گرم بہو (ادھوری) اور سوسائٹی ہور (مکمل)

فہرست


گرم بہو

 بھاگ ۱


روز کی طرح مایا کچین میں بیست اپنے پتی کے لیے ناشتہ بنا رہی تھی l مانس (مایا کا پتی ) ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا، اسنے باتھروم سے ہی مایا کو آواز لگائی l


مانس - مایا۔۔۔۔ مایا۔۔۔۔ میری ٹاویل دے دو l


مایا کچین کے دروازے سے ہی جھانکتی ہوئی۔۔۔۔


مایا - مجھے کام کرنے دو مانس تمہاری شرارت خوب سمجھتی ہوں میں l


مانس - ارے ٹاول ہی تو مانگ رہا ہوں، تم بھی نا مایا l پلیز دے دو


مایا - خود لے لو مجھے تنگ مت کرو l


مانس - پلیز مایا مجھے آفس کے لیے دیر ہو رہی ہے l


مایا مانس کی بات مان بیڈروم سے ٹاول ہاتھ میں لیے ہوے باتھروم کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے l


باتھروم کا دروازہ کھلتا ہے مانس ہنستے ہوے مایا کے سامنے بالکل ننگا کھڑا تھا l مایا کی نظر مانس کے تنے ہوے لنڈ پے جاتی ہے اسے مانس کی شرارت سمجھتے ذرا بھی دیر نہیں لگتی، وہ towel پھینک بھاگنے ہی والی تھی کی مانس اسے پیچھے سے دبوچ لیتا ہے l پانی میں بھیگا مانس مایا سے سٹ جاتا ہے l مایا اس وقت ایک نیلی ساڑی میں ہوتی ہے اسکے ۳۸ اینچ کے بھاری کولہوں پے مانس اپنے لنڈ کا دباو بنا رہا ہوتا ہے ساتھ ہی وہ موقا دیکھ ساڑی کے پلو کے اندر ہاتھ اپنا دایاں ہاتھ سرکاتے ہوے مایا کے اروج تھام لیتا ہے l


مایا اس آکرمن سے انجان تھی وہ مانس کے بانہوں میں کسمسانے لگتی ہے مگر مانس کے مردانی پکڑ سے چھوٹ نہیں پاتی l


مانس - اوہ مایا آج کتنے دن ہو گئے، (مانس بلاءوز کے اوپر سے مایا کے بوبس دباتے ہوے پیچھے اسکی گردن پے ہونٹھ پھیرتا ہے l


(مانس آج صبح ہی تو گھر لوٹا تھا کمپنی کے کام سے اسے پونے جانا پڑا تھا ۳ week پہلے )


مایا - (اپنی آواز میں سنسناہٹ لیے ہوے مانس کے baalon میں ungliyaan پھیرتی ہے l )

جانے دو نا چھوڑو مجھے مانس l


مانس - ( مایا کی دونوں بوبس کو تھامتے ہوے )

کیا تمہارا من نہیں کرتا مایا ؟ اتنے دنوں سے میرے لنڈ کو تمہاری ہاتھوں کی گرماہٹ نہیں ملی ایک بار پکڑ کے دیکھو تو

(مانس مایا کا ہاتھ پکڑ کے اپنے لنڈ پے rakh دیتا ہے )

مانس - کر دو ن مایا، نکال دو میرا رس l


مایا - ( مایا پلٹ کے مانس کی آنکھوں میں بےتابی دیکھتی ہوئی اسکے لنڈ کا سکن نیچے کھول دیتی ہے، پھر اسے مٹھی میں بھینچے اوپر کھینچتی ہے، مانس آنند سے بھر اٹھتا ہے اسکی آنکھے مستی میں بند ہونے لگتی hain۔۔ اوہ مایا۔۔۔۔ )



مایا - آفس نہیں جانا ؟


مانس - آہ۔۔۔ نہیں مایا کر دو بس


مایا - تو پھر یہاں نہیں بیڈ پے l ( لنڈ سے ہاتھ ہٹا لیتی ہے ) تم سچ میں آفس نہیں جاؤگے ؟


مانس اس پل کچھ بھی سوچنے کی ستھتی میں نہیں تھا اسے تو بس ۳ ویک سے جمع ہوا ویریہ باہر نکالنا تھا I

(تین week سے وہ خود ہی مٹھ kyon نہیں مارا اسکا reason آگے پتا چلیگا )

 

مایا اس میٹھے احساس سے سروبور تھی اسکے انماد کا رس panty mein اترنے لگا تھا I

وہ اپنے پتی کے سینے mein سر چھپائے بنا کوئی حرکت کیے sharm سے laal تھی l

مانس نے ہتھیلی سے panty کا چھور ڈھونڈھا اور اس بار پھر ہاتھ مایا کے ننگی چوت پے سرک گئی l


بھاگ ۳


مایا کا پورا شریر کانپ گیا، اسکی ننگی چوت مانس کے ہاتھ میں تھی l چوت کی پھانک سے گرماہٹ کو صاف محسوس کیا جا سکتا تھا l مایا اتیجت ہوکر چوت کو اچھی طرح مانس کے ہتھیلی پے دبایی اور ایک لمبی آہہ بھری l مانس کی چارو اونگلی چوت کی چکناہٹ میں پھسل رہی تھی l


مانس - تمہاری چوت تو بہت گیلی ہے مایا l


مایا شرم سے پانی ہو گئی تھی، کاندھے پے دانت کاٹتے ہوے وہ اپنا moan چھپا رہی تھی l


مانس - بولو مایا کیوں اتنا پانی چھوڑ رہی hai تمہاری چوت ؟

(ساڑی پورا اوپر اٹھایے مانس مایا کی گانڈ کو دبوچتا رہا، کبھی panty میں سامنے کی طرف ہاتھ ڈالتا تو کبھی پیچھے l اور پھر وہ دونوں طرف سے پکڑ کے panty کو گھٹنے تک اتار دیا l) ننگی گیلی چوت کی چھون پاکر مانس کا لنڈ پھنپھکار مارنے لگا l


وہ اپنے لنڈ کو ہاتھ میں لیے چوت کی پھانکو پے رگڑتا، مایا کی چوت لنڈ کو اندر لےنے کے لیے کھل گئی تھی l لیکن مانس نے تو جیسے بدلا لےنے کی ٹھان لی تھی، وہ کامرس میں بھیگی چوت کو سہلاتا رہا l مایا سے جب رہا نہیں گیا تو وہ کان میں دھیرے سے بولی۔۔۔۔ ڈالو نا l


مانس - کیا ڈالو ؟

مایا - اپنا wo۔۔(اشارے سے بولی )

مانس - وہ کیا میری رانی ؟

مایا سمجھ گئی کی مانس اسے تنگ کر رہا تو وہ بھی نکھرے کرتے ہوے بولی


مایا - ٹھیک ہے مت کرو میں جاتی ہوں کچن کا کام کرنے l (اور وہ اٹھنے کی جھوٹھی ایکٹنگ کرتی ہے )

مانس ترنت اسے دبوچ لیتا ہے l


مانس - کیا مایا تم بھی نا، موڈ خراب کر دیتی ہو l کتنی بار بولا ہے ایسا مت کیا کرو l


مایا - اچھا میرے بیچین پتدیو غصہ مت ہو بولو کیا کروں l

مانس - گندی بات کرو پلیز l

مایا - ok ڈالو میرے اندر l

مانس - ایسے نہیں، جیسے میں تمہے ہمیشہ کہتا ہوں ویسے برشرمی سے بولو l کسی پیاسی رنڈی ki طرح l

مایا - ok

مایا - مانس کے ہونٹھ پے اپنا ہونٹھ رگڑتے ہوے۔۔۔۔ مانس اپنا لنڈ ڈال دو میری نرم pussy میں l

مانس - نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ دیسی سٹائل بولو

مایا - چھی کتنے بدمعاش ہو تم l اپنی طرح بگاڑ doge مجھے l

مایا - اوکے l مانس۔۔۔۔۔۔۔ اپنے کھڑے لنڈ کو میری گیلی چوت میں پیل دو، ۳ week سے اس لنڈ کی پیاس ہے مجھے l پیلو نا l

مانس بیوی کے منہ سے گندی باتیں سنکر واسنا سے بھر اٹھتا ہے l اپنے لنڈ کو وہ چوت کے مہانے پے رکھتا hai


مانس - اوہ مایا (لنڈ کا سپاڑا گیلی چوت میں پھسلتا چلا جاتا ہے l)

گھٹنے تک اتری چڈی میں ہی مانس مایا کو چودنے لگتا ہے l

مایا اپنی پتی کا بھرپور ساتھ دیتی hai اور دونوں ایک ہی ریدم میں دھکے لگاتے ہیں l مانس مایا کو چودتے ہوے اپنی ہتھیلی کو سونگھتا ہے جسمے سے مایا کے چوت کی مدہوش karne والی مہک آ رہی تھی l دو انگلیوں کے بیچ چوت کے رس کی چاسنی بن رہی تھی l

مانس چودتے ہوے مایا کا سر اٹھاکر اسسے پوچھتا ہے، یہ کیا ہے مایا ؟



images-۳۵


مایا جانتی تھی کی اس وقت اسے کیسے جواب دینا ہے l وہ مانس کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بڑی sexy ادا سے کہتی ہے l


مایا - میری چوت کا رس ہے چاٹ لو l

مانس تیزی سے دھکّا مارتے ہوے اپنی انگلیاں چاٹ لیتا ہے l پھر دونوں کے ہونٹھ مل جاتے ہیں l

ہر ایک دھکے کے ساتھ پھچ پھچ کی آواز آتی ہے l زور زور کی چدائی سے دونوں ہانپھنے لگتے ہیں l

آاہہہہہہہہ سسس

اب مایا کسی پیاسی اورت کی طرح کمر ہلا ہلا کر چدوا رہی ہوتی ہے l مایا کی یہ حرکت مانس کے برداشت سے باہر تھی اسکے لنڈ سے گاڑھے ویریہ کی دھار فوٹ پڑتی ہے l کمر سے کس کے پکڑے ہوے وہ لنڈ کو ۴-۵ بار جھٹکے دیتا ہے l مایا اوپر تھی اسلئے آدھا ویریہ تو واپس اسکے لنڈ سے ہوتے ہوے اسکے پیٹ پے گرتا ہے l ویریہ میں سنا اسکا لنڈ پھسل پھسل کر ادھر ادھارہو جاتا l دونوں کے shareer ڈھیلے پڑ جاتے ہیں، مایا مانس کے اوپر سے ہٹتی ہے اور بغل میں لیٹ جاتی ہے، اسکی چوت سے سفید پانی بہہ رہا تھا جو جانگھو کے بیچ سے بستر پے گر رہا تھا l


تھوڑی دیر بعد مایا اپنی panty کھیچ پتی کے طرف karwat بدلتی ہے

وہ جیسے ہی مانس کے پیٹ پے ہاتھ رکھتی ہے تو تو اسکا پورا ہاتھ گاڑھے مٹھ میں سنہ جاتا ہے l پھیوکول ki طرح چپچپا ہاتھ دیکھ اسے اکائی آنے لگتی ہے l


مایا - چھی مانس اوہ یکشک

مانس کو ہنسی آ جاتی ہے وہ مایا کا ہاتھ پکڑ اسے واپس اسی کے گال پے رگڑ دیتا ہے l


Maya- ایییئ بدمعاش۔۔۔۔۔

مانس کو دھکّا دے وہ تیزی سے باتھروم کی طرف بھاگتی ہے اور اپنے گالوں کو پانی سے صاف کرتی ہے l

ادھر مانس بیڈ پے لیٹے لیٹے بغل سے مایا کی برا میں مٹھ پوچھ لیتا ہے l

مایا واپس آ کے پتی کی یہ حرکت دیکھتی ہے تو اسے مارنے کو دوڑتی ہے، لیکن مانس اسکا ہاتھ پکڑ اپنی اور کھینچ لیتا ہے l

اوپر سے ٹاپلیس مایا کی چوچی کو وہ کس کے رگڑ دیتا ہے l تبھی گھر کی door bell بجتی ہے اور دونوں alag ہوتے ہیں l[/URL]

 

Nasn said:

بہت ہی عمدہ …۔۔۔۔اپڈیٹ تھا۔۔۔۔


مانس مایا کے سیکس سین زبردست تھا۔۔۔۔۔

Click to expand۔۔۔

تھینک یو bhai

 

بھاگ ۱


روز کی طرح مایا کچین میں بیست اپنے پتی کے لیے ناشتہ بنا رہی تھی l مانس (مایا کا پتی ) ایک پرائیویٹ کمپنی میں کام کرتا تھا، اسنے باتھروم سے ہی مایا کو آواز لگائی l


مانس - مایا۔۔۔۔ مایا۔۔۔۔ میری ٹاویل دے دو l


مایا کچین کے دروازے سے ہی جھانکتی ہوئی۔۔۔۔


مایا - مجھے کام کرنے دو مانس تمہاری شرارت خوب سمجھتی ہوں میں l


مانس - ارے ٹاول ہی تو مانگ رہا ہوں، تم بھی نا مایا l پلیز دے دو


مایا - خود لے لو مجھے تنگ مت کرو l


مانس - پلیز مایا مجھے آفس کے لیے دیر ہو رہی ہے l


مایا مانس کی بات مان بیڈروم سے ٹاول ہاتھ میں لیے ہوے باتھروم کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہے l


باتھروم کا دروازہ کھلتا ہے مانس ہنستے ہوے مایا کے سامنے بالکل ننگا کھڑا تھا l مایا کی نظر مانس کے تنے ہوے لنڈ پے جاتی ہے اسے مانس کی شرارت سمجھتے ذرا بھی دیر نہیں لگتی، وہ towel پھینک بھاگنے ہی والی تھی کی مانس اسے پیچھے سے دبوچ لیتا ہے l پانی میں بھیگا مانس مایا سے سٹ جاتا ہے l مایا اس وقت ایک نیلی ساڑی میں ہوتی ہے اسکے ۳۸ اینچ کے بھاری کولہوں پے مانس اپنے لنڈ کا دباو بنا رہا ہوتا ہے ساتھ ہی وہ موقا دیکھ ساڑی کے پلو کے اندر ہاتھ اپنا دایاں ہاتھ سرکاتے ہوے مایا کے اروج تھام لیتا ہے l


مایا اس آکرمن سے انجان تھی وہ مانس کے بانہوں میں کسمسانے لگتی ہے مگر مانس کے مردانی پکڑ سے چھوٹ نہیں پاتی l


مانس - اوہ مایا آج کتنے دن ہو گئے، (مانس بلاءوز کے اوپر سے مایا کے بوبس دباتے ہوے پیچھے اسکی گردن پے ہونٹھ پھیرتا ہے l


(مانس آج صبح ہی تو گھر لوٹا تھا کمپنی کے کام سے اسے پونے جانا پڑا تھا ۳ week پہلے )


مایا - (اپنی آواز میں سنسناہٹ لیے ہوے مانس کے baalon میں ungliyaan پھیرتی ہے l )

جانے دو نا چھوڑو مجھے مانس l


مانس - ( مایا کی دونوں بوبس کو تھامتے ہوے )

کیا تمہارا من نہیں کرتا مایا ؟ اتنے دنوں سے میرے لنڈ کو تمہاری ہاتھوں کی گرماہٹ نہیں ملی ایک بار پکڑ کے دیکھو تو

(مانس مایا کا ہاتھ پکڑ کے اپنے لنڈ پے rakh دیتا ہے )

مانس - کر دو ن مایا، نکال دو میرا رس l


مایا - ( مایا پلٹ کے مانس کی آنکھوں میں بےتابی دیکھتی ہوئی اسکے لنڈ کا سکن نیچے کھول دیتی ہے، پھر اسے مٹھی میں بھینچے اوپر کھینچتی ہے، مانس آنند سے بھر اٹھتا ہے اسکی آنکھے مستی میں بند ہونے لگتی hain۔۔ اوہ مایا۔۔۔۔ )



مایا - آفس نہیں جانا ؟


مانس - آہ۔۔۔ نہیں مایا کر دو بس


مایا - تو پھر یہاں نہیں بیڈ پے l ( لنڈ سے ہاتھ ہٹا لیتی ہے ) تم سچ میں آفس نہیں جاؤگے ؟


مانس اس پل کچھ بھی سوچنے کی ستھتی میں نہیں تھا اسے تو بس ۳ ویک سے جمع ہوا ویریہ باہر نکالنا تھا I

(تین week سے وہ خود ہی مٹھ kyon نہیں مارا اسکا reason آگے پتا چلیگا )

 

images-۳۵

 

maakaloda said:

yaar ye kya kiya،bahu ne۔sasur ko apna namkeen pani cakhaa diya،wah maza aa gaya

Click to expand۔۔۔

بر چیز ہی ایسی ہے کی اسکا پانی بھی مزا دے دے

 

تبھی فون کی گھنٹی بجتی ہے l

فون پے مانس کا باس تھا، کسی جرری کام کے لیے اسے آفس جانا تھا l

مانس - سوری مایا جانا ہوگا l

مانس مایا کو kiss کر bathroom کی طرف چلا جاتا ہے l


بھاگ ۵


اسی طرح مایا اور مانس کی دنچریا چلتی رہتی ہے l مانس روز صبح آفس کو چلا جاتا اور مایا اکیلی گھر پے رہ جاتی l آس پاس پڈوسی تھے جنسے کبھی کبھی مایا باتیں کرتی، اسکا زیادہتر ٹائم گھر کی صاف صفائی اور ٹیوی دیکھنے میں بیتیت ہوتا تھا l

ایک اچھی بہو ہونے کے ناطے وہ اپنے پریوار، رشتیداروں سے باتیں کرتی l دیکھتے ہے دیکھتے ۲ مہینے بیت گئے، مانس آفس کے کام میں زیادہ busy ہو گیا حالانکہ دونوں کی سیکس لائف ابھی بھی رومانچ سے بھری تھی l جب بھی کبھی موقا ملتا دونوں سیکس کا مزا لےنے سے نہیں چوکتے، الگ الگ پوزیشن اور الگ الگ جگہوں پے سیکس کرنا دونوں کو بہت پسند آتا تھا، یوں کہہ لیں کی دونوں کے وچار سامان تھے اور ایک دوسرے کو بھلیبھانتی سمجھتے تھے l


سنڈے کا دن تھا مایا چھت پے کپڑے ڈال رہی thi، دلی کے bheed bhad علاقے میں مانس نے یہ گھر کرائے پے لیا تھا l گھر تو بہت سندر تھا ڈپلیکس ہاؤس aur بڑا سا چھت l گھر کا مکان مالک US mein قریب ۶ سال se رہتا تھا، بہت کم آنا جانا تھا اس وجہ سے پورا گھر مایا اور مانس ہی دیکھتے تھے l مایا سیڑھیوں سے نیچے جاتی ہے تو دیکھتی ہے مانس اپنے پاپا سے کچھ بات کر رہا تھا l


مانس - نہیں پاپا آپ خاموں خاں پریشان ہو رہے ہیں l

میں کر لونگا بات۔۔۔۔۔ اوکے۔۔۔ ہاں۔۔۔ حمم اچھا تو پھر آپ یہاں ہی آ جائییل ہاں ۱ ہفتے سے زیادہ نہیں لگےگا l میں ٹکٹ بھیجوا دونگا l ok haan نمستے l


مایا - کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے ؟

مانس - ہاں سب ٹھیک ہے، وہ ہمارا پرانا مکان ہے ن گائوں میں اسے کچھ دبنگ لوگوں نے ہڑپ لیا ہے تو اسی سلسلے میں میرا ایک دوست جو وکیل ہے مجھے کچھ سجھاؤ دیا تھا l میں پاپا سے بولا تو وہ بول رہے تھے کی ییبھی try کرتے ہیں شائد کچھ اچھا ہو l bas اسیلئے میںنے پاپا کو یہاں بلایا ہے l

دوست سے ملوا دونگا اور کچھ قانونی کاریہواہی بھی l


مایا - اوکے اچھا کیے آپ l کب تک آئینگے l

مانس - میں ابھی فرینڈ سے بات کرکے ٹکٹ بھجواتا ہوں کل صبح tak آ جائینگے l


دوسرے دن مانس صبح صبح سٹیشن چلا گیا، مایا بھی جلدی سارا کام ختم کر ناشتہ بنانے لگی l

مایا ایک پٹیالا سوٹ سلوار پہنی ہوئی تھی ٹائٹ kurti میں اسکے دونوں بوب اور بھی بڑے لگ رہے تھے l

مایا نے سوچا jabtak ہسبینڈ اور سسر جی آئینگے وہ نہا کے پھریش ہو جائیگی l ٹاول لیے وہ باتھروم کی طرف بڑھی ہی تھی کی door bell بجی towel رکھ وہ تیج قدم سے ہال کی طرف گئی، door کھولی تو سامنے مانس سامان لیے کھڑا تھا اور انکے پیچھے مہیندر سنگھ مانس کے پتا l


مایا - نمستے بابوجی l (مایا جھک کے پیر چھوئی )

مہیندر - خوش raho بیٹی، کیسی ہو ؟

مایا - ٹھیک ہو بابوجی، آپکو آنے میں کوئی تکلیف تو نہیں ہوئی l

مہیندر - نہیں بیٹا l


بیٹھیے پاپا، مایا ذرا پانی دینا l مانس مایا سے بولا


مایا - جی

مہیندر - تو بیٹا وکیل سے آگے کچھ بات ہوئی ؟

مانس - ہاں دوپہر کو ملنے بلایا ہے، پاس میں ہی گھر ہے l


مایا پانی دیتی ہے، مہیندر تھینکس بول مانس سے بات کرتے ہیں آگے l

کافی دیر تک بات ہوتی ہے اس بیچ مایا بھی کئی بار باتچیت کا حصہ بنتی ہے گھر کے باقی لوگوں کے بارے میں بھی بات ہوتی ہے l

سبھی dining ٹیبل پے بیٹھ کھانا کھاتے ہیں، ایک بار پھر دونوں وکیل کے گھر کو چلے جاتے ہیں l

دوپہر کے ۲ بج رہے ہوتے hain، مایا نہا کے پھریش ہو جاتی ہے کپبورڈ سے ایک کرتی اور لیگگین نکال کے پہنتی ہے اور بیڈ پے لیٹے موبائل میں کھو جاتی ہے l دن بھر کی تھکان سے اسے نیند کی آغوش میں لے لیتی ہے l

شام کو نیند khulne پے وہ مانس کو کال کرتی ہے تو مانس بتاتا ہے کی دونوں کو آنے میں دیر lagegi اور وہ کھانا باہر ہی کھا لیںگے l

مایا relax ہو کر ٹیوی دیکھنے لگتی ہے، اسکے دماغ میں puraani ساری باتیں گھومنے لگتی ہیں l بابوجی پہلے سے کتنا چینج ہو گئے ہیں، کتنی پیاری باتیں کرتے ہیں l اور آج تو unhone میرے کھانے کی بھی بہت تعریف کی l


مایا کے ہاتھ میں ایک bracelet watch تھی جو بابوجی نے اسے dophar mein دیا تھا l جسے وہ ابھی بھی پہنی تھی l ہلکی ہلکی مسکان لیے وہ ساری باتیں اپنے من میں دہراتی ہے l


کافی دیر بعد اسے آٹو کی آواز sunaayi دیتی ہے، وہ door کھولتی hai تو سامنے بابوجی کھڑے تھے، انکی نظر سیدھا بنا دوپٹہ کے ٹائٹ کرتی میں پھولی مایا کی بوب پے پڑتی ہے l مایا کا تھوڑا سا کلیویج بھی دکھائی دیتا ہے l مہیندر بہو کی ابھار دیکھ نظریں نیچے کرتا ہے مگر انکی نظر چوری سے دوبارا مایا کی گولائی ناپنے لگتی ہیں l مایا انکا دھیان توڑتے پوچھتی ہے l


مایا - کام ہوا بابوجی ؟ مانس کہاں ہیں ؟

بابوجی - (dhayn بھنگ ہوتے ہی) ہاں بہو۔۔۔۔مانس بیٹا کسی پڈوسی سے بات کر رہا ہے l


مہیندر اندر آ کے صوفے پے بیٹھتا ہے تو اسے ایک اور shock لگتا ہے،

مانس کا ویٹ کرتے ہوے مایا door پے ہی کھڑی تھی l گھڑے کے اکار کی اسکی گانڈ ٹائٹ لیگگنگ اور کرتی سے ڈھنک بھی نا پا رہی تھی l



IMG-۲۰۲۰۰۷۳۱-۰۱۱۹۳۸


مہیندر من mein۔۔۔۔ اوہ بہو آج لیگگنگ پہنی ہے uff۔۔۔ بہو کا پیچھے کا بھاگ کتنا بڑا اور ابھرا ہوا ہے، میںنے تو کبھی دھیان ہی نہیں دیا l

مانس کو تو بہت مزا آتا ہوگا، سوچتے ہوے مہیندر اپنی بہو کی گانڈ دیر تک نہارتا ہے، اسکا اثر سیدھے اسکے لنڈ پے ہوتا ہے l مہیندر کا لنڈ pant کے اندر ہی بڑا ہونے لگتا ہے l سوچتے سوچتے اسکے من میں وچار آتا ہے، کاش ایسی ابھری گانڈ پے ایک بار ہاتھ پھیرنے کو مل جاتا l


مہیندر اس haseen mauke کو کھونا نہیں چاہتا اسکی نظریں بھر بھر کے بہو کی گانڈ نہار رہی تھی l چھن بھر کے لیے وہ سارے رشتے بھول بس اس اتیجک پل کا آنند لےنا چاہتا تھا l اسکے لنڈ کی نسوں میں دباو badhta جا رہا تھا l واسنا میں ڈوبا کبھی وہ بہو کی گانڈ پے ہاتھ پھیرنے کی خوہش بھرتا تو کبھی نیچے بیٹھ کس کرتے ہوے اپنا پورا فیس بہو کی گانڈ میں رگڑنے کی سوچتا l


مہیندر پے تو جیسے آج قسمت بھی مہربان تھی، ابھی وہ کھاوہشوں کے سپنے میں غوطے لگا ہی رہا تھا کی ہلکی سی آتی ہوا نے مایا کی کرتی کو اسکے گھڑے جیسے نتمب سے اڑا دی l ایک سیکنڈ کے لیے مہیندر کو بہو کے پرے گانڈ کے درشن ہو گئے l ایک پل کے لیے تو بہو ٹائٹ لیگگین میں ننگی ہی پرتیت ہو رہی تھی l


جوان بہو کی مادک گانڈ دیکھ مہیندر کا تو جیسے ویریہ چھلکنے والا ہو l وہ pant کے اوپر سے ہے لنڈ کو کس کے پکڑ لیتا ہے l لنڈ کو نیچے دباتے وہ اپنا ویریہ روکنا چاہتا tha، لیکن جیسے ہی وہ ہاتھ ہٹاتا ہے تو جیسے گوند کے tube سے gum باہر آ جاتا ہو waise ہی شائد لنڈ نے بھی گاڑھی رساؤ کر دیا تھا l

مہیندر کو بہت آتمگلانی سی ہوتی ہے وہ ٹھنڈی سانس لیے ٹیوی کی طرف دیکھتا ہے، لیکن نظریں تو جیسے آج قابو میں ہی نا ہوں l

وہ من میں بس انتم بار ایک جھلک دیکھنا چاہتا تھا، جیسے پتا نہیں ایسا کبھی موقا ملے ن ملے l اسسے پہلے کی وہ اس ادھیڑبن سے نکل پاتا مایا تبتک پلٹ چکی تھی، مہیندر تڑپ کے رہ گیا l اتنا کی کمرے میں بیٹھا وہ اپنی جگہ سے ذرا سا بھی نہیں ہلا، وہ لگاتار کوشش کرتا کی بہو کی گانڈ دیکھ سکے l لیکن ایسا ہوا نہیں جب بہو سامنے ہوتی تو مانس بھی وہیں ہوتا مہیندر میں اتنی بےشرمی نہیں تھی کی وہ بیٹے کے سامنے اپنی بہو کے جسم کو نہارے l بیچ بیچ میں اسے اپنے آپ پے غصہ بھی آ رہا تھا l


سمیہ بیتتا جا رہا تھا، آخرکار بہو اور منیش بیڈروم میں جا چکے تھے l مہیندر کی باقی امید بھی ٹوٹ گئی l وہ نراش من سے اپنے کمرے میں آ گیا l

 

Raj_Singh said:

Nahi Bhai


Story to bahut aachi hai، par kai bar MANAS ka apni Wife ko galat situation me fasa dene ke bare me kaha tha۔


Husband Situation ko sambhalene wala aur Caring ho to thik lagta hai،

Haa، situation ke hisab se Doodwala ya Sasur ka Erotic hona aur fir SEX thik lagta hai،


par Husband hi Wife ko galat situation me fasa kar MAZA le to bekar lagta hai (Haa، agar Husband "Cuckoldry" ho to thik hai۔)

Click to expand۔۔۔

اوکے samjha تو یہاں husband cuckold نہیں ہے، وہ بس ایک سیکسی بیوی چاہتا ہے جو بیڈروم میں نا شرمائے اور یہ سب وہ اپنی سیکس لائف کو spice up کرنے کے لیے کرتا ہے l


مانس اور مایا کا پیار آپ دیکھ ہی chuke ہیں l لیکن چھوٹی چھوٹی چھیڑچھاڑ انکے سیکس لائف کو اچھا بناتی ہے، ہسبینڈ یہ نہیں چاہیگا کی اسکی wife کو کوئی real mein چودے l

لیکن ان سب کے بیچ کچھ ستھتیوں میں پڑ کے مایا گرم ہوتی رہیگی اور نا چاہتے ہوے بھی وہ کر بیٹھیگی جو اسنے پہلے کبھی نہیں سوچا تھا l

 

Alok said:

Hottttt۔۔۔۔۔۔۔


Khada ho gaya bhai۔۔۔۔۔۔۔۔

Click to expand۔۔۔

تھینک you بھائی، کہانی کا کون سا پارٹ یا scene سبسے زیادہ hot تھا یہ بھی بتائیں مجھے l

