فہرست
فارحہ ٹیزنگ نظیف
نظیف بھائی جان میری شلوار دیکھ رہے تھے۔۔ ران کے پاس سے قمیض پوری ہٹ چکی تھی اور اتنی پتلی تھی کہ پوری گدرائی ران کی چکناہٹ اوپر ہی سے پتہ چل رہی تھی۔
میں ہلکا سا کسمسائی اور گھٹنوں کو کو ہلکا سا پٹخا، ران کا گدرایا گوشت ہل کر ساکت ہو گیا۔ پھر پیر پھیلا کر بدن ایک لمحے کو تان دیا جیسے انگڑائی لی ہو اور بالآخر ڈھیلا چھوڑ کر اپنا دایاں ہاتھ چوت کے پاس رکھ چھوڑا۔
پھر ہاتھ سے پتلی شلوار کا کپڑا کھینچ کر پیٹ کے نچلے حصے پر سمیٹ لیا اور سوتی بن گئی۔
مجھے پتہ تھا کہ اب بھائی جان کو میری پوری ٹانگیں، ران اور چوت کی ہلکی سی شکل شلوار کے اوپر سے نظر آ رہی تھی۔ میرے سگے بھائی کو پتہ چل چکا تھا کہ میں نے پینٹی نہیں پہنی ہوئی ہے۔ شلوار کے چکنے نرم کپڑے سے چوت کے بالکل مہین بال بھی آر پار ہو رہے تھے۔ کیا انہیں اپنی سگی بہن کی چوت کے بال نظر آ رہے ہوں گے۔ کیا ان کا لنڈ یہ سب دیکھ کر کسمسایا ہوگا؟
کیا۔۔۔۔ کیا وہ اگلی بات مٹھ مارتے وقت ، ایک لمحے کے لیے ہی سہی، مگر اپنی اس رانڈ بہن کے بارے میں سوچیں گے۔
آہ! یہ سب سوچ کر ہی میری چوت سے پانی رسنے لگا تھا۔ میں نے چوت کے پاس کے ہاتھ کو جوش میں پوری شہوت کے ساتھ چوت پر مسل ڈالا اور کروٹ بدل لی۔
اففف!لذت! میں نے اپنی چوت اپنے سگے بھائی کے سامنے مسلی تھی، وہ بھی اس طرح کے وہ سب کچھ دیکھ سکتا تھا۔
***
فارحہ اور ارتیاح پاپا کے بارے میں
چھی آپی، وہ ہمارے پاپا ہیں۔ میں ان کے بارے میں ایسا نہیں سوچ سکتی۔
اف انگلی نکالو۔ فارحہ آپی ! درد ہو رہا ہے۔ اچھا دھیرے کرو۔
پلیز!
پہلے بول پاپا کا لنڈ دیکھے گی۔ لوور پہنیں گے تو تو ان کا لنڈ دیکھے گی۔
اف۔ اچھا دیکھ لوں گی۔ چھی آپی۔ کیسی باتیں کروا رہی ہو۔
ایسے نہیں۔ صرف دیکھنا نہیں، ان کو احساس بھی دلانا ہے کہ ان کی سگی بیٹی ان کا لنڈ دیکھ رہی ہے۔
افففف آپی ی ی ی ۔ یہ کیا کہہ رہی ہو۔ میں اپنے سگے باپ کے۔۔۔ لوور میں ۔۔۔ (سسکتے ہوئے) بنے ابھار کو دیکھوں گی؟ اور انہیں پتہ بھی چل جائے گا۔ میں پھر بھی بے شرمی سے دیکھتی رہوں گی؟
ہاں۔ آنکھ مت ملانا۔ صرف لنڈ کو گھورنا۔ بول کرے گی۔
چوت میں سے رس کے مارے پھچ پھچ کی آواز آنے لگی تھی۔
اففف نہیں آپی یہ غلط ہے۔ میں پاپا کو ۔۔۔ مجھے تو یاد بھی آ رہا ہے ایک بار میری نظر ان کے۔۔۔ لنڈ کے ابھار پر پڑی تھی۔۔۔ یہ تم کیسی سوچ میرے دماغ میں ڈال رہی ہو۔
اوہ چھوٹی ! تو نے اپنے سگے پاپا کا لنڈ دیکھا تھا! فارحہ لذت سے بھر کر اپنی چوت مسلنے لگی۔
ہاں آپی۔ ارتیاح نے دانت بھینچے۔ گرے کلر کا لوور۔۔۔ اف!
فارحہ نے ارتیاح کی چوت میں ہی درمیانی انگلی زور سے ہک بنا کر اوپر بظر کی طرف اٹھا دی اور پے در پے دانت پیستے ہوئے رگڑنے لگی۔
ہاں ارتیاح، میں نے بھی دیکھا ہے۔ مجھے تو لنڈ کا ٹوپا بھی صاف صاف سمجھ میں آرہا تھا۔
آپی ی ی ی ۔ ارتیاح مچل اٹھی۔
اف! ہم دونوں کتنی بڑی رنڈیاں ہیں۔ کیسی رنڈی بیٹیاں ہیں۔ اپنے ہی سگے پاپا کا لنڈ کا شیپ دیکھتی ہیں۔
آپی چپ رہوووو!
فارحہ نے چوت مسلنا جاری رکھا۔
بول اب، اور دیکھے گی؟ اپنے پاپا کے لنڈ کا ابھار دیکھے گی؟ فارحہ نے مٹھی میں چوت بھینچ کر کہا۔
ارتیاح نے لذت اور درد سے منہ کھول دیا اور فارحہ کو روکنے کی کوشش کی۔
بول، لوور میں ابھرے لنڈ کا ٹوپہ ڈھونڈنے کی کوشش کرے گی؟
اب وہ چوت ہتھیلی سے مسل رہی تھی۔
پتلے کپڑے والے لوور میں۔۔۔فارحہ سسکی۔ ارتیاح کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔ ابھار کو گھورے گی؟ اس کے ٹوپے پر بے شرمی سے نظر جمائے رکھے گی؟
چوت کو بہت زور سے مسلا۔
آاااہ ہاں۔ ہاں آپی!
فارحہ جوش سے بھر گئی۔
سوچ ارتیاح۔ کہیں تیرے گھورنے سے پاپا کا لنڈ کھڑا ہو گیا تو؟ وہ تناؤ، وہ کھڑا لنڈ۔ وہ ٹوپا۔
آپی ی ی !
ہو سکتا ہے۔ فارحہ اب ہانپ رہی تھی۔ پاپا نظر بچا کر باتھ روم میں جائیں گے۔ اور تیرے نام کی مٹھ ماریں گے۔
دونوں کا چہرہ شہوت کے مارے لال ہو گیا ۔
سوچ چھوٹی۔ اپنی سگی بیٹی ارتیاح کو سوچ کر پاپا مٹھ مار دیں گے۔ سارا گاڑھا مٹھ باتھ روم پر تیری پینٹی میں گرا دیں گے۔
آااااااہ آپی ی ی ی ۔۔۔پاپا اااکا لنڈڈڈ۔ ارتیاح نے دانت پیسے اور جھٹکے مارتے ہوئے جھڑنے لگی اور بدبدائی ۔ چھی آپی ی ی یہ بہت غلط ہےےے میں جھڑ۔۔۔۔اففف ۔ سامنے کے دانتوں کو رگڑتے ہوئے شدت سے گانڈ کو جھٹکا مارا۔ پاپا کے لنڈ کو سوچ کر بیٹی جھڑ رہی ہے۔
فارحہ نے یہ سنتے ہی مزے کی شدت سے ہلکی سی چیخ ماری پا پااااااااااا! اور بھل بھلا کر جھڑنے لگی۔ گانڈ ہلاتے ہوئے جھڑتے ہوئے وہ لذت سے بڑبڑانے لگی۔ پا اپا اپا پا اپا اپا اپاپا اپا اپا اپا اپا!
