیم اکڑا ہوا تھا میرا لن اس کے گانڈ سے باہر نکلنے پہ بالکل آمادہ نہ تھا اور یہی حالت شائد گانڈ کی بھی تھی سوارخ نے میرے لن کو اپنے اندر بھینچا ہوا تھا اور میں لن کو دھیرے دھیرے باہر کھینچ رہا تھا اور میرا لن باہر کھینچنے کے ساتھ سوراخ کی دیواریں لن سے چمٹے جا رہی تھیں میں نے اوپر ہوتے ہوئے لن اور گانڈ کے درمیان جدائی کا سفر دیکھا اور بالاخر لن کی ٹوپی گلابی گانڈ کے گلابی سوراخ سے باہر نکلی تو پچک کی آواز کے ساتھ کھلا سوراخ بند ہوا اور ( ۔ ) شکل سے 0 میں فوری طور پہ منتقل ہوا مگر لن کے باہر نکلتے ہی سوراخ کے واپس چھوٹا ہونے کا نظارا بہت پرکشش اور دلفریب تھا۔ فروا کے چہرے پہ ایک مسکراہٹ تھی ایک پرسکون مسکراہٹ اور اس کی آنکھیں بند تھیں۔ میں اس کے اوپر سے اترا اور اس کے چہرے پہ آئے بالوں کو ہٹایا اور اس کے گال کو چوم لیا فروا نے اپنا چہرہ اوپر کیا اور اپنے ہونٹ نیم وا کر دئیے اور میں نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں میں گھسا دئیے اور اس کے ہونٹ چوسنے لگا اور وہ بھی میرے ہونٹ چوستی گئی۔ تھوڑی دیر نرم ہونٹوں کا رس کشید کرنے کے بعد میں پیچھے ہوا اور سوالیہ نظروں سے فروا کی طرف دیکھا۔ اس سے پہلے میں کچھ پوچھتا تو وہ خود ہی چہرے پہ مسکراہٹ لائے بولی دو سال سے شو لائیو دیکھ رہی ہوں اور کوئی بھی مس نہیں کیا اور ہنسنے لگ گئی اور بولی یہی پوچھنا چاہ رہے تھے نا؟ مجھے خوشگوار حیرت ہوئی کہ میرے سوال میری زبان تک پہنچنے سے پہلے اس کو کیسے پتہ چل جاتے ہیں ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ فروا پھر بولی جن سے محبت کی جاتی ہے نا ان کی سوچ بھی پتہ چل جاتی ہے اس لیے حیران نا ہوا کریں جزبے کی سچائی دیکھیں اور یقین نہیں آتا تو میری گانڈ دیکھ لیں ابھی بھی ہل نہیں سکتی اور ہنسنے لگ گئی۔ فروا کی یہ باتیں لاجواب کرنے والی تھیں جن کا کبھی مجھے کوئی جواب نہ ملتا اور میں بے ساختہ اسے اپنے سینے سے لگا لیتا ۔ میں فروا کے ساتھ ہوا اور اسے پیار کرنے لگا تو وہ بولی ایک بار پھر کر لو پھر میں اٹھ کہ نیچے جاؤں گی کہ صبح جب اٹھوں تو اپنے کمرے سے اٹھوں امی نے یہاں سے نکلتے دیکھا تو مشکل ہو جائے گی ۔ اس کھلی آفر کے بعد کوئی ہیجڑا بھی ہوتا تو وہ بھی نہ رک سکتا میں نے اس کے ہونٹ چوسنا شروع کر دیے وہ اسی طرح الٹی لیٹی ہوئی تھی اور ہونٹ چوسنے میں میرا ساتھ دینے لگی میں نے بھی ہاتھ کمر سے پھرتے ہوئے اس کی کمر اور گانڈ کو مسلتے ہوئے اس کے کندھوں کے درمیان پھیرنے شروع کر دییے ۔ میں جب اٹھا تو اس نے ایک نظر میرے لن کو دیکھا اور اس کی آنکھیں پھیل گئیں اور بولی افف اتنا موٹا ؟ آپ کا بھی ابو سے کم تو نہیں ہے اور پھر اس کے چہرے پہ خوشی کے تاثرات ابھرے اور بولی واو زبردست میں نے اتنا موٹا لے لیا ۔ میں نے اس کے بالوں کو سہلاتے ہوئے کہا میری پیاری گڑیا میری لاڈو میری جان ۔ وہ پھر ہنسی اور بولی مکھن نہیں تیل لگائیں اور پھر مزہ لیں ۔ میں نے اس کی طرف دیکھا اور کہا اگر تھوڑا پوز بدل لو تو؟ اس نے کہا کیوں امی والا پوز کرنا ہے کیا؟؟ اور ہنسنے لگی میں نے کہا نہیں بس دوسرا والا اور اسے کمر سے پکڑ کہ اوپر کیا تو وہ بولی اچھا اچھا سمجھ گئی اور خود ہی اپنے گھٹنے فولڈ کرتے ہوئے پیٹ نیچے کرتے ہوئے گانڈ ہوا میں اٹھا دی ۔۔ افف کیا پرکشش نظارہ تھا میری بہن کی موٹی گانڈ اور اس کے درمیان تیل سے لےھڑا سوراخ اور نیچے پھدی کے بند ہونٹ ہوا میں لہرا رہے تھے ۔میں نے لن پہ تیل لگایا اور تھوڑا سا تیل اس کی گانڈ کے سوراخ پہ لگایا اور لن کو اوپر رکھ کہ ہلکا سا دبایا تو ٹُپ کھ ہلکی سی آواز آئی جیسے کسی بند بوتل کا ڈھکن کھلتا ہے اور لن پھسلتا ہوا اس کی گانڈ کی وادی میں اترتا چلا گیا اب کی بار لن کی پھسلن میں روانی پہلے کی نسبت زیادہ تھی مگر فروا کی سسکیاں پہلے سے بلند تھیں مگر ان سسکیوں میں درد کم تھا۔ پورا لن اپنے اندر محسوس کرتے ہی فروا نے میری طرف دیکھا اور ہاتھ کی انگلیاں بند کرتے ہوئے مجھے انگوٹھے سے ڈن کا اشارہ کیا ۔ میں نے بھی سر ہلایا اور کہا ہاں پورا ہو گیا ۔ فروا مسکرا کہ آگے مڑ گئی اور میں ایک بار پھر اس کی گانڈ کی تنگ وادیوں میں اپنے لن کو ہلاتا گیا فروا نے اپنا ایک ہاتھ نیچے سے اپنی ٹانگوں کی طرف لایا اور خود ہی اپنی پھدی مسلنے اور سسکیاں لینے لگ گئی میں بھی لن کو پورا اندر گھساتا اور نوک تک باہر نکالتا اورپھر پورا اندر کر دیتا ۔ اسی طرح جھٹکے لگاتے میں فروا کے اوپر جھکا اور اس کی کمر کو چومتے ہوئے اس کے ممے ہاتھوں میں پکڑ لیے نرم نرم گانڈ کی گئرائی میں اترتا لن اورپھر بڑے بڑے ملائم ممے ہاتھ میں تھامے مجھے احساس ہوا کہ حنا تو میری بہن کے پاوں کے برابر بھی نہیں ہے ۔ میں نے اپنی سگی بہن کو اپنے آگے جھکے ہوئے دیکھا تو سرور اور فخر سے میرا لن جیسے اکڑ اٹھا اور مجھے مبارک دینے لگا کہ اس حسین منزل تک تو کوئی خوش قسمت پہنچے گا میں بھی اپنی قسمت پہ ناز کرتے اس کی گانڈ کی گہرائی میں ڈوبتا گیا اور فروا بھی سسکتی اپنی پھدی مسلتی رہی لیکن کب تک ۔۔ آخر اس کے جسم کو بھی جھٹکے لگنے شروع ہو گئے اور میرے لن کی نسیں بھی پھولتی گئیں اور پھر میرے لن سے پچکاریاں نکلتے ہوئے اس کی گانڈ کو بھرنے لگیں اور اس کا جسم بھی اکڑتے ہوئے مجھے اپنے ساتھ دبتا ہوا محسوس ہوا اور اس کے سوراخ کا گھیرا میرے لن پہ مضبوط ہوتا گیا اور ہم فارغ ہوتے ہوئے بیڈ پہ گرتے گئے لیکن میرا لن اس کی گانڈ کے اندر ہی رہا میں فروا کے اوپر گرتا گیا اور فروا بھی نیچے بیڈ پہ لیٹ گئی میرے لن نیم اکڑا ہوا اس کی گانڈ میں تھا وہ زرا ڈرامائی انداز میں روہانسی ہوتی ہوئی بولی افف میں تو سوچ رہی تھی ایک بار کافی ہوتی ہے یہ تو دو بار مشین تو دو بار بورنگ کر کہ بھی تیار کھڑی ہے ہائے میری گانڈ گئی۔ اس کے انداز سے میں بے اختیار ہنس پڑا اور اس سے کہا گڑیا تم پچاس سال پرانی مشین کے کارنامے دیکھتی رہی ہو یہ مشین تو ابھی نئی ہے اور اس راستے پہ تو پہلی بار استعمال ہوئی ہے جو راستہ اس کا پسندیدہ بھی ہے ۔ فروا بھی کسمساتے ہوئے بولی تو پسندیدہ راستے کو پہلی ہی بار اتنا وسیع تو نہ کرو کہ تیس سال سے استعمال شدہ راستے کی طرح پہلی بار ہی ہو جائے۔ میں نے اس کے سر کو سہلایا اور کہا فکر مت کرو مشین باہر نکلتے ہی راستہ پہلے جیسا ہو جائے گا ۔ وہ پھر اسی انداز میں بولی یہ مشین نکلے گی تو پہلے جیسا ہو گا اب تو میں اس منحوس مشین کو پاس سے بھی نہ گزرنے دوں یہ پھر چھوڑتی ہی نہیں۔ میں نے ہنستے ہوئے کہا بھائی مشین تو چھوڑ رہی ہے لیکن تمہاری یہ پہاڑیاں ہی اسے جدا نہیں ہونے دے رہی یہ دیکھو میں نے اپنا وزن گھٹنوں پہ ڈال کہ لن کو ہلکا سا کھینچا جو ظاہر ہے تنگ سوراخ میں پھنسا ہوا تھا ۔ میں نے کہا یہ دیکھو گڑیا کیسے جھکڑا ہوا ہے تو فروا نے شرم سے چہرہ چھپا لیا اور بولی بدتمیز انسان وہ سوراخ تنگ ہے تبھی پھنسا ہوا ہے ورنہ کوئی جھکڑا نہیں ہے۔ میں بھی ہنس پڑا اور لن کو کھینچ کر باہر نکالا تو فروا نے ایک ہاتھ فورا سوراخ پہ رکھا اور اٹھ کہ بیڈ سے نیچے اتری مگر نیچے قدم رکھتے ہی لڑکھڑا کہ گرنے لگی لیکن میں نے ایک دم اسے تھام لیا اور کہا گڑیا سنبھل کہ ۔۔ اس نے مجھے دیکھ کہ ہونٹ بھینچے اور مسکرا کہ میرے گلے لگ گئی اور بولی واش روم جانا مجھے ۔ مین اسے سہارا دے کر واش روم لے گیا واش روم کے دروازے پہ پہنچ کہ وہ رکی اور میرے ہونٹ چوس کہ بولی ۔۔ بس اب یہین تک رکو میں آئی اور یہ کہتے ہی باتھ میں گھس گئی ۔ میں ہنس کہ باتھ کہ دروازے پہ کھڑا ہو گیا تھوڑی دیر بعد وہ باتھ سے نکلی تو اسی برح ننگی تھی میں بھی باتھ میں گھس گیا اور خود کو دھو کہ باہر نکلا تو دیکھا وہ اپنے کپڑے پہن چکی تھی اور بیڈ پہ بچھی چادر بھی اس نے اٹھا دی تھی اور تیل کی بوتل بھی اٹھا کہ ڈریسنگ ٹیبل پہ رکھ چکی تھی ۔ مجھے باہر نکلتے دیکھ کہ ہنستے ہوئے بولی ساری چیزیں جگہ پہ چلی گئیں سوائے ایک جگہ کے۔ میں اس کے قریب ہوا اور اسے گلے سے لگا لیا اور بولا صبح جب سو کہ اٹھو گی تو وہ بھی اپنی جگہ پہ چلی جائے گی فکر مت کرو۔ فکر ہوتی تو میں آپ کے پاس آتی ہی کیوں؟ یہ کہہ کر اس نے میری چھاتی پہ مکا مارا اور بولی اب جاتی ہوں پھر ملیں گے ۔ اور میرے گلے ملتی ہوئی میرے ہونٹ چوم کہ پیچھے ہٹتی گئی دل تو میرا نہیں کر رہا تھا لیکن اسے جانا بھی تھا اور وہ بیتے ہوئے لمحوں کی یادیں چھوڑتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی وقت کا کیا ہے وقت تو گزر ہی جاتا ہے پیچھے صرف یادیں رہ جاتی ہیں
انوکھا حادثہ
قسط 15
فروا کمرے سے نکل گئی اور میں بھی بیڈ پہ لیٹ گیا سکون کی ایک لہر میرے جسم میں دوڑ گئی تھی جیسے میں مکمل ہو چکا تھا بیڈ پہ لیٹتے ہی تھوڑی دیر بعد مجھے نیند آ گئی اور میں سو گیا۔ صبح جب جاگا تو مجھے دیر ہو چکی تھی روٹین سے میں لیٹ تھا نہا دھو کہ نیچے گیا تو فروا بھی کچن میں ناشتہ بنا رہی تھی وہ بھی نہائی ہوئی تھی اور اس کے گیلے بالوں کی وجہ سے اس کی کمر پہ قمیض گیلی ہو رہی تھی کیونکہ امی کی موجودگی کا خدشہ تھا تو میں انتہائی شرافت سے گیا اور کچن میں جا کہ فروا سے امی کا پوچھا تو وہ ہنستے ہوئے بولی کہتیں ہے سر میں درد ہے ابھی اٹھا نہیں جا رہا اب پتہ نہیں سر درد ہے یا کچھ اور ۔ اور ابو؟؟ وہ تو دفتر چلے گئے ہیں جیسے ہی فروا کے منہ سے یہ نکلا میں نے اسے فورا پیچھے سے دبوچ لیا اور دونوں بازو اس کے بازو کے نیچے سے گزارتے ہوئے اس کے سڈول ممے اپنے ہاتھوں میں پکڑے اور لن کو اس کے چوتڑوں میں دبا دیا اور وہ میرے بازو میں ہنستی گئی بدتمیز بس بھی کرو ابھی تک دل نہیں بھرا میں نے اس کی گردن اور گال چومتے کہا تم چیز ایسی ہو کہ دل بھر ہی نہیں سکتا ۔ حوصلہ دیکھو میرا رات اتنا کچھ ہو کہ بھی کھڑی ہوں اور تیس سالہ تجربہ دیکھو ہل نہیں سکتی اب ۔ فروا نے ہنستے ہوئے کہا اس کی بات سے میں بھی ہنسنے لگا اور کہا یار تم تو تازہ تازہ جوان ہو نا وہ اب بڈھی ہو گئی ہیں اس لیے ۔ اور ساتھ اس کے ممے مسلتا گیا ۔ ارے تو بندہ اپنی عمر دیکھ کہ کام کرے نا اس عمر میں کس نے کہا اتنی مروا لیں ۔ فروا نے اسی ٹون میں کہا ۔ اچھا تم آج دن میں انہین سمجھا دینا نا میں نے بھی فروا کو چھیڑا تو ہنس پڑی اور بولی چلیں اب ناشتہ بنانے دیں امی آ نہ جائین مجھے بھی یہ خطرہ تھا تو میں نے بہتر سمجھا کہ امی کو جا کہ دیکھ آوں میں نے فروا سے کہا اوئے امی کو دیکھ آوں کیا ؟ تو وہ معنی خیز انداز میں بولی ہاں ہاں جاو مگر دیکھ کہ ہی آنا کچھ اور نہ کرنے لگ جانا ۔ مجھے اس کی بات خاص تو سمجھ نہ آئی مگر میں امی کے ممرے کی طرف بڑھ گیا اور ان کے کمرے کا دروازہ کھولا تو سامنے کا نظارہ دیکھ کر میرے ہوش اڑ گئے اور آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور میں ایک دم دروازے سے پیچھے ہٹ گیا میرا دل جیسے دھک دھک کرنے لگ گیا امی سامنے لیٹی ہوئی تھیں کہ ان کے جسم پہ صرف قمیض تھی اور شلوار ان کی آدھی ٹانگوں سے نیچے اتری ہوئی تھی اور قمیض کمر تک اوپر تھی اور وہ سائیڈ کے بل لیٹی ہوئی تھیں اور ان کی کمر گانڈ اور گھٹنوں تک ٹانگیں ننگی تھیں ۔ میں نے ایک نظر امی کو دیکھا تو پیچھے ہٹ گیا اور دروازے سے باہر نکل آیا ۔ میں جیسے ہی دروازے سے باہر نکلا تو فروا آگے کھڑی تھی مجھے دروازے سے نکلتے دیکھ کہ وہ اچھل کر تیزی سے میرے سینے سے آ لگی اور مجھے چومنے لگ گئی ۔ میں گھبرا گیا کہ امی کسی بھی وقت اٹھ سکتی ہیں اور میں نے اس کے بازو پکڑے اور اسے سرگوشی میں کہا پاگل کیا ہو گیا امی اٹھ جائیں گی ۔ مگر اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے اور وہ مجھے مسلسل چومے ہی جا رہی تھی ۔ مین یہ صورتحال دیکھ کر بوکھلا سا گیا کہ مجھے اس کے رویے کی کوئی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔ میں نے دونوں بازو اس کی گانڈ کے نیچے سے گزارے اور اسے بازو میں اٹھا لیا اور لے کر کچن کی طرف آ گیا لیکن وہ مسلسل روئے اور مجھے چومے جا رہی تھی ۔ میں نے اسے بازو سے نیچے اتارا مگر وہ مجھ سے الگ نہ ہوئی اور مجھ سے اور چپکتی گئی ۔ مین نے اس کا سر سہلایا اور کہا بتاو تو سہی مسئلہ کیا ہے، اس نے ڈبڈبائی آنکھوں سے مجھے دیکھا اور بولی بھیا لو یو بھیا ۔۔ ارے پاگل تو اس میں رونے والی کیا بات ہے ؟ میں نے اس سے پوچھا۔ ہچکچیاں لیتے ہوئے اس نے کہا کہ امی نے کہا میرے سر میں درد ہے تو میں نے ان کو نیند کی گولی دے دی اور پھر جب وہ سو گئیں تو ان کو ننگا میں نے کیا تھا کہ آپ مجھ سے ہوس پورا کرنا چاہتے تھے یا محبت ہے اور اگر آپ امی کے کمرے میں رک جاتے تو میں سمجھ جاتی آپ میں صرف ہوس ہے لیکن آپ باہر نکل آئے تو ۔۔ اس کے ساتھ ہی اس نے بات ادھوری چھوڑ دی اور ایک بار پھر میرے گلے لگ کہ رونے لگ گئی۔ میں نے اسے دل سے لگایا اور اسے چپ کرانے لگا۔ جبکہ حقیقت یہ تھی کہ اگر مجھے نیند کی گولی کا علم ہوتا تو شائد میں جلدی باہر نا نکلتا لیکن جو ہوا تھا بہتر ہوا تھا ۔ مجں نے اسے فریج سے پانی نکال کہ پلایا اور اسے سینے سے لگا کہ چپ کرایا تو تھوڑی دیر میں وہ نارمل ہو گئی ۔ پھر ہم نے ناشتہ کیا اور میں آفس کے لیے نکلنے لگا تو وہ بولی چلو آو نا امی کی شلوار اوپر کروا جاو میں نے اس کی طرف دیکھا اور نا میں سر ہلا دیا لیکن اس نے میرا بازو پکڑا اور مجھے کھینچتے ہوئے امی کے کمرے کی طرف لے گئی ۔ امی کے کمرے کے پاس جاتے ہی وہ دروازے کے پاس مجھے کھینچتے ہوئے پہنچی مین نے ایک دو بار واجبی سی مزاحمت بھی لیکن اندر سے میرا دل بھی امی کو دیکھنے کا کر رہا تھا دروازے کے پاس پہنچ کر اس نے مجھے رکنے کا اشارہ کیا اور خود کمرے میں داخل ہو گئی ۔ کمرے میں داخل ہو کہ اس نے امی کو تین چار بار اونچی آواز میں پکارا لیکن وہ اسی طرح مدہوش سوئی ہوئی تھیں فروا دروازے پہ آئی اور مجھے اندر آنے کا اشارہ کیا لیکن میں دروازے پہ پہنچ کہ رک گیا ۔ فروا نے امی کے اوپر ہوتے ہوئے ان کے بازو سے پکڑ کر ہلایا مگر امی ہلیں اس کے کھینچنے سے لیکن انہوں نے کوئی رسپانس نہ دیا اس نے امی کے ننگے پیٹ پہ ہاتھ رکھ کہ جھنجورا مگر وہ اسی طرح بے سدھ پڑی رہیں فروا نے مڑ کہ میری طرف دیکھا اور مجھے آنکھ ماری۔ مجھے اس آفت کی پرکالہ کی کوئی سمجھ نہ آ رہی تھی کہ یہ کیا کرنا چاہتی ہے ۔ فروا نے ان کی ننگی گانڈ پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے مجھے دیکھا اور مسکرا کہ امی کی طرف اشارہ کیا میں کچھ بھی سمجھ نہیں رہا تھا فروا نے امی کی اوپری ٹانگ کو پکڑ کر اگے دھکیلا تو امی نیم الٹی ہو گئیں پھر اس نے ان کے اوپری جسم کو بھی الٹا دیا ۔ میں اس کے پیچھے حیران کھڑا تھا کہ یہ کیا کرنا چاہتی ہے ؟ امی کے موٹی بنڈ جب اس کے الٹا کرنے سے ہلی تو میرا لن جیسے پھٹنے والا ہو گیا لیکن میں خود سے کچھ نہیں کرنا چاہتا تھا کیونکہ وہ پہلے مجھے امی کے جلوے دکھا کہ پھر امتحان لینے والی بات بھی کر چکی تھی اور مجھے کوئی اندازہ نہ تھا کہ اس کا اگلا قدم کیا ہو گا۔ فروا نے ایک نظر مجھے دیکھا اور ان کے ساتھ بیڈ پہ چڑھ کہ الٹی لیٹ گئی اور اپنی شلوار اتار کر اپنی گانڈ امی کی طرح ننگی کر کہ اشارہ کیا کہ ایک کے ساتھ ایک فری۔ میں اس کے قریب ہوا اور اس کی ننگی گانڈ پہ ایک تھپڑ مار کہ اس کے کان میں کہا مجھے بس ایک یہی چاہیے ۔ اس نے مجھے کہا اور اشارہ کیا یہ یہ دو ہیں دیکھ لو۔ لیکن میں نےامی کو بالکل اگنور کرتے ہوئے فروا کی گانڈ کو چوم لیا وہ پیچھے مڑ کہ مجھے دیکھ رہی تھی میں نے اس کے گورے چوتڑ ہاتھ سے پھیلائے اور اس کی گانڈ کے سوراخ کو زبان کی نوک سے چاٹنے لگا اور اس کی کمر کو سہلایا اور اوپر ہو کہ کہا جانی بس ایک تم ہی ہو میرے لیے مجھے اور کچھ نہیں چاہیے ۔ دل تو میرا بہت کر رہا تھا کہ امی کی طرف دیکھوں لیکن مجھے یقین تھا کہ جتنا صبر کروں گا اتنا پھل پکتا جائے گا۔ فروا اوپر اٹھی اور اپنی شلوار اوپر کی اور میرا ہاتھ پکڑ کہ امی کے پاس بیٹھ گئی ۔ اور میری ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کہ میری آنکھوں میں دیکھا اور میرا چہرا امی کی ننگی گانڈ کی طرف موڑا ۔ لیکن میں نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا فروا نے مجھے زور سے بھینچا اور سرگوشی میں بولی لو یو بھیا ۔ مین نے اس کے سر پہ کس کی تو اس نے مجھے چھوڑا اور امی کی طرف مڑی اور کہا کہ ان کو پیٹ سے پکڑ کہ اٹھائیں میں نے امی کے پیٹ کے نیچے سے بازو گزارتے ہوئے ان کو اوپر اٹھایا تو فروا نے ان کے چوتڑوں کو پکڑ کہ مخالف سمت میں کھول دیا تو گلی میں موجود دونوں سوراخ اپنی گہرائی تک سامنے نظر آئے ۔ میں نے ایک نظر دیکھ کہ فروا کو دیکھنا شروع کر دیا جس کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی اس نے مجھے دیکھا کہ میں امی کی طرف نہیں دیکھ رہا تو اس نے امی کی شلوار اوپر کر دی میں نے انہیں بیڈ پہ لیٹا دیا اور ہم کمرے سے باہر نکل آئے ۔ باہر نکلتے ہی فروا ایک بار پھر میرے گلے لگ گئی اور میرے ہونٹ اور گال چوس کہ بولی بھیا جانی لو یو یار ۔۔ اور پھر اچھل کہ میرے گلے لگ گئی۔ میں نے بھی اسے بازووں میں بھر کہ چوم لیا ۔ لیکن وہ ایک دم بولی اب دفتر جاو بہت دیر ہو رہی ہے پہلے ہی بہت دیر کر چکے ہو میں نے کہا ہاں ٹھیک ہے دل تو میرا نہیں کر رہا تھا مگر جانا تو تھا اور پھر میں گھر سے دفتر کی طرف نکل گیا۔
انوکھا حادثہ
قسط 16
آخری قسط
میں دفتر چلا گیا اور دفتر میں میرا دل نا لگا اس لیے میں نے گھنٹے بعد ہی طبیعت خرابی کا بہانہ بنایا اور چھٹی لیکر گھر کی طرف نکل پڑا اور جب دفتر سے جب چھٹی کر کہ گھر پہنچا اور گیٹ کھولا اور اندر داخل ہوا تو سامنے کوئی بھی نہیں تھا میں نے آرام سے دروازہ بند کیا اور اندر داخل ہوا تو پورے گھر میں خاموشی کا راج تھا ۔ میرے دل میں خیال آیا کہ ایک نظر امی کو دیکھ لوں اور میں دبے پاوں ان کے کمرے کے دروازے کی طرف بڑھا اور نیم وا دروازے سے اندر جھانکا تو مجھے حیرت کا ایک شدید جھٹکا لگا امی سائیڈ کروٹ لیٹی ہوئی تھیں اور بیڈ کے نیچے فروا گھٹنے ٹیکے ان کی ننگی گانڈ میں منہ ڈالے ہوئے چاٹنے کی کوشش کر رہی تھی اور اس کا ایک ہاتھ اپنی شلوار کے اندر اپنی پھدی مسل رہا تھا وہ دنیا سے بے خبر امی کی گانڈ کو کھول کر چاٹنے کی کوشش کر رہی تھی میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا مجھے گھر میں یہ نظارہ ملے گا۔ فروا ارد گرد کے ماحول سے بالکل بے خبر اپنے کام میں لگی تھی اور اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور اس کا جسم ہلکا ہلکا کانپ رہا تھا۔ میں اس کے پاس کھڑا ہو کہ اسے دیکھنے لگ گیا اور وہ اسی طرح امی کی گانڈ کے اندر زبان پھیرتی رہی کیونکہ امی کی گانڈ موٹی تھی اور وہ سوئی ہوئی بھی تھیں اس لیے وہ زبان کو سوراخ تک نہیں پہنچا پا رہی تھی اگلے ہی لمحے جیسے فروا کو احساس ہوا کوئی اس کے پاس کھڑا ہے تو وہ بجلی کی تیزی سے پیچھے ہٹی اور جب اس کی نظر مجھ پہ پڑی تو اچھلتی ہوئی میرے سینے سے آ لگی اور بولی میرے اندازے سے بیس منٹ لیٹ پہنچے ہو مجھے یقین تھا کہ ضرور جلدی آو گے۔ اس کی سانسیں بہت تیز چل رہی تھیں اور جسم بھی بہت گرم ہو رہا تھا میں نے بھی اسے بازووں میں بھر لیا اور ادھر ہی اس کے ہونٹ چوسنے لگا ۔ اس کے ہونٹ چوستے چوستے میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں بند ہو چکی تھیں ۔ میں نے اس کے کان میں سرگوشی کی او گندی لڑکی یہ کیا کر رہی ہو اگر وہ جاگ جائیں تو؟ وہ نہیں جاگ رہی ہیں میں نے ان میں انگلیاں بھی ڈال کہ دیکھا ہے فروا نے شرماتے ہوئے کہا۔ میں نے اسے پکڑا اور دروازے سے باہر لے آیا اور اسے دل سے لگا کہ کہا اوئے یہ لڑکوں والے کام کیوں کرنے لگ گئی ہو اور اس کے چہرے کو چوم لیا ۔ وہ شرماتے ہوئے بولی آپ مجھے ادھر سے چاٹ رہے تھے تو میں دیکھنا چاہتی تھی کہ یہ کیسا نشہ ہے تو۔۔ وہ میرے سینے سے چپکتی گئی اور اس کے گول ممے میرے سینے سے دب گئے ۔ میں نے ہاتھ اس کے کولہوں پہ رکھے ہی تھے کہ اس نے چہرہ میرے سینے سے پیچھے کیا اور بولی بھیا آپ نے وعدہ کیا تھا کہ جیسے میں کہوں گی ویسے کرو گے نا؟ میں نے کہا ہاں کروں گا گڑیا تمہارے لیے تو جان بھی حاضر ۔ اس نے آنکھیں پھیلا کہ پوچھا پکا؟؟ میں نے سر ہلایا تو وہ بولی چلو مجھے امی کی گانڈ چاٹ کے دکھاو۔ میرے چہرے پہ ایک دم الجھن کے تاثرات آ گئے میرے کچھ بولنے سے پہلے ہی وہ پھر بول اٹھی جان دینے کا وعدہ کیا ہے اور ابھی سے ڈر گئے۔ میں نے کہا چلو میں ڈرا تو نہیں لیکن میں تم سے ہٹ کہ کسی اور کی طرف نہیں جانا چاہتا تھا۔ حنا بھابھی کے پاس بھی تو جاو گے تو ایک بار میرے کہنے پہ بھی کر دو۔ اس نے مجھے چھاتی پہ مکا مارا اور میرا ہاتھ پکڑ کہ اندر کمرے میں داخل ہوتی گئی امی کے بیڈ کے پاس جا کہ اس نے امی کو پھر جھنجورا اور ان کو ہلایا مگر وہ نیند کے گولی کے زیر اثر بالکل کچھ نہ بولیں فروا نے بیڈ کی ایک سائیڈ پہ پڑا موٹا تکیہ اٹھایا اور امی کے پیٹ کے آگے رکھا اور مجھے امی کو پکڑتے ہوئے مجھے اشارہ کیا تو میں نے امی کے گداز جسم کو اٹھاتے ہوئے ان کا پیٹ تکیے پہ رکھ دیا امی کی بھرپور موٹی تازی گانڈ کھل کہ سامنے آ گئی اور ان کی گانڈ کا گئرا براون سوراخ اور پھدی کے براون ہونٹ اور ان کے درمیان سوراخ واضح ہو گیا ۔ میں نے فروا کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے پہ مسکراہٹ تھی میں نے اسے گھسیٹ کہ پاس کیا اور کہا فرحی یہ سب ضروری ہے ؟ اس نے کہا ہاں بس دو منٹ کر دو بس ۔ میں نے سر ہلاتے ہوئے اسے چھوڑا اور امی کے چوتڑ پکڑ کہ کھولے اگر فروا نہ ہوتی تو شائد میں اس صورتحال سے لطف لیتا لیکن اس کی موجودگی میں مجھے بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا میں نے مجبورا سوراخ پہ زبان رکھی اور اسے ہلکا ہلکا دبایا تو میری زبان کی نوگ سوراخ میں دھنس گئی ظاہر ہے وہ سوراخ کافی کھلا تھا۔ میں نے نظر اٹھا کہ دیکھا تو فروا مجھے دیکھ رہی تھی اور میرے چہرے پہ بے بسی تھی اس نے میرے چہرے پہ بے بسی دیکھی تو فورا میرے پاس آ گئی اور مجھے پکڑ کہ اٹھا لیا میں امی کے اوپر سے اٹھا تو فروا نے ان کے نیچے ہاتھ ڈال کہ ان کی شلوار اوپر کی اور ان کے نیچے سے تکیہ نکال دیا میں سائیڈ پہ کھڑا اسے یہ کرتا دیکھ رہا تھا۔ ایک چھوٹی لڑکی میرے ہواس پہ ایسے چھا چکی تھی کہ مجھے کچھ سمجھ نہ آتی تھی ۔ فروا مجھے لیکر ان کے کمرے سے باہر آ گئی اور باہر نکلتے ہی میرے گلے لگ گئی میں نے بھی اسے سینے سے لگا لیا اور خاموشی سے اسے چومنے چاٹنے لگا پھر ہم ایک دوسرے کو چومتے اس کے کمرے میں گھس گئے اور پھر ڈوگی سٹائل میں میں نے اس کی گانڈ مارتے اسے فارغ کیا اور امی کے جاگنے سے پہلے ایک بار پھر اس کی گانڈ ماری۔ بعد میں امی بھی جاگ گئین ان کا سر بوجھل تھا لیکن وہ اس سب سے ناواقف تھیں جو ہم نے ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی۔ شام میں حنا بھی واپس آ گئی۔ پھر زندگی کے لمحے گزرتے گئےدن پر لگا کہ اڑنے لگے جب بھی حنا میکے جاتی تو فروا میری آدھی بیوی بن جاتی۔ میرے بھی دو بچے ہو گئے اور فروا ان پہ جان چھڑکنے لگی۔ محبت کا سفر دن بہ دن جاری رہا اور پھر وہ دن بھی آ گیا جب اس کی منگنی ایک بہت اچھے نوجوان سے ہو گئی اپنے ہی خاندان میں جس کے دو تین جنرل سٹور تھے پہلے منگنی ہوئی اور پھر شادی ۔ اس کی شادی پہ میں اور وہ بہت روئے بہت دن تک روز ہم روتے ہی رہتے اور سب یہی سمجھ رہے تھے کہ یہ ایک بہن بھائی کا پیار ہے ۔اس کی شادی کے بعد بھی ہمیں جب بھی وقت ملا تو ہم نے اس موقعہ سے فائدہ اٹھایا اور پیار کرتے رہے میرے بھی اب چار بچے ہیں اور فروا کے بھی دو بچے ہیں ۔ اس کے بچے بھی مجھے میرے بچوں کی طرح بابا بولتے ہیں اور وہ ہنستی رہتی ہے اور ہم سب محبت سے رہتے ہیں پردے کے پیچھے کی کہانی ابھی تک پردے کے پیچھے ہے اور زندگی گزرتی جا رہی ہے ۔
یہاں کہانی ختم ہوتی ہے اور کہانی حقیقت میں تو موت تک چلتی رہتی ہے لیکن زیب داستان کے لیے کہانی کو ایک موڑ پہ لا کہ چھوڑنا پڑتا ہے میں جانتی کہ ابھی اس میں تشنگی کے بہت پہلو ہیں لیکن میرے نقطہ نظر سے کچھ چیزیں ادھوری اچھی لگتی ہیں کہ بعض چیزیں مکمل ہو کہ اپنا حسن کھو دیتی ہیں ۔ سب کا بہت شکریہ سلامت رہیں اور خوشیاں تقسیم کرتے رہیں
ختم شد
0 comments:
Post a Comment