 

مہیندر - رہنے دے بہو مومبتی کی کیا جررت l

مایا - نہیں بابوجی لاتی ہوں، مایا اٹھ گئی تھی مہیندر نے بھی ہاتھ ہٹا لیا تھا l مایا اٹھکر کچن میں آئی اسکی بر کامرس میں پوری طرح گیلی ہو گئی تھی l


بھاگ ۱۲


مایا کچن کے پاس ڈائننگ ہال میں ایک مومبتی جلا دی، اور بیڈروم کی طرف بڑھی l اسکی بر اتنی گیلی تھی اس وقت کی جب وہ چلتی تو اسکی اندرونی جانگھ آپس میں چپچپی ہو جاتی تھی l وہ دھیرے سے دروازہ کھول کمرے میں داخل ہوئی، اسنے دیکھا مانس گہری نیند سو رہا ہے l مایا کی بر پانی پانی ہو رہی تھی تو وہ وہیں کھڑی اپنے گاؤن سے ہی بر کا پانی پوچھ لی l بیڈ کی سائڈ ایک باکس میں مایا کے undergarments پڑے تھے unme سے وہ ایک satin کی پتلی پینٹی نکال پہن لی l

ادھر مہیندر نے جب مایا کو کمرے میں جاتے دیکھا تو اداس ہو گیا اسے لگا کی مایا کو شائد برا لگ گیا ہو اسکا بہو کو اس طرح چھونا l اسے یہ بھی ڈر تھا کی مایا مانس سے کچھ کہہ نا دے l


اسکی جلدبازی نے سارا کام بگاڑ دیا تھا شائد، اس بیچ پاور بھی آ گیا تھا کمرے کی light جل اٹھی، مہیندر کو لگا جیسے پکچر اب ختم ہو گیا ہو l وہ نراش من سے اٹھ کے اپنے کمرے میں جانے کی سوچ ہی رہا تھا کی اسے مایا کا bedroom سے باہر آنے کا آہاٹ ملا l وہ رک گیا، مایا بیڈروم سے باہر آکر دھیمی آواز میں بولی ۔۔ ۔۔۔

مایا - بابوجی پانی پئینگے l

مہیندر کو مانو جان میں جان آئی l مایا normally behave کر رہی تھی l وہ خوش ہو گیا۔۔۔ ہاں بہو پیونگا l

مایا ۲ گلاس پانی لا کر صوفے پے مہیندر کے بغل میں بیٹھ گئی l

مایا - (پانی کی گھونٹ لیتے ہوے۔۔۔ )

بہت گرمی ہے نا بابوجی، گلا سوکھ گیا میرا l

مہیندر من میں خود سے کہتے ہوے (ہاں بہو تمہارا گلا تو سوکھا ہے مگر تیری بر بہت گیلی ہے اف کیا مہک تھی، مہیندر کے دماغ میں بہو کی نشیلی بر کی smell سمایی تھی l

مہیندر نے سوچا جب بہو ابھی بھی کچھ کہہ نہیں رہی تو کیوں نا تھوڑا کھل کے بات کروں l )


مہیندر - ہاں بہو۔۔۔ گرمی تو بہت ہے تبھی تو دیکھ میں بنیان پہنا ہوں l ایک تو ہے جو اتنا بڑا گاؤن پہن رکھی ہے l

مایا - مینری کیا غلطی بابوجی میں تو سب نکال کر سونے والی تھی آپنے ہی مجھے بلا لیا l

(مایا بھی بےجھجھک کھل کے بول رہی تھی

سب کھول کے سونے والی بات پے مہیندر اتیجت سا ہو گیا l )

مہیندر - اچھا بہو معاف کر دے ایسا ہے تو۔۔۔۔ تو چینج کر کے آ جا l

مایا - its ok بابوجی

مہیندر - نا بہو گرمی بہت ہے کچھ حلکے کپڑے پہن لو l ذرا میں بھی تو دیکھوں میری بہو حلکے کپڑوں میں کیسی دکھتی ہے l

(مہیندر کی ہمت بڑھتی جا رہی تھی، مایا کو بھی مہیندر کی بات کا برا نہیں لگ رہا تھا بلکہ انکا اس طرح ڈیمانڈ کرنا اسے اچھا لگ رہا تھا l )

مایا - ٹھیک ہے بابوجی آپ کہتے ہیں تو پہن لیتی ہوں l آپ انتظار کریے میں ابھی آتی ہوں l


(مایا واپس کمرے میں آ گئی، آج کا دن خاص تھا،، نیند اسکی آنکھوں سے کوسو دور تھی l وہ پہلی بار پتی کے علاوہ کسی غیر مرد کی کمپنی enjoy کر رہی تھی l سسر کے ساتھ باتیں کرنا انکے پاس baithana اسے بہت اچھا لگ رہا تھا l سسر کی تعریف اور رات کا ماحول بھی مایا کی شریر میں الگ گرمی پیدا کر رہا تھا l


دھیمی روشنی میں وہ شیشے کے سامنے کھڑی ہوئی l کچھ سوچکر اسنے پہلے اپنا گاؤن اترا پھر اپنی برا بھی کھول دی l مایا خود کی ننگی چوچیوں کو دھیان سے دیکھ رہی تھی، اسنے ایک بوب کو اپنے ہاتھ میں بھر لیا اور ہلکا سا نپل پے اونگلی پھیری لیکن اسکی گول چوچیاں تو جیسے کسی مرد کے ہاتھ کے سپرش کے لیے تڑپ رہی تھیں l


images-۵۶


آنکھے بند کر وہ اس پل کو یاد کرنے لگی جب صوفے پے سسر جی کا ہاتھ اسکی جانگھو پے رینگ رہا تھا l مایا اس انبھو سے آنندت تھی، اسکی شریر کی گرمی بڑھ رہی تھی وہ ٹانگوں کے بیچ نمی محسوس کر رہی تھی l


وہ پینٹی میں ہاتھ اندر ڈال اپنی دو انگلیوں کو کو بر کے مہانے پے رگڑ رہی تھی، جیسے وہ محسوس کرنا چاہتی ہو کی جب سسر جی نے اسکی ننگی بر پے ہاتھ رکھا ہوگا تو انہیں کیسا لگا ہوگا l پھر مایا اپنا ہاتھ نکالی اسے یاد آیا کہ وہ کس کام کے لیے کمرے میں آئی ہے l


سسر جی نے اسے حلکے کپڑے پہننے کو بولا تھا تو وہ کپبورڑ سے ایک بہت جھینا اور بریک کپڑے کا sphegetti اٹھا لی l وہ sphegetti پہن اپنے آپ کو شیشے میں دیکھی تو پایا کی وہ جھینا سا کپڈا اسکے بوب کو کہیں سے کور نہیں کر رہا تھا بلکہ اسکے ننگیپن کو اور دکھا رہا تھا l پھر بھی مایا نے وہی پہننا چاہا ہاں اسکے اوپر ایک satin nighty robe جیسی ضرور ڈال لی جو سامنے سے پوری کھلی تھی l robe کو صرف بیچ میں باندھا جا سکتا تھا l مایا کی یہ nighty اسکے بدن کو dhakne کے bajaaye اور نمائیش کر رہی تھی l


مایا اس وقت کسی بی grade کی ہاٹ ایوں chubby ایکٹریس کے سامان دکھ رہی تھی l

جب وہ مہیندر کے سامنے آئی تو مہیندر اپنی بہو کے بھرے بدن کو اوپر سے نیچے تک دیکھتا رہ گیا، satin robe کے اندر sphagetti mein بہو کی کلیویج اور بھاری چوچی کی گولایی صاف نظر آ رہی تھی l مہیندر کا لنڈ اکڑ گیا وہ لنڈ کو پایجاما کے اوپر سے مثل دیا l مایا نے مہیندر کی یہ حرکت دیکھ لی تھی پھر بھی وہ ignore کر دی l


مہیندر - تم بہت خوبصورت ہو بہو l

مہیندر بہو کے کمر میں دونوں ہاتھ ڈالتے اسے کھینچ کر بٹھا لیا l مایا کا دل زور زور سے dhadak رہا تھا اور لمبی سانسوں سے ساتھ اسکی چوچیاں اوپر نیچے ہو رہی تھی l

کمپھرٹیبلے ہو کے بیٹھو بہو، مایا نے دونوں ٹانگے اوپر کی تو robe گھٹنے سے ہٹ گئی l

مہیندر نے ترنت مایا کے گھٹنو پے ہاتھ رکھ دیا l اور ساتھ ہی robe کو اسکی جانگھو سے بھی ہٹا دیا l


مایا پہلے کی طرح تکیا لیے صوفے پے لیٹ سی گئی، فرق اتنا تھا کی اس بار گاؤن سے بدن ڈھکا نہیں تھا بلکہ robe ہٹنے سے وہ two piece کپڑے میں ادھننگی سی ہو گئی تھی l مایا کا کھلا بدن مہیندر کے سامنے تھا اسکی گہری نابھی دیکھ مہیندر خود کو روک نا سکا اور وہ ہاتھ سیدھا بہو کی نابھی پے رکھ دیا l


مہیندر - بہو۔۔۔۔ تمہاری نابھی بہت خوبصورت ہے l

مایا اپنی تعریف سن مچل گئی l ایسا کیا خاص ہے بابوجی اسمیں؟

مہیندر - بہو تمہاری نابھی بہت گہری ہے، ایسی نابھی تو کسی actress کی بھی نہیں (مہیندر مایا کی ننگی کمر اور پیٹ کو دبوچ رہا تھا )

پھر مہیندر نے اپنی ایک اونگلی مایا کی نابھی میں ڈال دی l وہ نابھی سہلاتے بہو کی سائڈ لیٹنے لگا l

مایا بھی صوفے پے ہلکا سا جگہ بناتے کھسک گئی l

سسر بہو دونوں ایک ہی صوفے پے آپس میں سٹے لیٹ گئے تھے l مہیندر کا ہاتھ ابھی بھی مایا کی نابھی پے تھا l


مہیندر - پتا ہے بہو، مجھے ہمیشہ سے درقرار تھی کی میری بہو خوبصورت ہو، پڑھی لکھی ہو، سبھی کام میں نپن ہو، سبکی سیوا کرے، میرا اکیلاپن دور کرے l آج تمہارے ساتھ بات کرکے ایسا لگا جیسے بھگوان نے میری سن لی جو تم جیسی سنسکاری بہو ملی مجھے l

مایا - اوہ بابوجی تھینک یو سو مچ ( کہتے ہوے وہ کروٹ ہو مہیندر سے لپٹ گئی، اور ساتھ ہی انکے گال پے ایک ہلکا سا چمبن دے دی )

مہیندر بھی کہاں پیچھے ہٹنے والا تھا وہ بھی بہو کو کس کے بانہوں میں بھر لیا پھر بہو کے گالوں کے ساتھ ساتھ اسکے chin اور گردن کے بھاگ پے بھی کس کیا l مایا ہلکا سا کھلکھلائی تو مہیندر کاندھے سے spaghetti کی پٹی نیچے کر اسکے ننگے کاندھے کو چومنے لگا l


images-۵۸

image upload


مہیندر - آہ بہو تیری باڈی کی سمیل کتنی اچھی ہے l

مایا - سچ بابوجی ؟

مہیندر - ہاں

(مہیندر مایا کی باہں اوپر کر دیا اور اسکی کھلی armpit پے ناک لگا اسے سونگھا )

مایا - بابوجی۔۔۔۔۔۔۔

مہیندر - کیا بہو l

مایا - بات کریے نا l

مہیندر - ایک shart پر

مایا - کیا۔۔۔ ؟

مہیندر - بہو مجھے پیار کریگی تب l

مایا - پیار تو کی نا بابوجی (کہتے ہوے مایا نے مہرندر کے گال پے ایک اور چمبن دے ڈالا )

مہیندر - ایسے نہیں۔۔۔ ہونٹھ پے

مایا سوچ میں پڑ گئی l

مہیندر - sorry بہو میںنے تمسے کچھ زیادہ ہی مانگ ۔۔۔۔۔۔۔۔

مہیندر اسسے پہلے کی اپنی بات پوری کرتا مایا نے اپنے ہونٹھ مہیندر کے ہونٹھ سے سٹا دیے l

مہیندر کی تو جیسے lottery لگ گئی وہ بہو کو کس کے بانہوں میں bheenchta مایا کے ہونٹھ کھا رہا تھا l مایا بھی کھل کے ساتھ دی، دونوں کسی پیاسے couple کی طرح kiss کر رہے تھے l


Cooked-Similar-Indianrhinoceros-size-restricted

image upload


قریب آدھہ منٹ کے kiss کے بعد دونوں کے ہونٹھ الگ ہوے l

مہیندر - تھینک یو بہو۔۔۔

مایا - بابوجی۔۔ کیا میں ایک اچھی بہو ہوں ؟ (مایا نے مہیندر کی آنکھوں میں دیکھ سوال کیا )

مہیندر - ہاں بہو۔۔ تم واقعی میں بہت اچھی بہو ہو l

مایا خوش ہو گئی جیسے اسنے کوئی exam اچھے مارکس سے پاس کر لیا ہو l

مایا - آپ بھی بہو اچھے ہو l

مایا - (ماحول کو نارمل کرتی ہوئی ) اچھا بابوجی۔۔۔۔ تل کے علاوہ اور کیا بتا رہے the۔۔۔کچھ نمبر کلر اسسے بھی بیکتی کے بارے میں پتا چلتا ہے۔۔۔ ؟ وہ کیسے ہوتا ہے بابوجی l

مہیندر - بہو تو اتنا interest کیوں لے رہی hai۔۔ تجھے بھی سیکھنا ہے کیا ؟

مایا - ہاں بابوجی l

مہیندر - اچھا ٹھیک ہے سیکھا دونگا، لیکن مجھے گرو دکچھنا میں کیا دوگی ؟

مایا - آپ جو مانگینگے وہ دے دوںگی l

مہیندر - (مایا کی موٹی جانگھ پے ہاتھ پھیرتے ہوے ) سوچ لو بہو جو ماگونگا دینا ہوگا l


IMG-۲۰۲۰۰۸۰۹-۱۵۲۴۰۲

upload pic


IMG-۲۰۲۰۰۸۰۹-۱۵۲۶۳۸

free image hosting


مایا مہیندر کی آنکھوں میں دیکھتے ہوے اپنا ہاتھ مہیندر کے ہاتھ پے رکھی جو اسکی جانگھ پے تھا l اسے اندرونی جانگھو کی اور لے گئی اور سیکسی ادا سے مہیندر کے ہتھیلی اپنی بر کی ابھاروں پے دباو بناتے ہوے اوپر پیٹ پے رکھ لی l


unnamed


مایا کی یہ حرکت مہیندر کو اندر تک جھکجھور کے رکھ دی l لیکن یہ ایک جھٹکا تھا دوسرا جھٹکا تب لگا جب مایا اتنے تک نہیں رکی وہ مہیندر کی ایک انگلی اپنے منہ تک لے گئی l مہیندر سے نظریں ملایے وہ گیلے ہوٹھوں کے اندر اونگلی بھر لی اور آہ بھرتے گیلی اونگلی ایسے اندر باہر کی جیسے وہ اونگلی نہیں سسر جی کا لنڈ ہو l

مایا - آپ جو بھی مانگینگے دوںگی بابوجی، آپ بےجھجھک مانگیے آپکو نراش نہیں کرونگی l (مایا کی آنکھوں میں واسنا بھری تھی )

ایک ایک پل مہیندر کے لیے مشکل ہو رہا تھا ، بہو کی یہ حرکت کسی رنڈی سے کم نہیں تھی اور اس بار اسکا اشارہ صاف تھا l


مہیندر جھک کر ایک بار پھر بہو کے ہونٹھ سے اپنا ہونٹھ ملا دیا، بہو کے گردن کو چومتے ہوے وہ کلیویج پے kiss کرنے لگا ساتھ ہی اس بار ہمت کرکے مہیندر نے بہو کی نرم چوچی بھی دبا دی تھی l



Mis-Sungandavalli-Movie-Mallu-Actors-Husband-And-wife-Romantic-Scene-hdvip-in-۵

 

مایا - ہاں بابوجی سب صاف ہو گیا۔۔۔۔ کیوں مانس سب صاف ہو گیا نا۔۔۔ (آنکھ مارتے ہوے )


مانس تو شاک میں کچھ بھی بول نہیں پا رہا تھا l


بھاگ ۹


ڈینر کے بعد مانس اور مایا دونوں ہی خوش تھے وہ اپنے کمرے میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے l کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد مانس شارٹس پہن کے بیڈ پے واپس آتا ہے، مایا بھی بال کھول کر بستر پے آ گئی l کمرے میں ہلکی روشنی چھائی تھی l

مانس مایا کو بانہوں میں لے کر بیڈ پے لٹا دیتا ہے، ہوٹھوں کو چومتے ہوے اسکے ہاتھ مایا کے بوبس پے پھسل رہے تھے l گاؤن کے اندر برا میں مایا کے بوب کافی ابھرے نظر آ رہے تھے l


مانس - آج تو تمنے کمال کر دیا l

مایا - kyon؟ تمہے اپنا مال میرے منہ میں گرانے دی اسلئے بول رہے ہو ؟

مانس - ہاں اتنا مزا پہلے کبھی نہیں آیا مایا، ویسے میرے ویریہ کا سواد کیسا لگا تمہے ؟

مایا - اچھا تھا گرم نمکین سا گاڑھا پانی (مایا کھلکھلائی )


مانس مایا کے اوپر چڑھ اسے روندنے لگا، مایا اسے دھکیلتی لیکن مانس تو اسے اچھے سے دبوچ لیا تھا l مایا کے گاؤن کے سارے بٹن کھول دیے، گاؤن ڈھیلا ہونے کے کارن مانس کو اندر ہاتھ ڈالنے mein کوئی پریشانی نہیں ہوئی وہ بڑی asani سے برا اٹھا دیابل برا اٹھاتے ہی مایا کے گورے بوب باہر کو آ گئے l



converted



مانس ننگے بوب کو اپنی آنکھوں کے سامنے پا کر خود کو روک نہیں پایا اور نیچے جھک کر اسنے مایا کے ننگے بوب کو منہ میں بھر لیا l وہ دوسرے بوب کو ہاتھوں سے مسلتے ہوے مہں سے جیبھ نکال مایا کے نپل پے گھومانے لگا l مایا اب گرم ہونے لگی تھی، اسکی سسکاری نکلنے لگی l


وہ واسنا کی مست میں مانس کو اپنے بوبس پیلا رہی تھی l

مستی میں وہ ایک لمبی سی moan کی۔۔


آادہہہہ۔۔۔۔۔ maaaanaaaas۔۔۔۔۔۔

مانس مایا کی moan سن اسکے مہں پے ہاتھ رکھا تو مایا نے اسکا ہانتھ ہٹا دیا اور زور سے moan کرنے لگی ۔۔۔۔



aaaaaaaaaaahhhhhhhh ssssssssss aaaaaaahhhhhhhhhh maaaaaanaaaaas aaaaaaaannnnhhhhhhhh


مانس رکتے ہوے، کیا کر رہی ہو مایا۔۔۔ بغل کے روم میں پاپا ہیں l


مایا - (مانس کو چڑھاتے ہوے ) تو کیا ہو گیا۔۔ اس دن تو وہ دودھ والے کاکا کو تم میری آہ سنانا چاہتے تھے تمہے بڑا مزا آ رہا تھا تو اب کیا ہوا l


مایا اور زور سے آہ بھری l۔۔۔۔۔ Sssss آاہہہہ

مانس - تم پاگل ہو گئی ہو l


مایا - (ہنستے ہوے ) ارے بدھو door بند ہے اور بابوجی ۱۰ بجے تک سو جاتے hain l تم کرو نا۔۔۔۔ مایا سیکس کے لیے بہت اتاولی تھی l


اپنے کومل نپل پے مانس کے منہ کی گرمی پاکر مایا کھل کے بےشرمی سے moan کرنے لگی l


ادھر مہیندر اپنے کمرے میں بیڈ پے لیٹا تھا، جب اسے چوڑیوں کی کھنکھناہٹ اور مایا کی آہ سنائی دی l اسنے سوچا مایا اور مانس کہیں جھگڑا تو نہیں کر رہے l وہ کمرے سے باہر آیا چوڑیوں اور مایا کی moaning تیج ہو گئی وہ dabey پاؤں door کے قریب آیا تو اسکے ہوش اڑ گئے l


مایا مانس سے آگرہ کر رہی تھی۔۔۔

مایا - آہ سسس مانس۔۔۔ ایک ہی کو چستے rahoge کیا ؟؟ میری دوسری بوب کو بھی تو پیو l


اپنے کانو میں بہو کے اتیجک شبد سنتے ہی مہیندر کے پاؤں جم سے گئے l پایجاما کے اندر اسکا لنڈ منہ اٹھانے لگا l

اب چوڑیوں کی آواز ایک ریدم میں آ رہی تھی، مہیندر دونوں کی پوزیشن imagine کرنے لگا مانس کے منہ سے بس امم کی آواز ا رہی، اسکا مطلب بہو کی چوچی اسکے منہ میں ہے، اور لگاتار آ رہی چوڑیوں کی آواز مطلب بہو مانس کا لنڈ پکڑ ہلا رہی ہے l


مہیندر واسنا سے بھر اٹھا اسے اپنی بہو کا ننگا شریر دیکھنے کی لالسا بڑھ چلی تھی، مگر کیسے۔۔۔ وہ ادھر ادھر کوئی چھید ڈھونڑھتا رہا لیکن کوئی فائدہ نہیں ایک key ہول تھا بھی تو اسسے بیڈ کی صرف سائڈ دیکھا جا سکتا تھا l سمیہ بیتتا جا رہا تھا اسے ڈر تھا کی کہیں دونوں باہر نا آ جائیں l تبھی اسے door کے اوپر ایک gap دکھا، وہ بیچینی سے آس پاس نظریں دوڑایا تو اسے ایک چیئر دکھائی دی l


بڑی ساودھانی سے وہ chair اسنے door ke پاس لگایا l مہیندر کو ڈر تو بہت تھا کہیں بیٹے بہو نے اسے ایسا کرتے دیکھ لیا تو وہ جیون بھر انسے آنکھ نہیں mila پاییگاؤل ان سب کے باوجود مہیندر کی واسنا اسکے ڈر پے حاوی تھی l

وہ چپکے سے چیئر کے اوپر چڑھا اور اندر دھیمی روشنی میں جو اسنے دیکھا، اسنے شائد اپنے جیون میں کبھی نہیں دیکھا تھا l


بہو سر سے پاؤں تک پوری ننگی تھی وہ doggy سٹائل میں بیڈ پے جھکی تھی اور مانس اسے پیچھے سے کمر پکڑ چود رہا تھا l بہو کی ننگی گانڈ میں مانس کا لنڈ لگاتار اندر باہر ہو رہا تھا l بہو کو ننگا دیکھتے ہوے مہیندر نے چیئر پے کھڑے کھڑے جھٹپٹ پایجاما نیچے کر دیا اور لنڈ باہر نکال مٹھ مارتے ہوے وہ ہوا میں کمر ہلانے لگا جیسے کی وہ بھی بہو کو چود رہا ہو l


اندر مانس کبھی مایا کو chodata kabhi اسکی چوت چاٹتا تو کبھی اپنا لنڈ اسکے منہ میں ڈالتا l مایا بھی آج بھرپور ساتھ دے رہی تھی l مہیندر سب دیکھ رہا تھا اسے تو مانو اپنی آنکھ پے یقین نہیں تھا سبکچھ سپنا جیسا لگ رہا تھا l مایا کسی رنڈی کی طرح سیکس کا مزا لے رہی تھی، مدھیم روشنی میں بھی مایا کا gora بدن چمک رہا تھا l مہیندر ہلکی روشنی میں صاف صاف تو نہیں دیکھ paya لیکن بہو کے شریر کا کٹاؤ، اسکی چوڑی گانڈ، موٹی دونوں جانگھ اور گدرایا بدن اسکے لنڈ میں بیتحاشہ ہلچل مچا رہی تھی l



images-۳۵


مایا کس کس کے چدواتی رہی، گانڈ پے مانس کا لنڈ پھٹ پھٹ ki آواز کے ساتھ ٹکرا رہا رہا تھا l

تھوڑی دیر چدائی کے بعد بعد مانس اپنے لنڈ کا مال مایا کے face پے چھوڑ دیتا ہے l مایا مٹھ سے نہا لی تھی، اسکی فیس پے مانس ویریہ کی لمبی لمبی دھار چھوڑ رہا تھا۔۔۔ مایا چہرے پے لگے مٹھ کو انگلیوں سے پوچھ چاٹ رہی thi۔


۹۶۴-۴۵۰


مہیندر کو پتا نہیں تھا کی اسکی سنسکاری بہو اتنی زیادہ چدکڑ ہے جو مٹھ کو بھی چاٹ کے مزا لیتی ہے l یہ سب دیکھ اب اسکا بھی پانی نکلنے والا ہی تھا۔۔۔وہ مایا کا ننگا بدن دیکھتے ہوے مٹھ مار رہا تھا، جیسے ہی اسکا کلائمیکس آیا اسنے لنڈ کو پایجاما کے اندر ڈال دیا l لنڈ کا ڈھیر سارا پانی پایجاما کے اندر ہی بہہ گیا l اسکے بعد

Chair سائڈ میں رکھ وہ بھیگے پایجاما میں ہی دبے اپنے کمرے میں آ گیا l


بستر پے لیٹے ہوے مہیندر کی آنکھوں کے سامنے بس اسکی بہو کا ننگا شریر تھا l اسکی چداسی حرکت بار بار مہیندر کے آنکھوں کے سامنے گھوم رہی تھی l وہ دوبارا گیلے پایجاما میں ہاتھ ڈال لنڈ کو سہلانے لگا l مہیند سوچنے لگا آج کل کی لڑکیاں کتنا کھل گئی ہیں سیکس کا پورا مزا لیتی ہیں l اور بہو تو اف۔۔۔۔ کتنا چدوا رہی تھی کیا وہ اور بھی مردوں سے chudi ہوگی ؟ مہیندر کے من میں ہزاروں سوال تھے l


بہو کی چوڑی گانڈ پے مانس کا لنڈ کیسے تھپ تھپ کر رہا تھا۔۔۔ اوہ۔۔۔۔۔۔۔۔بہو میرا بھی لنڈ لے لے اپنی پیاسی بر میں l بولتے huwe۔۔۔ آفہہہہ۔۔۔۔ بہو۔۔۔۔۔۔ یہ دوسری بار تھا جب مہیندر کے لنڈ نے پچکاری چھوڑ دی l


۲ بار جھڑنے کے بعد بھی مہیندر کا لنڈ کھڑا تھا، ہوتا بھی کیوں نہیں اسنے جو دیکھا تھا وہ واقعی مزا سے بھرا تھا l


images-۵۲


مہیند ایک پل کے لیے بھی مایا کو بہو کی طرح نہیں سوچتا بلکہ اسے ایک گرم بدن کی مالکن کی طرح دیکھتا l اسے تو بس بہو کی بر چودنا تھا l قریب ۱ گھنٹہ بیت چوکا تھا لنڈ کا تناؤ ختم ہی نہیں ہو رہا تھا کی تبھی مایا کے بیڈروم کا door کھلا اور چوڑیوں کی آواز آئی l


یہ بہو اس وقت۔۔۔ اف اسنے پاس پڑے چادر کو اپنے اوپر کھینچ لیال


مایا مہیندر کے کمرے کی طرف ہی آ رہی تھی l

مایا - دھیمی آواز میں۔۔۔ بابوجی۔۔۔ بابوجی۔۔۔


مہیندر کروٹ لیے ہوے تھا l مایا جیسے ہی کمرے میں آئی اسکی نتھنوں میں جیسے کوئی جانی پہچانی مہک سماں گئی،،، وہ ناک پے اونگلی رکھ کچھ سوچ ہی رہی تھی کی مہیندر بولا۔۔۔ کیا ہوا بہو ؟


آ۔۔۔۔ بابوجی اپنے اپنی دوائی لی آج ؟


مہیندر - اوہ نہیں بہو l بھول گیا l

مایا بیڈ کے پاس کھڑی ہوئی، مہیندر بھی جیسے ہی بیٹھنے کے لیے چادر ہٹایا مایا کو وہ انجانی عجیب سی مہک اور تیج سنگھائی دی l


مایا ترنت پہچان گئی۔۔۔ (اپنے من mein)۔۔۔اف یہ تو ویریہ کی سمیل ہے، یہاں kaise۔۔ ؟؟


مایا نے چپکے سے اپنا گاؤن سونگھا۔۔۔اسے لگا شائد مانس کا ویریہ کی smell اسکی باڈی سے آ رہی ہے l۔۔۔ یہاں سے to۔نہیں آ رہی میں تو سب صاف کر دی تھی۔۔ اور یہ سمیل تو بہت strong ہے l جیسے تازہ نکلا ہوا ویریہ l


تو کیا بابوجی نہیں nahi nahi۔۔۔

لیکن کیوں نہیں ہو سکتا۔۔۔ ہو نا ہو بابوجی اپنی پتنی کو مس کر رہے hain۔۔۔ اوہ میں یہ کیا سوچ رہی ہوں l۔۔۔ مایا دوبارا بولی


مایا - بابوجی آپ لونگ ہال میں بیٹھیے میں ابھی لاتی ہوں دوائی l


مہیندر - اوکے بہو،


مہیندر بیڈ سے اٹھکر سیدھا لونگ hall میں آ gaya۔۔ مایا کسی جاسوس کی طرح چادر اٹھا کے سونگھی۔۔۔ وہی smell، اسکا دھیان بیڈ پے گیا جہاں مہیندر کا تازہ ویریہ گرا تھا۔ وہ دیکھتے ہی سمجھ گئی پھر بھی confirm کرنے کے لیے وہ جھک کے سمیل کینل گاڑھے مٹھ کی smell مانس کے مٹھ سے کہیں زیادہ تھی اسے پکّا یقین ہو گیا l