چوت رس سے دونوں کی انگلیاں اور بستر کی چادر گیلی ہو گئی تھیں۔
٭٭٭
عاتکہ، فارحہ کو باپ سے چدتے دیکھتے ہوئے
عاتکہ کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں ہوا ۔ یہ کیا ہو رہا تھا۔ اس کا منہ آ آمیں کھل گیا لیکن اس نے کوئی آواز نہیں نکالی۔ حیرت کے مارے اس نے ہتھیلی ضرور منہ پر رکھ لی۔ کیا اسے چیخنا نہیں چاہیے تھا؟ وہ چلائی کیوں نہیں تھی؟ اپنے شوہر کو اپنی۔۔۔ اپنی ہی بیٹی کے ساتھ۔ اف!
دماغ میں کتنے ہی جھکڑ چل رہے تھے، لیکن اندر سے تھپ تھپ کی ہلکی سی آواز اسے پھر بھی صاف سمجھ میں آ رہی تھی۔ یہ سب۔۔۔ وہ بھی اتنی بے شرمی سے۔۔۔ پھر اس نے دیکھا۔ اس کے شوہر نے لنڈ پورا باہر نکال کر جھٹکے سے بالکل جڑ تک فارحہ کی چوت میں گھسیڑ دیا۔ ٹٹے نیچے گانڈ کے سرمئی سوراخ پر ٹکرائی گئے۔
عاتکہ کا کھلا منہ ناقابلِ یقین انداز میں "او مائی گاااااڈ" بولتے ہوئے اتنا کھول لیا جتنا کھل سکتا تھا۔ "گاااڈ" بولتے وقت اس کا کھلا منہ جبڑے سمیت کپکپا رہا تھا۔ یہ جذبات کیا تھے؟ کیا وہ بس حیرت تھی، یا غصہ بھی۔۔۔ نہیں!
پھر اس نے وہ محسوس کیا۔ پتلے کپڑوں والی شلوار میں ڈھکی عاتکہ کی چوت سے کچھ قطرے نکلنے والے تھے۔ نہیں! نہیں! عاتکہ نے کھلے منہ کے ساتھ ہی ناقابلِ یقین انداز میں سر ہلایا۔ یہ نہیں ہو سکتا۔
اس نے خود کو دروازے سے واپس ہٹانے کی کوشش کی لیکن قدم رک گئے تھے۔ کوئی اندرونی آواز اسے اندر دیکھتے رہنے پر مجبور کر رہی تھی۔
پورا کھلا منہ اب ہلکا سا آ کی شکل میں کھلا تھا، گردن کو "نہیں" کے انداز میں مسلسل ہلاتے ہوئے اس کا جھانکنا بدستور جاری رہا۔
اندر اقرار صاحب نے فارحہ کی چوت میں جڑ تک دھنسا اپنا لنڈ نکالا اور پھر واپس بے رحمی سے اندر دھنسا دیا۔ تھپ کی ہلکی سی آواز ہوئی۔ فارحہ نے ادھ کھلے ہونٹوں کے ساتھ اپنی پھولی ہوئی چوت کا دانہ بے چینی سے مسلنے لگی۔
عاتکہ کے چوت کے قطرات یہ منظر دیکھ کر باہر نکلے اور ران پر بہہ پڑے۔ان کے بہتے ہی عاتکہ نے کھلا منہ بند کر کے دانت پیستے ہوئے ان قطرات کو محسوس کیا۔
شٹ۔ اسےیقین نہیں ہوا تھا یہ کیسے ہوا تھا۔ عاتکہ کی چوت، اپنی سگی بیٹی کو شوہر سے چدتا دیکھ کر پانی چھوڑا تھا، کچھ قطرے ہی سہی۔
قطرات ذرا اندرونِ ران کی طرف بہے۔ "شٹ۔ اب یہ شلوار خراب کریں گے۔ " عاتکہ صفائی پسند تھی، ایک لمحے کو اس نے یہی سوچا تھا کہ ذرا سی شلوار کو مسل دے گی تو قطرات جذب ہو جائیں گےلیکن پھر صفائی پسندی کے جراثیم نے اسے دوسری ہی بات سجھائی۔
کچھ حد تک تو بہتے قطرون کی نمی شلوار کو لگی ہی ہوگی۔ قمیص سائڈ میں ہٹا کر اس نے ترنت کھل جانے والے ناڑے کی گرہ کھینچی اور جلدی سے شلوار کو کم از کم گھٹنوں تک کر دیا اور گھٹنے ہلکے سے موڑ لیے تاکہ ڈھیلی شلوار پوری نیچے نہ چلی جائے۔ قمیص کا دامن پھر نیچے ہو گیا، جسے اس نے فرسٹریشن میں واپس بائیں ہاتھ میں پکڑ کر کمر کے پاس سمیٹ لیا۔ پھر دائیں ہاتھ سے ران پر بہے قطرات کو نمی سمیت پونچھتی ہوئی اوپر چوت کے قریب تک جمع کر کے انگلی روک لی۔
اب اسے چند گز دور واقع بیسن پر جانا تھا جہاں وہ اس نمی کو بہا کر ہاتھ کی انگلیاں دھو سکے۔ پیر گھسیٹتے ہوئے وہ بغیر آواز کیے بیسن کی طرف جانے لگی۔
کیا سین تھا۔ اندر کمرے میں ایک باپ اپنی سگی بیٹی کی چوت میں جڑ تک لنڈ گھسیڑ کر چود رہا تھا، کچھ یوں کہ دروازہ بھی پورا بند نہیں تھا، اور دروازے کے باہر ایک ماں یہ منظر دیکھ کر چوت سے پانی چھوڑ بیٹھی تھی، اور اب اس چوت کے پانی کو اپنی دو انگلیوں پر چوت کے نزدیک روکے ہوئے، پتلی شلوار گھٹنوں تک اتارے، قمیص کا دامن کمر پر سمیٹے، سامنے سے پوری ننگی چوت دکھاتی ہوئی واش بیسن کی طرف بڑھ رہی تھی۔
عاتکہ کو آواز کا ڈر تھا۔ اس لیے اس کے قدم بہت آہستہ تھے۔ عجیب بات تھی، ایک ماں کو اپنے شوہر اور بیٹی کی چدائی پکڑنے پر آواز کرنی چاہیے تھی، مگر وہ نہیں کر رہی تھی۔ کیا اسے ڈر تھا کہیں باپ اور بیٹی کی چدائی نہ رک جائے؟
