شاعری

میں اسے چود بھی تو سکتا تھا
ہاں مگر یہ نہیں ہوا مجھ سے
۔۔۔
 گانڈ کو تو پھاڑ ڈال
لنڈ اپنا دے مجھے
ٹھونس اس کو تا حلق
چود اپنے باپ کو
آ نظیف تھپڑ لگا
مٹھ گرا اقرار میں
فارحہ کی چوت چاٹ
عاتکہ کی چوت میں
بھر دے اپنا مٹھ ذرا
جڑ تلک ٹٹّوں تلک
چوت میں لن ڈال دے
امی امی بول کر
عاتکہ کو چود دے
...
فارحہ کی گوری گانڈ اور اسکی  چکنی چوت
ہائے موٹی موٹی گانڈ ہائے پھولی پھولی چوت 
مستقل مزاجی سے مارتا رہا ارشد
بھینچتی ہوئی سی چوت  اور گیلی گیلی چوت
کب تلک بھلا لوڑا کام دے کہ رنڈی کا
دل نہیں بھرا اب بھی ہائے ری بچاری چوت

۔۔۔

مارتے مارتے اک عمر کٹی ہو جیسے
اور تری چوت کہ صدیوں نہ چدی ہو جیسے
ہائے جذبات کی آندھی میں یہ بہنا ہر رات
اف تری گانڈ کہ کچھ پھیل چکی ہو جیسے
آئسکریم آئی تو یوں چاٹ رہی ہے یہ چھنال
میرے لوڑے کی وہ گاڑھی سی  منی ہو جیسے
فیمنسٹوں کے چُدے گانڈ پھٹی کے یہ لوگ
شرم بیچی ہے مگر شرم ابھی ہو جیسے
کپڑے پہنے بھی ہیں، ننگے بھی ہیں سر سے پا تک
ایکٹ یوں کرتے ہیں کچھ چیز چھپی ہو جیسے
میرے الفاظ کے خنجر پہ لہو  ہے ایسا
ہر منافق کی عدم گانڈ چِری ہو جیسے
...


مرد و عورت، یہ برابر ہیں؟ اجی لنڈ مرا
جھانٹیں کیا زلف کی ہمسر ہیں اجی لنڈ مرا
کیا فقط عورتیں   وکٹم ہیں چدائی کی؟ نہیں
بس وہی  زینتِ بستر ہیں؟ اجی لنڈ مرا
چھوٹے کپڑوں میں تجھے دیکھ کے لونڈے سارے
مٹھ نہیں مارتے گھر جاکے اجی لنڈ مرا
میرے سینے پہ وہ گیندیں ہی نہیں ہیں پیاری
کیا چھپاؤں یہ کبوتر ہیں؟ اجی لنڈ مرا
سب کے سب ہیں یہ فرشتے مجھے تسلیم نہیں
اور سارے ہی دلدر ہیں اجی لنڈ مرا
کیا تو اک
...

اس قدر زور سے بھینچا  ہے  وہ سوراخ اس نے
لنڈ باہر کو جو کھینچوں تو نکلتا ہی نہیں
میں تجھے منتری مانوں بھی تو کیسے رنڈوے
عین الیکشن کا سمے  اور تو  بدلتا ہی نہیں
...

تو بُر نہ سہی، گانڈ مرانے کے لیے آ
آ  پھر سے ذرا مجھ سے چدانے کے لیے آ
عادی ہے مری قوم تو اب مشت زنی کی
آ ہاتھ سے لنڈ ان کے چھڑانے کے لیے آ
مٹھ مارتے لونڈوں کو لگا گانڈ پہ ڈنڈے
ذہنوں میں بھرا گند مٹانے کے لیے آ
ادھ ننگی ہے چھاتی تری،  لیبل ہے  ویمن رائٹس
ہا ہا، ترے پستان چسانے کے لیے آ
سستی ہے یہ رنڈی کہ بکی ہے سرِ بازار
ننگی مرا پروڈکٹ بکانے کے لیے آ
کپڑے ہوں ترے کم تو ہے عزت کا یہ معیار
آ آ تری عزت کو بڑھانے کے لیے آ
حیرت ہے عدم سب کو تری  خوش سخنی پر
اک تازہ غزل پھر سے سنانے کے لیے آ
۔۔۔

ہم چوت کے چکر میں گنڈیا بھی گنوا بیٹھے
قسمت سے ملی گنڈیا  تو لنڈ سُجا بیٹھے
سٹھیائے ہوئے ببوا کوٹھے پہ جو جا بیٹھے
نَیکہ  کی مہربانی، کوں خود کی مرا بیٹھے
اپنا تو یہ کہنا ہے تب ایکولٹی ہوگی
لیڈیز کی سیٹوں پر جب مرد بھی آ بیٹھے
ہم نے جو جنابہ کو پاپا کی پری بولا
بس اتنی سی گستاخی، رنڈی کو رلا بیٹھے
معصوم صفت   ووٹر،   لیڈر سے ذرا بچ کر
کیا اس کا بھروسا ہے، کب لنڈ گھسا بیٹھے
اس چوت مرانی سے کہہ دے ابھمانی سے
جب شعر عدم بولے، چپ کر کے ذرا بیٹھے
۔۔۔