مایا سوچنے لگی لگتا ہے بابوجی سچ mein ساسو ماں کو بہت مس کر رہے hain۔۔۔۔۔۔۔ بےچارے l میں اور مانس تو سیکس کے بغیر بالکل نہیں رہ پاتے اور مانس بھی تو جب میں نہیں ہوتی تو ہاتھ سے ہی ویریہ نکالتے ہیں l


شائد بابوجی بھی بہت مجبور ہیں اور ہاتھ سے ہی کام چلا رہے ہیں l اب سمجھی کیوں بول رہے تھے dinner کے ٹائم کی گھر جانا ہے l

مایا ایسے خوش ہو رہی تھی جیسے اسنے کوئی کرائم کیس solve کر لیا ہو l


مہیندر - لونگ ہال سے۔۔۔ کیا ہوا بہو l

مایا - (مایا کا دھیان toota)۔۔۔۔۔آ آ آئی بابوجی ll


مایا jhatpat dava لی اور لونگ ہال کی طرف بڑھ چلی l

مہیندر اسے آتے ہوے چودنے والی نظر سے دیکھ رہا تھا، خاص کر کمر سے نیچے کا حصہ جہاں مایا نے جنت چھپا رکھی تھی گاؤن کے اندر l


صوفے پے بیٹھا مہیندر لیکن اسکا لنڈ بالکل سیدھا تھا کھڑا ہوا میں l


مایا - یہ لیجئے بابوجی l

مہیندر دوا لیا اور پوچھا کیوں بہو تمہے نیند نہیں آ رہی۔۔۔ کیا کر رہی تھی l(مہیندر کا question میں شرارت تھی )


مایا - کچھ نہیں بابوجی باتیں کر رہی تھی l

مہیندر - آ نا میرے پاس بیٹھ، مجھسے باتیں نہیں کریگی ؟ آج مجھے بھی نیند نہیں آ رہی l

مایا - جی بابوجی کیوں نہیں۔۔۔۔ l

مہیندر - مانس کیا کر رہا ہے l

مایا - وہ سو گئے بابوجی l

 

مہیندر - آ نا میرے پاس بیٹھ، مجھسے باتیں نہیں کریگی ؟ آج مجھے بھی نیند نہیں آ رہی l

مایا - جی بابوجی کیوں نہیں۔۔۔۔ l

مہیندر - مانس کیا کر رہا ہے l

مایا - وہ سو گئے بابوجی l


بھاگ ۱۰


مایا صوفے پے مہیندر کے بغل میں بیٹھ جاتی ہے l

مایا کو پتا تھا کی بابوجی ساسو ماں کو miss کر رہے ہیں l


مایا - کیا ہوا بابوجی، ساسو ماں کی یاد آ رہی ہے ؟

مہیندر - ہاں بہو، کافی دن ہو گئے l کبتک تمہارے اوپر بوجھ بنا رہونگا l


(مایا بڑے پیار سے بابوجی کو دیکھتی ہے اور کہتی ہے )

مایا - بوجھ کہاں بابوجی الٹا میں آپکا دھیان نہیں رکھ پاتی ساسو ماں کی طرح اسلئے آپ جانا چاہتے ہیں ہیں na؟

(مایا دلار میں بولی )

مہیندر - ارے نہیں بہو تو تو میری بیٹی سے بڑھکر ہے (مہیندر نے یہ بات مایا کے قریب آکر اسکی گال پے ہاتھ لگا کے بولا تھا )

مایا بھی دلار میں پاس آ جاتی ہے مہیندر اسکی کاندھے پے ہاتھ رکھ دیتا ہے l

اسکی باہں سہلاتے وہ مایا کی لمبی لٹک رہی کان کے جھمکو سے کھیلتا ہے l


مہیندر - بہو تم خوش تو ہو نا۔۔۔

مایا - ہاں بابوجی l

مہیندر - میرا بیٹا تھوڑا ناسمجھ ہے بات بات پے غصہ ہو جاتا ہے l اسکی باتوں کا برا نا مانا کرو l ایک بات پوچھوں اگر تم برا نا مانو تو l

مایا - پوچھئے نا بابوجی l

مہیندر - بہو۔۔۔ مانس تمہے پیار تو کرتا ہے نا ؟ میں جب کمرے میں تھا تو تمہاری آواز آ رہی تھی۔۔ کیا تم دونوں جھگڑا کر رہے تھے ؟

(مہیندر سب جانتے ہوے بھی بڑے بھولیپن سے سوال کیا )


مایا شرم سے لال ہو گئی۔۔۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کی سوال کا کیا اتر دیکھل پھر وہ بہانا کی l

مایا - اوہ وہ وہ تو بابوجی میرے پیر میں ہلکا درد تھا تو مانس میری مالش کر رہے تھے l (مایا کو جلدی میں کوئی اور بہانا نہیں سوجھا )

مہیندر - اوہ بہو تو دنبھر اتنا کام کرتی ہے اپنا دھیان رکھا کر l کچھ دوا لی l

مایا - نہیں بابوجی اسکی جررت نہیں l

مہیندر - ارے کیسے جررت نہیں ہے، رک میں تیرے لیے ایک دوا لاتا ہوں، میرے پیروں میں درد ہوتا تھا تو ایک پہچان کے ڈا نے مجھے ایک دوا prescribe کیا l بہت فییدا ہوا اس دوا سے، رکو بہو لاتا ہوں l

مایا منع کرتی رہی مگر مہیندر اپنے کمرے میں آ گیا۔۔۔ بیگ سے ایک دوا لیکر واپس مایا کے قریب آیا l

یہ لو بہو یہ دوا پی لو سب درد ٹھیک ہو جائیگا l مایا کو سمجھ نہیں آیا کیا بولے وہ تو بہانا کی تھی تو پھر ایک اور جھوٹھ بولی l


مایا - اوہ بابوجی یہ تو آیورویدک دوا ہے، اور مجھے آیروید سے ایلرجی ہے l اسلئے main یہ دوا نہیں لے سکتی l


مہیندر - اوہ بہو تو اور کوئی دوا تو نہیں ہے میرے پاس (مہیندر اداس من سے بولا )

مایا اپنے سسر کو اپنے لیے اتنا پریشان دیکھ بھاوک سی ہو گئی l


مایا - بابوجی آپ اتنا کیوں پریشان ہیں، main ٹھیک ہوں l آپ بیٹھیے (مایا یہ بات مہیندر کا ہاتھ پکڑ بولی تھی )


مہیندر اس بار مایا سے رگڑ کے بیٹھا خاص کر مایا کی موٹی جانگھ مہیندر کی جانگھو سے چپک سی گئی تھی l

مہیندر کے شریر میں تو جیسے گرم خون دوڑ گیا l مایا کی مانسل جانگھ بھی کافی گرم فیل ہو رہی تھی l وہ سوچ میں ڈوب گیا اسکی آنکھوں کے سامنے کچھ دیر پہلے کا درشیہ امڑ اٹھا جب مایا اپنی بھاری جانگھ پھیلائے مانس کو بیچ میں لی تھی اور جوش میں کمر hilaate چدوا رہی تھی l سوچتے ہی لنڈ ہوا میں اٹھ گیا، مہیندر ایک ہاتھ سے اپنا erection چھپانے کی ناکام کوشش کیا l


مایا تھوڑی اسمنجس سی مہیندر کے ٹانگوں کے بیچ دیکھی تو اسے وہاں انکا لنڈ حرکت کرتے دکھا ساتھ ہی مایا کی نظر وہاں بھیگے پایجاما پے بھی پڑی l مایا کے لیے یہ کافی عجیب تھا ایک ادھیڑ عمر کا آدمی جو اسکا سسر ہے بالکل پاس بیٹھا ہے اور اپنے شرارتی لنڈ کو چھپا رہا ہے، مایا من میں سوچ تھوڑا سا مسکرا بھی دی l


مایا اپنے سسر کو اکیلا چھوڑنا ہی مناسب سمجھا، وہ مہیندر سے بولی l

مایا - اچھا بابوجی سو جائیے اب، (کہہ کے وہ اٹھنے والی ہی تھی کی مہیندر نے اسے روکتے ہوے اپنا ہاتھ انایاس ہی اسکی مانسل جانگھو پے رکھ دیا l مایا کے بدن میں تو جیسے کرنٹ سا دوڑ گیا l


مہیندر - بیٹھو نا بہو، ابھی تو بیٹھنا چاہتی تھی تم l


اچانک ہی صحیح مگر ایک سسر نے بہو کی جانگھ پے ہاتھ رکھ دیا تھا l سخت ہانتھوں کا سپرش مایا کے بدن میں بھی جھرجھری پیدا کر دیا l اسکی دل کی دھڑکن تیز تھی، اسنے نظریں نیچی کر دیکھا تو مہیندر کا لنڈ پایجاما میں اوپر نیچے ہو رہا تھا l


مایا - مجھے لگا آپکو نیند آ رہی ہے l

مہیندر - نہیں بہو نیند تو بالکل نہیں آ رہی مجھے (مہیندر ہمت کرکے ہاتھ جانگھ پے ہی رہنے دیا l جوان اورت کی جانگھ وہ بھی اپنی بہو کی اپھپھ۔۔۔ patle گاؤن میں مہیندر کو ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ بہو کی ننگی جانگھ چھو رہا ہو l


مہیندر ہلکا سا ہانتھ بہو کی جانگھ پے پھیرا اور bola۔۔ بہو تمہارا گاؤن بہت سندر ہے l

مایا کچھ نا بول پائی اسنے بس حامی میں سر ہلا دیا l مہیندر نے دوبارا سوال کیا۔۔ بہو تم کیا سوتے ہوے ہر روز یہی گاؤن پہنتی ہو ؟


مایا کچھ سمجھ نہیں پا رہی تھی، آج بابوجی مجھسے اتنے پرائیویٹ سوال کیوں پوچھ رہے ہیں l یا پھر سوال نارمل ہے شائد rishta الگ ہے جسسے وہ ان سوالوں سے تھوڑی اسہج تھی l


مایا نے پھر بھی جواب دیا۔۔۔ نہیں بابوجی کچھ بھی پہن کے سو جاتی ہوں کل کرتی لیگگنگ پہنی تھی تو وہی پہنے سو گئی l لیگگنگ کی بات سنتے ہی مہیندر کے آنکھوں کے سامنے مایا کی بڑی گانڈ کا منظر یاد آ گیا l

اسنے ہاتھ کا دباو بڑھاتے ہوے کہا۔۔۔ اوہ ہاں بہو۔۔۔ ویسے تم کل بہت سندر لگ رہی تھی۔۔ خاص کر۔۔۔ (مہیندر کہتے کہتے رک سا گیا )


مایا اپنی تعریف سن بہت خوش ہو گئی اور شرمایی بھی۔۔۔کوئی بھی لڑکی اپنی تعریف سن خوش ہو جاتی ہے چاہے کوئی بھی ہو۔۔۔ لیکن وہیں مہیندر کی ادھوری بات اسکے من میں جگیاسا کو جگا دی۔۔۔ کیا بابوجی۔۔؟؟ وہ سنانا چاہتی تھی کی بابوجی کیا بولنا چاہتے ہیں l


مہیندر - بہت سندر لگ رہی تھی tum۔۔۔

مایا - بےصبری دکھاتے ہوے لیکن آپ کیا بول رہے تھے کیا خاص۔۔۔


مہیندر - وہ وہ۔۔۔۔۔ تم تم۔۔۔ پے لیگگنگس کافی اچھی لگتی ہے l مہیندر بنا رکے ایک سانس میں بول گیا l


(مایا کو بھلی بھانتی پتا تھا کی لیگگنگ میں کمر کے نیچے کا بھاگ ابھر کے دکھتا ہے اور کالج میں تو لڑکیاں بھی اسکی hip کی سائز سے جلتی تھیں l مایا کو تو بہت لڑکوں نے اسکے curvy فیگر کی تعریف کی تھی آج پہلی بار کسی عمردراز ویکتی کے منہ سے اپنی تعریف سن وہ پھلے نہیں سما رہی تھی l)


مایا - ایک بات کہوں بابوجی l

مہیندر - ہاں بولو بہو l

مایا - میں نا شادی سے پہلے ہمیشہ سوچتی تھی کی میرا سسرال کیسا ہوگا سسرال کے لوگ کیسے ہوںگے کیا مجھے پھریڈم ملےگی کیا میں منچاہا کام کر سکونگی منچاہا کپڑے پہن سکونگی، لیکن میں قسمت والی ہوں جو آپ جیسا پتا سامان سسر ملا مجھے l(مایا یہ بات مہیندر کے قریب آکر انکی آنکھو میں دیکھتے ہوے بولی )


مہیندر - اوہ بہو میںنے کہا na۔۔ تو تو میری بہو نہیں بیٹی ہے l (مہیندر کہتے ہوے مایا کی کمر میں ہاتھ ڈال اسے اپنی اور کھینچ لیا، مایا سمبھلتے سمبھلتے بھی مہیندر کے سینے پے آ گئی، اسکی داییں بوب مہیندر کے سینے سے سٹ گئی l)


مایا سسر کے ساتھ اتنے قریب کبھی نہیں بیٹھی نا ہی کبھی وہ اس طرح پیار بھری باتیں کی تھی، وہ اسہج سی نظریں اپنے bedroom کی طرف گھمائی اسے ڈر تھا کی کہیں مانس نا آ جائے l ایسا نہیں تھا کی وہ کچھ غلط کر رہی تھی اسے تو بس چنتا تھی کی مانس اسے سسر کے اتنا قریب دیکھ غلط نا سمجھ لے l تبھی مہیندر مایا کی کمر پے ہانتھ پھیرتا بولا l


مہیندر - بہو۔۔۔ مانس سو رہا ہے نا۔۔ ؟ کہیں ایسا تو نہیں کی hum ادھر باتیں کر رہے ہو اور اسکی نیند خراب ہو l


مایا - پتا نہیں بابوجی l

مہیندر - اسے disturb ہوگا بہو۔۔ تو ایک کام کر دروازہ باہر سے بند کرکے آ جا l

(مہیندر نے جیسے مایا کی من کی بات پڑھ لی ہو اس situation میں مایا کو بھی یہی بات اچھی لگی )

وہ حامی بھرتی ہوئی اٹھ کر door کے پاس آئی دیکھا تو مانس سو رہا تھا وہ دھیرے سے door کھینچی عجیب سی feeling تھی مایا کے من میں اس وقت جیسے کوئی پاپ کرنے جا رہی ہو۔۔۔ اور نہیں بھی۔۔۔۔ آخرکار وہ مانس کو بےوجہ کسی پریشانی میں نہیں پڑنے دینا چاہتی تھی l

 

اودے کو بہت گلانی محسوس ہوئی، کال کٹ گیا تھا l اسنے موبائل ہاتھ میں لیا تو مایا کی دوبارا کال آنے لگی، اس بار اودے نے دھیان دیا تو پایا اسکی گاڑھی مٹھ مایا کے ٹھیک ہوٹھو پے تھی l انگوٹھے سے جب وہ مٹھ پوچھتا تو ایسا لگتا جیسے وہ اپنا ویریہ مایا کے ہونٹھ پے رگڑ رہا ہو l ایک بار پھر کال miss ہو گئی l اودے کا دھیان ٹوٹا وہ موبائل کو بستر پے صاف کیا اور بغل میں رکھ کے سو گیا l


بھاگ ۱۸


اگلے دن تڑکے صبح مایا کے message سے اودے کی نیند tooti، دیکھا تو مایا بیڈ پے لیٹی اپنی سیلفی بھیجی تھی اور نیچے good morning لکھا تھا l

اودے نے بھی جواب میں good morning بولا l

مایا - کیا پاپا کل رات آپ جلدی سو گئے تھے l

اودے - ہاں بیٹی بیڈ پے پڑے نیند آ گئی تھی l تم کب سوئی ؟

مایا - میں آپکا ویٹ کی آپ نہیں آئے تو ۱ گھنٹے بعد سو گئی l

اودے - سوری بیٹی l

مایا - its allright، ڈرنک تو نہیں کی تھی آپنے ؟

اودے - نہیں بیٹی l

اودے - مانس سے کیا بات ہوئی وہ ٹھیک تو ہے l

مایا - ہاں پاپا وہ ٹھیک ہیں، کام اچھے سے کر رہے ہیں l

اودے - miss کرتی ہوگی تو۔۔

maya - ہاں پاپا مس تو کرتی ہوں l آپ کرتے ہیں ممی کو miss

اودے - بالکل بیٹی روز کرتا ہوں l

مایا - ہم بس مجھے مس نہیں کارتے l

اودے - یہ کیسی بات کر رہی ہو tum، تمہے بھی بہت مس کرتا ہوں l شادی کے بعد سے tujhse ملا بھی نہیں ہوں l

مایا - ہم i miss you too papa، اچھا میں دوپہر کو فون کرونگی آج ایک فرینڈ کے ساتھ شاپنگ جا رہی ہوں l

اودے - اوکے بیٹی میں ویٹ کرونگا l

مایا - میں آپسے whatsapp پے چیٹ کرتی رہونگی okay؟

اودے - اوکے بیٹی l

فون پے بات کرنے کے بعد مایا بلینکیٹ کے اندر پاپا کی بات سوچنے لگی جو انہوںنے مانس کو مس کرنے کی کہی تھی l واقعی مانس کو گئے آج ۱ ویک ہو گیا تھا اور وہ اب اسے مس کرنے لگی تھی l

وہ کروٹ ہوکر اپنی ایک سیلفی لی اور مانس کو بھیج دی l مانس کا ترنت رپلائی آیا۔۔۔ بہت اچھی لگ رہی ہو l

مایا - کیا کر رہے ہو ؟

مانس - بیڈ پے لیتا ہوں، تمہے مس کر رہا ہوں l

مایا - جھوٹھے l

مانس - سچ مایا۔۔۔ یقیں نہیں ہوتا ؟

مایا - نہیں تم جھوٹھے ہو l

مانس - دیکھو کتنا مس کر رہا ہوں تمہے l (مانس نے اپنے کھڑے لنڈ کی تصویر بھیج دی تھی )


images-۵۶


مایا - اوہ ماں یہ کیا ؟ صبح ہی l

مانس - ارے مایا تم تو جانتی ہو نا ہم لڑکوں کا پرابلم، سبھی لڑکوں کا صبح صبح لنڈ کھڑا رہتا ہے اور چوت کے لیے بیچین l

مایا - تو بیچینی کیوں بڑھا رہے ہو l

مانس - کیا کروں، تم میرے پاس نہیں ہو l

مایا - مجھے imagine کر لو اپنے پاس۔۔۔۔ اپنے بستر پے (مایا سرسراہٹ بھری آواز میں بولی )

مانس - آہ مایا آؤ میری بانہوں میں l

مایا - لو آ گئی، تمہے کس کر رہی ہوں l

مانس - امم میں برا کے اوپر سے تمہارے بوبس دبا رہا ہوں l

مایا - برا کے اوپر سے کیوں ؟ برا کھول کے دباو نا l

(ہمیشہ کی طرح مایا مانس کا بھرپور ساتھ دے رہی تھی )

مانس - آہ بہت مزا دے رہی ہو تم مایا۔۔۔۔

مایا - اچھا maza اور بڑھاؤں

مانس - (اپنا لنڈ مسلتے۔۔۔ ہاں )

مایا شرارت میں پہلے تو اپنے ٹاپ اتار دی پھر برا بھی l اور ایک ہاتھ سے بوب چھپاتے ہوے سیلفی لیکر مانس کو بھیج دی l


images-۵۹

json verify


مانس مچل گیا l

مانس - اوہ مایا۔۔۔ سیکسی۔۔۔ امم ہاتھ ہٹاؤ نا

مایا - نہیں

مانس - پلیز دکھاؤ

مایا اسکے بعد ہاتھ ہٹا کے اپنی ننگے بوبس کے پھوٹو بھیجی l


images-۶۰



مانس مایا کی ننگی نپل کو دیکھ کاماتر ہو گیا l

مانس - مایا۔۔۔ آہہہہ ویڈیو کال کروں

مایا - کیوں

مانس - ویڈیو کال پے دکھا دو سب کھول کے مایا l

مایا - چھی میں کوئی پورن کریکٹر ہوں

مانس - پلیز مایا

مایا - نو

مانس - اچھا سوری تو اپنی ننگی پکس ہی بھیج دو l

مایا - ہم

مایا حامی بھرتے اپنے سارے کپڑے اتاری اور کئی ساری ننگی پکس مانس کو بھیجی l

مانس سبھی پکس کو باری باری دیکھ لنڈ رگڑتا رہا l

مانس - مایا چوت کا پکس بھیجو l

مایا مانس کی بات ماں ویسا ہی کیا l ٹانگے پھیلا اپنی پھولی ہوئی چوت کا پھوٹو بھیج دیا l


images-۶۲

my geo com


مایا کی چوت دیکھ مانس خود کو روک نہیں پایا اور جلد ہی پانی چھوڑ دیا l اتنا سب کر کے مایا کا بھی موڈ بہت سیکسوال ہو گیا تھا l وہ جوش میں گندی باتیں کرنے لگی l

لیکن مانس اب دیر سے اور چھوٹا جواب دیتا، مایا تڑپ رہی تھی چوت میں اونگلی ڈال وہ مانس سے گندے words کی باتچیت expect کر رہی تھی l

مایا - آہ مانس چوت چاٹو میری sssss۔۔۔

اودے - مانس کچھ ہی شبد بولا۔۔اسکی بیچینی کم تھی l۔۔۔۔ مایا ایک منٹ boss کا کال آ رہا ہے، ذرا رکو l


مایا - اوکے (مایا کال ختم ہونے کا بےصبری سے ویٹ کرنے لگی )

مگر کچھ دیر بعد مانس مایا سے بولا کی اسے آفس جانا ہوگا جرری کام آ گیا ہے l

مایا اچھی طرح سمجھ گئی تھی کی مانس کا پانی نکل چوکا ہے، لیکن وہ مانس سے پوچھنا اچت نہیں سمجھی l اسکے باتوں میں ڈھیلاپن صاف بتا رہا تھا کی اسکا لنڈ بھی پانی نکال کر ڈھیلا پڑ گیا ہے l

وہ غصے میں فون بیڈ پے پٹک دی، مرد کتنے سیلفش ہوتے ہیں پانی نکلنے سے پہلے کتنا پیچھے پڑتے ہیں اور جیسے ہی مٹھ نکلا پرایے کی طرح behave کرتے ہیں l مانس سے وہ چڑ گئی تھی، مگر اپنا موڈ خراب نہیں کرنا چاہتی تھی اسلیے وہ ٹانگے کھول پھنگرنگ کرنے لگی l


مانس سے وہ بہت ناراض تھی، اسلئے تو پھنگرنگ کرتے ہوے وہ مانس

کے بارے میں نہیں بلکہ کارتک کے بارے میں سوچ اونگلی چوت میں پیل رہی تھی l



playingwithherindianpussy-۱۵۵۴۳۹۷۰۵۲p۴lc۸


موبائل پے کارتک کے ہاٹ pics دیکھتے ہوے وہ سکھلت ہو گئی l چوت پانی چھوڑ دی تھی، وہ rahat کی گہری سانس لیٹے ہوے بیڈ پے نڈھال ہو گئی l


کارتک کے لنڈ کو امیجن کر اسے بڑا مزا آیا تھا l آج پہلی بار وہ کسی ایکٹر کو سوچکر سکھلت ہوئی تھی l وہ چھت کی طرف دیکھتی سوچنے لگی، سبھی مرد بھی تو ایکٹریس کے نام کی مٹھ مارتے ہیں l اسنے ہوسٹل میں لگبھگ سبھی لڑکیوں سے سنا تھا کی انکے بائےفرینڈ اپنی فیوریٹ ایکٹریس کی پھوٹو یا ویڈیو دیکھ لنڈ سے پانی نکالتے ہیں l اور پتی نے بھی batatey تھے l موبائل ہاتھ میں لیے وہ whatsapp کے میسیج دیکھ رہی تھی تبھی اسکی نظر اسکے اپنے پاپا کو بھیجے رات کے میسیج پے گئی l

ileana dcruz والی میسیج کو دیکھ اسکے دماغ میں ہلچل hui، کیا پاپا بھی۔۔۔۔۔ من میں کہتے کہتے رک گئی l

نو کیا سچ میں ؟۔۔۔ ہو بھی سکتا ہے۔۔۔ ممی سے دور ہیں تو شائد کرتے ہوںگے l مایا پاگلوں کی طرح بیڈ پے لیٹی۔۔ خود سے سوال اور خود کو جواب بھی دے رہی تھی l تھوڑی دیر اسے realize ہوا کی وہ پاپا کے بارے میں ایسا سوچ رہی ہے l وہ بیڈ سے اٹھی پھریش ہوئی بار بار پاپا کا چیٹ کھولتی لیکن کوئی میسیج نہیں تھا l آخرکار وہ اپنی فرینڈ کو کال کی شاپنگ پے جانے کے لیے l

 

Morningstar۱۷۳ said:

Bhai meri to samjh me nahi aa rahi he teri kahani ek aurat ghar me akeli he or wo lund lene ke liye apne Baap ko pashaye jo k usse dur he chal sasur ka samjh me aaya tha post karne ke liye platform mil gaya he to kuch be chutiyapa post na karo

Click to expand۔۔۔

Deleted

 

تیل کی پرواہ کیے بغیر مہیندر بہو کی گانڈ چودنے laga، تیل اتنا زیادہ تھا کی بار بار لنڈ پھسل جاتا دونوں کا بدن تیل میں پھسل رہے تھے l آخرکار مہیندر کا ویریہ بہو کی گانڈ پے نکل گیا l

صبح کے چار بج گئے تھے چدائی کرتے کرتے l پورا کمرہ سسر بہو کی زبردشت چدائی کا ثبوت دے رہا تھا l


بھاگ ۱۵


مہیندر اور مایا دونوں ہی پرے ننگے صوفے پے لیٹے تھے l تیل اور پسینہ ملا ہوا انکا شریر آپس میں چپکا تھا l

مہیندر پیچھے سے ہاتھ ڈال مایا کی دونوں چوچی دباتے ہوے۔۔۔ ۔

مہیندر - بہو آج تجھے چود کے بہت مزا آیا l ایسی گانڈ میںنے سالوں بعد چودی ہے l

مایا - مجھے بھی آپسے چدوا کے بہت مزا آیا بابوجی۔۔۔ آپکا لنڈ اس عمر میں بھی کسی جوان لڑکی کو تھکا دے l


مایا - اچھا بابوجی اب آپ سو جائیے، مانس اٹھ گئے تو پرابلم ہو جائیگی l

مہیندر - ہاں بہو l

مہیندر اور مایا اپنے اپنے کمرے میں آکر سو گئے l

صبح مانس کی نیند کھلی وہ اٹھ کر پھریش ہوا، نیوز پیپر لیے وہ لونگ ہال میں صوفے پے بیٹھا تو فرش پے تیل اور ویریہ سے اسکے پیر چپچپا گئے l اسنے مایا کو آواز دی، مایا۔۔۔ مایا۔۔۔

مایا اونگھتے ہوے ہال میں آئی تو اسے رات کی مستی یاد آئی، وہ بھول گئی تھی کی مانس کے اٹھنے سے پہلے اسے کمرہ صاف کرنا تھا l

مانس - مایا یہ کیا hai۔۔۔؟


مایا بہانے سوچنے لگی۔۔ ۔


مانس - کیا ہوا کہاں کھو گئی تم،

مایا - وہ کل رات میں بابوجی کے گھٹنے میں درد تھا تو میںنے انہیں oil دیا تھا لگتا ہے بابوجی کے ہاتھ سے گر گیا l

مانس - لیکن تمنے مجھے بتایا کیوں نہیں ؟ اور پاپا کو تیل دینے سے اچھا تم لگا دیتی l کتنی problem ہوئی ہوگی انہیں، میں پوچھتا ہوں l l

مانس سیدھا پاپا کے کمرے میں آتا ہے، مایا بھی پیچھے پیچھے آتی ہے l

کمرے میں مہیندر بیڈ پے بیٹھا تھا تھوڑی دیر پہلے ہی اسکی نیند کھلی تھی l

مانس - پاپا آپ ٹھیک تو ہیں l

مہیندر - کیا ہوا بیٹا، میں سمجھا نہیں l

مانس - پاپا،،، مایا نے بتایا کی آپکو پیر میں درد تھا کل رات

(مایا نے آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا )

مہیندر - ہاں ہاں بیٹا وہ۔۔ تھوڑا سا l ابھی ٹھیک ہے l کل رات بہو نے مالش کی تھی l

مانس - مالش ؟ آپ جھوٹھ کیوں بول رہے ہیں مایا نے تو صرف تیل دیا تھا آپکو l

مایا نے آنکھ دکھائی to۔۔مہیندر اپنی بات کریکٹ کی۔۔۔

بیٹا میرا مطلب تیل دیا تھا، میں لگا لیا اور ابھی ٹھیک بھی ہے l


مانس - میں کچھ نہیں جانتا، مایا بابوجی کے پیر کی مالش کرو l آج بریکپھاسٹ میں باہر آفس کے پاس کر لونگا l (مانس مایا کو آدیش دیا )

مہیندر - ارے بیٹا رہنے دے l

مانس - نہیں بابوجی

مایا کھڑی کیوں ہو جاؤ تیل لاوو l مایا ایک آگیاکاری پتنی کی طرح کمرے میں گئی اور تیل لے کے آئی l

مہیندر نے دھوتی پہنی تھی l

مانس - مایا تم اچھے سے مالش کرو، میں آفس کے لیے تیار ہوتا ہوں

مانس کے جانے کے بعد مایا فرش پے بیٹھ گئی، مایا اور مہیندر ایک دوسرے کو دیکھ مسکرا رہے تھے l


مہیندر نے دھوتی کے اندر سے اپنا لنڈ باہر کیا، لو بہو کرو مالش l مایا کی ہنسی چھوٹ گئی l وہ دھیمی آواز میں بولی، ہاتھ سے کرو یا منہ سے l

مہیندر کا لنڈ کھڑا ہو gaya، وہ ترنت مایا کا سر پکڑ اپنے لنڈ کو مایا کے مہں کے پاس رکھا۔۔۔۔ چسو بہو l