آہستہ آہستہ بیسن کی طرف بڑھتے ہوئے اسے اندر کمرے کی تھپ تھپ بڑھتی ہوئی لگی۔ تھپ تھپ تھپ تھپ۔ لگاتار۔ جڑ تک گھستا لنڈ اس کی نظر میں گھوم گیا۔ کیا اقرار اب بھی ویسے ہی جڑ تک گھسیڑ رہے ہوں گے۔ چوت کے قریب لگی اپنی دو انگلیوں اور ان سے رکی نمی کا احساس اب شدید ہو رہا تھا۔ دل گویا ان دو انگلیوں کے آس پاس دھڑک رہا تھا۔انگلیاں چپچپی اور سلپری جیسی ہو رہی تھیں۔ یہ اس کے دماغ میں ہی تھا۔ کیونکہ اس نے تو انگلیاں ہلائی ہی نہیں تھیں کہ ایسا کوئی احساس ہو۔ مگر شاید رکا ہوا پانی انگلیوں اور ران کے درمیان چلتے ہوئے یہ احساس پیدا کر رہا تھا۔ عاتکہ نے انسٹنکٹ پر عمل کرتے ہوئے غیر اختیاری طور پر اس چکناہٹ کو کنفرم کرنے کے لیے انگوٹھے کو پہلی انگلی کی پشت کے قریب لگایا۔ چکناہٹ نہیں تھی۔ دھیمے دھیمے بیسن کی طرف بڑھتے ہوئے اس نے انگوٹھا ہلکا سا انگلی کی اندرونی طرف کیا۔ اب بھی نہیں! بیسن اب دسترس سے کچھ فٹ کی دوری پر تھا۔ اندر کی تھپ تھپ اب ذرا مدھم ہو گئی تھی، لیکن اس میں ہلکی سی لذت بھری سسکاریاں شامل ہو گئی تھیں۔ اس کی بیٹی فارحہ کی دبی دبی سسکاریاں۔
انگوٹھا اور پھسلا، نمی محسوس ہوئی، کچھ نمی، اور کچھ انسٹنکٹس، انگوٹھا پھسلا، اس نے بالکل ران سے لگا کر پہلی انگلی کے اندر کے حصے کو انگوٹھے سے مسلا۔ چپچپا پانی تو پوری انگلی کے نیچے ہی موجود تھا۔ ہلکی سی پچ کی آواز آئی، انگوٹھا اس کے چوت رس میں تر ہو گیا۔
اس نے گھٹنے ہلکے سے موڑے موڑے ہی آخری قدم کمر کے پاس سے اٹھا کر بائیں ہاتھ سے بیسن کا سرا پکڑا۔ قمیص نے نیچے گر کر اس کے چوت کے پاس موجود ہاتھ کو ڈھانپ لیا۔
اس نے انگوٹھے سے انگلی کی نمی کو مسلنا جاری رکھا، انگلی کی نمی ختم ہونے لگی، انگلی سے ران کا پانی سمیٹ کر مسلتی رہی، پھر دوسری انگلی کے نیچے موجود پانی بھی سمیٹ لیا۔ انگوٹھے اور دونوں انگلیوں کو پھر ران پر پانی کے ساتھ مسلنے لگی، چوت کے بے حد قریب ہاتھ نمی کو ران پر مسل رہا تھا۔ اسے پتہ تھا۔۔۔ اس کی چوت سے کچھ اور قطرات بہنے والے تھے، اسے رک جانا چاہیے تھا، بیسن تو قریب تھا، پانی سمیٹ کر محض انگلیاں دھونا باقی تھا۔ لیکن بیسن کے کنارے کو مضبوطی سے تھامے ہلکی سی جھکی جھکی اب اپنی دو انگلیوں سے چپچپی ران کو مسل رہی تھی۔ انگلیوں کا رخ افقی سے ہلکا سا عمودی ہوا، اب ان کا گٹوں کی طرف کا حصہ چوت کے دائیں لب سے بالکل ٹچ ہونے لگا۔ اسے لگ رہا تھا کہ اگلے قطرات نکلنے ہی والے ہیں۔ رکنے کی انتہائی کوشش کے بعد اس کا ہاتھ ہلکا سا دھیما ہوا، اس نے سانس لے کر ہاتھ نکالنے کی سوچی۔ دل و دماغ میں کشمکش ہوئی، انگلیاں اب صرف پوروں سے پانی کے چپچپے پن کو محسوس کر رہی تھیں، جو گاڑھا ہو کر پیسٹ جیسے بن رہا تھا اور لذت کم ہو رہی تھی، تبھی انگلیوں کے گٹوں کے پاس کے عضلات نے چوت کے دائیں لب کو چھوا، اور لبالب بھری ہوئی چوت سے کچھ قطرات چھلک کر ران پر بہہ پڑے۔ اندرونِ ران کی طرف۔ اس کی انگلیوں کی طرف نہیں، لیکن انگلیاں بے تابی سے اس رس کو ران سے پونچھتی ہوئیں اسی مقام پر لے آئیں، گاڑھا پیسٹ پھر سے لذت بخش ہوگیا، انتہائی لذت بخش۔ انتہائی لذت۔ چوت کے بہت قریب۔ کچھ اور قطرات ٹپکے۔ انگلیوں کی حرکت ذرا اور آزار ہو کر چوت کے عضلات کو حرکت دینے لگی۔ اس کا بایاں ہاتھ بیسن پر مضبوط ہو گیا۔ چوت کے آس پاس کے عضلات براہِ راست سہلائے جانے لگے۔
پھر اندر کمرے سے ایک زبردست تھپ کی آواز آئی۔ اس کی نظر میں منظر گھوما۔ شوہر کا لنڈ، بیٹی کی چوت۔ "باپ بیٹی " چوت رسنے لگی، چوت کے عضلات کے ارد گرد چکناہٹ بے تحاشا ہوئی۔ دو انگلیوں کی جگہ تین انگلیوں نے لی، "سگا باپ اور بیٹی۔۔۔ باپ اپنی سگی بیٹی کو۔۔۔۔" پھڑکتی چوت نے ایک جھٹکا لیا، "چود رہا ہے۔ سگی بیٹی کو" اس نے دانت پوری قوت سے بھینچے پانی آزاد ہوا اور فراک کے دامن کے نیچے اس کا ہاتھ چوت کو مسلنے لگا۔
اب میں ہاتھ نہیں دھو سکتی تھی۔ قمیص کا دامن پر کئی دھبے پڑ چکے ہیں ویسے بھی۔ وہ پلٹ کر واپس دروازے کی طرف آنے لگی۔ ماں اپنی بیٹی کو شوہر سے چدتے دیکھنے کے لیے چوت مسلتے ہوئے آنے لگی۔ رات کے اس پہر، کھلے میں، شلوار گھٹنوں تک کیے، ہلکا سا جھک کر چلتی، کرتے کا دامن کمر پر پکڑے ٹانگیں کھول کھول کر چلتی عاتکہ۔ کتنی بڑی رانڈ ہوں میں۔
آاہ۔ ہاتھ اور تیز ہو گئے۔ ہاں میں رانڈ ہوں۔ وہ دروازے سے اندر جھانکتے ہوئے چوت مسلنے لگی، قمیص کا دامن اب اس نے آگے پیچھے دونوں جگہ سے سمیٹ لیا تھا، اس گانڈ کے بھی اوپر کر دیا تھا۔ شلواراب ٹخنوں تک گر چکی تھی، پیچھے اور آگے سے ٹخنوں تک پوری ننگی عاتکہ، دروازے کی چوکھٹ سے لگی دیوار پر اپنا کاندھا ٹکائے آگے کو جھکی ہوئی تھی۔ پیچھے سے اس کی باہر کو نکلی ہوئی گانڈ اور نیچے ہلکی سی ابھری چوت کی پھانک کی جھلک، اور اسے مسلتی انگلیاں دیکھی جا سکتی تھیں۔ پانی کی چپ چپاہٹ اب باقاعدہ اسے سنائی دے رہی تھی، لیکن اندر کی تھپ تھپ مقابلے میں زیادہ تیز تھی۔ دروازہ کھلا چھوڑ کر اتنی آزادی سے باپ بیٹی چدائی کر رہے ہیں، یوں کہ آواز بھی باہر تک آ رہی ہے۔اففف! سوچ کر اس کی چوت نے ایک بار اور جھٹکا کھایا اور لبالب بھری چوت نے مزید رس چھوڑا۔