آسان نہیں شعر کا لکھنا مرے پیارے
برسوں کی ریاضت کا ثمر ہے یہ روانی
...
جان ایلیاء سے معذرت کے ساتھ!
......................................................
چادرِ تخت تھی خراب اور خراب کی گئی
کچھ تو گرا وہیں پہ مٹھ کچھ مری رانڈ پی گئی
اپنی عوام کے لیے بولنا چاہیے جہاں
گانڈ پھٹی کی گارمنٹ اپنے لبوں کو سی گئی
پوچھیے مت چھنال سے کیسی تھی رات وصل کی
گانڈ جو  تنگ تھی، گئی، چوت جو سنگ تھی گئی
وہ تھی عدم کی منتظر بات کریں گے رات بھر
بات نہیں کہی گئی بات نہیں سنی گئی

......................................................
@AdamRebelPoet...عدم - ایک باغی شاعر
...
اے رونقِ جہان تری ماں کا بھوسڑا
سوکھی سکھنڈی ران تری ماں کا بھوسڑا
چودا ہے چودہ بار مگر اِس چھنال کو
ہوتی نہیں تھکان تری ماں کا بھوسڑا
ٹٹوں پہ ایک، لنڈ کو جکڑے ہے دوسرا
اور گانڈ میں زبان تری ماں کا بھوسڑا
کرتے ہو اپنے باپ کا ہر جرم نارملائز
بھڑووں کے ترجمان تری ماں کا بھوسڑا
اٹھلاتے کولھے دیکھ کے کہنے لگا عدم
ہے گانڈ یا چٹان تری ماں کا بھوسڑا
______________________
@AdamRebelPoet ...عدم - باغی شاعر
...
تو نے کبھی مجھے نہ بلایا قریب میں
لگتا ہے چوت ہے ہی نہیں اس نصیب میں

تہذیب کی وہ پھولی ہوئی فرج میں چھُپا
پھر گھس گیا ذکَر دبُرِ عندلیب میں

حیراں ہوں دیکھتی ہی نہیں ہے مری طرف
کیا ہے جو اس نے دیکھ لیا ہے رقیب میں

اک شعر ادھر کہا ہے عدم نے تو دیکھیے
پھٹتی ہے گانڈ سب کی اُدھر تل ابیب میں

@AdamRebelPoet
عدمؔ - ایک باغی شاعر
...
یہ چوتڑ، یہ ممے، نشیلی سے چوت اور پھر یہ سزا
کہا دونوں پھانکوں نے مل کر کبھی ہم نہ ہوں گے جدا

بہت خوب ہے تیری بیٹی گھمنڈی
کہ کہتی ہے خود کو بہت پراؤڈ رنڈی
عجب ہے زمانہ کوئی رنڈی خانہ
ہر اک مرد کی گویا دل کی صدا

سناؤں تمھیں آج سچ ایک کڑوا
ہر اک باپ ہے اپنی بیٹی کا بھڑوا
نظارہ ہو گھر گھر ہے کوٹھے کا منظر
کہ گانڈو کی اپنی کمائی ہے کیا

یہ وی لاگ کلچر کمائی کا دھندا
بہو بیٹی بیوی کو خود ہی پروسا
وہ تاریک راہیں یہ گندی نگاہیں
کہ ڈھانکیں قدم اور رہے سر کھلا

جو شرما کے نظریں جھکائے وہ عورت
کہاں ہے سرلتا کی پاکیزہ مورت
ہو الہڑ حسینہ کوئی آبگینہ
عدمؔ ڈھونڈتا ہے سراغ وفا

Lyrics: Adam - The Rebel Poet
...
میں نے لبرل خیالوں کی ماں چود دی
فالتو کے سوالوں کی ماں چود دی
چودنے کو ہمیشہ میں تیار ہوں
اور اس میں بہت تیز رفتار ہوں
کیا ترے پاس کہنے کو کچھ بھی نہیں
چوت سوکھی ہے بہنے کو کچھ بھی نہیں
رفتہ رفتہ بغاوت سے یارانہ پال
اپنا سر اپنی گنڈیا سے باہر نکال
طے عدم ؔسے سفر ہوگا اب بود کا
کچھ زیاں کا تیقن ہو کچھ سود کا

- Poetry by Adam
The Rebel Poet
...
Parody#1 by #adamrebelpoet Jaun Eliya Se Maazrat Ke Saath
اب مرا لن کھڑا نہیں ہوتا
اب بھی تم مجھ کو جانتی ہو کیا؟
عدم - ایک باغی شاعر
@adamrebelpoet

...


مرد کا درد
عدم - ایک باغی شاعر

@AdamRebelPoet

اہا، نازک سراپا پاس آیا
کمر، کولھے، فگر سب راس آیا
جواب اس کا بڑا حساس آیا
مگر مارے خوشی آبھاس آیا
ڈبل روٹی کی صورت چوت اس کی
ہے امرت جل کے جیسی موت اس کی
چھنالوں کی طرح ہیں کام اس کے
سبھی سوراخ بے آرام اس کے
مزے کرنے ہیں سب سے رام اس کے
مگر اونچے بہت ہیں دام اس کے
یقینا رس ٹپکتا ہے وہاں سے
و لیکن خوں ٹپکتا ہے یہاں سے
بھلا کیونکر ہو اپنے لن میں سختی
ہے ایسی اس کے دھکوں میں کرختی
کمر میری ہے گویا ایک تختی
ہوں زندہ بس یہی ہے نیک بختی
ستمگر باز آ کچھ رحم کر لے
کبھی تو پیار سے لوڑے کو بھر لے
عدمؔ کے ہمنوا ہیں مرد کتنے
سیہ حلقے ہیں چہرے زرد کتنے
حسینوں کے ہیں دل بے درد کتنے
نگہ خود غرض، لہجے سرد کتنے
سبھی ہیں عورتوں کی سمت یارو
ہمارے سر سے بھی تو بوجھ اتارو

0 comments:

Post a Comment