مایا کسی سنسکاری بہو کی طرح سسر جی کی بات مان انکا لنڈ چوسنے لگی l مہیندر گاؤن کے اوپر سے مایا کے بوب بھی دبا رہا تھا l


آاہ بہو۔۔۔۔۔ کتنا اچھا چوستی ہو l۔۔۔۔۔تھوڑی چسائی کے بعد مہیندر کا ویریہ آنے کو تھا l

آفہہہہہہہ آہاہہہ کی آواز کے ساتھ مہیندر بہو کے مہں میں سکھلت ہو گیا l


gifcandy-brunette-۵۵


مایا - اوہ بابوجی آپ تو جلدی نکال دیے۔۔۔ مجھے پیار بھی نہیں کیا l

(مایا مہں سے ویریہ پوچھتے ہوے بولی )


مہیندر - sorry bahu۔۔۔ میرا لنڈ تیرے مہں کی گرمی برداشت نہیں کر پایا l

ایک بار مانس کو آفس جانے دے پھر تجھے میں پورے گھر میں جی بھر کے چودتا ہوں l

مایا کی خوشی کا ٹھکانا نہیں رہا l


مہیندر اور مایا ایک دوسرے کو ایک لور کی طرح کس کیے l مہیندر پھریش ہونے گیا اور bahu کچن میں کام کرنے لگی l

ادھر مانس کچھ دیر بعد فون پے بات کرتے ہوے لونگ ہال میں بیٹھا تھا l

papa۔۔ پاپا۔۔۔

مہیندر - کیا ہوا بیٹا l

مانس - پاپا وہ میرے فرینڈ نے urgently بلایا ہے l

مہیندر - بیٹا ہم دونوں کو ؟

مانس - ہاں۔۔۔ لگتا ہے کام ہو گیا l جلدی چلئے۔۔۔ اگر کام ہو گیا تو آپ آج دوپہر کو ہی گھر جا سکتے ہیں l

مہیندر کو تو جیسے شاک laga۔۔۔ کتنا badkismat ہے وہ l وہ بھگوان سے پرارتھنا کرنے لگا کی کام نا ہوا ہو l

مانس - کیا ہوا بابوجی۔۔۔ آپ خوش نہیں ہو ؟

مہیندر - نہیں beta۔۔۔میرا مطلب بہت اچھا۔۔۔ آ۔۔۔ آ۔۔۔ ابھی چلنا ہوگا ؟

(مہیندر مایا کی طرف دیکھا۔۔۔ مایا بھی انکی باتیں سن رہی تھی )

مانس - ہاں۔۔۔ آپکو کیا ہوا l آپ خوش نہیں لگ رہے l

مہیندر کچھ بول نا پایا۔۔۔۔ ہاں بیٹا۔۔ وہی سوچ رہا تھا، یقین نہیں ہوتا l بہت خوش ہوں میں۔۔۔ تھینک یو بیٹا l


مہیندر اداس ہو کمرے میں آیا اور تیار ہونے لگا l چہرے پے اداس بھاو تھے جیسے کوئی سندر سپنا ٹوٹ اچانک سے ٹوٹ گیا ہو l

ادھر مایا بھی اپنی قسمت کو کوس رہی تھی l اتنا اچھا موقا تھا آج کھل کے سسر کے ساتھ سیکس کر سکتی تھی l مایا کو بہت غصہ بھی آ رہا تھا l

مایا بہانے سے مہیندر کے کمرے میں آئی مگر لونگ ہال میں مانس بیٹھا تھا تو کچھ بول نہیں پائی l

دونوں نے بس ایک دوسرے کو آنکھو ہی آنکھوں میں دیکھا l مایا غصے میں آگ ببولا تھی، اسے سمجھ نہیں آ رہا اس situation میں وہ کیا کرے l مہیندر bahu کو بانہوں میں لےنا چاہا تو مایا غصے سے کمرے سے باہر آ گئی l

مانس نے دوبارا مہیندر کو جلدی تیار ہونے کے لیے pressure ڈالا l

مہیندر اور مایا کچھ بھی بات نہیں کر paaye l

آخرکار دونوں گھر سے باہر آ گئے l مایا دونوں کو bye کر واپس گھر کا کام کرنے لگی l

ایک گھنٹے بعد مانس کا فون آیا کی وہ بابوجی کے ساتھ سٹیشن پے hai،۔۔۔ سارا کام ختم ہو چوکا تھا l مانس کی بات سنکر مایا کی بچی امید بھی ٹوٹ گئی، وہ افسوس کرنے لگی کی سسر جی کے ساتھ جو ہوا کاش وہ ۲ دن پہلے ہوا ہوتا تو وہ پوری مستی لوٹ پاتی l اسے ادھوراپن سا لگ رہا تھا l

وہ بیڈروم میں لیٹی کافی دیر تک رات کے ہوے حسیں پل کو یاد کرتی رہی، اسکا پرا جسم تڑپ رہا تھا l لیکن اسے تو اب اس ادھورے پل کے ساتھ ہی جینا تھا l نا جانے کب دوبارا ایسا موقا ملے اور وہ سسر جی کے موٹے لنڈ کا لفط اٹھا پائے l

 

وہ بیڈروم میں لیٹی کافی دیر تک رات کے ہوے حسیں پل کو یاد کرتی رہی، اسکا پرا جسم تڑپ رہا تھا l لیکن اسے تو اب اس ادھورے پل کے ساتھ ہی جینا تھا l نا جانے کب دوبارا ایسا موقا ملے اور وہ سسر جی کے موٹے لنڈ کا لفط اٹھا پائے l


بھاگ ۱۶


دھیرے-دھیرے ۴ مہینے بیت گئے، مایا سسر کے ساتھ ہوے آکسمک سیکس کے بارے میں بھول چکی تھی l واپس اپنی سیدھی جیون شیلی میں اسکا سمیہ بیتتا گیا l مانس بھی کام کو لیکر بہت busy رہنے لگا تھا، اب مانس اور مایا کا سیکس بھی کم ہوتا تھا l دونوں کئی بار کوشش کرتے اپنی سیکس لائف کو رومانچک بنانے کے لیے مگر مانس کا کام بیچ میں اڑچنے ڈال دیتا l


ایک دن دوپہر کو مایا اپنی ماں سے بات کر رہی تھی l غورطلب ہے کی مایا اکثر خالی سمیہ میں اپنے family اور رشتیداروں سے باتچیت کرتی l


مایا - ماں۔۔۔ میں سوچ رہی تھی کوئی جاب کر لوں l گھر پے سارا دن بہت بور ہوتی ہوں l مانس کے پاس بھی میرے لیے ٹائم نہیں ہے l


مایا کی ماں (انجو ) - بیٹی جاب اتنا آسان ہے کیا ؟ دیکھ تیرا چھوٹا بھائی کتنے مہینو سے کوشش کر رہا ہے l لیکن ابتک کوئی فائدہ نہیں ہوا l بیٹی جاب میں تھوڑی ویستتا تو ہوتی ہی ہے، مانس بھی تجھے وقت دیگا تو چنتا نا کر l

اب اپنے پاپا کو ہی دیکھ لے اگلے ایک سال کے لیے رائےپور سے کام کرنا ہوگا، کتنے دنوں سے انسے بات نہیں ہوئی نا جانے کب چھٹی ملےگی l


مایا - کیا کہا ماں، پاپا رائےپور میں ہیں کبسے ؟

انجو - بیٹی ابھی ۲ ویک ہوے l

مایا - ماں۔۔ مجھے تمنے پرایا کر دیا کیا ؟ پاپا کی جاب کی بات آپ دونوں میں سے کسی نے نہیں بتایا مجھے l

انجو - ارے بیٹا سبکچھ جلدی میں ہوا، انکے آفس کا ایک employee اچانک جاب چھوڑ دیا l کام زیادہ تھا تو انہیں رائےپور جانا پڑا l

مایا - حمم

انجو - غصہ کیوں ہوتی ہے l تیری صیحت ٹھیک ہے نا l

مایا - haan ٹھیک ہے l

مایا - اچھا ماں میں شام کو بات کرونگی l بائی

انجو - بائی بیٹی

مایا بستر پے لیٹی اپنے کالج کے دنوں کو یاد کرنے لگی، فیسبک پے کالج کی پھوٹو دیکھتی اور مسکراتی l اسے یاد آیا کالج کا پہلا دن جب اسکے پاپا (اودے)، مایا کے ساتھ کالج ایڈمشن کے لیے آئے تھے l کتنی امیدیں تھی کالج ختم کرکے جاب کرنے کے، independent ہونے کی لیکن شادی کے بعد سارے سپنے ختم ہو گئے l

مایا کو ماں کی بات یاد آئی تو سوچا کیوں نا پاپا کو کال کروں l وہ پاپا کو فون کی، لیکن کوئی رسپانس نہی ملا l خیر وہ فون سائڈ میں رکھ کے لیٹ گئی، بستر پے پڑے قریب ۱ گھنٹے بعد فون کی آواز سے اسکی نیند کھلی l دیکھا تو پاپا کا کال تھا l

مایا - ہیلو پاپا۔۔

اودے - مایا بیٹی کیسی ہو ؟

مایا - ٹھیک ہوں پاپا۔۔ آپ کیسے ہو ؟

اودے - ٹھیک ہوں بیٹی، تھوڑا کام میں busy ہوں l مانس کیسا hai؟ سب ٹھیک تو ہے ؟

مایا - ہاں پاپا سب ٹھیک hai۔۔مانس بھی ٹھیک ہیں l

اوکے پاپا آپ busy ہو میں بعد میں کال کرونگی l

اودے - its اوکے beti، تمسے ایک بات کہنی تھی

مایا - مجھے پتا ہے l

اودے - کیا

مایا - یہی کی آپ گھر پے نہیں ہیں، رائےپور میں ہیں l

اودے - اوہ بیٹی تمہے کیسے پتا

مایا - ماں سے۔۔۔ آپ تو مجھے پرایا کر دیے ہو ہے نا۔۔۔ ؟

اودے - نہیں بیٹی ایسا مت بولو۔۔۔ sorry

مایا - its اوکے مجھے پتا ہے آپ بجی ہو سو نو پرابلمل

اودے - تھینک یو بیٹی l

۔

۔

(اس طرح مایا اور اودے نے کافی دیر تک بات کی۔۔۔)

دوسرے دن بھی مایا سب کام ختم کر بیڈ پے لیٹی تھی، اسنے سوچا پاپا نے لنچ کیا کیا ہوگا تو ایک میسیج کیا l

پاپا کیسے ہو ؟ لنچ کر لیے ؟

کافی دیر تک رپلائی نہیں آیا پھر بعد میں میسیج آیا haan۔۔۔میں ابھی بجی ہوں شام کو بات karunga l

مایا بور ہو کے سو gai۔۔۔ شام کو مانس کے ساتھ dinner کرنے کے بعد وہ بیڈ پے تھی جب اودے نے کال کیا l

مایا فون لی اور میسیج کر دی کی وہ سونے جا رہی ہے l

اودے نے بھی گڈ night بول میسیج end کر دیا l

دوسرے دن جب بات ہوئی تو اودے نے سوری بولا اور بتایا کی کمپنی کے گیسٹ ہاؤس میں وہ اکیلا ہے اور شام کو سارا کام ختم کرتے اسے اکثر دیر ہو جاتا ہے l

مایا نے بھی اپنی دنچریا بتایی، پھر اودے اسسے بولا کی کل سے وہ روز لنچ میں گیسٹ ہاؤس آ جائیگا l اس طرح لنچ کے ساتھ ساتھ وہ روز مایا سے بات بھی کر لیا کریگا l

سمیہ بیتتا گیا، پاپا بیٹی روز باتیں کرتے، اور sms بھی جب بھی انہیں وقت ملتا l بعد میں مایا نے whatsapp کے بارے میں بتایا اور دونوں اسپے بھی chat کرتے رہتے l مایا کا سمیہ اچھا بیت رہا تھا l


کبھی کبھی کسی کارنوش بات نہیں ہو پاتی تو ہلکی ناراضگی بھی دکھتی تھی l

مایا اپنے پاپا کو وہاٹسپ اور ڈھیروں ایپلیکیشن کے بارے میں بتاتی l اودے بھی interest لیتا، akele ہونے کی وجہ سے مایا ہی تھی جسسے وہ ساری بات share کرتا l

کچھ دن بعد مانس کو کمپنی کے کام سے ۳ week کے لیے کسی training پے جانا پڑا l

مایا اس بات سے بیحد ناراض تھی، لیکن مانس اپنے پرموشن کو لیکر بہت سیریئس تھا اور وہ اپنے باس کو کوئی موقا نہیں دینا چاہتا تھا اسلئے اسے نا چاہتے ہوے بھی جانا پڑا l

جس دن مانس گیا اس دن مایا بہت اداس تھی، ہال ke کمرے میں ایک kone بیٹھی وہ ٹیوی دیکھ رہی رہی جب اودے کا میسیج آیا l

اودے - کیا کر رہی ہو beti، آج نا فون کی نا میسیج l

مایا کا موڈ اچھا نہیں تھا تو وہ میسیج پے بہانا بنا دی کی کوئی گیسٹ گھر پے ہیں تو اسے ٹائم nahi مل پایا l

اودے بھی اوکے بول کر فون jeb میں رکھ لیا l


رات قریب ۱۱ بجے اودے گہری نیند سو رہا تھا جب فون کی گھنٹی بجی l اسنے دیکھا مایا،،، وہ سوچ میں پڑ گیا شائد غلطی سے مایا نے فون کیا ہوگاؤل تھوڑی دیر بعد ایک بار اور فون آنے پے اسنے attend کیا l


اودے - ( دھیمی آواز میں۔۔۔ ) ہیلو۔۔۔ ہیلو۔۔۔

مایا - ہیلو پاپا

اودے - hi بیٹی تمنے اس وقت فون کیا سب ٹھیک تو ہے l

مایا - ہاں پاپا۔۔کیا آپ سو رہے the؟

اودے - بس ہلکی نیند آ رہی تھی l

مایا - مگر آپ تو بولتے تھے کی آپ رات کو دیر میں سوتے ہیں l

اودے - ہاں بیٹی یہ سچ ہے، لیکن آج تھوڑا تھک گیا تھا l

مایا - ok

اودے - لیکن تم اس وقت ؟

مایا - پاپا وہ مانس کچھ دنوں کے لیے باہر ہیں، ۳ ویک کے لیے l اکیلی بور ہو رہی تھی تو میںنے سوچا شائد آپ فری ہوںگے l


ٹھیک ہے آپ سو جائیے l اودے بھی سو گیا، عیسل اودے اپنا اکیلاپن دور کرنے کے لیے ہر رات موبائل پے پورن movies یا ایکٹریس کی پورن pics دیکھتا اور مٹھ مار کر سو جاتا تھا l

ہمیشہ کی طرح اس دن بھی وہ تھکا تھا اور sona چاہتا تھا l


اس دن کے بعد مایا سے دوپہر میں بات ہوتی اور رات میں بھی l لیکن رات میں اودے زیادہ بات نہیں کرتا، اکثر وہاٹسپ چیٹ پے ہی بات ہوتی l لیکن مایا کے لگاتار disturbance اور messages سے وہ ٹھیک سے مزے نہیں کر پاتا l ۴ دن بیت گئے تھے، مایا کے ڈسٹربینس کی وجہ سے وہ مٹھ نہیں مار پایا تھا l عالم یہ تھا کی ۴ دن بعد اودے ہر کوئی لڑکی کو دیکھ اتیجت ہو جاتا تھا l جب بھی اسے موقا ملتا وہ پرے dhanke کپڑے میں بھی لڑکی کی گولائی اور شریر کا ابھار بڑے گور سے دیکھتا اور آنندت ہوتا تھا l

 

مایا کی چدائی کی کچھ پرائیویٹ پل جو اسکے سسر نے دیکھی


porno-chicas-hind-gatitasperversas۰۱

۱۹۶-۴۵۰

converted

 

مہیندر جھک کر ایک بار پھر بہو کے ہونٹھ سے اپنا ہونٹھ ملا دیا، بہو کے گردن کو چومتے ہوے وہ کلیویج پے kiss کرنے لگا ساتھ ہی اس بار ہمت کرکے مہیندر نے بہو کی نرم چوچی بھی دبا دی تھی l


بھاگ ۱۴


مایا کے پرا شریر واسنا کی آگ میں تپ رہا تھا، سمیہ کے ساتھ اسکی پیاس بڑھتی جا رہی تھی l ادھر مہیندر بھی بہو کی چوچیوں پے جی بھر کے ہاتھ پھیرتا رہا، جیسے پتا نہیں کب یہ پل دوبارا آئے l


اسکے بعد مہیندر نے بہو کے دونوں ہاتھ اوپر کر دیے، بہو کی دونوں چوچیاں کی گولیاں اور ابھر آئی l وہ بہو کے اوپر آتے ہوے اسکی کھلی armpit پے منہ لگا کے چاٹنے لگا، حلکے نمی لی ہوئی بہو کی underarms کی گندھ مہیندر پے الگ ہی جادو کر رہی تھی l وہ underarms چاٹنے کے ساتھ ساتھ بہو کے ابھرے بوبس کو بھی دبا رہا تھا l


مہیندر نے کبھی سپنے میں بھی یہ نہیں سوچا تھا کی وہ ایکدن اپنی بہو کی چوچیوں کو ہاتھ لگا پاییگا l


مایا - آادہہہ بابوجی l


مایا اور انتظار نہیں کر پائی، اسنے ایک بوب کے اوپر سے spaghetti ہٹا دی l مایا کی ایک چوچی ننگی ہو گئی، مہیندر آنکھے پھاڑ بہو کا ننگاپن دیکھتا رہا l sabkuch کسی سپنے سے کم نہیں تھا، مہیندر سبسے پہلے بہو کے ننگے بوب کو چھوا، ایسا لگ رہا تھا جیسے اسنے گرم gel سے بھری کوئی پوٹلی ہاتھ میں لے لی ہو l وہ انایاس ہی بہو پے jhukta چلا گیا اور مہں کھول کے بہو کی ڈارک براؤن نپل کو مہں میں بھر لیا l نپل چوستے ہوے وہ دوسری بوب کے اوپر سے بھی spaghetti ہٹا دیا l ننگے بوب کو چھونے کا مزا ہی الگ تھا l


۲۱۶۹۳۳۰۱


مہیندر - (مایا کے کان میں )۔۔۔ بہو جی کرتا ہے تمہاری چوچی کھا جاؤں l

مایا اور مہیندر کے بیچ شرم کا parda ہٹ گیا تھا، تو مہیندر اتیجنا میں گندے شبد use کر رہا تھا l

مایا بھی پورا ساتھ دیتی سسر کا بال پکڑے اپنے بوب پے دباتی l

مایا - آہ بابوجی کھا جائیے نا میری دونوں۔۔۔۔۔۔۔۔ چوچی۔۔۔۔۔۔ l

(مایا مہیندر کی واسنا کو بھڑکانے کے لیے بےجھجھک چوچی شبد کا estemaal کی )

مایا قہر ڈھا رہی تھی، ایک جوان اورت کے مہں سے اسنے کبھی اس طرح کے گندے شبد نہیں سنے تھے l اور آج خود کی بہو کے مہں سے چوچی شبد سن کر وہ آنندت ہو اٹھا l

وہ پاگلوں کی طرح بڑا سا مہں کھول مایا کی پوری چوچی مہں میں بھر لیتا l کبھی بچے کی طرح نپل chusta l مایا کی چوچی لار سے بھیگی چمک رہی تھی l

مایا کی بر lagataar پانی چھوڑ رہی تھی، وہ پوری طرح سے کاموتیجت ہو گئی تھی l اسنے صوفے پے لیٹ ہوے پہلے بیڈروم کی طرف دیکھا، وجہ صاف تھی اسنے سسر جی سے چدوانے کا من بنا لیا تھا l


مایا مردوں کی کمزوری سے اچھی طرح واقب تھی، وہ اپنا ایک ہاتھ نیچے لے گئی اور سسر جی کا پایجاما میں کھڑا لنڈ سہلا دی l

مایا - ( دوسرے ہاتھ سے سسر جی کا فیس اپنی چوچی سے اٹھاکر ) بابوجی۔۔۔۔ لنڈ باہر نکالو نا۔۔۔۔۔ l

مہیندر بہو کی ننگی جسم کا مزا تو لے ہی رہا تھا، ساتھ ساتھ بہو کا کھلاپن اسکی واسنا کو دوگنا کر دیتا l وہ ترنت صوفے سے اترکر پایجاما کھولا اور پھڑپھڑاتا لنڈ بہو کے سامنے تھا l بہو سے کچھ امید کر وہ اپنا لنڈ ہاتھ میں لیکر دکھایا، مایا کوئی ناسمجھ نہیں تھی وہ بابوجی کی آنکھ میں دیکھتے ہوے لنڈ پکڑ لی اور اسکا سکن کھول دی l مہیندر کو تو لگا وہ بہو کے ہاتھ میں ہی سکھلت ہو جائیگا، اسکی آنکھ بند تھی بہو مہیندر کے لنڈ کا سکن اوپر نیچے کر رہی تھی l


تبھی اسے لنڈ پے کچھ گرم سا احساس ہوا، اسنے آنکھ کھول کے دیکھا تو لنڈ کا ٹوپی مایا کے مہں میں تھا l وہ مستی میں دباو بنا کے باقی کا لنڈ بھی بہو کے منہ میں پیل دیا l مایا چپ - چپ کی آواز کے ساتھ لنڈ چوسنے لگی، سسر جی کے لنڈ کا سواد مانس کے لنڈ سے بہت الگ تھا l مہیندر کا لنڈ زیادہ پھلا ہوا تھا، لنڈ کی ٹیڑھی میڑھی نس مایا کو اور مزا دے رہی تھی l سسر جی کا تگڑا لنڈ چوس کے تو وہ مانس کا لنڈ بھول گئی l

جلد سے جلد وہ اس تگڑے لنڈ کو اپنے بر میں بھینچنا چاہتی تھی l

لنڈ چوستے چوستے وہ صوفے سے اتر فرش پے آ گئی تھی l


tumblr-nxg۸gtbm-Fa۱tkegulo۲-۵۰۰


مہیندر - بہو۔۔۔۔ مجھے بھی تو اپنے بر کا سواد دلاؤ l یہ کہتے ہوے مہیندر بہو کو اٹھایا اور اسے گھما کر صوفے پے جھکا دیا l اگلے ہی پل اسکی گانڈ ننگی ہو گئی، مہیندر ایک جھٹکے میں پینٹی نیچے کر دیا تھا l پینٹی اترنے کے بعد بہو کی ننگی گانڈ اور بڑی لگ رہی تھی l نیچے بیٹھکر وہ اپنا مہں بہو کی بڑی سی گانڈ میں ڈال دیا، مایا کسمسا کے رہ گئی l مہیندر کی جیبھ اسکی گانڈ کی chhed پے حرکت کرنے لگی تھی l مایا کے لیے یہ بہت الگ انبھو تھا، مانس oral تو کرتا تھا لیکن اسنے کبھی مایا کی گانڈ میں مہں نہیں لگایا l آج مہیندر اسے کافی الگ مزا دے رہا تھا l دھیرے دھیرے مہرندر کی جیبھ مایا کے بر تک آ رہی تھی l بہو کے بر کا گندا پانی سسر بڑے مزے سے چاٹ رہا تھا l کچھ دیر بعد مہیندر مایا کا کمر پکڑ کھڑا ہوا، مایا ابھی بھی جھکی تھی، اب وہ لنڈ بالکل گانڈ کے بیچ سٹا دیا l کمر پہلے نیچے کیا اور پھر اوپر تو جیسے بہو کے بر نے لنڈ کو چمبک کی طرح اپنے اندر کھینچ لیا ہو l چپچپے پانی سے سرابور بہو کی بر میں مہیندر کا لنڈ بڑی آسانی سے پھسل رہا رہا تھا l مہیندر بہو کی لٹک رہی دونوں چوچی کو پکڑے پرے جوش میں کس کس کے بہو کو پیل رہا تھا l

صوفے پے جھک کے مایا آج پہلی بار پیلوا رہی تھی، اسے بہت مزا آ رہا تھا l کچھ دیر کی چدائی کے بعد مہیندر تیز سے ہانپھنے لگا، اسکا کلائمیکس نزدیک تھا l بہو کی گانڈ کو زور سے پکڑتے ہوے وہ پورا ویریہ بہو کی بر میں اڑیل دیا l مہیندر ۱۰-۱۵ بار اور چود کے جب لنڈ باہر نکلا تو مایا کے بر سے سفید پانی کی چاسنی زمین تک چو گئی l وہ بہو کی گانڈ کے پیچھے سے ہاتھ ڈال بہو کی بر کے پانی کو ہاتھ میں لیا اور اپنے لنڈ کے اوپر لگایا l


مہیندر - چاٹ بہو، یہ بھی تو چاٹ

مایا ایک اچھی بہو کی طرح نیچے بیٹھ کے مہیندر کا لنڈ جیبھ سے صاف کی l


مایا - بابوجی۔۔۔ آپکا لنڈ بہت سوادشٹ ہے l

مہیندر - بہو، لگتا ہے تیری پیاس نہیں بجھی l

مہیندر بہو کی گانڈ پے thappad مارا۔۔۔۔ اور اسے صوفے پے گرا دیا l

مایا کھلکھلانے لگی اور جھک کے اپنی position لے li، مہیندر اس بار لنڈ بہو کی گانڈ میں ڈالا l مایا کراہ اٹھی وہ بابوجی کو پیچھے دھکّا دیکھل

مایا - آہ نہیں بابوجی یہ بہت بڑا ہے l

مہیندر - پلیز بہو، چودنے دو l آج مت روک مجھے l

مایا - اوکے بابوجی آپ رکو میں تیل لیکر آتی ہوں l

مایا جلدی سے اٹھ کے ننگے ہی بیڈروم میں آئی l


۹۹۹f۷b۹۴۶۳۹۴۲۱۷۷۷۲e۸۹e۷e۴۳bdf۴۷۷


مانس گہری نیند سو رہا تھا l وہ ٹیبل سے ایک تیل کی شیشی اٹھائی اور واپس بھاگ آئی l


یہ لیجئے بابوجی، مہیندر لنڈ پے تیل لگایا l کالا ناگ سا لنڈ چمچما اٹھا l

بہو دوبارا جھک گئی، مہیندر شیشی کو الٹا کر بہو کی گانڈ پے تیل گرایا تو پورا ڈھکن کھل گیا سارا تیل بہو کی گانڈ سے ہوتا ہوا صوفے اور زمین پے فیل گیا l


مہیندر - اوہ بہو وہ غلطی سے l

مایا - آپ چنتا مت کریے بابوجی میں صاف کر دوںگی آپ chodiye مجھے l


tumblr-nl۸۱lx-JW۹b۱u۷۲t۵ho۱-۵۰۰


تیل کی پرواہ کیے بغیر مہیندر بہو کی گانڈ چودنے laga، تیل اتنا زیادہ تھا کی بار بار لنڈ پھسل جاتا دونوں کا بدن تیل میں پھسل رہے تھے l آخرکار مہیندر کا ویریہ بہو کی گانڈ پے نکل گیا l

صبح کے چار بج گئے تھے چدائی کرتے کرتے l پورا کمرہ سسر بہو کی زبردشت چدائی کا ثبوت دے رہا تھا l

 

ileana dcruz والی میسیج کو دیکھ اسکے دماغ میں ہلچل hui، کیا پاپا بھی۔۔۔۔۔ من میں کہتے کہتے رک گئی l

نو کیا سچ میں ؟۔۔۔ ہو بھی سکتا ہے۔۔۔ ممی سے دور ہیں تو شائد کرتے ہوںگے l مایا پاگلوں کی طرح بیڈ پے لیٹی۔۔ خود سے سوال اور خود کو جواب بھی دے رہی تھی l تھوڑی دیر اسے realize ہوا کی وہ پاپا کے بارے میں ایسا سوچ رہی ہے l وہ بیڈ سے اٹھی پھریش ہوئی بار بار پاپا کا چیٹ کھولتی لیکن کوئی میسیج نہیں تھا l آخرکار وہ اپنی فرینڈ کو کال کی شاپنگ پے جانے کے لیے l


بھاگ ۱۹


مایا اپنی سہیلی کے ساتھ شاپنگ کر رہی تھی، وہ بار بار فون دیکھتی لیکن پاپا کا کوئی میسیج نہیں l

پھر دونوں جب ایک ریسٹرینٹ میں بیٹھے تھے تب مایا نے میسیج کیا l اودے کا رپلائی بھی ترنت آ گیا، وہ خوش ہو کر چیٹ کرنے لگی بیچ بیچ میں وہ اپنی سہیلی کے ساتھ لی ہوئی سیلفی پھوٹوج بھی بھیجتی رہی l

دونوں ایک دوسرے کو پکس بھیج دیتے تھے، کبھی اودے اپنے کھانے کے پھوٹو بھیجاتا تو کبھی، مایا نے ریسٹرینٹ کا پھوٹو بھیجتی l اس طرح پھوٹو کے ساتھ ساتھ دیر تک باتیں ہوتی رہتی ہیں l ڈھیر ساری شاپنگ ختم کر کے بعد مایا گھر آ گئی l گھر آکر وہ بیڈ پے لیٹ گئی l

اودے کا میسیج آیا l

اودے - کہاں ہو بیٹی l

مایا - ابھی ابھی گھر aayi پاپا

اودے - ok۔۔ بہت مستی کی تمنے آج

مایا - ہاں

اودے - کیا کیا شاپنگ کی مجھے بھی تو دکھاؤ

مایا شاپنگ پیکیٹ بیڈ پے پلٹ کر ایک ساتھ پھوٹو کھینچ بھیج دی l پھوٹو میں ہینڈبیگ لپسٹک پن deo kajal چوڑی ایک دو ٹاپ لیگگنگ جینس ساری کے ساتھ ساتھ اسکے innerwear بھی تھے جسپے اودے کی نظر بھی پڑی لیکن اسنے اگنور کیا l