عاتکہ کھلے رنڈی پن پر اترتے ہوئے
عاتکہ نے چوت کو مسلتی انگلیوں کو ہٹا لیا ۔ دوسرا ہاتھ بدستور کپڑے کو سمیٹے ہوئے تھا۔
اس کے ذہن میں ایک عجیب خواہش جاگی تھی، لذت آمیز خواہش۔ اپنی ہی گانڈ پر تھپڑ مارنے کی خواہش۔
اس نے ہاتھ پیچھے لے جا کر دھیرے سے اپنی پلمپ گانڈ پر مارا۔ پٹ۔ ہلکی سی آواز آئی۔ لیکن یہ بالکل الگ سے سمجھ میں آئی تھی کیونکہ اندر کی تھپ تھپ سے بالکل ہٹ کر آواز تھی۔ عاتکہ اس آواز پیدا کرنے پر "آا" کر کے ہلکا سا منہ کھولا، لیکن یہ پکڑے جانے کا ڈر تو اور لذت بخش تھا۔ چوت نے جھٹکا کھایا۔ اب اس نے ذرا محتاط ہو کر اندر کی تھپ تھپ پر دھیان دیا، ہاتھ پھر اٹھا، اور پٹ۔ یہ آواز تھپ تھپ کے ساتھ سِنک تھی، چنانچہ سنے جانے کا اتنا ڈر نہیں تھا۔ لیکن جب تک الگ سے سنائی ہی نہ دے تو لذت کیسی۔ عاتکہ نے سانس کھینچ کر "آ" کیا پھر نچلا ہونٹ دانتوں میں دبا کر پے در پے چار تھپڑ اپنی گانڈ پر لگائے۔
اندر کی چدائی ویسے ہی جاری رہی۔
اس نے اس بار قوت یکدم دگنا کر دی اور بے شرمی سے کوئی ایک درجن تھپڑ اپنی پلمپ گانڈ پر لگائے۔ آواز سنائی دینے لگی تھی اس نے چوت کو جھٹکا مارا لیکن تھپڑ جاری رکھے۔ پٹ پٹ پٹ پٹ۔
چوت بے تحاشہ رسنے لگی۔
ہونٹ دانتوں میں دبائے وہ لذت سے ہانپنے لگی۔
ایک بار پھر دروازے پر جھکی، اب کے اور زیادہ جھکی تھی۔ اپنی چوت سے بہتے شہوانی رس سے انگلیاں سانیں، ایک دو بار چوت کو تڑپ کر انگلی بھی گھسیڑی، پھر اندر اپنے شوہر اور بیٹی کی چدائی دیکھتے ہوئے چوت رس سے سنی انگلیاں اپنی منہ میں ڈال لیں۔
باہر کو نکلی گانڈ کے بیچ سے اس کی چوت جھانک رہی تھی۔ یکدم اسے محسوس ہوا کہ چوت کے سوراخ پر ایک سخت اور گرم عضو آ چپکا ہے۔
گھر میں اب میرے بیٹے کے علاوہ کوئی نہیں ہے۔ یعنی۔۔۔ یعنی۔۔۔ میرا بیٹا۔۔۔ میرا سگا بیٹا نظیف، اپنی ماں کی چوت پر لنڈ رکھ چکا ہے؟ اس کا منہ حیرت سے کھل گیا، پھر جب یہی الفاظ ذہن میں ایک بار اور دہرائے تو ۔۔۔ تو۔۔۔ نظیف میرا پیارا سگا بیٹا، جو مجھے۔۔۔ امی بلاتا ہے، اپنی امی کی چوت پر۔۔۔ میرے سگے بیٹے کا۔۔۔موسل۔ چھی! اتنے غلط کام کرنے کی لذت سے پورا بدن شرابور ہو گیا۔اس نے کھلا منہ بند کیا اور دانت پیس کر بدن کو جھرجھری دی۔لذت بھری جھرجھری۔
۔۔۔
نظیف امی کو دیکھتے ہوئے، الٹیمیٹ ٹیبو
نیوی بلیو رنگ کا لوور پہنے سویا تھا۔ سوتے ہوئے اس کا لنڈ بائیں ران پر بچھا تھا۔
نظیف اپنے روم کے باہر کھڑا سامنے کا منظر دیکھ کر سن رہ گیا۔ لنڈ لوور سے ایسا ابھار بنانے لگا جیسا کہ وہ باہر پبلک میں بنانے کی کوشش کرتا تھا۔
اپنی امی کو رنڈیوں کی طرح خود کی گانڈ پر تھپڑ مارتے دیکھ کر نظیف سے برداشت نہیں ہوا اور اس نے نیوی بلیو لوور کھینچ کر نیچے کر دیا اور لنڈ پر ہاتھ چلانے لگا۔
چوت کا رس چاٹتی عاتکہ رانڈ؟ اندر کا منظر؟
اب اس کے دماغ پر شہوت پوری طرح سوار ہو چکی تھی۔
تنی ہوئی رگوں والے موسل کو جڑاور ٹٹوں سے پکڑ کر انتہائی سخت کر کے چپچپی چوت کے مادری سوراخ میں ڈال دیا اور اندر کرتا گیا، یہاں تک کہ نظیف دائیں ہاتھ کا انگوٹھا جو لنڈ کی جڑ پر لپٹا ہوا تھا، اپنی امی کی چوت سے جا ٹکرایا۔
گرم بھٹی کی طرح چوت، رس چھوڑتی، اندر کھینچتی اور ٹائٹ مادری چوت۔ آاہ یہ میں کیا کر رہا ہوں۔ اپنی سگی ماں کو۔۔۔ چود رہا ہوں۔۔۔اف! کوئی پردہ نہیں، میری امی کی چوت میں میرے ہاتھ کی انگلی نہیں ہے، یا پیر کا انگوٹھا نہیں ہے کہ حد پار نہ ہو۔ یہ تو لنڈ ہے۔ اور محض ٹچ نہیں کر رہا، کہ چوت کے اوپر اوپر رگڑوں تو حد کراس نہ ہو۔۔۔ یہ تو چوت کے اندر ہے۔ نظیف نے جوش سے بھر کر لنڈ جڑ تک اتار دیا۔ جڑ تک چوت کے اندر ہے۔ حد پار ہو گئی ہے۔ میں اپنی سگی ماں کو چود رہا ہوں۔ امی ۔۔۔ عاتکہ۔۔۔ ہاں میں امی کو چود رہا ہوں۔ میں شہوت سے بھرا بیٹھا تنے ہوئے لنڈ والا نظیف، ہر وقت چدائی کا سوچنے والا نظیف، میں یہ سوچ کر مٹھ نہیں مار رہا، میں امی کو سوچ کر لنڈ صرف کھڑا نہیں کر رہا، میں اپنی سگی ماں کو چود رہا ہوں۔ میں شہوت سے بے حال مادر چود ہوں۔ اور امی چدوا رہی ہے۔ یہ رانڈ۔۔۔ اپنی بیٹی کو شوہر سے چدتا دیکھ کر گرم ہو گئی ہے اور چوت مسل رہی ہے بے شرمی سے۔ آدھی رات کو کھلے عام راہداری میں کھڑے ہو کر بے شرمی سے، یہ سوچے بغیر کے اس کا سگا جوان بیٹا اسے دیکھ لے گا۔
رانڈ
نظیف بولا۔ عاتکہ کو یقین نہیں ہوا۔ آں؟
کھلے عام بے شرمی سے گانڈ کھول کر پوری شلوار نیچے کر کے چوت مسل رہی ہے، رانڈ!