اودے نے مایا کی بھیجی پھوٹو دیکھ فون کال کر دیا۔۔۔۔


اودے - باپ رے اتنی ساری شاپنگ۔۔۔۔ لیکن یہ کیا مجھے لگا پہن کے dikhaogi l

مایا - ابھی نہیں پاپا ابھی بہت تھک گئی ہوں l (مایا angdaai لیتی بولی )

اودے - اوہ سمجھا بیٹی تو تو آرام کر

مایا - ایسی نہیں ہے پاپا فری ہوں بس لیٹے رہنا چاہتی ہوں l

اودے - ok۔ آج میں بھی فری ہو بیٹی، کتنا اچھا ہوتا تو میرے ساتھ ہوتی تجھے ڈھیر ساری شاپنگ کرتا l

مایا - ہاؤ سویٹ آف یو پاپا l

اودے - اچھا ایک بات باتا وہ اورت تمہاری سہیلی تھی ؟

مایا - ہنستے ہوے۔۔۔ نہیں پاپا سہیلی نہیں hai، میرے پڑوس میں رہتی ہے l مجھسے کافی بڑی ہے

اودے - اچھا بیٹی l

مایا - کافی paise والی ہے papa۔۔ اور بہت ماڈرن بھی l ہسبینڈ اور اسکے ۲ بچے دبئی میں رہتے ہیں l

اودے - ہاں وہ تو دکھ رہا تھا کافی ماڈرن ہے l

مایا - hmmm۔۔۔ کیسے۔۔۔ ؟ اسکے پہناوے سے ؟

(اودے کی تو جیسے چوری pakdi گئی تھی l haan۔۔۔ میرا مطلب۔۔۔۔ )

مایا - its اوکے پاپا۔۔ میں ماں کو نہیں بتاؤنگی l

(مایا کھلکھلائی )

اودے - shut up۔۔۔ تم غلط سوچ رہی ہو l

مایا - کیا پاپا آپ بھی دوستی کرنے میں کوئی پرابلم نہیں ہے l آپ chahein تو میں introduce کرا سکتی ہوں l

اودے - مایا تو بھی نا

مایا - ویسے اسکا نام varsha ہے l

اودے - ہم۔۔

مایا - اچھی لگتی ہے نا ؟

اودے - ہاں سندر ہے۔۔۔ تمہاری طرح

مایا - مجھسے زیادہ۔۔ اور بہت ماڈرن۔۔ پب پارٹی ڈرنکس سب کرتی ہے l

اودے - اوہ

مایا - independent ہے، شائد پتی کے ساتھ اسکا کچھ جمتا نہیں ہے l گھر پے جب بھی ملتی ہے گھنٹوں اسکی برائی کرتی ہے l ویسے آپکو دیکھا ہے اسنے، آپکے بارے میں جانتی ہے l

اودے - مجھے کیسے ؟

مایا - میںنے اسے اپنے کئی سارے پھوٹو ایلبم دکھایا ہے اسنے آپکو کامپلمینٹ بھی دیا کی آپ بہت fit and ہینڈسم ہو l شاپنگ کے وقت اسے پتا تھا کی آپسے چیٹ کر رہی ہوں l تبھی تو ہمدونو کی ساتھ کی پھوٹو بھیجنے میں اسے کوئی اعتراض نہیں ہوا l

اودے - اوکے سمجھا l سبھی دبئی میں ہیں، تو وہ یہاں کیوں ؟

مایا - وہ اپنی جاب نہیں چھوڑنا چاہتی

اودے - اکیلی رہتی ہے

مایا - نہیں اپنے دیور کے ساتھ رہتی ہے l

(دیور کے ساتھ رہنے والی بات اودے کو اٹپٹی سی لگی ساتھ ہی ساتھ تھوڑی ہاٹ بھی )

مایا - کیا ہوا papa۔۔۔ کیا سوچ رہے ہو ؟

اودے - کچھ بھی تو نہیں l

مایا - لگتا ہے ورشہ آ رہی ہے l

اودے - اوہ پھر se۔۔ تمہارے گھر۔۔۔ ؟

مایا - پاپا۔۔۔ میں اس varsha کی نہیں بادلوں کی ورشہ کی بات کر رہی ہوں l آج baarish ہوگی l

اودے - اوہ sorry

مایا - آپکے دماغ پے varsha کا جادو چل گیا ہے کیا ؟

اودے - کیسی بات کر رہی ہے tu۔۔ میںنے اسے ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں، بھلا میرے پر اسکا جادو کیسے چلیگا l

مایا - اوکے یہ پرابلم ہے تو میں دکھا دیتی ہوں اسکی بہت سی پھوٹو ہیں میرے پاس l آپ کہو تو اسے گھر بلاؤں ویڈیو کال پے دیکھ لےنا l

اودے - shut up بیٹی۔۔۔

مایا - ممی سے ڈرتے ہو آپ ؟

(مایا کو اس وقت پاپا سے شرارت بھری بات کرکے بہت مزا آ رہا تھا )

اودے - نہیں پیار کرتا ہوں l

مایا - امم سو سویٹ مائے ڈیئر ڈیڈ۔۔ muwa۔۔

اودے - ہم

مایا - اچھا سوری ویسے ہی آپکو تنگ کر رہی تھی، میں تو صرف دوستی کے لیے بول رہی تھی l

اودے - ہاں وہ ٹھیک ہے، تیری بہت اچھی دوست ہے وہ ؟

مایا - ہاں بہت اچھی

اودے - اوکے، اسنے بھی شاپنگ کی ؟

مایا - ہاں اسنے تو بہت ساری shopping کی، بہت تنگ کرتی ہے مجھے ۵۰ trial کے بعد ایک کپڑے لیتی ہے اور مجھے پھوٹوج لینی پڑتی ہے l اسکی shopping سے میں تھک جاتی ہوں l

اودے - اوکے اب سمجھا

مایا - اچھا یہ دیکھو اسکی کچھ پکس

(مایا varsha کی کچھ پکس بھیج دیتی ہے )


images-۵۶


Varsha کی ٹائٹ ٹاپ میں بوب دیکھ اودے کا موڈ بن جاتا ہے l پھوٹو zoom کر وہ دوسرے ہاتھ سے لنڈ مسلتا ہے l

مایا - اسکے کپڑے کی چائس اچھی ہے نا پاپا ؟

اودے - ہاں بہت ( اودے کا دھیان اس وقت کپڑے میں نہیں varsha کے کپڑوں کے اندر chhupe angon میں تھا l وہ دھیرے سے لنڈ باہر نکال سہلانے لگتا ہے )

مایا اپنے پاپا کے harkaton سے انجان non stop باتیں کرتی رہتی ہے l

مایا - اسلئے مجھے جب بھی کچھ شاپنگ کرنی ہوتی ہے varsha کو he le جاتی ہوں l

اودے - ہمم

(اس بیچ اودے varsha کی ایک کلیویج والی pic dekh مٹھ مارنے لگتا ہے )


images-۵۷


اودے earphone لگا کے بات کر رہا ہوتا hai، microphone میں اسکی لمبی لمبی سانس کی آواز مایا کو صاف سنائی دیتی hai، اس لمبی سانس کا مطلب وہ سمجھتی تھی کیونکہ مانس اندنوں اکثر مایا سے بات کرتے ہوے لنڈ ہلاتا تھا اور اسکی سانس تیج سنائی پڑتی ساتھ ہے ساتھ اسکی آواز بھی بدل سی جاتی تھی l


لیکن اودے نارمل بات کر رہا تھا وہ تھوڑی دودھا میں تھی l تو اسنے ایک سوال پوچھا۔۔۔

مایا - پاپا آپ اپنے آفس کے کیبن کا پھوٹو بھیجئے نا l

اودے - ارے بیٹی میں تو گیسٹ ہاؤس آ گیا l (ہاتھ کی سپیڈ دھیمی کرتے huwe)

مایا کا شک جیسے یقین میں بدل گیا ہو۔۔۔ وہ چونک کے بیڈ پے بیٹھ گئی l earphone کو کان کے اندر دھکیل وہ ستھتی samajhne کی کوشش کر رہی تھی l۔وہ varsha کی ایک اور ہاٹ pic bhej دی۔۔۔۔ pic پر whatsapp کا blue tick مارک آیا اور ساتھ ہے اودے کے سانسوں کی آواز بھی تیج ہو گئی thi، مایا نے ghabrahat میں جھٹ سے فون کاٹ دیا l


وہ سر پے ہاتھ رکھے ascharya سے۔۔۔ اوہ مائے god پاپا kya۔۔۔ shit۔۔۔ نہیں نہیں۔۔۔۔ شائد نہیں۔۔۔ کیا پتا پاپا کچھ کام کر رہے ہوں، سیڈھیا چڑھ رہے ہوں l اسلئے سانس تیز ہو l


ادھر اودے فون katne کے بعد موقا ملتے ہی varsha کی ہاٹ pic dekhkar کھلکر مٹھ مارنے لگا l

مایا سوچنے لگی۔۔ فون اسنے ترنت کاٹ دیا تھا نا جانے papa کیا سوچ رہے ہوںگے l اسلئے وہ واپس کال کی l


اودے نے پہلے کبھی ایرفون استعمال نہیں کیا تھا، بس کچھ ہفتوں سے جبسے وہ مایا سے بات کرنے لگا تھا زیادہتر earphone استعمال کرتا تھا l


خیر اسنے فون پک کیا l


اودے - ہاانننں بیٹی۔۔۔۔۔۔

اس بار اودے کی آواز بہت بدلی سی تھی اور سانسیں تیز l مایا جان چکی تھی کی اسکے پاپا varsha کو dekh مٹھ مار رہے ہیںکہل پھر بھی مایا باتچیت نارمل رکھی تاکہ اسکے پاپا کو شک نا ہو l


مایا - pic دیکھی پاپا ؟ یہ ٹاپ میں لےنے والی تھی l لیکن اسے اتنا پسند آیا کی وہ رکھ لی l

اودے - ہاں۔۔ ہاں۔۔ okkkay۔۔ picccc dekh raha hun۔۔۔۔ آہہہ۔۔۔ اچھی topppppp ہے واقعیئییئ۔۔۔ امم l

اسے اس بات کا بالکل احساس نہیں تھا کی مائکروفون پے مایا کو اسکی سانس کی آواز سنائی دے رہی ہوگی l وہ تو بس نارمل بات کرکے سوچتا تھا کی کوئی پرابلم نہیں ہوگی l

مایا دھیان سے سب سنتی رہی۔۔۔ l

مایا - پاپا آپ کبھی آؤگے تو آپکو varsha سے بھی ملواؤنگی l

اودے - امم۔۔۔ انہہ ہاں ملوا دیناآا (اودے من میں بول رہا تھا۔۔۔ آہ چودنا چاہتا ہوں میں varsha کو )


اودے لنڈ کو جھٹکا دیتے چار لمبی لمبی saan لی۔۔۔ l

اودے - انہہ۔۔۔ اعہہ۔۔۔۔

پھچ پھچ کرتے ہوے اسکا لنڈ پیٹ پے گرم ویریہ اگل دیا l


۲۷۸-۴۵۰

upload images


مایا بھی سمجھ چکی تھی، کی پاپا کا پانی آ گیا ہے l اسکے مہں سے انیاس ہی نکل گیا l

مایا - نکل گیا کیا پاپا ؟

(اودے ایکدم سے چونک پڑا۔۔۔ ککک kyaaaa ؟)


مایا - ایرفون نکل گیا کیا پاپا۔۔۔ آواز نہیں مل رہی آپکی l

اودے نے rahat ki سانس لی۔۔۔۔ وہ تو ڈر ہے گیا تھا l

اودے - (earphone ٹھیک کرتے ہوے۔۔ ) ok اب ٹھیک ہے ؟

(مایا مسکرا رہی تھی ۔۔ ۔۔ اسے اپنی شرارت پے خود ہنسی آ رہی تھی )

مایا - ہم اچھا میں فون کاٹتی ہوں l پسینے سے گندی ہو گئی ہوں صاف ہونا ہے، آپ بھی اپنی گندگی صاف کر لیجئے۔۔ (مایا ایک بار پھر مسکرا دی )

اودے - (گھبراتے ہوے bye بیٹی )

مایا - bye

 

Morningstar۱۷۳ said:

Dil par nahi lete he lund par hi lete he tabhi comment kar ke dudh wale kaka ka bola maza badhane ke liye

Click to expand۔۔۔

Lund pe he lete raho۔۔۔ Maya Sabka lund legi۔۔

 

Bhaiji said:

Haan bhai laga hoon


May be success bhi mil jayegi


What's app pe adult msg tak baat pahuch gayi hai

Wo bhi uski shart hai ki hum log kewal raat mein aisi baatein karenge means thoda open hui hai

Boy friend and all

Click to expand۔۔۔

Lajawaab

 

اودے - آہ بیٹی اور پھوٹو بھیجو نا۔۔ ( اودے کی آواز میں سرسراہٹ تھی )

مایا سمجھ نہیں پا رہی تھی کی پاپا بار بار پھوٹو کیوں مانگ رہے hain۔۔ یا پھر اس وقت وہ سمجھنا نہیں چاہتی تھی l اسے تو پاپا پے اپنا لاڈلاپن دکھانا تھا، اپنی غلطی کے لیے سوری بولنا تھا l

اسنے اس بار موبائل دور کیا اور pic li، بھیجنے سے پہلے وہ pic dekhi تو khud ہی شرما گئی l


بھاگ ۲۱

پھوٹو میں اسکے دونوں بوب spagethi کے اندر سے جھانک رہے تھے، پھوٹو se صاف معلوم ہو رہا تھا کی مایا نے اندر bra نہیں پہنی l سپگیٹی کا کپڈا بھی اتنا پتلا تھا کی اسکے دونوں نپل ابھرے ابھرے نظر آ رہے تھے l مایا pic دیکھ کر شرمائی تو، ساتھ ہی اسے اپنے بدن کی سندرتا پے ناز بھی تھا l تھوڑی گھبرائی سی مایا نے آخرکار وہ pic papa کو بھیج دیا l


اودے - کیا ہوا بیٹی پھوٹو بھیجا تمنے l

مایا - ہاں papa

مایا ایک ٹک whatsapp دیکھ رہی تھی، جیسے ہی blue tick لگا مایا کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا l

اودے نے مایا کا پھوٹو دیکھا تو اسکے لنڈ نے زوردار سلامی دے ڈالی l اسنے ایک جھٹکے سے انڈرویئر نیچے کر لیا l مایا کی اتنی ہاٹ پھوٹو دیکھ وہ خود کو روک نہیں پایا اور مٹھ مارنے پے مجبور ہو گیا l


اودے کی سانس تیز ہو گئی، مایا اس سانسوں کی تیزی کا کارن بھلی بھانتی سمجھتی تھی l اسکا بھی دل زوروں سے دھڑک رہا تھا، وہ کچھ بول نہیں پائی بس بلینکیٹ کے اندر تکیے کو اپنے آغوش میں لیکر وہ دھیان پوروک کھچ کھچ کی آ رہی آواز کو سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی l

درسل اودے جتنی تیزی سے لنڈ ہلاتا اتنی ہی تیزی سے earphone کا mike اسکے chin سے ٹکراتی l

آہ بیٹی۔۔۔۔۔۔

مایا - کیا پاپا۔۔۔ ؟

اودے - کچھ نہیں۔۔۔۔ (اودے کچھ نا بول پایا )

مایا - بات کرو na پاپا۔۔۔

اودے - کیا کہوں۔۔۔ ؟ آٹواہہ ۔۔۔(اودے کی سانس اور تیز تھی)

سبکچھ جانتے ہوے بھی مایا کو کوئی اعتراض نہیں تھا، وہ تو پاپا کو بس خوش دیکھنا چاہتی تھیال

مایا نے سوچا کیوں na وہ پاپا ka مزا بڑھا دے تاکہ پاپا ریلیکس ہو جائیں تو اسنے بات چھیڑی l

مایا - پاپا پتا ہے آپکی favorite actress کی ایک مووی آ رہی ہے l

uski۔۔۔فلم۔۔۔

اودے - بیٹی پلیز۔۔۔۔۔۔ اس وقت اپنی بات کرو کسی ایکٹریسس کی نہیں (اودے نے مایا کو بیچ میں ہی روک دیا تھا)l

مایا - اچھا پاپا اپنی pic بھیجو na l

اودے - (بہانے بناتے huwe۔۔) بیٹی ادھر پاور کٹ ہو گیا ہے۔ اندھیرا ہے l


مایا - اوہ میرے گھر پے بھی پاور کٹ ہو گیا ابھی تھوڑی دیر پہلے l

مایا - koi baat نہیں آپ گوگل سے کوئی pic بھیج دو۔۔۔ جیسے پہلے بھیجا تھا l

اودے - نہیں نہیں۔۔۔ تم bologi میری چائس خراب ہے l

مایا - ارے بابا نہیں بولونگی پرامس،۔۔ آپکو جو چاہو ویسا pic بھیجو l (مایا نے ایک پرکار سے پاپا کو ہلکا کھلا آمنترن دے دیا )


اودے کے دماغ پے پہلے سے ہی سیکس حاوی تھا، تو اسنے گوگل pe کپل ہاٹ pic سرچ کیا l)

اسنے دھڑکتے دل سے ایک پھوٹو ڈاؤنلوڈ کی جسمے ladka لڑکی کو hug کرکے لیٹا ہے اور اسکا ہاتھ لڑکی کے بوب پے تھا l


images-۵۷


Pic کافی hot تھا، تو usne pic ke upar بڑے اکشروں میں miss you beti لکھا۔۔۔ text boob کے upar paste kiya jisase thoda pic چھپ gaya magar ابھی بھی معلوم ہوتا تھا کی لڑکے نے اپنا ہاتھ کہاں رکھا ہے l

اودے نے ہمت کرکے وہ pic بھیج دیا، اسے ڈر تھا کہیں مایا نراض ن ہو جائے l

مایا نے جب wo Pic دیکھا تو سہر اٹھی، pic ke Choice سے usse اس وقت پاپا کے موڈ کا پتا چل گیا تھا l لیکن اودے کی امید کے وپریت اسنے جواب دیا -


مایا - امم اچھی چائس ہے پاپا۔۔ i miss u too۔۔ ، اور بھیجو na l


اودے خوش ہو گیا، مایا کو اس پھوٹو سے کوئی اعتراض نہیں تھا l اسکا لنڈ اور تن گیا l

اودے - نہیں اب تم بھیجو beti l

مایا - یہاں بھی تو پاور کٹ ہے l

اودے - اچھا تو پھر تم بھی گوگل سے کھوج کے بھیجو۔۔۔ جب تک پاور آ نہیں جاتا l

مایا - اوکے پاپا۔۔۔

مایا نے بھی ویسی ہی couple kissing کی پھوٹو نکالی جسے dekhkar پاپا کو اور ہمت ملے l

مایا نے دو pic bheji ایک میں وہ تھوڑی ادھننگی بستر میں پاپا کے ساتھ اور دوسرے میں وہ پاپا کو kiss کر رہی تھی l دونوں pic میں اسنے لڑکی کے upar مایا اور لڑکے کے اوپر papa لکھ دیا تھا l


images-۵۶


images-۶۴


اودے نے جب pic dekha تو سیکس سے بھر اٹھا۔۔۔

اودے - آخواہ بیٹی ۔۔۔ red blouse میں بہت اچھی لگ رہی ہو تم l

مایا مسکرا دی l

مایا - اب آپکی باری پاپا۔۔۔

دونوں باپ بیٹی کو اس game میں مزا آ رہا تھا l

اودے کی بھی ہمت بڑھتی جا رہی تھی اور دماغ صرف سیکس کے بارے میں سوچ رہا تھا l

اسنے بھی کھلیپن سے ۲ پھوٹو bheji جسمے وہ مایا کو kiss کر رہا ہے اور ساتھ ہی بوب کو بھی اچھے سے دبا رہا ہے l اور دوسرے میں وہ مایا کے بوب پے اپنا منہ رکھا ہے l اس بار اودے نے pic کو ڈھنکنے کی کوشش نہیں کی تھی l


images-۵۸


images-۵۹


مایا pic دیکھ کر خود ہی اتیجت ہو گئی، اسنے سوچا تھا پاپا کا مال نکل جائیگا تو وہ ریلیکس ہو جائینگے l مگر پاپا کو ریلیکس کرنے کے بجائے وہ خود بیچین ہو گئی تھی، اسکے شریر میں اینٹھن تھی اور دونوں جانگھو کے بیچ گیلاپن محسوس ہو رہا تھا l


اودے - بیٹی pic dekhi۔۔؟ کون si pic اچھی لگی تمہے ؟

مایا مدہوشی میں بول پڑی۔۔۔۔

مایا - دوسری والی کیونکہ میری spaghetti بھی ایسی ہی ہے l


اودے - آفہہہ beti۔۔۔۔ تمہے کس کے بانہوں میں لےنے کا من ہو رہا ہے۔۔۔۔ ااہہہہ ssss۔۔۔ (اودے کی سانس اور تیز ہو گئی )


ادھر مایا بھی تڑپ رہی تھی اور سوچ رہی تھی کی ایسے سچئیشن میں مانس کا ویریہ تو ۲ min میں ہی نکل جاتا ہے، پاپا اتنی دیر سے۔۔۔ اف ابھی تک نہیں نکلا l وہ امیجن کرنے لگتی ہے کی کس قدر پاپا اپنا کھڑا لنڈ سہلا رہے ہوںگے l لنڈ کو یاد کرتے ہی مایا واسنا کی آگ میں سسکاری بھرنے لگتی ہے l


مایا - آہ ہ ہ papa۔۔۔

اودے - کیا ہوا بیٹی؟

مایا - بہت گرمی لگ رہی ہے پاپا۔۔۔

اودے - تو بلینکیٹ hata دو l

مایا - وہ تو بہت پہلے ہٹا دی، پھر بھی پسینے سے پوری spaghetti بھیگ گئی ہے l

(مایا نے جانبوجھ کے سپگھیٹی بھیگنے والی بات جھوٹھ بولی تھی، تاکہ پاپا اسے امیجن کر اتیجت ہو سکے )


اودے بھیگی spaghetti میں مایا کو سوچ کر مٹھ مارے جا رہا تھا l آہ بیٹی پاور ہوتا تو تمہاری سیلفی دیکھتا،۔۔۔

اسکے بعد اودے نے جو بولا، مایا مسکرا دی۔۔۔ اسکا پلان کام کر رہا تھا، اسنے پاپا سے یہی امید بھی کی تھیال


اودے - آ۔۔۔ بیٹی۔۔۔ گرمی لگ رہی ہے تو spaghetti کھول دو نا l

مایا - امم ہاں theek کہا آپنے۔۔۔ (مایا نے سچ میں سپگھیٹی اتار پھینکی )

اودے مایا کو بنا سپگھیٹی کے ننگے ہو چکے بوب کو امیجن کر زور زور سے لنڈ ہلانے لگا l


اودے - اتار دی بیٹی۔۔۔۔ آہ۔۔

مایا - ہاں پاپا۔۔۔ اتار دی ۔۔ (مایا سیکسی آواز میں انگڑائی لیتی بولی )

مایا - اوہہوؤ۔۔۔

اودے - اب کیا ہوا۔۔۔ بیٹی ؟

مایا - کیا بتاؤں۔۔ پاور بھی مجھسے بدمعاشی کر رہا ہے جب پہنی تھی تو پاور کٹ تھا اب جب کپڑے اتار دی تو پاور آ گیا l

اودے - ہاہا

مایا نے اسی بیچ ایک pic بھی بھیج دیا papa کو


images-۶۶


اودے نے pic دیکھ کے بولا

اودے - یہ pic کیوں بھیجا تمنے بیٹی ؟

مایا - کیوں پاپا۔۔ کیا پرابلم ہے اس pic میں؟

اودے - بیٹی پرابلم نہیں ہے، لیکن pic میں لڑکی نے top پہن رکھا ہے l

مایا - ہاں

اودے - لیکن بیٹی تمنے تو ابھی ابھی اتار دیا نا۔۔۔۔ تو پھوٹو میں بھی لڑکی کو بنا ٹاپ کے ہونا تھا l

(مایا پاپا کے اس کھلیپن کو اےنجوایئ kar رہی تھی )

مایا - چھی پاپا۔۔۔ آپ بھی نا۔۔۔بدمعاش ہو۔۔ so جاؤ آپ (مایا شرما گئی )


اودے - پلیز بیٹی بھیجو نا۔۔۔

مایا - مجھے نہیں آتا اس طرح کی پھوٹو کھوجنے پاپا۔۔ ۔۔۔

اودے - گوگل سے نہیں کھوج سکتی تو اپنا selfie bhej do۔۔۔پاور to آ گیا نا ۔(اودے بنا ڈرے بول گیا )


مایا - papaaaaa۔۔۔my god۔۔

اودے - ہاہاہا بیٹی۔۔۔ مذاق کر رہا تھا۔۔ تو بولو اب کیا کروگی ؟

مایا - اپنا تو نہیں بھیج سکتی گوگل سے ہی کھوجتی ہوں l


مایا نے تھوڑی دیر بعد ایک pic بھیج دی l


images-۶۷

upload images


اودے - cheater ہو tum۔۔۔۔ یہ ٹاپلیس نہیں ہے l مجھے pic میں لڑکی کی بلیک برا دکھ رہی ہے l

مایا پاپا کے منہ سے برا jaise ورڈ سنکر ہنستی ہے۔۔۔

مایا - مجھے pic نہیں مل رہا پاپا۔۔۔ آپ ہی کھوج دو نا l


پاپا - میں بھیجوں ۔۔ ؟ ناراض تو نہیں ہوگی نا ؟

مایا - نہیں پاپا۔۔

اسکے بعد اودے نے جو تصویر بھیجی اسے دیکھ کر مایا کے ہوش اڑ گئے l تصویر میں kissing تھا اور ladki puri ننگی تھی l


images-۶۸


مایا - پاپا۔۔۔۔۔ چھی کتنے گندے ہو آپ l

اودے - ارے تمنے ہی تو کہا تھا ناراض نہیں ہوگی، ویسے بھی یہ تم تو نہیں ہو پھر کیوں شرما رہی ہو l یہ تو کوئی ہیروئن ہے l

مایا - ہم۔۔

اودے - ایک بات کہوں بیٹی۔۔۔

مایا - ہاں kahiye۔۔

اودے - اگر تم سچمچ میرے پاس ہوتی یہاں تو میں تمہے ایسے ہی kiss karta۔۔۔بیٹی aaahhhh۔۔۔۔۔

مایا پاپا کی بات سنکر گرم ہو گئی تھی، ساتھ ہی پاپا کی مٹھ مارنے کی آواز اسپے الگ جادو kar رہی thi۔۔۔ بیڈ pe۔مچلتے اسکے مہں سے انایاس ہی نکلا۔۔۔

مایا - امم۔۔۔ پاپا۔۔۔ آا۔۔ اور۔۔

اودے - اور کیا بیٹی l

مایا - مدہوش si۔۔۔اپنی پینٹی کے اندر ہاتھ ڈال li۔۔۔ اور کیا کرتے پاپا۔۔۔

اودے - تم برا مان جاؤگی۔۔۔

مایا - نہیں برا مانونگی پاپا۔۔۔ بولو نا۔۔۔ (مایا بائیں ہاتھ کا مڈل پھنگر بر میں ڈال اندر باہر کرنے lagi)

اودے - kiss karte ہوے اپنا ہاتھ تمہارے بالوں میں پھیرتا l

مایا - ummm۔۔۔ اور papa۔۔۔

اودے - اور پھر ہاتھ بالوں سے نیچے کاندھے تک۔۔۔ ہاتھ تمہارے سینے پے رکھتا۔۔۔۔

مایا - امم (مایا بہت گرم ہو گئی تھی۔۔ ) اور۔۔۔۔ papa۔۔۔

اودے - آفہہہہہہہ تمہارے ننگے بوبس کو ہاتھ پھیرتا ۔۔۔۔ آاہہ ہافہ

اودے کھیالوں میں بیٹی ki ننگی چوچی کو فیل کرتا بستر پے ۵-۶ جھٹکے مارا l اسی ke ساتھ وہ لمبی لمبی گرم ویریہ کی دھار پیٹ پے بہا دیا l


مایا - اممم aaaaaaaaaahhhhhh papaaaaaaaa۔۔۔۔

ادھر مایا بھی اپنی گیلی بر کو ہتھیلی سے رگڑتے ہوے۔۔ اپنے ہتھیلی پے ہی سکھلت ہو گئی ۔۔۔

سیکس کی آگ کو دونوں نے اپنے لنڈ اور چوت کی پانی سے بجھا دیا تھا l

مایا بھی سمجھ چکی تھی کی پاپا کا مٹھ نکل گیا ہے، تو اسنے دھیرے سے کال کاٹ دیا l


لنڈ کا پانی نکلنے کے بعد اودے کو realize ہوا کی اسنے کیا kar دیا، اسے دوبارا فون کرنے کی ہمت نہیں ہوئی l بیڈ پے نڈھال وہ سوچتا رہا، مٹھ مارنے میں اودے کو اتنا مزا کبھی نہیں آیا جتنا اپنی بیٹی سے ہاٹ بات karte ہوے سکھلت ہونا l

نا جانے مایا اس وقت کیا سوچ رہی ہوگی l


ادھر مایا من ہی من اپنی کامیابی پے مسکرا رہی تھی، بنا اپنے انگوں کو دکھائے وہ صرف ہاٹ باتیں کر پاپا ka مٹھ نکال دی تھی l لیکن ان سب کے بیچ وہ بھی کافی گرم ہو گئی تھی، اسکا جسم تھرتھرا رہا تھا l سکھلت ہونے کے بعد بھی وہ بر پے ہتھیلی رگڑتی رہی وہ اپنی پھولی چوت میں ایک موٹے لنڈ کے لیے تڑپ رہی تھی l

 