آااں ۔ عاتکہ شاک ہو گئی۔
یہ بھی نہیں سوچا کہ میں دیکھ لیتا تو؟ تیرا جوان سگا بیٹا پیچھے کے کمرے میں ہے، اس کا دروازہ بھی نہیں ہے۔
عاتکہ نے شرم محسوس کرنے کی کوشش کی، لیکن یہ کیا، اس کی چوت مزید رس چھوڑ رہی تھی۔
اوووہ رانڈ۔ واقعی یہ سن کر اچھا لگ رہا ہے میری سگی ماں کو۔ گرم ہو گئی تھی رنڈی؟ تجھے معلوم تھا کہ بیٹا آ سکتا ہے پھر بھی کھڑی تھی ہے نا؟
عاتکہ مزید شدت سے دھکے مارنے لگی۔ تھپ تھپ کی آواز گونج اٹھی
نظیف حیرت اور جوش سے بھر گیا۔
رنڈی سالی، سگے بیٹے کا لنڈ لے کر بھی گرم ہے، بول تو رانڈ ہے۔ بول اسی لیے کھڑی تھی
ہاں بہت بڑی رااانڈ ہوں میں۔ عاتکہ، بھولی بھالی شریف پاپا کی بیٹی۔ اپنے سگے بیٹے سے چدوا رہی ہوں۔ اپنی بیٹی کو شوہر سے چدتا دیکھ کر گرم ہو تی ہوں۔ بے شرمی سے راہداری میں کھڑے ہو کر چوت مسلتی ہوں۔ چود اپنی امی کو۔ اپنی سگی امی کو۔ بول امی امی ۔ امی جی بول کر چود ۔ چود امی امی بول کر۔ نظیف اپنی سگی امی کو چود رہا ہے۔ میرا سگا بیٹا مجھے چود رہا ہے۔
کمرے سے پکاریں لگنے لگیں۔ برآمدے میں چیخیں لگنے لگیں۔
امی جی امی جی۔ امی کو چود رہا ہوں۔ نظیف امی کو چود رہا ہے
ہاں سگے بیٹے سے چد رہی ہوں میں۔ اندر شوہر سگی بیٹی چود رہا ہے۔
پاپا پا پا پا پا
بھائی جااااان
فارحہ۔۔۔۔۔
میرے بیوی اپنے سگے بیٹے سے چد گئی۔۔۔۔ آاااہ
نظیف کا لنڈڈڈڈڈ
پاپاپااااااا؟
عاتکہ اور فارحہ بھلبھلا کر جھڑنے لگے۔ نظیف اور اقرار ایکدوسرے کے لنڈ پر نظر جمائے چھوٹنے لگے۔
***
Cuckold Talk Fariha
"ارشد، بھڑوے ارشد۔ دیکھ میں اپنے سگے پاپا سے چدتی ہوں۔ فارحہ رانڈ، تیری بیوی اپنے سگے بھائی سے چوت مروائے گی۔ تو پاس کھڑے ہو کر مٹھ مارنا۔
اپنی چوت میں اپنے سگے باپ کا مٹھ بھروا کر اور گانڈ میں نظیف بھائی جان کا گرم گاڑھا مٹھ لے کر آوں گی۔
بغیر دھوئے۔
بول چاٹے گا؟
بول بھڑوے ارشد۔ ستی ساوتری معصوم سی دکھنے والی تیری بیوی فارحہ کی چوت چاٹے گا۔ بول بھڑوا بنے گا فارحہ کا۔ میری چوت سے کسی دوسرے مرد کی منی کھائے گا۔ گانڈ کے سوراخ سے میرے بھائی کا مٹھ چاٹے گا۔"
ارشد کو یقین نہیں ہوا کہ اس کی گردن ہاں میں ہل رہی ہے اور اس کا لنڈ مزید سخت ہو گیا ہے۔
" پھر منہ سے بولنا میں بھڑوا ہوں۔ اپنی بیوی کا بھڑوا ہوں۔ رانڈ فارحہ اپنے سگے باپ سے چدتی ہے۔ تیری بیوی اپنے سگے رشتے داروں سے چدتی ہے۔ "
"آاہ ہاں فارحہ میں بھڑوا بنوں گا۔ تیری چوت ۔۔۔۔چھیی۔۔۔تیری چوت سے اپنے سسر کا مٹھ چاٹوں گا۔ گانڈ میں موجود نظیف کے مٹھ کو لیوب کے طور پر استعمال کروں گا۔"
"ہاں بھڑوے ارشد۔ میرا شوہر ارشد بھڑوا۔ اور زور سے چود۔ تھپ تھپ آواز آنی چاہیے۔ باہر تک جانی چاہیے۔ تیری رنڈی ماں تک۔ "
"فارحہہہہ۔ ؟؟"
"ہاااں۔ " اس نے شہوت کے زور میں شیطانی مسکراہٹ اچھالی۔ "مار۔۔۔ماار نہیں تو میں چلا دوں گی۔ گالیاں بکتے ہوئے۔"
تھپ تھپ تھپ تھپ۔ آواز بڑھنے لگی۔
"سوچ بھڑوے ارشد یہ آواز سن کر تیری امی گرم ہوگئی تو؟ چود چود۔ اپنی امی کو گرم کر دے۔ سگے بیٹے کی چدائی کی آوازیں ماں کو گرم کر دیں گی چود۔۔۔۔ "
ارشد ٹرانس میں اسپیڈ بڑھاتا گیا۔ آواز کا ڈر ختم ہوگیا۔ تھپ تھپ آواز اب واقعی بڑھ کر باہر تک جا رہی تھی۔ سناٹے میں گونج رہی تھی۔
فارحہ نے سسکیاں آزاد چھوڑ دیں۔ آواز بلند ہو گئی۔ "چود بھڑوے ارشد۔ آاااہ۔ اس کے بعد۔۔۔اس کے بعد۔۔۔"
ارشد اسے روکنا چاہتا تھا۔آگے وہ جو گندا بولنے والی تھی اسے کہنے نہیں دینا چاہیے تھا۔ لیکن اس کا ایک حصہ ، ران کے درمیان والا حصہ اسی ولگر، پرورس چیز کو سننا بھی چاہتا تھا۔