ادھر مایا من ہی من اپنی کامیابی پے مسکرا رہی تھی، بنا اپنے انگوں کو دکھائے وہ صرف ہاٹ باتیں کر پاپا ka مٹھ نکال دی تھی l لیکن ان سب کے بیچ وہ بھی کافی گرم ہو گئی تھی، اسکا جسم تھرتھرا رہا تھا l سکھلت ہونے کے بعد بھی وہ بر پے ہتھیلی رگڑتی رہی وہ اپنی پھولی چوت میں ایک موٹے لنڈ کے لیے تڑپ رہی تھی l


بھاگ ۲۲


لنڈ کا پانی نکلنے کے بعد اودے کب سو گیا اسے پتا he نہیں چلا l ادھر مایا کی آنکھوں سے نیند کوسو دور تھی l

وہ اوپر چھت کی طرف دیکھتی سوچتی رہی۔۔۔ کیا ۱۰ منٹ پہلے جو ہوا۔۔۔ ہونا چاہئے تھا ؟ نا جانے پاپا مجھے کیسی لڑکی سمجھ رہے ہوںگے۔۔۔ مایا کو اس وقت مانس پے غصہ آ رہا تھا نا وہ اسے چھوڑ کے جاتا نا وہ سیکس کے لیے تڑپتی l

مایا کے کانوں میں بار بار اسکے پاپا کی وہ لمبی سانسوں کی آواز سنائی پڑتی l نا چاہتے ہوے بھی وہ پاپا کے لنڈ کا اکار امیجن کرتی۔۔ پاپا کا کتنا پانی نکلا ہوگا ؟ کیا انکے لنڈ کا سکن پورا کھل جاتا ہوگا ۔۔پاپا اپنا ویریہ کہاں گرائے ہوںگے ۔۔۔ مایا کے جہن میں ہزاروں سوال تھے، لیکن جواب ایک بھی نہیں l

مایا کے بر سے ابھی بھی تپن آ رہی تھی، وہ بر کو کچوٹتی ہوے بیڈ پے سیدھی سو گئی l


صبح اودے کی نیند کھلی، ساری رات ننگا سویا تھا وہ l اسنے پیٹ پے ہاتھ پھیرا تو مٹھ سوکھ چوکا تھا l اسے یاد آیا کی کل رات اسنے اپنی بیٹی کے نام کی مٹھ مار لی تھی l بغل سے فون اٹھاکر دیکھا، مایا کا کوئی میسیج نہیں تھا l وہ رات کی چیٹ کھولنے کی کوشش کیا مگر مایا نے سبکچھ ڈلیٹ کر دیا تھا l یہاں تک کی مایا کی بھیجی ہوئی پھوٹو بھی ڈلیٹ تھی l وہ شنیہ میں جھانکتا سوچتا رہا کی مایا نے ایسا کیوں کیا ہوگا l


وہ بار بار میسیج چیک کرتا لیکن مایا کا کوئی میسیج نہیں تھا l اسے ڈر تھا کی مایا ناراض تو نہیں اور اسنے اپنی حرکت کی vajah سے مایا کو کھو دیا l


دھیرے دھیرے دوپہر ہو گئی، اودے کا آفس کے کام میں بالکل من نہیں لگ رہا تھا، وہ آفس سے گیسٹ ہاؤس کی طرف چل دیابل یہ وہ وقت تھا جب دونوں باتیں کرتے تھے l اودے گیسٹ ہاؤس میں اکیلے بیٹھا فون پاس رکھ کھانا کھا رہا تھا l اسنے نشچیہ کر لیا کی وہ مایا کو سوری بول دےگانل

تبھی فون پے میسیج tone بجا، اودے ترنت ایک ٹشیو میں ہاتھ صاف کر میسیج کو click کیا l میسیج مایا کا ہی تھا، میسیج بڑا تھا تو اودے بنا پڑھے اداس ہو گیا اسے لگا مایا نے jaroor مجھسے بات ختم کرنے کی بات لکھی ہوگی l اسنے دھڑکتے دل سے میسیج پڑھنا شرو کیا l

ڈیئر پاپا،

کل رات آپسے بات کرتے ہوے بہت دیر ہو گئی تھی، صبح varsha کے ساتھ شاپنگ جانا تھا میں بہت جلدی میں تیار ہوکر شاپنگ mall آ گئی l مجھے یہ احساس ہوا کی کل رات جو میںنے کیا وہ مجھے نہیں کرنا چاہئے تھا l

(اودے میسیج پڑھ کے کافی اداس ہو گیا، اسنے آگے پڑھنا شرو کیا )

Varsha سے بات ہوئی تو پتا چلا وہ اسکا online فرینڈ کوئی اور ہی آدمی ہے، آپنے ہمیشہ میرا خیال رکھا ہے، میری ہر اچھا پوری کی ہے، کبھی مجھے کسی بات کے لیے نہیں ڈانٹا اور میںنے بات کو بنا سمجھے آپسے غصے میں بات کی l varsha نے مجھے یہ بھی بتایا کی وہ آپسے بات کی آپسے اسنے کچھ پھوٹوج بھی شیئر کیے تاکہ آپ اسکے کمپنی product اور advertising کے لیے use کر سکیں l جبکہ میںنے پوری بات جانے بنا آپسے چلا کے بات کی l مجھے پلیز معاف کر دیجییگا l

I am سو sorry and I love you so much۔۔


اودے نے جب پورا میسیج پڑھا تو بہت خوش ہو گیا، کہیں بھی مایا نے رات کے بات کی ذکر نہیں کی تھی، اور وہ کھامکھاں پریشان تھا l اسنے سوچا مایا ایک سمجھدار ماڈرن لڑکی ہے بھلا وہ تھوڑی بہت مذاق مستی کا برا کیوں مانیگی l


اودے نے جواب میں مایا کو بالکل سہج ہوکر سمجھایا کی اسے اس طرح کی چھوٹی بات کے لیے اتنا سوچنے کی جررت نہیں ہے l اور ساتھ ہے ساتھ اودے نے مایا کو ڈھیر ساری kiss بھیجی l

رپلائی میں مایا نے بھی whatsapp پے ڈھیر سارا کس بھیج دیا l دونوں باپ بیٹی کے بیچ سبکچھ ٹھیک تھا l ۔۔ اودے خوشی خوشی ایک بار fir آفس کو چلا گیا، من لگا کے کام کیا اور شام ko جلدی گھر آ گیا l

گھر آتے ہی usne سبسے پہلے maya ko میسیج کیا l


اودے - کیا کر رہی ہو دودھملائی ۔۔۔

کچھ دیر بعد maya کا رپلائی آیا ll

مایا - دودھملائی ۔۔۔؟ یہ کون ہے۔۔۔

اودے - تم ہو۔۔۔ دودھملائی۔۔ jaisi soft اور جوسی

مایا - ہا ہا ویری funny


اودے - کیا کر رہی ہو ؟

مایا - چائے بنا رہی ہوں l

اودے - مجھے بھی پلا دو l

مایا - آ جاؤ میرے پاس پاپا، پلا دوںگی

اودے - کیسے آ جاؤں بیٹی۔۔ دور ہوں نا بہت l

مایا - پاپا۔۔ آپ chahoge تو آ سکتے ہو نا۔۔۔

اپنی بیٹی i mean اپنی دودھملائی سے ملنے کو دل نہیں کرتا آپکا l

اودے - ہاہا ہاں بیٹی لیکن office Ke کام سے آیا ہوں نا l

مایا - حمم تو چھٹیوں میں آ جاؤ نا پاپا۔۔۔ یا پھر میرے birthday پے آ جاؤ l

uday۔- اچھا بابا کوئی چھٹی ملی تو کوشش کرونگا l

مایا - امم۔۔۔ ٹھیک ہے l

لو چائے پی لو۔۔۔ l (مایا نے چائے سے بھری کپ کی پھوٹو کھینچ کر bhej دی تھی )

اودے - چائے تو ٹھیک ہے، مگر چائے سے بھی میٹھی چائے بنانے والی کہاں ہے ؟

مایا مسکرا دی۔۔ اور پاپا کی baat۔سمجھتے ہوے اسنے کپ ke ساتھ ایک سیلفی کھینچی اور bhej دی l

اودے - wow میری دودھملائی تو آج کافی الگ دکھ رہی ہے l

مایا - ہاں، اب ساڑی میں تھوڑی الگ تو دکھونگی ؟

اودے - umm۔۔۔ تو آج ساڑی کیسے پہن لی تمنے ؟

مایا - varsha کی vajah se پاپا ۔۔۔ وہ aaz ساڑی پہننا چاہتی تھی تو مجھے صبح ہی کال کرکے فارس کیا کی میں بھی ساڑی پہنوں l میڈم کو اپنے سپیشل friend سے ملنا جو تھا l

اودے - اف تم ملی کیا سپیشل friend سے ؟

مایا - میں کیوں ملوں ؟

اودے - ہم۔۔

مایا - ویسے آپ کیا کر رہے ہو ؟

اودے - بیڈ پے ہوں بیٹی l

مایا پاپا کے بیڈ پے ہونے کی بات سنکر تھوڑی پریشان ہو جاتی hai، اسے ڈر تھا کی پاپا کل کی طرح پھر سے کچھ شرو نا کر دیں l

مایا - کیا پاپا یہ بھی کوئی بات ہوئی، کتنا سوتے رہتے ہو l

اودے - نہیں بیٹی میں سو نہیں رہا l

مایا - میں کچھ نہیں سنونگی آپ وہاں سے اٹھ کر ہال میں جاؤ l ابھی۔۔۔

اودے - ارے بیٹی یہاں کیا problem ہے

مایا - پرابلم ہے۔۔۔ آپ lazy ہو جاؤگے۔۔ چلو utho

اودے - اوکے میری دودھملائی لو اٹھ گیا l

مایا - میں نہیں مانتی

اودے نے ہال میں aane کے بعد صوفے پے بیٹھے اپنی ایک پھوٹو کھینچ کے bhej دی l

اودے - اب تو یقین ہوا ؟

مایا - hmm

اودے - یہاں کیوں بلا لیا۔۔۔ (اداس من سے )

پھر تو تمہے بھی ہال میں ہی بیٹھ کے بات کرنا ہوگا l

مایا - میں تو ہال میں ہی ہوں l

مایا نے ترنت ایک pic کھینچ بھیج دی l

مایا - آپ فری تو ہو نا۔۔۔ ؟

مایا - پاپا۔۔

بولو۔۔۔ فری ہو نا۔۔

اودے - ارے بیٹی میری ٹائپنگ کی سپیڈ تمہاری طرح تیز نہیں ہے بیٹی l ہاں فری ہوں l

مایا - اچھا تو ویڈیو کال کرتی ہوں l

اودے - اوکے

مایا صوفے پے بیٹھے اپنا بال ٹھیک کی پھر انچل ٹھیک کر ویڈیو کال کی l

دونوں ایک دوسرے کو دیکھ باتیں کرنے لگے۔۔۔

ایسے ہے kareeb ۱ گھنٹے تک مایا اور اودے بات کیے اسی بیچ مایا ایک بار اٹھ کر کچن کی طرف گئی جب اودے کے نظر مایا ke گانڈ کے ابھار پے گئی l

ساڑی میں maya۔قیامت lag۔رہی تھی l، ویسے بھی مایا کے انگو کی نقاشی کسی کو بھی دیوانا کر دے l

اودے - بیٹی ایک بار تھوڑا دور کھڑی ہو l

مایا - okay کیا ہوا

اودے - بیٹی Bhartiya naari کی شرنگار ہوتا ہے ساڑی اور تم اتنا اباؤ کلر اور ubau tareekey سے پہنی ہو l

مایا - اباؤ۔۔۔؟ مطلب۔۔ وہ کیسے ؟

اودے - میرا مطلب تم ساڑی ایسے پہنی ہو جیسے ۴۰ سال کی لیڈی پہنتی hain l کم سے کم اپنی عمر کا تو دھیان رکھتی l میںنے تمہاری پھوٹو دیکھی تو تم بڑی لگ رہی تھی لیکن اب پورا دیکھا تو۔۔۔ (اودے کہتے کہتے رک گیا )

مایا - کیاا ؟؟؟

اودے - تم ناراض ہو جاؤگی۔۔۔

مایا - kyon۔۔۔ بولو نا پاپا کیا بول رہے تھے l

اودے - ٹھیک ہے تو سنو۔۔۔ تم کوئی آنٹی Jaisi دکھ رہی ہو۔۔۔ (اودے ہنسنے لگا )

لیکن مایا کو پاپا کے بات پے بالکل ہنسی نہیں آئی۔۔۔ الٹا غصہ آیا l

مایا - جیسا بھی ہو آپسے کیا مطلب۔۔ ؟

اودے - ارے۔۔۔ اتنا غصہ۔۔۔ ؟؟

مایا - jaaiye مجھے بات نہیں کرنی، میں سونے جا رہی ہوں l

مایا نے فون کٹ کر دیا l

درسل مایا نے جھوٹھا غصہ دکھایا تھا، حقیقت میں اسے پشاب لگی تھی l اور اسے بہانا مل گیا تھا l


باتھروم سے آکر اسنے پہلے خود کو شیشے میں دیکھا پھر ساڑی اتارکر ایک ٹاپ اور ایک ٹرازر پہن لی l

اس بیچ اودے لگاتار ویڈیو کال کرتا رہا، مگر مایا ویڈیو کال نہیں لی l بعد میں جب اسنے ویڈیو کال ایکسیپٹ کیا تو اودے نے اسے دیکھتے ہے پوچھا

اودے - یہ کیا میری دودھملائی نے ساڑی کیوں چینج کر دی

مایا - کیوں۔۔۔ ؟ میں تو ۴۰ سال کی آنٹی ہوں l دودھملائی تو varsha ہوگی l

اودے - نہیں بیٹی دودھملائی تو تم ho۔۔ تمہارے ہر انگ سے ملائی ٹپکتا ہے

مایا - اچھا

اودے - سچ بیٹی سر سے لیکر پاؤں تک تمہارا ہر ایک انگ مکھن ہے، varsha کچھ بھی نہیں

مایا - ummm۔۔۔

اودے - ساڑی پہنو نا l

مایا - پھر سے ؟ No آپ چڑھاؤگے۔۔۔

اودے - نہیں چڑھاؤنگا Beti۔۔

مایا - ٹھیک ہے۔۔۔ تو ویڈیو کال بند کر دیجیے میں تیار ہوکر آپکو کال کرونگی l

اودے - اوکے beti

اودے بےصبری سے intzaar کرنے لگا l کچھ دیر بعد ویڈیو کال آیا اودے نے دیکھا مایا ایک بہت سندر ساڑی میں لپٹی ہے l اسکے بدن کے کٹاؤ ساڑی میں اور ابھر کے نظر آ رہے تھے، لیکن اسکا بدن ڈھکا تھا، ویڈیو کال پے آنے سے پہلے مایا کافی cautious تھی l


اودے - بیٹی اچھی تو ہے مگر کچھ کمی لگ رہی ہے l

مایا - کیا کمی پاپا۔۔

اودے - ایسی ساڑی پے sleevless بلاءوز ہونا چاہئے

مایا - ہم sleevless بلاءوز ایک ہے but ٹائٹ ہوتی ہے پھر بھی کوشش کرتی ہوں l

اودے - ہاں اور تم اتنے بڑے شہر میں رہتی ہو تھوڑا ماڈرن طریقے سے ساڑی پہنو

مایا - امم اب میں Ileana dcruz تو نہیں dikh sakti نا papa

اودے - میرا وہ مطلب نہیں تھا، جیسے ماڈلنگ کرنے والی لڑکیاں پہنتی ہیں ویسے l

مایا - اچھا کوشش کرتی ہوں l

مایا - اور ایک بات پاپا۔۔ فون کا چارج ختم ہو رہا ہے تو ویڈیو کال نا کرکے آپکو پھوٹو بھیجتی ہوں ok؟؟

اودے - امم ٹھیک ہے بیٹی

تھوڑی دیر بعد مایا سلیولیس بلاءوز ڈھونڈھ کر پہنتی ہے to۔وہ kaafi ٹائٹ ہوتی hai، وہ دوبارا بنا برا ke پہنتی ہے تو اسے فٹ آ جاتی ہے l

مایا - ہو گیا papa پہن li

اودے - دکھاؤ۔۔

مایا - ok پھوٹو بھیج رہی ہوں l بتانا کیسی ہے l

مایا کچھ تصویریں بھیجتی ہیثل

سلیولیس بلاءوز میں مایا ki پھولی چوچی دیکھ اودے کی آنکھے کھلی ki۔کھلی رہ جاتی ہے l

اودے - wow beti تم تو سچمچ ملائی لگ رہی ہو l تمہارا بدن کتنا گورا ہے اف l

اور pic بھیجو۔۔ بیٹی۔۔۔

مایا - تھینک یو پاپا۔۔ بھیجی ہوں دیکھیے l

اودے - بیٹی سچ کہوں تو مانس بہت لکی ہے جسے تم جیسی خوبصورت بیوی ملی

مایا مسکرا دیتی ہے l

اودے - لیکن تمنے سبھی pic میں kamar کیوں dhanki hai۔۔۔؟ تمہارے stretch marks ہیں کیا ؟

مایا - نہیں تو

اودے - to۔کیوں چھپائی ho۔۔؟ بیٹی کمر to saree ki خوبصورتی کو اور بڑھا دیتی ہے l

اودے صوفے پے بیٹھا اپنا لنڈ pant کے بھیتر دبا رہا تھا l

مایا - ٹھیک ہے پاپا۔۔۔ مایا پاپا کی بات مان ساڑی کمر سے نیچے کر دیتی ہے l مایا کی گوری بھری ہوئی کمر قیامت دکھ رہی تھی l

مایا - ye کیسی ہے پاپا ؟

مایا نے اس بار کمر کے ساتھ کی پھوٹو بھیجی l اودے یہی تو چاہتا تھا، مایا کی کھلی کمر دیکھکر وہ بےقابو سا لنڈ باہر نکال کے رگڑنے لگتا ہے l

Uday - واؤ بیٹی تمہاری کمر تو اور زیادہ گوری ہے l ساڑی میں تو تم کسی اپسرا کی طرح دکھتی ہو l

اودے ٹکٹکی لگاکر اپنی بیٹی کی کھلی نابھی دیکھتا ہے l

مایا - پاپا اتنا بھی نہیں ہے l

(مایا شرما رہی ہوتی ہے )

مایا - اب چینج کر لوں ؟

اودے - پہنے رہو نا بیٹی پلیز l تمہے دیکھ کے بھی دل نہیں بھر رہا ہے l khaaskar تمہاری کمر سے تو نظر نہیں ہٹ رہی l

مایا کے لیے یہ کوئی آشچریہ کی بات نہیں تھی، اسکے بہت سارے male فرینڈ اسکی کمر کی تعریف کرتے تھے l یہاں تک کی مانس بھی انمے سے ایک تھا l اسے بھی کمر کا بھاگ بہت بھاتا تھا l

 

Bhaiji said:

Offffffooooo


Uf



Itna seductive story maine apne ۱۵ saal ke story reading mein nahi padhi



Just wowwwwwwwww

Click to expand۔۔۔

Thank you very much brother

 

Wow real incest۔۔۔۔

 

Alok said:

Kya likhte ho bhai۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Jitni baar Pado utni Baar hilana padta hai۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Kal se ؟؟ ki diet badami padegi۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟

Click to expand۔۔۔

ہلاتے رہو۔۔ مٹھ سے نہلا دو مایا کو

 

Nasn said:

pra_ بھائی۔۔۔۔۔۔۔

ہلا ہلا کر ہی مروا ڈالوگے۔۔۔۔

ساڑی بلاءوز۔۔۔۔۔ سین کرئیشن۔۔۔۔۔۔

بہت ہی Excitation ۔۔۔۔۔۔ایکسیلینٹ۔۔۔۔


امید دے بہتر اپڈیٹ تھا۔۔۔۔

کئی بار پانی نکالنا پڑا۔۔۔


ابھی اور نکالونگا۔۔۔۔۔۔

۔۔۔

بننے دو۔۔۔

؟؟؟

Click to expand۔۔۔

ہاہا very nice

 

Bhaiji said:

Maya ke chakkar mein sabse choti didi chud na jaaye yaar

Click to expand۔۔۔

چود do yaar

 

mydarlingdhan said:

pic ke saath do

Click to expand۔۔۔

بھائی سٹوری کے بیچ میں pic کیسے ڈالتے hain؟

 

Kanansaw۷۹۶ said:

Pixbb۔ga yeh xforum۔live ki khud ki image uploading site he،yaha pics/gifs upload karo aur bb image links copy kar ke post karo


Pics aur gif aap ke paas ho to unhe pixbb۔com website pe upload karo aur BBCODE yahan Upar Jo image ka arrow mark hai uspar click Karo Uske bad wahan par image URL puchega usme woh code paste Karke ok kijiye Dikh jaayegaa

Click to expand۔۔۔

تھینک یو بھائی کر کے دیکھتا ہوں مجھے url link کی طرح نہیں بلکہ image پیسٹ ہونی چاہئے l

 

Nasn said:

بہت ہی گرم اپڈیٹ تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھائی۔…۔

Click to expand۔۔۔

تھینک یو بھائی۔۔۔

 

مایا - تو پھر یہاں نہیں بیڈ پے l ( لنڈ سے ہاتھ ہٹا لیتی ہے ) تم سچ میں آفس نہیں جاؤگے ؟


مانس اس پل کچھ بھی سوچنے کی ستھتی میں نہیں تھا اسے تو بس ۳ ویک سے جمع ہوا ویریہ باہر نکالنا تھا I

(تین week سے وہ خود ہی مٹھ kyon نہیں مارا اسکا reason آگے پتا چلیگا )


بھاگ ۲


مانس مایا کو چودنے کے لیے پاگل ہوے جا رہا تھا l


مانس - نہیں جاؤنگا آفس l

ننگے بھاگتے ہوے وہ باتھروم سے روم میں آتا ہے، ہڑبڑاہٹ میں mobile لیتے ہوے وہ اپنے باس کو کال کرتا ہے l


مانس - ہیلو sir۔۔۔ sorry۔۔ ji۔۔۔۔ Ji main آج نہیں آ پاؤنگا۔۔۔۔ ہاں وہ فائل میںنے بھیج دی کل رات ہی۔۔۔ جی۔۔۔ جی جی بالکل۔۔ تھینک یو سو مچ l


ادھر مایا پتی کی بےتابی پے ہنس پڑتی ہے l مانس کا لنڈ اب سکڑ چوکا تھا، شائد باس سے بات کر کے l

مانس اور مایا کی نظر ملتی ہے اور دونوں ہنس پڑتے ہیں l مانس مایا کا ہاتھ پکڑ اپنی اور کھینچتا ہے اور اسے بانہوں میں قید کر لیتا ہے مایا بھی پتی کی بانہوں میں ڈھیلی پڑ جاتی ہے l

چکنے پیٹھ پے مانس کا ہاتھ دھیرے دھیرے پھسل کر بلاءوز کے چھور کے پاس اسکی کٹیلی کمر پے آ ٹکتی ہے l مایا کے گردن کو چومتے ہوے وہ دوسرے ہاتھ سے ساڑی میں ابھری اسکی نتمبوں کو تھام لیتا ہے l


مانس = اوہ مایا اور کتنا تڈپاؤگی۔۔۔

دونوں کے ہونٹھ مل جاتے ہیں l مانس اپنے دونوں ہاتھوں سے مایا کے بھرے بدن کی ناپ لیتا رہتا ہے l

مایا بھی مدہوشی میں ہلکی سی آہ بھر لیتی ہے، گرم سانسوں سے بھاری آہ سن مانس اپنے ہونٹھ آگے بڑھا کر اسکی ہونٹھ کے اندر گھس جاتا hai۔۔ maya پتی کی اور نہیں تڑپانا چاہتی تھی تو وہ پیروں پے اچکتے ہوے اپنے ہونٹھ کو پورا کھول دیتی ہے l دونوں کے اندر سیکس کی آگ بھڑک اٹھی تھی، اٹھتی بھی کیوں نہیں ۳ ہفتوں کے پیاسے تھے دونوں l


دونوں پاس ہی پڑے بیڈ pe لیٹ جاتے ہیں l مانس سیدھا لیٹا ہوتا ہے، لیکن اسکا لنڈ ہوا میں جھٹکے مار رہا ہوتا ہے l

بغل میں سینے پے ہاتھ رکھی اسکی پتنی مایا اپنے پتی کے لنڈ کو نہارتی رہتی ہے l

مانس کاندھے سے ساڑی کا پلو ہٹاتا ہے تو نیلے بلاءوز میں مایا کی چوچیوں کی گولائیاں دیکھ اپنے ہاتھوں کو روک نہیں پاتا l وہ مایا کی پھولی ہوئی چوچیوں کو اپنی ہتھیلی میں بھینچ لیتا hai l مایا کو ایسا احساس ہو رہا تھا جیسے اسکی پہلی سہاگرات ہے جبکہ ۶ مہینے سے زیادہ سمیہ بیت چوکا تھا شادی کو l نا جانے کتنی بار سیکس کیے ہیں دونوں نے لیکن ہر بار ایک نیا احساس ہوتاہے l


مانس بلاءوز میں اپنی پتنی کی گوری چوچیوں کو دیکھتے ہوے سامنے کی ایک ہک کھولتا ہے، مگر مانس میں اتنا بھی صبر نہیں تھا کی وہ پرے بوب کو باہر آنے دیتا اسسے پہلے کی بوب باہر آتے وہ ۲ ہک کے بڑے گیپ کے بیچ اپنی جیبھ ڈال دیتا ہے اور مایا کی کلیویج چاٹنے لگتا ہے l


مایا گرم جیبھ کی چھون سے سہر اٹھتی ہے، وہ نیچے دیکھتی hai تو پاتی ہے کی مانس مٹھی میں لنڈ پکڑے اسے تیزی سے رگڑ رہا تھا l

وہ مانس کے ہاتھ کو روکنا چاہتی ہے کیونکہ اسے یہ پل لمبا چاہئے تھا وہ مزے کو جلد ختم نہیں کرنا چاہتی تھی l مگر مانس نہیں رکتا وہ لگاتار کلیویج چاٹتے ہوے ہاتھوں کو جھٹکا دے رہا تھا l اسی بیچ پھر مانس مایا کا ہاتھ پکڑ اپنے لنڈ پے رکھ دیتا ہے l

لنڈ کافی گرم ہو گیا تھا اور اب مایا بھی اپنا ہوش کھو رہی تھی l کیونکہ مانس تیزی سے حرکت کرتے ہوے بلاءوز کے سارے بٹن کھول چوکا تھا اور ایک ہاتھ سے برا کو نیچے کھینچ اسکی جیبھ مایا کے نپل کے ارد گرد گھوم رہی تھی l


مایا کی سسکاری نکلنے لگی، چوڑیوں کی کھنکھناہٹ تیج ہو گئی l مایا اب مانس کا مٹھ مار رہی تھی l

مانس کا مزا دوگنا ہو گیا تھا، اسکی سانسے تیج ہو گئی تھی l وہ سیدھا ہو گیا اور بےصبری سے لنڈ کے پانی کا انتظار کرنے لگا l مایا کو احساس ہوا کی مانس کی جیبھ اسکے بوب پے چلنا بند ہو گئی ہیں l اسکا دھیان ٹوٹا اور اسنے جھٹ سے لنڈ چھوڑ دیا l مانس تڑپ کے رہ گیا، اسکے لنڈ کا لاوا پھوٹنے ہی والا تھا کی مایا نے ہاتھ ہٹا لیا تھا l


مانس کو بھی ہوش آیا تو اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا l اسنے مایا کو اپنے اوپر لے لیا l مایا خوش ہو گئی اسے یہ postion بہت پسند تھا l


مانس نے blouse کے دونوں سائڈ سے ہاتھ پھنسایا اور برا کے ساتھ ہی گردن سے hote ہوے نکال پھینکا l

مایا شرما گئی l اسکی دونوں چوچیاں مانس کے چہریکے پاس لٹک رہی تھی l وہ اٹھنا چاہی تو مانس اچک کے اسکے ایک بوب کو منہ میں لے لیا l

اور دوسرے کو ہاتھ میں لیکر دبانے لگا l



۲۳۱۳۲۸۶۲


ibb۔co

۲۳۱۳۲۸۶۲

Image ۲۳۱۳۲۸۶۲ hosted in ImgBB

ibb۔co ibb۔co


imge۔to

Upload Images Completely for Free | Free Image Hosting

Free Image Hosting for all types of Users۔ Host your Photos for Free for Lifetime۔

imge۔to imge۔to


مانس کسی بچے کی طرح باری باری سے مایا کی دونوں چوچی پی رہا تھا l مایا کے نپل کھڑے ہو گئے تھے l


مانس - آہحہ مایا۔۔۔۔ تمہاری چوچی کتنی مزےدار ہے l


مایا - چھی کتنی بار بولی ہوں ایسا مت بولا کرو l


مانس - تو کیا بولوں میری جان


مایا - بوب بولا کرو l


مانس - میں تو اسے چوچی ہی کہونگا l بوب کہنے mein دیسی فیل نہیں آتا I


مایا - ٹھیک ہے جو کہنا ہے کہو تم نہیں بدلوگے l اب کرو جو کرنا ہے l


مانس - کیا بات ہے، بڑی بےصبر ہو l

(کہتے ہوے مانس نے اپنا ننگا لنڈ مایا کی چوت کے اوپر سٹا دیا l)


مایا - نہیں بےصبر تو تم تھے l

باتوں باتوں میں مانس مایا کی ساڑی اور پیٹیکوٹ دونوں کو ایک ساتھ اوپر کھینچ رہا تھا l ایک وقت ایسا آیا جب ساڑی اوپر نہیں جا رہی تھی تو مایا اپنی کمر تھوڑی اوپر کی تاکہ ساڑی پوری اٹھ جائے l

مانس اسی وقت تیزی سے ساڑی اوپر کر اپنا ایک ہاتھ لنڈ کے اوپر ہتھیلی کھولے الٹا رکھ لیا l

مایا اپنے پتی کے حرکت سے انجان جب واپس کمر نیچے کی تو panty میں اسکی چوت سیدھا مانس کے ہاتھ پے لگی l مانس نے ترنت کسی سپنج ki طرح اسکی چوت کو ہتھیلی سے نچوڑ دیا l مایا اس میٹھے احساس سے سروبور تھی اسکے انماد کا رس panty mein اترنے لگا تھا I

وہ اپنے پتی کے سینے mein سر چھپائے بنا کوئی حرکت کیے sharm سے laal تھی l

مانس نے ہتھیلی سے panty کا چھور ڈھونڈھا اور اس بار پھر ہاتھ مایا کے ننگی چوت پے سرک گئی l

 

(اودے bolta ہی جا رہا تھا، وہ ye ساری باتیں لنڈ سے پانی jhaadte ہوے بول رہا تھا l اودے آج بنا earphone کے بات کر رہا تھا تو مایا کو بالکل ہی پتا نہیں چلا کی پاپا اسسے باتیں کر لنڈ کا پانی گرا رہے ہیں l اپنی بوب کی خوبصورتی والی بات سے وہ بیحد خوش تو تھی، ساتھ ہے حیران بھی کی اسکے پاپا اسکے بوبس کو دیکھتے ہیں l)


بھاگ ۲۴


تھوڑی دیر بعد اودے کا لنڈ شانت ہو گیا l اسکی ہتھیلی مٹھ سے چپچپا رہی تھی، وہ ہاتھ بیڈ پے ہی پوچھ لیا l

مایا ابھی بھی فون پے چپ تھی l

اودے - کیا ہوا بیٹی کیا سوچ رہی ہو ؟

مایا - کچھ نہیں پاپا

اودے - میری مان مانس کو بلانے کا یہی بہتر اپائے ہے l

مایا - ہم

اودے - اوکے بیٹی تو میں تمہے اکیلے چھوڑتا ہوں، تم آرام سے مانس کو رجھاؤ، میرا پتی پتنی کے بیچ یہاں کیا کام۔۔ ہاہا l

مایا (شرماتے ہوے ) نہیں پاپا its اوکے l میں بعد میں کر لونگی l

اودے - نہیں بیٹی ابھی تم ساڑی میں قیامت لگ رہی ہو to بہتر ہوگا ابھی کی پھوٹو بھیجو l

مایا - نہیں I am اوکے اسکی جررت نہیں ہے پاپا l

اودے - لیکن کیوں بیٹی۔۔۔ ؟ مجھے پتی پتنی کے کے پرائیویٹ معاملے میں بولنے ka حق تو نہیں ہے بیٹی۔۔ لیکن میں تو بس تمہاری ہیلپ کر رہا تھا l کیونکہ تم باتوں سے مجھے اداس دکھ رہی تھی l

مایا - نہیں پاپا ویسی بات نہیں ہے، درسل انکے پاس پہلے پہلے سے میری ہزاروں تصویریں ہیں l

اودے - میں سمجھا نہیں بیٹی l

مایا - actually پاپا مانس صرف باہر se سیدھے دیکھتے ہیں اندر بہت شرارتی ہیں l شادی کے پہلے سے ہی انکو میری تصویریں لےنے کا شوق ہے، ہر جگہ میری تصویر کھینچتے ہیں کبھی camera۔سے کبھی phone سے۔۔ انکا ایک آنلائن اکاونٹ ہے جہاں wo ساری photos rakhte hain۔


میری نا جانے کتنی پھوٹو ہے وہاں پے ہر طرح ke ڈریس میں l یہاں تک کی ہنیمون کی پکس بھی ہیں وہ ہمیشہ کیمرا لیے رہتے تھے، اور میری پھوٹوج کھینچتے rahte۔تھے l اسلئے میں کہنا chaah رہی تھی کی انکے پاس پورا کلیکشن ہے میرے photo کا بھلا وہ کیا کریںگے l


اودے - اوکے سمجھا بیٹی۔۔۔ لیکن ابھی کی نہیں ہے نا اسکے پاس ؟

مایا - hmm

اودے - ابھی تم بہت سیکسی لگ رہی ہو

(اودے دھیرے دھیرے کھل رہا تھا، مایا بھی مسکرا دی )

مایا - اوکے پاپا

اودے - ٹھیک ہے تو photos لے کے مانس کو بھیج میں ۱۰ min بعد فون کرتا ہوں

مایا - its ok پاپا بات کرو نا l

(اودے یہی چاہتا تھا کی سبکچھ فون پے بات کرتے ہوے ہو )

اودے - ok بیٹی تو کہتی ہے تو رک جاتا ہوں l تو بات بھی کر اور ساتھ ساتھ پھوٹو بھی کھینچ ہے نا ؟

مایا - جی پاپا

اودے - اور ہاں اپنی نابھی کی پھوٹو کھینچنا مت بھولنا

مایا - جی پاپا

اودے - اور بتا شادی سے پہلے کی بات، کیا کیا کیا تم دونوں نے l

مایا - کیا۔۔۔

اودے - وہی اس دن چھت پے دکھانے کے بعد آگے اور کیا کیا ہوا l

مایا - کیا پاپا آپ بھی نا l

اودے - ارے بتا نا بیٹی۔۔۔ تیری کہانی سنکر مجھے اپنے دن یاد آ رہے ہیں اچھا لگ رہا ہے l

مایا - hmm

اودے - اب بتا بھی

مایا - اوکے۔۔ اس دن کے بعد وہ اکثر میری photos مانگتے تھے l ایک دن میں فون لے کر نہانے گئی l

اودے - واؤ بیٹی

مایا - ہم۔۔۔ اور نہاتے وقت کی پھوٹوج بھیجی انہینل

اودے - آہحہ پوری ننگی پھوٹوج

مایا - نہیں۔۔ پینٹی پہنی تھی l

( نا چاہتے ہوے بھی مایا کو بتانا پڑا )

اودے - آہحہ مطلب اوپر سے پوری ننگی اور نیچے صرف ایک پینٹی l

مایا - جی پاپا

اودے - مانس نے پینٹی کھولنے کو نہیں بولا ؟

مایا - جی بولے تھے، but مجھے بہت شرم آ رہی تھی l

اودے - بےچارا مانس جننت سامنے ہوتے ہوے بھی جنت کے دوار کو دیکھ نہیں پایا l

( مایا اشارہ سمجھ جھینپ گئی )

مایا - چھی پاپا

اودے - چھی کیا بیٹی، وہ جنت کا دوار ہی تو ہے جسمے ہر مرد گھسنا چاہتا ہے l

مایا اور اودے دونوں ہنس پڑے l

اودے - تیری ماں تو جنت دکھانا چاہتی تھی مگر سٹوڈیو والے سے تھوڑا ڈر رہی تھی l

مایا - اوہ ریلی

اودے - ہاں

اودے - میرے پاس آج بھی اسکی پھوٹوج ہے جو اسنے مجھے بھیجا تھا l

مایا - واؤ پاپا

اودے - دیکھنا چاہوگی ؟

مایا - کیا ابھی ہے آپکے پاس ؟

اودے - ہاں کافی پہلے میں موبائل میں رکھ لیا تھا l

(درسل ایک پلان کے tahat اودے نے گوگل سے پکس لے کر اسے modify کر دیا تھا، اودے نے بڑی خوبصورتی سے pic کو پرانا کر دیا تھا )

مایا - اوکے دکھائیے

اودے - اوکے بیٹی

(اسکے بعد اودے نے سارے ہاٹ pics بھیج دیا l pic دیکھ کر مایا بہت حیران تھی l اور اسسے بھی زیادہ حیران کی پاپا نے ایسی گندی پھوٹو مایا کو بھیج دی تھی l)


IMG-۲۰۲۰۰۸۲۶-۰۰۴۲۴۸


IMG-۲۰۲۰۰۸۲۶-۰۰۴۲۱۸


IMG-۲۰۲۰۰۸۲۶-۰۰۴۲۳۴


مایا - باپ رے۔۔۔۔۔ پاپا سچ میں یہ ممی ہیں ؟

اودے - ہاں بیٹی l

مایا - اوہ مائے گاڈ ماں۔۔۔ کیسے سٹوڈیو میں ایسی پھوٹوج کھچوا لی ufff

مایا حیران تھی۔۔۔

اودے - ہا ہا بیٹی۔۔۔ جوان اورت کو ننگا دیکھ اس سٹوڈیو والے کا کیا ہال ہوا ہوگا، اسکا تو کھڑا ہو گیا ہوگا l

(مایا اودے کی بات سن شرما گئی )

اودے - کیسا تھا pic؟ اور کون سا اچھا لگا تمہے ؟

مایا - کافی bold pic ہے سبھی۔۔۔ وہ ممی کی وہ بیٹھنے والی pic اچھی لگ رہی ہے l

اودے - ہاں مجھے بھی l

اودے - لیکن مجھے دوسری والی pic اسسے بھی زیادہ ہاٹ لگتی ہے ؟

مایا - کون سی والی ؟

اودے - جسمے تمہاری ماں اوپر سے پورا کپڈا ہٹا دی ہیں اور ایک ہاتھ میں اپنی ایک چو۔۔۔ آ مطلب دودھ کیمرا کی طرف دکھایا ہے، جیسے کیمرا مین کو پلانا چاہتی ہو l

مایا - ہم۔۔۔ اچھا۔۔

اودے - میں تو اکثر تیری ماں کی چڑھاتا تھا، کی تم اپنا بوب مجھے دکھا رہی تھی یا سٹوڈیو والے کو

مایا - سو mean پاپا۔۔۔

اودے - ہا ہا۔۔

(ماحول کو نارمل کرنے کے لیے اودے بیچ بیچ میں ہنس دیتا، لیکن موقعے کا فائدہ اٹھانا نہیں بھولتا، ویسے ہے موقعے کا فائدہ uthaate ہوے دبی سسکتی آواز میں مایا سے بولا )

اودے - ویسے بیٹی تیرے بوب تو تمہاری ماں سے بھی بڑے اور سندر ہیں l

(مایا کچھ بھی بول نا پائی، اپنی تعریف سن بس بےسدھ سی بستر پے لیٹی رہی )

(اودے مایا کی طرف سے کوئی ورودھ نا دیکھکر آگے بولا )

اودے - مانس کو تو بہت مزا آتا ہوگا، اسے دبانے اور چوسنے میں۔۔۔ ہے نا بیٹی۔۔

(مایا کچھ نہیں بول پا رہی تھی، پاپا کے منہ سے اپنے بوب کی تعریف سنکر وہ ستبدھ تھی، اسے ہلکا ہلکا نشہ سا رہا تھا، )

(اودے مٹھ مارتے ہوے آگے بولا )

اودے - کاش تمہاری ماں کے تمہارے جیسے بھاری بوب ہوتے، تو اسپے ہاتھ پھیرنے میں کتنا مزا آتا،،۔۔ اسے برا سے باہر نکال کے چوسنے میں کتنا مزا aata۔۔۔ اعہہ میں تو تمہارے نپل کو۔۔۔۔ میرا مطلب تمہاری ماں کے نپل کو ہر وقت چوستا رہتا l اعہہ بیٹی۔۔۔

(اودے کا لنڈ بہت گرم ہو گیا تھا )


(مایا تھوک گھوٹتی پاپا کی باتیں سن رہی تھی، جب اودے نے غلطی سے اسکے نپل چوسنے کی بات کہی تھی تب مایا خود کو سکوڑتی اپنی جانگھو کو آپس میں بھینچ لی تھی، ہلکی سی moan لیے مایا کا کامرس اسکی چوت کو بھگو دیا تھا )


اودے - تو سن رہی ہے نا بیٹی ؟

مایا بس حمم کر دی l


مایا نے ابھی بھی کوئی ورودھ نہیں jataya تھا l


اودے - تیرے جیسے بوب ہیں بیٹی۔۔۔ ویسی بوب کو ملنے اور چوسنے کے لیے ہر مرد ترستا ہے l مانس نے پچھلے جنم میں ضرور کوئی پنیہ کیا ہوگا بیٹی۔۔ جو تجھ جیسی سندر شریر کی مالکن ملی اسے l وہ جب چاہے جتنا چاہے تیرے شریر کو بھوگ سکتا ہے، باقی مرد تو بس تجھے دیکھکر اپنا پینٹ گیلا کرتے ہوںگے l

(مایا پاپا کی ہر بات دھیان سے سن رہی تھی۔۔۔ اسکی چوت اب کافی پانی چھوڑ رہی تھی، پاپا کی میٹھی باتیں اسپے الگ خمار لا رہیں تھیں l گرم سانسیں اگلتی مایا کے ہونٹھ کھل سے گئے تھے، ایک ہاتھ سے وہ ساڑی کو کمر تک گرا دی اور اپنے نرم گرم جانگھو کو دبوچنے لگی )


images-۳۶


اودے اتنا سبکچھ کہہ گیا تھا، مایا کچھ نہیں بولی۔۔ اتنی دیر بعد بھی اسکے مہں سے صرف ایک بات نکلی

مایا - امم پاپاآاا۔۔۔۔ I miss you۔۔۔

اودے لنڈ کو رگڑتے ہوے یہ سمجھ چوکا تھا کی اسکی بیٹی مایا اب گرم ہو چکی ہے l

 

مہیندر - اسے disturb ہوگا بہو۔۔ تو ایک کام کر دروازہ باہر سے بند کرکے آ جا l

(مہیندر نے جیسے مایا کی من کی بات پڑھ لی ہو اس situation میں مایا کو بھی یہی بات اچھی لگی )

وہ حامی بھرتی ہوئی اٹھ کر door کے پاس آئی دیکھا تو مانس سو رہا تھا وہ دھیرے سے door کھینچی عجیب سی feeling تھی مایا کے من میں اس وقت جیسے کوئی پاپ کرنے جا رہی ہو۔۔۔ اور نہیں بھی۔۔۔۔ آخرکار وہ مانس کو بےوجہ کسی پریشانی میں نہیں پڑنے دینا چاہتی تھی l


بھاگ ۱۱


مایا دروازہ بند کر دی باہر سے اور واپس صوفے کے پاس آکر کھڑی ہو گئی l


مہیندر - بند کر دی بہو l

مایا - ہاں بابوجی l

مہیندر - تو آ بیٹھ میرے پاس (مہیندر نے بہو کو کھینچ کے صوفے پے اپنے بالکل قریب بیٹھا دیا )

بہو کے کمر میں ہاتھ ڈال ایک بار پھر اسے اپنے قریب کھینچ لیا l

مایا کا ایک ہاتھ مہیندر کے سینے پے تھا l مہیندر نے پیار سے مایا کا ہاتھ پکڑا l

ہاتھ کی ریکھا دیکھتے۔۔۔ ارے بہو تم تو بڑی بھاگیہشالی ہو l

مایا - کیا مطلب بابوجی l

مہیندر - یہ دیکھو یہ قسمت کی rekha ہوتی ہے اور یہ دھن کی l

مایا - آپکو ہاتھ دیکھنا آتا ہے ؟

مہیندر - ہاں ہاتھ، چہرا، handwriting سب دیکھنا آتا ہے، جب میں ممبئی میں تھا آج سے ۸ سال پہلے تب میں ایک فرینڈ کے ساتھ رہتا تھا اسکے انکل بہت بڑے astrologer تھے l میرا interest بھی تھا تو انسے ۲ سال شکشا لی l

مایا - wow بابوجی آپنے کبھی بتایا نہیں l اچھا تو میری ہاتھ کیا کہتی ہے l

(مہیندر بہت chalak تھا مایا کے پاپا اسکے بہت اچھے دوست ہیں، شادی کے دنوں میں مایا کے بارے میں بہت سی جانکاری دی تھی، مہیندر نے سوچا یہی موقا ہے بہو کا بھروسہ paane کا )


مہیندر مایا کے ہانتھ دیکھ اسے پڑھنے کی کوشش کرنے لگا اور باتیں بنانے لگا l

مہیندر - اوکے بہو تمہاری یہ جو line ہے وہ تمہارے بچپن کو بیان کرتی ہے l تمہارا بچپن بہت اچھا نہیں تھا ہے نا l

مایا - امم ہاں but کس بارے میں

مہیندر - دوبارا دیکھتے ہوے۔۔۔ تمہاری ہیلتھ ٹھیک نہیں رہتی تھی اور شائد تم بہت بیمار بھی رہتی تھی کسی کارنوش، کیا کوئی حادثا بھی ہوا ہے تمہارے ساتھ بچپن میں ؟

مایا - چونکتے ہوے l ہاں میری ماں بتاتی ہیں کی میں بہت بیمار رہتی تھی اور بچپن میں ایک بار کھیلتے کھیلتے کویں میں گر گئی تھی l لیکن رسی میں میرا پاؤں پھنس گیا تھا تو میں بچ گئی گانو والوں نے بچایا تھا مجھے l


مہیندر - ہم

مایا کی جگیاسا اور بڑھ گئی، کوئی اور بات بتائیے نا میرے پریجینٹ یا فیوچر کے بارے میں l

مہیندر - اوکے یہ ریکھا دیکھ رہی ہو یہ کہتا ہے کی تمہرے پاس کافی پیسہ ہوگا l

مایا - یہ تو جھوٹھ ہے، کہاں پیسہ ہے l

مہیندر - وہ بھوشیہ میں ہوگا۔۔۔ ابھی تو شروعات ہے بہو l اور ہاں تمہارے ۲ بچے ہوںگے l

مایا شرما گئی l

مایا - بابوجی وہ سب نہیں کچھ اچھا بتائیے نا، اچھا میں آپکا ٹیسٹ لیتی ہوں l کچھ ایسا بتائیے جو میرے present se جڑا ہو دیکھوں کتنا سچ ہے l


مہیندر پھنس چوکا تھا، لیکن اسے کچھ تو بولنا تھا تو اسنے بہو کی نیچر کو دھیان میں رکھ بولا l


مہیندر - حمم۔۔۔ تم بہت سلجھی ہوئی اور سیدھی ہو کسی کا دل دکھانا نہیں چاہتی اگر تمہارے پتی کوئی غلطی بھی کریں تو تم اسے اپنے سر لے لیتی ہو l سبکی help کرتی ہو، اور تمہارا ویواہک جیون بہت سکھدائی ہیثل اور ہاں تمنے ایک بہت بڑا راج اپنے پتی سے چھپایا ہے l


مایا سنکر shock ہو جاتی ہے، جبکہ مہیندر نے تو کیول اپنے انبھو کا اپیوگ کیا تھا l ہر کسی کے جیون میں کوئی نا کو کوئی سیکریٹ تو ہوتا ہی ہے مگر مایا کو لگا کی بابوجی سچ میں کوئی ودوان ہیں l


مایا - بابوجی۔۔ آپ تو سچ میں بہت گیانی ہے l


مہیندر - اتنا ہی نہیں بہو۔۔۔۔۔ صرف ہاتھ نہیں بہت سی ایسی چیزیں ہوتی ہیں جنسے ہم بھوت اور بھوشیہ کی باتیں جان سکتے ہیں l

مایا - وہ کیا بابوجی ؟

(مایا مہیندر کی میٹھی باتوں کے jaal میں fansti جا رہی تھی )


مہیندر - جیسے کی بہو ہاتھ کی ریکھا کے ساتھ ساتھ، handwriting، نمبر، کلر، شریر پے تل وغیرہ

مایا - تل۔۔۔۔ تل سے بھی ؟

مہیندر - ہاں تل سے بھی اسکا آکار کلر کا گہراپن ان سبسے بھی پتا چلتا ہے l (مہیندر نے ایک اور جال پھینکا )

مایا - میں کچھ سمجھی نہیں بابوجیل

مہیندر - کیسے سمجھاؤں۔۔۔ اچھا سن۔۔۔ جیسے میںنے بولا کی تمہاری ہاتھ کی ریکھا تمہے دھنوان ہونے کی پرمان دیتی ہے l

مایا - ہاں l

مہیندر - ویسے ہی شریر کے حصے پے کوئی خاص تل esko ہونے یا نا ہونے کو ستیاپت بھی کرتی ہے l


مایا بڑے گور سے سب سن رہی تھی l

اچھا ایک بات بتاؤ بہو۔۔۔۔۔ شریر کا سبسے ابھن انگ کیا ہے ؟

مایا - امم۔۔۔۔۔ پتا نہیں

مہیندر - ہمارا پیٹ، کیونکہ سنسار میں منشیہ جو بھی کرتا ہے پیٹ کے لیے کرتا ہے ہے نا ؟ اسی طرح پیر جو ہمیں آگے بڑھنے میں مدد کرتی ہے l

مایا - ہاں سمجھی l


مہیندر - تو انمے سے کسی جگہ پے اگر تل ہو تو وہ آدمی یا اورت بہت دھنوان ہوتے ہے l

مایا کچھ سوچ میں پڑ جاتی ہے،

مہیندر - تمہارے پیٹ پے تل ہے بہو ؟

مایا بھولیپن سے بولی۔۔۔۔۔ پیٹ پے کہاں بابوجی ؟

مہیندر اس بات کا فائدہ اٹھاتے ہوے اپنا دوسرا ہاتھ سیدھا بہو کے پیٹ پے رکھتا ہے l گاؤن کے اوپر سے سہلاتے ہوے وہ ہتھیلی نابھی کے اوپر ٹکا دیتا ہے l


مہیندر - یہاں بہو تمہاری نابھی پے l


مایا شرم سے لال ہو جاتی ہے اور تھوڑی مچل بھی جاتی ہے l

تبھی مہیندر وہ کہہ دیتا ہے جو ابتک صرف مانس نے اسسے کہا تھا l

مہیندر - (نابھی سہلاتے huwe) بہو تمہاری نابھی تو بہت گہری ہے l

مایا مہیندر کے ہاتھ کے اوپر ہاتھ رکھتی ہے مگر ہٹاتی نہیں، اور مہیندر اسکی نابھی پے انگلیاں پھرتا رہتا ہے l


مہیندر - بولو نا بہو تل ہے کیا یہاں

مایا - (نظریں جھکایے )۔۔۔۔نہیں بابوجی l

مہیندر - اوہ پھر تو تمہارے پیر پے ہونا چاہئے l

(مایا دوطرفہ حملے سے گھر سی گئی تھی l ایک ہاتھ جو مہیندر اسکی کمر پے رگڑ رہا تھا اور دوسرا ہاتھ اسکی نرم نابھی پے l مایا دھیمی آواز میں بولی l )

مایا - پتا نہیں بابوجی کبھی دھیان نہیں دی l

مہیندر - کیوں بہو نہاتے ہوے تو دیکھا ہوگا۔۔۔۔

(نہیں بابوجی )

مہیندر - ارے اچھا ایک کام کرو پیر اوپر کرو l

اسسے پہلے کی مایا کچھ کہتی مہیندر نے اسکے دونوں پیر زمین سے اٹھاکر اپنے پیروں یعنی گود میں رکھ لیا l

یہ اتنی تیزی سے ہوا کی مایا کو سنبھلنے کا موقا نہیں ملا l وہ صوفے پے لیٹ سی گئی l

مہیندر نے بھی ترنت مایا کے پیٹ پے ہاتھ رکھ دیا تاکہ وہ اٹھ نا paaye l اور مایا کو پیچھے support کے لیے ایک تکیا دے دیا l

مہیندر نے پہلے مایا کے پیر گھٹنو سے نیچے تک دیکھے l

مایا کو اسکے سسر کا اسکے کھلے انگو کو دیکھنا عجیب لگ رہا تھا l


مہیندر - یہاں to nahi ہے، (مہیندر گاؤن کو گھٹنو سے اوپر کھینچنے لگا )

مایا ستھر سی لیٹی رہی،۔۔۔ نا جانے کیوں وہ سسر جی کو روک نہیں پائی l کچھ ہی پلوں میں مایا کی دودھیا مانسل جانگھے پوری ننگی ہو گئیں l مہیندر کے لنڈ میں اپھان مچنے لگا جو نیچے سے مایا کی گانڈ پے چوٹ کر رہا تھا l


images-۵۶


جوان بہو آدھی ننگی مہیندر کے گود کے اوپر تھی مہیندر نے اتنے ورشو میں ایسی مانسل جانگھ اتنے قریب سے نہیں دیکھی تھی l اسکے صبر کا باندھ ٹوٹتا جا رہا تھا l

اسنے اپنے ہاتھ بہو کے کھلے جانگھ پے رکھ دی، ادھر مایا کسمسائی سی تکیے میں اپنا منہ ڈھک لی l

مایا کی طرف سے کوئی ورودھ نا دیکھ مہیندر نے اسکی جانگھ کو اندر تک چھوا، اتنا اندر ہاتھ ڈالنے کے باوجود مہیندر کو کوئی پینٹی نہیں ملی، اسکا دل زور سے دھڑکا کیا بہو گاؤن کے اندر کچھ نہیں پہنی l


images-۵۷


مایا کو جب خیال آیا کی اسنے گاؤن کے اندر panty نہیں پہنی ہے تو اسکا دل زور زور سے دھڑکنے لگا وہ شرم کے مارے اپنی دونوں جانگھ کو آپس میں بھینچ لی l

مہیندر کا ہاتھ مایا کے جانگھو کے بیچ ہی پھنسا رہ گیا l مایا کے کھلی چوت سے نکلتی گرم بھاپ کو مہیندر اپنی ہتھیلی کا پچھلے حصے پے صاف محسوس کر سکتا تھا l جانگھو پے سسر کی ہتھیلی کا سپرش پاکر مایا کی بر نے پانی چھوڑ دیا تھا l


مایا کی گیلی چوت مانو مہیندر کے انگلیوں سے بس ۱ اینچ کے فاصلے پے تھی l اس بات کا احساس مایا کو بھی تھا l

لیکن یہ ایک اینچ کا فاصلہ تے کرنا آسان نہیں تھا، یہاں سے چیزیں یا تو بگڑ سکتی تھیں یا بن سکتی تھیں l

اسلئے مہیندر بڑی سہجتا سے وہیں رکا رہا l مایا کا چہرا تکیے se ڈھکا تھا تو وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا کی جو ہو رہا ہے کیا اسمے بہو کی رضامندی ہے،، کہیں بہو مجھے گندا آدمی سمجھ کے اپنی لائف سے نا نکال دے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے l

اسنے سوچا کی بہو سے بات کرکے پتا لگائے کی بہو کے دل میں کیا ہے l تو اسنے چپی توڑی، کیا ہوا بہو نیند آ رہی ہے کیا ؟

مہیندر نے اپنا سوال پورا بھی نہیں کیا تھا کی تبھی پاور کٹ ہو گیا اور پرے کمرے میں اندھیرا چھا گیا l


اندھیرے نے مہیندر کی ہمت بڑھا دی، اسنے ہتھیلی کی انگلیاں کھولی اور بہو کی بر کی پھانک سے دو انگلی ٹچ ہو گئی l



images-۵۸



مایا سہر اٹھی اسکی بر کا رس مہیندر کی انگلیوں پے بہہ گیا l


مایا - بابوجی میں مومبتی جلاتی ہوں l (مایا نے سر اٹھا کے ایسے رییکٹ کیا جیسے اسے کچھ نہیں پتا لیکن اسکی بولی اور اسکا شریر الگ الگ حرکت کر رہی تھی )

مایا اٹھنے کے بہانے اپنی کمر نیچے کی اور دبائی، جیسے وہ سخت انگلیوں کو اپنے اندر بھینچنا چاہتی ہو l

مہیندر کو لگا کی مایا اگر چلی گئی تو اسے دوبارا ایسا موقا نہیں ملےگا، وہ تو ہر ہال میں بہو کی بور کو اچھی طرح فیل کرنا چاہتا تھا l مہیندر نے اسی بہانے ہتھیلی سیدھی کر ایکدم سے بہو کی ننگی بر کو چھو لیا l

مہیندر - رہنے دے بہو مومبتی کی کیا جررت l

مایا - نہیں بابوجی لاتی ہوں، مایا اٹھ گئی تھی مہیندر نے بھی ہاتھ ہٹا لیا تھا l مایا اٹھکر کچن میں آئی اسکی بر کامرس میں پوری طرح گیلی ہو گئی تھی l

ادھر مہیندر کی حالت ایسی تھی جیسے ہاتھ لگا کھجانا گم ہو گیا ہو l وہ اپنی ہتھیلی کو ناک کے پاس رگڑ کر بہو کی جوان بر کی مہک لے رہا تھا l

 

بھائی سہمت ہوں آپسے، Bahu saree mein بھی مزا دیگی سب ہوگا دھیرے دھیرے

 

Raj_Singh said:

Manas jaise hi BHADWE PATI hote hai Jo PATNI ko Bhadka kar Dusri ke samne OPEN / FRANK karwate hai aur jab inhi Galtiyo ke karan PATNI Dusro se CHUDANE lagti hai to fir Patni ko ILJAM dete hai۔


PATI-PATNI me sirf SEX ya SEX EXPERIMENT hi nahi hota، Ek-Dusre ke prati PYAR، SAMMAN، MAN-MARYADA ka khayal bhi hota hai۔

Click to expand۔۔۔

میں آلوچکوں کا سواگت کرتا ہوں، میںنے آپکے اور سٹوری پے دیے گئے کمینٹس بھی پڑھے l آپکو سبسے کمپلین hai، تو میرے بھائی یہ fantasy ورلڈ ہے اگر آپکو اچھا نہیں لگتا تو آپ door ہی رہیے ان سب چیزوں سے

 

مانس - ہاں ہاں دے دو مایا l۔۔۔۔ (مانس ہنس ہنس کے پاگل ہوے جا رہا تھا، مایا کو چھیڑنے میں وہ کوئی کثر نہیں چھوڑ رہا تھا )


لیکن مایا کے لیے تو وہاں کھڑا ہونا بھی دوبھر ہو گیا تھا، وہ بھاگ کے کچن میں آ گئی l دل کی دھڑکن کسی جنریٹر کے سامان دھک دھک کر رہی تھی l


بھاگ ۸


مہیندر - ارے کیا ہوا کوئی مجھے بھی بتائیگا l

مانس - کچھ نہیں پاپا مایا یہ curry کل بنائی تھی مجھے بہت پسند ہے تھوڑا بچا تھا تو تڑکا لگا دی l اور مایا آپکو باسی curry نہیں دینا چاہتی l (مانس ستھتی سنبھالنے کی کوشش کیا، ادھر مایا نے بھی چالاکی سے ایک دوسرے کٹورے میں الگ curry رکھ لے آئی l )