"مجھے چودنے کے بعد۔۔۔ اپنی ماں کو چدتے دیکھنا۔ وہ بھی چد رہی ہوگی۔ چدکڑ راانڈ۔" فارحہ نے اپنے شوہر کی آنکھوں میں پڑھ لیا۔۔۔ ایک بیٹا اپنی ماں کی چوت کا تصور کر چکا تھا۔ " بول دیکھے گا؟ سگی ماں کا۔۔۔چدتے ہوئے وہ حصہ۔۔۔ وہ لنڈ کو اندر باہر لیتا ہوا حصہ دیکھے گا؟"
ارشد نے ہاں میں گردن ہلائی۔
"بھڑوا ارشد۔۔۔ ماں کا وہ حصہ ۔۔۔ ایک بیٹا اپنی سگی ماں کا وہ حصہ دیکھنے کو ہاں بول رہا ہے۔۔۔۔ ارشد کی امی کی چووووت۔" فارحہ اور ارشد کے ذہن میں ایک جیسی ابھری ہوئے بڑی سی چوت آئی اور دونوں بھلبھلا کر جھڑنے لگے۔
***
اقرار کو زبردستی بائسیکشول پرورٹ بناتے ہوئے، پیشاب
آہ نظیف بھائی جان کا جوان تگڑا لنڈ ۔۔۔ دیکھو نا پااپا۔۔ پاپا دیکھو نا لنڈ۔ لنڈ دیکھو۔ لنڈ دیکھو۔ دیکھو نسوں سے بھرا ہوا تنا ہوا لنڈ۔ اس کو کو منہ میں لو نا پاپا۔ پاپا بھائی جان کا لنڈ منہ میں لو۔ حلق تک لو۔ آہ پاپا۔ اور اندر۔ دھکیلو بھائی جان ۔۔۔ اندر تک گھساؤ۔ لو پاپا۔آاااہ سگے بیٹے کا لنڈ باپ کی حلق تک گھسا ہوا ہے۔ چودو۔ منہ چودو۔ پاپا کا منہ چودو۔ پورے مل کر ہاں۔ الٹا لٹآؤ۔ چودو۔ آاااہ۔ گلے میں لنڈ کا شیپ نظر آ رہا ہے۔ امی چوت مسلی رہی ۔۔۔۔ آہ بھائی جان کی گانڈ پر تھپڑ مارو۔ اور زور سے۔ چٹاخ۔ پوری طاقت سے ایسے ۔۔۔ چٹآخ۔ ہاں بھڑوا اقرار۔ موت دو امی۔ پیشاب کردو۔ حلق تک گھسیڑ۔۔۔ نظیف کی گانڈ دبا کے رکھ فارحہ۔ بھڑوے اقرار۔۔۔ سانس رک گئی۔۔۔ہاں۔۔۔ اور لے سگے بیٹے کا لنڈ۔۔۔اور زور سے دبا فارحہ اس کی گانڈ۔۔۔ ٹٹوں تک۔ یہ لے پیشاب۔۔۔۔بھڑوا اقرار۔۔۔سسسس ۔
فارحہ پیشاب کی دھار پاپا کے لنڈ پھنسے منہ پر گرتے ہی جوش سے بھر گئی۔ پاگلوں کی طرح پوری طاقت سے نظیف کی گانڈ پر تھپڑ لگانے لگی۔ اپنے سگے باپ کے منہ کو گلے تک چودتا نظیف، یہ نظارہ اور گانڈ پر تھپڑ اور رنڈی ماں کی پیشاب کرتا نظارہ برداشت نہ کر سکا۔۔۔ آااہ میں چھوٹ رہا ہوں۔۔۔
لنڈ نکالنے کو کیا۔ اقرار نے اپنے تنے ہوئے لنڈ پر ہاتھ چلاتے ہوئے سوچا کہ سانس لوں۔۔۔ لیکن پیشاب کی دھار مارتی عاتکہ تڑپ کر چیخی ۔۔ ۔نہیں اٹھنے مت دے فارحہ۔ دبا اس کی گانڈ۔۔۔
فارحہ نے نظیف کی گانڈ کو شدت سے دبایا۔۔۔ لنڈ اندر ہی رہا۔۔۔
نظیف جھڑنے لگا۔۔۔
سگے بیٹے کا گاڑھا مٹھ باپ کے منہ میں۔۔۔
عاتکہ دانت پیستے ہوئے نظیف کو جھڑتے دیکھا اور پیشاب کی دھار بھی اقرار کے منہ کی طرف کر دی۔۔۔
فارحہ چوت میں تین انگلیاں اندر باہر کرتے ہوئے بھلبھلا کر جھڑنے لگی اور جھڑتے ہوئے پاپا کے منہ پر بیٹھ گئی۔
غغغ کہہ کر اقرار نظیف کی گانڈ کی طف دھاروں سے پچکاریاں مارتے ہوئے چھوٹنے لگا ۔
٭٭٭
بیوی گالی بکتے ہوئے
”اوئی بہن چود! “
نظیف شاک رہ گیا۔ اس کی بیوی نے کبھی ایسے گالی نہیں دی تھی۔
”تمہاری بہن کی پھدی نہیں ہے جو ایسے رج رج کے مار رہے ہو۔“
”اپنی بہن سمجھ کے چودو تو ذرا آہستہ کرو گے۔ رنڈی سمجھ کر مت چودو۔“
”ہو سکتا ہے بہن کو زور سے چدوانا پسند ہو، مجھے نہیں پسند۔“
”فارحہ کی چوت کھلی ہوئی ہوگی نا! میں ایک انگلی بھی نہیں ڈالتی تھی۔ میری چوت بالکل کوری تھی۔ فارحہ کا معلوم نہیں روز رات میں انگلی ڈالتی تھی۔۔۔۔ یا انگلیاں۔“
”تم نے تو دیکھا ہوگا نا۔ کیا سوچ کر چوت چودتی ہوگی وہ۔ اور کوئی لڑکا تو تھا نہیں زندگی میں۔ بس اپنے بھائی اور پاپا کو ہی دیکھا تھا۔“
”کہیں۔۔۔ کہیں فارحہ تمہیں ہی سوچ کر تو چوت نہیں مسلتی تھی؟ تمہارا لنڈ دیکھا ہوگا اس نے۔ باتھ روم میں تمہارا جانگھیا اب بھی ٹنگی رہتی ہے۔ اس میں رات کا مٹھ دیکھ لیا ہوگا کبھی۔“
”اپنے سگے بھائی کا مٹھ چاٹتی ہوگی کتیا!“
"معصوم" بیوی کا شادی سے قبل رنڈی پن
نظیف کی بیوی ایک نمبر کی رانڈ تھی۔ وہ مدرسہ جاتی تھی، برقع بھی پہنتی تھی، مگر کون جانتا تھا کہ اس برقعے کے اندر کتنی ہی بار اس نے پتلی جھینی لیگنگ پہن کر پورے بازار کا چکر لگایا تھا۔ یہی نہیں، برقع کے اندر وہ کرتے کو جان بوجھ کر پیچھے سے اٹھا کر لیگنگ کی سائڈ میں کھونس دیتی تھی۔ اس طرح اس کے برقعے اور لیگنگ میں کوئی اور کپڑا نہیں آتا تھا۔ پلمپ گانڈ تو ویسے بھی نظر آتی ہے، یوں کرتا ہٹ جانے سے اور ظاہر ہو جاتی تھی۔
رنڈی ایڈرلائن رش کی عادی اور ایگزی بیشنسٹ بھی تھی۔ اس لیے ایسی حرکتیں سب کے سامنے کرتی پھر تنہائی میں ان لمحات کو سوچ کر خوب چوت مسلتی اور تھرتھراتے ہوئے جھڑتی۔ کئی بار اس نے یہ بھی کیا کہ بازار میں ایسے ہی لیگنگ میں کرتا کھونس کر نکلتی، اور بھرے بازار میں، کپڑا دیکھتے ہوئے، یا کوئی اور کام کرتے ہوئے، دھیرے سے برقے کے اوپر ہی سے اندر موجود پتلی لیگنگ کا کپڑا پکڑتی اور اسے گانڈ سے سرکا تی۔ دیکھنے والوں کے لیے نارمل بات تھی، ایسے برقع پکڑ کر چلنا، یا کھجانا وغیرہ عام بات ہے۔
بہت زیادہ سرک نہ پاتا اور دیکھنے والوں کے لیے بھی نارمل ہوتا، تو اس کے اندر کی رانڈ جاگ جاتی۔ وہ ایڈرلین رش کے لیے پوری طرح بے شرمی سے برقع اوپر کو اٹھاتی، یہاں تک کہ نیچے سے برقع پنڈلیوں سے اوپر ہو جاتا، اس کی لیگنگز نظر آنے لگتیں۔ یوں اتنی اوپر اٹھے برقعے کے کپڑے کو کمر سے بھی اوپر پیٹ تک اٹھا کر دائیں ہاتھ سے سمیٹتی، پھر بائیں ہاتھ سے لیگنگ پکڑ کر دھیرے دھیرے برقع اس کے ساتھ چھوڑ دیتی۔ آہ۔۔۔ لیگنگ پوری طرح گانڈ کے نیچے ہو جاتی۔ اتنی دیر تک اسے کوئی پرواہ نہیں ہوتی تھی کہ کوئی دیکھ لے گا تو کیا سوچے گا۔ آرام سے دایاں ہاتھ بھی لے کر دائیں طرف کے چوتڑ پر سے بھی لیگنگ پوری کھسکاتی۔ سامنے سے چوت وغیرہ ڈھکی ہوتی لیکن پیچھے بغیر پینٹی کی ننگی گانڈ اور برقع کے بیچ کچھ بھی نہ ہوتا۔
ایک بار تو اس نے دانت پیستے ہوئے لیگنگ اس قدر نیچے کر دی تھی کہ وہ ران کے نچلے کنارے کو جا لگی تھی، سامنے سے بھی سب کھل گیا تھا اور پھر اسے چلنے میں بھی ذرا دقت ہونے لگی تھی۔
ایسے میں پیچھے سے صاف نظر آتا کہ گانڈ کے نیچے کچھ ابھرا ہوا سا ہے۔ اور اسی سمٹی ہوئی لیگنگ کے ابھار کی وجہ سے چوتڑ اور نمایاں نظر آتے۔ پھر بھی برقع کافی کچھ پردہ کر دیتا تھا۔
یونہی برقع پہن کر ایک بار وہ گھر سے نکلنے کو سوچ رہی تھی کہ بڑا عجیب سا خیال آیا جس کو سوچ کر اس کا دل دھڑکنے لگا۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ ایک پرانی لیگنگ لے کر اسے پوری طرح پھاڑ دوں، یوں کہ چوت اور گانڈ سے نیچے سرکانے کی نوبت نہ آئے، ہاں، لاسٹک بدستور موجود رہے۔
یہ لیگنگ اتنی پرانی تھی کہ پوچھے کا کپڑا بنانے کے لیے امی نے رکھی ہوئی تھی۔ پرانی ہونے کی وجہ سے اس کا کپڑا بالکل گھس چکا تھا اور بالکل جھینا ہو گیا تھا۔
اس نے پوری ننگی ہو کر جلدی سے لیگنگ پہنی۔ وہ سامنے کے کمرے میں آئی۔ دروازہ پورا کھول دیا۔ پھر سے لیگنز نیچے سر کا دی، پھر اسے دروازے سے آتی روشنی میں محض سلائی مشین کی آڑ لے کر پھاڑنے لگی۔
کام مکمل ہوتے ہی اس نے اوپر پہننے والے کرتے کی سوچی۔ اس نے اپنی چھوٹی بہن کی ایک کرتی نکالی۔ یہ محض اس کے کولہوں کے نچلے حصے تک آ رہی تھی۔ کرتی سوتی تھی اور نرم کپڑا تھا۔ اس نے کرتی سمیت انگلی سے اپنی چوت مسل کر دیکھی۔ لیگنگ تو پھٹی ہوئی تھی۔ کرتا ڈائرکٹ چوت پر لگا۔ اس نے سوچا اپنی سگی بہن کی کرتی کو اپنی چوت پر ٹچ کر رہی ہے۔ اگر اس نے اسے بغیر دھوئے ہی واپس رکھ دیا تو!
اپنی گندی سوچ پر اس نے لذت سے کرتی کا کپڑا چوت کے سوراخ میں گھسا دیا۔ اور اندر۔ اور اندر۔ پھر دھیرے دھیرے کر کے اسے نکالا۔ وہ نم ہو چکا تھا۔ اس نے اسے اٹھا کر اپنی منہ میں ڈال لیا اور چوسنے لگی۔ نہ چاہتے ہوئی بھی اس کے ذہن میں چھوٹی بہن کی صورت آ گئی۔ یہی کرتی اس کی چوت کے پاس بھی لگے گی۔ چھی!
اس نے فورا برقع پہنا اور بازار کی طرف چل دی۔
بازار میں خریداری کرتے ہوئے اس نے رفتہ رفتہ دکان کے ایک ستون کے دوسری طرف قدم بڑھائے، بالآخر، وہ ستون سے ٹک گئی اور دائیں ہاتھ سے کپڑے اٹھاتی رکھتی، وہ بائیں ہاتھ سے برقعے سمیت چوت مسلنے لگی۔
بہن کی کرتی بار بار سامنے آ رہی تھی۔ اس نے دائیں ہاتھ کا کرتا رکھ دیا۔ اور سیدھی ہو کر بھری دکان میں، پوری بے شرمی سے برقع اوپر اٹھایا، پنڈلی، گھتنے، رااان، کمررررر۔۔۔۔ کرتی کو پکڑ کر دونوں دامن دو طرف کھونس دیے اور برقع چھوڑ دیا۔ یوں کرتے ہوئے اس کی چوت کوئی پانچ سیکنڈ تک پبلک ویو میں رہی۔ اس نے بے اختیار ہو کر پھر برقع اٹھایا، اور اکڑوں بیٹھتے ہوئے گھٹنوں تک اٹھے برقعے کے سامنے سے ہاتھ اندر کیا، پھر گھٹنے زمین پر ٹکا دیے اور مکمل آزادی سے چوت مسلنے لگی۔ دایاں ہاتھ اب بھی نئے کپڑے کھنگال رہا تھا۔ اس نے ایک سوٹ کا دوپٹہ اٹھایا، اپنی چوت اس پر رگڑنے لگی۔ پھر ایک سوٹ کا دامن کھینچ کر اس سمیت چوت میں انگلی کرنے لگی۔ پھر ایک دم بس ہوگئی، بے اختیار سب چھوڑ چھاڑ کر آگے پیچھے ہوتے ہوئے وہ دو انگلیاں آزادی سے چوت میں ڈال کر چودنے لگی۔
”کچھ پسند آیا باجی؟“ دکان دار لڑکے نے جھانکا۔
”ہاں بس! تھوڑی دیر بھیا“ اس نے جلدی سے رس سے سنا بایاں ہاتھ آگے پڑے کپڑے پر رکھ کر خواہ مخواہ دیکھا۔ رس کپڑوں پر لگتا گیا۔ اس نے بلا جھجکے دکان دار کے سامنے پونچھ دیا۔ دایا ں ہاتھ بدستور چوت چودتا رہا۔
”نیچے ایک مست پیس ہے، وہ دکھاتا ہوں ایک منٹ!“ تھانوں کے جمگھٹ سے جوجھتا وہ آگے بڑھنے لگا۔
”بھیااا ہاں بھیا ایک منٹ بس بھیااا“ اس نے بایاں ہاتھ جلدی سے واپس کھینچ اپنی گانڈ کے سوراخ پر رکھا اور چوت چودتی گانڈ مسلتی یکایک جھڑنے لگی۔ ”بھیااا“
چووت سے دھار کی شکل میں پانی کپڑوں کے تھان کی طرف گیا جسے اس نے بائیں ہاتھ سے روک مٹھی میں بند کر لیا اور کھڑی ہو گئی۔
لڑکا جھک کر تھان سے کپڑا نکال رہا تھا۔ اس کے سر پر کھڑی ہو کر اس نے بائیں ہاتھ کا پورا گاڑھا نمکین رس اپنے منہ میں ڈال لیا اور انگلیاں اندر باہر کرنے لگی۔ اس کے چہرے پر اطمینان تھا۔
جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔
۔۔۔
Sissy Nazeef & bi-incest perversity
"Nazeef you are a bitch. Spread that ass. You love showing off your plump ass to others don't you. I saw you many times. You publicly pat your own ass and thighs. You don't wear underwear and lift your sweatpants up so that material clings to your meaty thighs and needful buttocks. You little bitch. Show your boy pussy. Yesss. That brown hole seems bigger than the normal size. You've been inserting your finger there. You finger fuck your asshole while you furiously jerkoff don't you. You imagine it's your... your father, your own father's cock is fucking you."
Nazeef's eyes widened with the filthy talk, but he kept stroking his cock.
"Cum. Cum you dumb ass filthy bitch boy. Your father will love filling your ass hole with his cum."
"Jerkoff faster. Yessss. Imagine Iqrar is cumming inside you... Maybe, he will force you to eat and swallow all his nasty cum."
Nazeef gave into the perversity and started bucking his ass, ejaculating ropes and ropes of gooey cum.
...
فارحہ اپنی بھابھی سے گرم باتیں کرتے ہوئے
بہت خراب۔۔۔ اور اگاؤ۔۔۔ اور ہشیار۔۔۔ اور کمینے ، اور ۔۔۔۔کتے، اور ۔۔۔"
"بہن چود۔ لیکن بہن تو میں ہوں؟"
یعنی میرا بھائی مجھے چودتا ہے ایسا بولوں میں؟
ایسا بولوں گی تو اس کو چدائی کا خیال آ جائے گا۔ اور مجھے بھی۔
چدائی سے چوت اور لنڈ دونوں یاد آئیں گے۔ لیکن چونکہ بہن چود کہوں گی، تو اس کو اپنی جوان سگی بہن کی پھولی ہوئی چوت تصور میں آئے گی، اور اس میں اس کا موسل جاتا ہوا دکھے گا۔ مجھے بھی اپنے بھائی، سگے بھائی کا۔۔۔ لنڈ۔۔۔ چھی اپنے سگے بھائی کا بڑا لنڈ دھیان میں آئے گا۔ عائشہ بھابھی آپ بھی نا۔ کہیں پھر آپ کو چودتے وقت اس کے ذہن میں اپنی بہن کی چوت آ گئی تو؟
اوووہ عائشہ بے اختیار ہو کر فارحہ کے سامنے ہی اپنی پھولی چوت مسل بیٹھی۔
بھابھی ی ی ۔۔۔ فارحہ حیرت سے اس کی بے شرمی پر چیخ پڑی۔
عائشہ کا چہرہ مارے شہوت کے بھبوکا ہو گیا۔۔۔ " سسس فارحہ، پتہ نہیں تو نے ایسا بولا تو مجھے برداشت نہیں ہوا۔ ایک بھائی اپنی سگی بہن کی چوت کا تصور کرے گا، مجھے چودتے ہوئے۔۔۔ کتنی غلط لیکن کتنی کتنی ہاٹ فینٹسی ہے۔ آج ہم چدائی کرنے ہی والے ہیں۔ اگر یہ سچ میں ہو جائے تو۔ اوہ مائی گاڈ میں ان کے ذہن میں یہ خیال ڈال دوں تو، وہ بھلے ہی مجھے تھپڑ مار دیں، لیکن، ان کے سامنے سگی بہن کی چوت کا ذکر رواروی میں کر کے میں تو ویسے ہی جھڑ جاؤں گی۔" عائشہ نے دانت پیس کر مزید بے شرمی سے پھولی چوت رگڑ ڈالی۔
"میں آتی ہوں، ذرا چوت پنیا گئی ہے آہ" عائشہ جلد بازی میں اٹھ بھاگی، اس طرح کے اس کا ہاتھ بدستور اپنی پھولی چوت کو مٹھی میں پکڑے ہوئے تھا۔
فارحہ شاک میں بیٹھی رہ گئی، اتنی گندی باتیں کر تے ہوئے اسے بھی اپنی چوت میں پانی کا احساس ہوا۔ "فک اٹ" دانت تلے ہونٹ دبا کر اس نے لیگنگ میں ہاتھ ڈال کر انتہائی تیز رفتاری سے چوت کا دانہ پے در پے مسل ڈالا اور دبی دبی آواز میں چیخی۔۔۔ "بھابھییییی"
اسی وقت کھلے دروازے سے عاتکہ داخل ہوئی۔ بھرے دن کی روشنی میں، سامنے ہی صوفے پر اس کی تازہ بالغ بیٹی فارحہ کا لیگنگ میں پورا ہاتھ برق رفتاری سے ہلتے ہوئے دکھ رہا تھا۔
۔۔۔
0 comments:
Post a Comment