(مانس کے بغل میں بیٹھی اسکی نظریں شرم سے ابھی بھی نیچی تھی )


مہیندر - بس اتنی سی بات بیٹا l

کیا بہو تم بھی نا، اتنا سوچتی ہو میرے لیے l (مہیندر واپس ٹیوی دیکھتے ہوئی dinner کرنے laga، ستھتی سمبھل گئی تھی مایا اور مانس واپس ایک دوسرے کو دیکھتے ہوے مسکرایے l)


مانس کھاتے ہوے بائیں ہاتھ سے مایا کی جانگھو پے ہاتھ پھیرتا ہے اوپر تک تو اسے kahin بھی پینٹی کی چھور نہیں ملتی، مایا بالکل ننگی تھی اندر l وہ اس احساس سے رومانچت ہو جاتا ہے l

مانس - تم بھی khao نا مایا l

مہیندر - ہاں بہو کھائو l


ٹیبل کے نیچے مانس کی انگلیاں مایا چوت کے آس پاس حرکت کر رہی ہوتی ہیں l

وہ مٹھی بٹورتے ہوے مایا کی گاؤن اوپر کھینچنے لگتا ہے، کچھ ہی دیر میں مایا کے گھٹنے ننگے ہو جاتے ہیں l

مایا صبح ہوے واکیے کو دوہرانا نہیں چاہتی تھی تو وہ کوئی ورودھ نہیں کرتی بلکہ بڑی نارمل ہوکر اپنے سسر سے باتیں کرتی رہتی ہے l


مایا - تو پاپا مانس کے بارے میں اور بتائیے کچھ بچپن کے قصے کتنا شیطان تھے مانس۔۔

مہیندر - بہت بدمعاش تھا یہ،۔۔ سکول میں ایک بار اسنے maths teacher کی چیئر پے chwingum چپکا دیا تھا l بعد میں اسے بہت مار بھی پڑی تھی l اپنی کاپی پے میرا نقلی سگنیچر کر دیتا تھا l


مایا - اوہ مانس اتنے بدمعاش تھے تم ؟

مانس - وہ maths ٹیچر بہت کھڑوس تھے بچوں کو مارتے تھے l تو کیا کرتا l

(مانس نے جواب dete ہوے ٹیبل کے نیچے گاؤن پوری اٹھا دی اور مایا کی ننگی کھلی بر کو ہاتھ لگایا )

مایا چہرے کا ایکسپریشن چھپاتے ہوے تھوک گھونٹ پانی پیتے ہوے مانس سے بولی l


مایا - اچھا اور وہ بابوجی کا signature وہ کیا تھا l (مایا سہمتی دکھاتے ہوے اپنی ننگی ہو چکی ٹانگے فیلا دی، جسسے مانس کی دو اونگلی مایا کی بر میں سماں گئیں l )


مانس - وہ تو میں پاپا کے daant سے بہت ڈرتا تھا l (مانس بہت ہی چالاکی سے کھانا بھی کھا رہا تھا اور دوسرے ہاتھ کی دو اونگلی مایا کے بر میں پیل رہا تھا l مایا کو اب مزا آنے لگا تھا، چیئر پے بیٹھے بیٹھے وہ مچل جا رہی تھی l)


مایا - امم مانس۔۔۔ تمم تو بڑے بد۔۔۔۔ ہہ۔۔۔۔۔ بدمعاش تھے l (مایا کا بر گیلا ہونے لگا تھا )


مہیندر - بہت بدمعاش تھا بہو l اب تو شادی کے بعد کافی sudhar گیا ہے l


(مایا کے لیے chair پے بیٹھنا اب مشکل ہو رہا تھا، وہ بیچ بیچ میں ٹیبل پے سر جھکا کر سسر جی سے چھپاتے ہوے گرم آہ بھرتی l اسے ڈر تھا کی کہیں وہ بابوجی کے سامنے ہی سکھلت نا ہو جائے l تو اسکے دماغ میں آئیڈیا آیا وہ سوچی اب جیسے کو taisaa۔۔کرنا پڑےگا )


مایا - اچھا بابوجی آپ کیسے تھے اپنے بچپن میں شرارتی یا شانت l (مایا مہیندر کو question میں الجھائے رکھی اور نیچے سے ہاتھ سیدھا مانس کے لنڈ پے رکھ دی )


مہیندر سب سے انجان بھولیپن سے اتر دیتا اور مایا مانس کے pant کا زپ کھول لنڈ ہاتھ میں لے چکی تھی l


images-۵۲


مانس مایا میں آئے اس بدلاو کو دیکھ آنندت تھا l مایا بالکل سہج ہو کر بات کرتے ہوے پتی کے لنڈ کو stroke دے رہی تھی، اب مچلنے کی باری مانس کی تھیال


دونوں کے بیچ جیسے کوئی competition ہو کبھی مایا مانس کا لنڈ زور سے ہلا دیتی تو کبھی مانس کس کے اونگلی مایا کی گیلی بر میں پیل دیتا l)


لیکن مانس پھر بھی مایا پے بھاری پڑ رہا تھا کیونکہ مہیندر مایا سے باتیں کر رہا تھا اور مایا کے لیے مستی بھرا expression چھپانا بہت مشکل تھا l آخرکار وہ کچھ سوچ کھڑی ہو گئی۔۔۔


مایا - اوہ مانس یہ تمنے curry کیسے گرا دی فرش pe l میں کچھ ٹاول لا کے صاف کرتی ہوں l


مانس کو کچھ سمجھ نہیں آیا کون سی curry یہاں تو کچھ نہیں گرا مایا کیا بول رہی ہے l


مہیندر - ارے بہو ڈینر کر لو پہلے صاف بعد میں کر دینا l



مایا - کوئی بات نہیں بابوجی میں ویسے بھی کھا لی، آپ کھائیے نا l مایا ہاتھ میں ایک چھوٹا ٹاول لیے واپس آ گئی l


وہ اب ٹیبل ٹیبل کے نیچے بیٹھ گئی l


مہیندر - مانس بیٹا کل کیا کام ہو jayega ؟؟ میں سوچ رہا تھا کام جلدی ختم کر گھر چلا جاؤں l


مانس - ہاں پاپا کوشش کرتا ہوں۔۔۔

(مانس اپنی بات بھی پوری نہیں کیا تھا کی تبھی اسے اپنے لنڈ پے کچھ گرم soft سا انبھو ہوا l وہ نیچے دیکھا تو شاک ہو گیا l

مایا کے نرم ہونٹھ مانس کے لنڈ پے پھسل رہے تھے l اوہ my گاڈ کیا احساس ہے، آج مایا تو اف۔۔۔ یہ مجھے blowjob دے رہی ہے وہ بھی میرے پاپا کے موجودگی میں l)


مایا ٹیبل کے نیچے سے ہی مانس کے آنکھوں میں دیکھتے ہوے بلوجاب دے رہی تھی l


مہیندر - ارے بہو بس بھی کر، بعد میں کر لےنا صاف l

(مایا ٹیبل کے نیچے سے ہی لنڈ منہ سے باہر نکال بولی۔۔۔ بس بابوجی ہو گیا۔۔۔ اور دوبارا لنڈ چوسنے لگی )

پھر اسنے مانس کا شرٹ پکڑ نیچے جھکایا اور کان میں دھیرے سے بولی۔۔۔۔ مانس۔۔۔۔۔ گرا دو میرے مہں میں )


مانس کو اپنے کانوں پے مانو یقین ہی نا ہوا l مستی میں وہ chair پے ڈھیلا سا پڑ گیا۔۔۔ سر پیچھے کر وہ کمر کو دھیرے دھیرے جھٹکا دینے لگا l مایا کسی پورن ایکٹریس کی طرح لنڈ چوس رہی تھی مانس کے صبر کا باندھ ٹوٹ گیا وہ جھٹکے کھاتہ مایا کے منہ میں سکھلت ہوتا گیا l نیچے نظریں جھکا کے دیکھا تو مایا اسے ہی دیکھ رہی تھی، مایا کا پورا منہ سفید ویریہ سے بھر گیا تھا منہ کے کنارے سے ویریہ بہہ رہا تھا پھر بھی وہ چھپ۔۔۔ چھپ۔۔ چوستی رہی l


images-۳۴


مایا کا یہ روپ مانس نے کبھی نہیں دیکھا تھا وہ آنند وبھور تھا l مایا نے نا صرف اسکا لنڈ چوسا تھا بلکہ اسکا سارا ویریہ بھی پی گئی تھی l

مایا سیکسی اندازہ سے منہ پوچھی اور ٹیبل سے باہر آ گئی l


مہیندر - ہو گیا بہو l


مایا - ہاں بابوجی سب صاف ہو گیا۔۔۔۔ کیوں مانس سب صاف ہو گیا نا۔۔۔ (آنکھ مارتے ہوے )


مانس تو شاک میں کچھ بھی بول نہیں پا رہا تھا l

 

اس دن کے بعد مایا سے دوپہر میں بات ہوتی اور رات میں بھی l لیکن رات میں اودے زیادہ بات نہیں کرتا، اکثر وہاٹسپ چیٹ پے ہی بات ہوتی l لیکن مایا کے لگاتار disturbance اور messages سے وہ ٹھیک سے مزے نہیں کر پاتا l ۴ دن بیت گئے تھے، مایا کے ڈسٹربینس کی وجہ سے وہ مٹھ نہیں مار پایا تھا l عالم یہ تھا کی ۴ دن بعد اودے ہر کوئی لڑکی کو دیکھ اتیجت ہو جاتا تھا l جب بھی اسے موقا ملتا وہ پرے dhanke کپڑے میں بھی لڑکی کی گولائی اور شریر کا ابھار بڑے گور سے دیکھتا اور آنندت ہوتا تھا l


بھاگ ۱۷


ایک دن مایا صبح ۵ بجے بیڈ پے لیٹی کروٹیں بدل رہی تھی، تبھی فون کے وہاٹسپ پے میسیج آیا، مایا فون ہاتھ میں لیکر دیکھی تو پاپا کا میسیج تھا l

گڈ مارننگ بیٹی۔۔۔

مایا مسکراتے ہوے لیٹے لیٹے جواب di۔۔۔

مایا - گڈ morning papa۔۔

آج اتنی صبح صبح۔۔۔

اودے - ہاں بیٹی۔۔ آج میںنے کام سے چھٹی لی ہے، اب تمسے کیا چھپاؤں کل رات کچھ پرانے دوستوں کے ساتھ بیر پی لی تھی۔۔ تھوڑی دیر پہلے تک سر بہت بھاری لگ رہا تھا تو اٹھ گیا، ایک دوا لی اور واپس بیڈ پے آیا تو سوچا تجھے میسیج کروں دیکھوں تو میری بیٹی کیا کر رہی ہے l

مایا - اچھا تو آپ drink کرتے ہو وہاں۔۔۔۔ میں ماں کو سب بتاؤنگی l

اودے - نہیں بیٹی پلیز اپنی ماں کو مت بتانا l

مایا - کیوں ؟

اودے - وہ خامونکھاں میرے دوستوں کو بھلا برا کہیگی۔۔ پلیز بیٹی

مایا - اوکے اوکے۔۔۔ نہیں بتاؤنگی، میں مذاق کر رہی تھی l

اودے - تونے تو dara ہی دیا مجھے l

مایا - کتنے دوست تھے ؟ اور پارٹی کہاں تھی ؟

اودے - ۲ دوست تھے بیٹی۔۔۔ اور پارٹی جیسا نہیں تھا بس میرے گیسٹ ہاؤس پے he ڈینر تھا۔۔۔ رک میں تجھے photos بھیجتا ہوں l

(اودے نے رات کی کمرے میں لی gayin کچھ تصویریں وہاٹسپ پے بھیجی )

مایا ان tasveeron کو گور سے دیکھ رہی تھی،

مایا - wow پاپا خوب مستی کی آپنے تو۔۔ اور سبھی freind میں سبسے ہینڈسم آپ لگ رہے ہو l

اودے - ( اپنی تعریف سنکر خوش ہو گیا ) تھینک یو بیٹی

مایا - لیکن آپکا کمرہ کتنا بکھرا پڑا ہے l

اودے - ارے بیٹی اکیلا ہوں کمرہ تو بکھرا ہی رہیگا l

مایا - میں بھی تو اکیلی ہوں، لیکن میںنے تو اچھے سے رکھا ہے کمرہ l یہ دیکھو l

(مایا نے ترنت لیٹے لیٹے بیڈروم کی ایک پھوٹو نکالی اور بھیج دی )

اودے - اچھا جی تمسے نہیں جیت سکتا میں۔۔۔ l

مایا - ہم

اودے - ویسے تمہاری نیند خراب کر دی میںنے l کیا کر رہی ہو ؟

مایا - لیٹی ہوں بیڈ پے بلینکیٹ کے اندر۔۔۔ آپ کیا کر رہے ہو ؟

اودے - میں بھی لیٹا ہوں l

مایا - انہہ۔۔۔ کال کروں ؟ میرا ہاتھ دکھکھ رہا ہے صبح صبح ڈھیر سارا میسیج type نہیں کر سکتی l

اودے - ہنستے ہوے۔۔۔ okay

(مایا call کرتی ہے دونوں باتیں کرنے لگتے ہیں )

۔

۔

۔

(تھوڑی دیر بعد۔۔۔۔ )

مایا - نہیں پاپا۔۔۔ وہ ایکٹر تو مجھے بالکل پسند نہیں ہے۔۔۔۔

اودے - تو پھر کون ؟

مایا - کارتک۔۔ کیوٹ ہے نا۔۔۔

اودے - حمم

مایا - اچھا ہے آپکو دوستوں کے ساتھ ٹائم بتانے کو ملتا ہے l میں تو دوستوں کے ساتھ نہیں جاتی l

اودے - ہاں

مایا - اچھا آپکو کون سی ایکٹریس پسند ہے ؟

اودے - ileana D'cruz

مایا - اوکے بہت کیوٹ ہے وہ، مجھے بھی پسند ہے l

اودے من میں (کیوٹ بھی اور سیکسی بھی )

مایا - لیکن ان دنوں بہت موٹی ہو گئی ہے l

(اودے کچھ بول نا پایا کیسے سمجھاتا مایا کو کی اسکو motapa نہیں کہتے۔۔۔ اسکی بدن گدرایی ہے جو مردوں کو بہت لبھاتی ہے )

مایا - ہیلو

اودے - ہاں وہ network اشو تھا شائد l

اوکے بیٹی صبح ہو گئی، بات کرتے ہوے ۱ گھنٹے ہو گئے پتا ہی نہیں چلا میں بعد میں کال کرونگا l

مایا - ok

(سارا دن دونوں چیٹ کرتے رہے کبھی مایا اپنے kitchen میں پکے کھانے کا پھوٹوج بھیجتی تو کبھی اودے اسے اپنے کمرے ٹھیک کرنے کے بعد کی پھوٹو دکھتا )۔

رات کو جب مایا بستر پے تھی تو قریب ۱۰ بجے ایک میسیج آیا، مایا جانتی تھی پاپا کا ہوگا، پڑھا تو کارتک کے پھوٹو کے ساتھ بغل میں گڈ نائیٹ لکھا تھا l


images-۵۸

Good Night beti


وہ مسکرا دی۔۔۔ بیڈ پے لیٹے وہ بھی فون میں ileana d' cruz کی pics سرچ کی اور پکس کے ساتھ اسنے بھی گڈ نائیٹ پاپا لکھ کے بھیج دیا l۔


d۶xt۱po-e۴c۶۸۰ea-۲c۷e-۴d۷۹-۹bf۵-۵d۵f۴۷۲۶fbff

www imagepost com

Good night papa


اودے بھی ہنس پڑا لیکن Ileana کی pics اسکے سر پے الگ جادو کر رہی تھی l وہ لیٹے ہوے گوگل پے ileana کی ہاٹ pics سرچ کیا، سرچ رزلٹ نے اسکی گرمی بڑھا دی وہ بیڈ پے pant کھولا اور انڈرویئر میں ایک ہاتھ ڈال دیا ileana کے کچھ ہاٹ پکس دیکھتا لنڈ پے وہ دباو بڑھا رہا تھا l


images-۵۷


وہ Ileana کے pic میں کھویا انڈرویئر نیچے کر ایک ہاتھ سے لنڈ مسلنے لگا l اسی بیچ مایا کے کئی میسیج آئے جسے وہ دیکھ نا پایا l

مایا - گڈ night Message کے لیے thanks

مایا - آپکو بھی گڈ نائیٹ

مایا - کیا ہوا پاپا۔۔ کیا کر رہے ہو ؟

مایا - سو گئے کیا ؟


اودے نے جب میسیج دیکھا تو انڈرویئر اوپر کرتے ہوے رپلائی کیا

اودے - سوری بیٹی کچھ کام کر رہا تھا

مایا - کام اس وقت

اودے - ہاں وہ تھوڑا internet پے کمپنی سے judi کچھ آرٹکل پڑھ رہا تھا l

مایا - اوکے آپ بجی ہو۔۔ میں سوچ رہی تھی بات کروں l

اودے کا موڈ ابتک چلا گیا تھا، آج بھی وہ مٹھ نکال نہیں پایا تھا l اسنے سوچا بات ہی کرتے ہیں l

اودے - نہیں بجی نہیں ہوں l

اور اودے نے مایا کو کال کیا،،، دونوں بیڈ پے لیٹے باتیں کرنے لگے l قریب ایک گھنٹے بات کرنے کے بعد

مایا - پاپا۔۔۔۔ مانس کی کال آ رہی ہے، میں بعد میں بات کرتی ہوں l

اودے - اوکے بیٹی l

مایا مانس کے ساتھ کال پے بجی ہو گئی، ادھر اودے بیڈ سے اٹھ کر واشروم گیا اور دوبارا بیڈ پے آیا l

پھر سے موبائل ہاتھ میں لیکر وہ ileana کی گندی pics دیکھنے لگا l اسنے ileana کی ایک ہاٹ pic چنی اور موبائل بیڈ پے رکھ وہ انڈرویئر نیچے کر بیٹھ گیا l


images-۵۶


Screenshot-۲۰۲۰۰۸۱۴-۱۹۲۱۰۷


pic میں ileana کا شریر دیکھ وہ مٹھ مارنے لگا، اسنے من بنا لیا تھا کی آج وہ ileana کے نام کا ویریہ نکلیگا l وہ تیزی سے لنڈ رگڑتا raha، اسکی سانس بھاری ہونے لگی۔۔۔ آاہ آاہ ileana۔۔۔ گھٹنے پے بیٹھا اودے نے سوچا مٹھ وہ ileana ke pic کے اوپر ہی چھوڑیگا l آاہہ sssss۔۔۔اعہہ ileana اسکا مٹھ لنڈ کے مہانے پے تھا کی تبھی مایا کا واپس کال آ گیا l تبتک دیر ہو گئی thi اودے جھڑنے laga۔۔۔موبائل سے ileana کی pic ہٹ گئی thi اور اسکی جگہ caller ID پے مایا کی کلوآپ pic آ گئی l اودے کراہتا رہا اور اسکی ساری مٹھ مایا کے تصویر کے اوپر نکل گئی l


qAnLvf۳


اودے کو بہت گلانی محسوس ہوئی، کال کٹ گیا تھا l اسنے موبائل ہاتھ میں لیا تو مایا کی دوبارا کال آنے لگی، اس بار اودے نے دھیان دیا تو پایا اسکی گاڑھی مٹھ مایا کے ٹھیک ہوٹھو پے تھی l انگوٹھے سے جب وہ مٹھ پوچھتا تو ایسا لگتا جیسے وہ اپنا ویریہ مایا کے ہونٹھ پے رگڑ رہا ہو l ایک بار پھر کال miss ہو گئی l اودے کا دھیان ٹوٹا وہ موبائل کو بستر پے صاف کیا اور بغل میں رکھ کے سو گیا l

 

Thank you بھائی

 

Nasn said:

IMG-۲۰۲۰۰۴۰۲-۰۰۱۹۰۸-۱۳۹ شادیشدہ مایا بیٹی پاپا کی دلاری۔۔۔۔۔۔

پاپا کو seduce کرنے کی تیاری۔۔۔۔

Click to expand۔۔۔

اری سالہ لنڈ کھڑا ہو گیا

 

کاش ایسا ہوتا

 

نہیں

Lonelyguy said:

Kya biwi ke karnaame story xossip me tum likhe the bhai۔۔

Click to expand۔۔۔

 

Friends۔۔ کچھ کام میں بجی ہوں۔۔ ۲ دن میں اپڈیٹ دونگا

 

میںنے اپنا sarcastic comment hata diya hai۔۔۔

Sorry doston۔۔۔ Morningstar اور kaamdev sorry ؟

 

Nasn said:

بڑے بھائی آپ غلط سمجھ رہے ہے ۔


نظر لگانے سے مطلب یہ تھا کہ


لیکھک مہودیہ کو ابھی سٹوری

جہاں چل رہی ہے


لکھنے دو

۔۔

مانس نے تو خوب مزے لے لیے

جب تک باہر سے لوٹکر

نہیں آتا ۔۔


تب تک پاپا کو مزے لےنے دو۔۔۔

Click to expand۔۔۔

مانس کے لنڈ کا maza تو مایا کئی بار لی ہے اب اور لنڈ لےنے دو اسے l

 

Deep۳۲۴۰ said:

hlo

Click to expand۔۔۔

؟؟؟

 

مایا - ایرفون نکل گیا کیا پاپا۔۔۔ آواز نہیں مل رہی آپکی l

اودے نے rahat ki سانس لی۔۔۔۔ وہ تو ڈر ہے گیا تھا l

اودے - (earphone ٹھیک کرتے ہوے۔۔ ) ok اب ٹھیک ہے ؟

(مایا مسکرا رہی تھی ۔۔ ۔۔ اسے اپنی شرارت پے خود ہنسی آ رہی تھی )

مایا - ہم اچھا میں فون کاٹتی ہوں l پسینے سے گندی ہو گئی ہوں صاف ہونا ہے، آپ بھی اپنی گندگی صاف کر لیجئے۔۔ (مایا ایک بار پھر مسکرا دی )

اودے - (گھبراتے ہوے bye بیٹی )

مایا - bye


بھاگ ۲۰


مایا دیر شام تک پاپا کے بارے میں سوچتی رہی، اسے یقین نہیں ہو رہا تھا کی پاپا نے فون پے varsha کو دیکھ مٹھ ماری l وہ تو پاپا کو اچھا مانتی تھی، اسنے کبھی نہیں سوچا تھا کی پاپا ایسا کریںگے l

لیکن مایا پاپا سے بہت پیار کرتی تھی، اسے لگا اگر ممی انکے ساتھ ہوتی تو وہ ایسا کبھی نہیں کرتے l

ایک طرف وہ پاپا کی سائڈ لیتی انکی مجبوری سمجھتی تو دوسری طرف

اسے varsha پے بہت غصہ آ رہا تھا، وہ من ہے بول پڑی l جو اپنے پتی کی نا ہوئی وہ کسی کی نہیں ہو سکتی l سالی کتیا نا جانے کپڑے اتار کے مردوں کو کیوں رجھاتی ہے l

ابتک varsha مایا کی بہت اچھی فرینڈ تھی لیکن دوپہر کے واکیے نے اسکا من بدل دیا تھا، وہ hate کرنے لگی اسسے l

تبھی varsha کا فون aaya۔۔ مایا غصے کو دباتے ہوے بولی l

مایا - hey varsha۔۔

varsha - ہیلو مایا

مایا - کیا ہوا varsha فون کیسے کی l

Varsha - یار مجھے کچھ ڈریس return kar دوسرا لےنا ہے l چلیگی کل صبح ؟

مایا - اب کیا huwa۔۔۔ varsha (مایا دانت پیستے بولی )

Varsha - چلو نا پلیز۔۔۔، تجھے پتا ہے وہ میرا online فرینڈ

مایا - haan

varsha - وہ آیا ہے، ہوٹل ڈریم میں رکا ہے l سوچ رہی تھی تیرے ساتھ شاپنگ کرکے میں اسسے ملنے چلی jaungi l اور ہاں گھر پے میرا دیور پوچھے تو بولنا میں تمہارے ساتھ ہوں اور next ڈے آؤنگی l

(Maya gusse سے تلملا اٹھی )

مایا - تو اسکے ساتھ پورا ایک دن rukne والی ہے ؟

Varsha - ofcourse یار اتنی دور سے آیا ہے وہ l تو کل ۱۰ بجے اوکے ؟

میں بعد میں بات کرونگی l

Varsha نے فون کاٹ diya، مایا gusse سے تلملاہٹ میں بول پڑی سالی رنڈی online فرینڈ سے رات بھر chudegi۔۔۔ دھوکےباز پتی کو دھوکھا دے رہی ہے l اور میرے پاپا پے بھی ڈورے daalegi۔۔۔ no way۔۔ میں ایسا نہیں ہونے دوںگی l

مایا رات کے ڈینر کے بعد بیڈ پے آئی۔۔۔ابھی بھی وہ varsha اور پاپا کی ہی بات سوچ رہی تھی l

مایا بیڈ پے لیٹی اپنے پاپا کو میسیج کی

مایا - کیا کر رہے ہو پاپا ؟

اودے بھی موبائل لیے بیڈ پے لیٹا تھا، مایا کا میسیج آتے ہی اسنے آنکھے بند کر ایک سیلفی لی اور لکھا سو رہا ہوں l

مایا ہنس پڑی

مایا - very funny پاپا۔۔۔

اودے - اممم

مایا بھی جواب میں لیٹے ہوے اپنی ایک سیلفی بھیج دی l

اودے - بہت پیاری لگ رہی ہو l

مایا - تھینک یو پاپا

اودے - یہ جو ٹاپ پہنی ہو وہ آج نئی خریدی ؟ یا کوئی پرانی ہے l

مایا - (ہنستے ہوے۔۔۔ ) ٹاپ نہیں ہے وہ پاپا۔۔۔ وہ بلینکیٹ ہے lol

اودے - اوہ کلوآپ پکس میں سمجھ نہیں آیا، تو ٹاپ کیا پہنی ہو ؟

(اودے نے یہی پوچھ لیا تھا )

مایا - (تھوڑا جھجھکتے ہوے۔۔ ) spaghetti ٹاپ hai پاپا۔۔

اودے - sphegetti۔۔۔ ؟ یہ کیا ہوتا ہے l

مایا کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کیسے بتائے، اپنی pic بھی نہیں بھیج سکتی تھی، کیونکی سپگھیٹی کے اندر bra نہیں تھا l

تو مایا نے گوگل سے ایک pic nikaal کے bhej دی l ایسی ہوتی ہے spaghetti


Bollywood-news


اودے pic کو بڑے دھیان سے دیکھ رہا تھا، اور من میں بولا۔۔۔ Wow کتنی ہاٹ dress ہوتی ہے کاش varsha کی ایک پھوٹو مل جاتی spaghetti mein۔۔۔۔ ویسے یہ لڑکی بھی کم نہیں ہے l اودے کا لنڈ ہلکا ہلکا پھڑپھڑا رہا تھا l


اودے - اچھا اسے بولتے ہیں spaghetti۔۔ سمجھا

مایا - حمم

اودے - ویسے بیٹی تمہے ایک بات بتانی تھیال

مایا چونک سی گئی،،، (کیا بتانا چاہتے ہیں پاپا۔۔ کوئی راز۔۔۔ )

اودے - میسیج پے نہیں۔۔۔ کال کروں ؟

مایا - ہاں l

اودے نے مایا کو کال کیا۔۔۔

مایا - ہیلو papa۔۔۔جی بولیے

اودے - کیسے کہوں۔۔۔ sorry میںنے تمہے پہلے نہیں بتایا l

مایا گھبرا گئی۔۔۔ پاپا کیا بات ہے بتائیے پلیز۔۔

اودے - بیٹی میںنے تمسے پوچھا تھا نا varsha کے بارے میں۔۔ پتا ہے کیوں ؟

مایا - کیوں پاپا۔۔۔

اودے - درسل قریب ۱ ہفتے پہلے مجھے فیسبک پے ایک لیڈی کی فرینڈ رکویسٹ آئی۔۔۔ میںنے دیکھا تو وہ تمہاری فرینڈ لسٹ میں تھی l مگر تمنے کبھی ذکر نہیں کیا اس فرینڈ کا تو میںنے وہ رکویسٹ ویسے ہی چھوڑ دیا l

وہ لیڈی varsha تھی

(مایا کے لیے یہ بہت shocking تھا۔۔ )

مایا - اوہ fir۔۔

اودے - پھر جب تمنے اسکے بارے میں بتایا تو میں آج دوپہر میں اسکا فرینڈ رکویسٹ accept کیا l وہ آنلائن تھی اور مجھے اسنے ترنت میسیج کیا پھر سارا دن اسی سے بات کر رہا l اسلئے تجھے کال نہیں کر پایا l

(مایا غصے میں آگ ببولا تھی )

مایا نے غصے میں ہی پاپا سے پوچھا۔۔۔۔

مایا - تو اب کیوں بتا رہے ہو پاپا۔۔۔جاؤ اسی سے بات کرو l

اودے - نہیں بیٹی، مجھے غلط نا سمجھ۔۔ میںنے تو صرف اسلئے accept کیا کیونکہ تمنے اسے بیسٹ فرینڈ بتایا تھا l

مایا - اب نہیں ہے وہ میری بیسٹ فرینڈ پاپا۔۔ i hate her

اودے - کیوں کیا ہو گیا۔۔۔ صبح تو تم بہت تعریف کر رہی تھی اور اب۔۔ کیا ہوا۔۔۔

(مایا کیسے بتاتی۔۔۔۔ )

مایا - بس نہیں ہے پاپا۔۔۔۔ reason نہیں بتا سکتی l

(اس بیچ مایا نے فیسبک کھولا تو دیکھا varsha کے فرینڈ لسٹ میں پاپا hain)

اودے - سچ کہوں بیٹی تو مجھے بھی وہ لیڈی کچھ عجیب لگی l

(مایا یہ بات سنکر تھوڑا سا نارمل ہوئی )

مایا - کیا ہوا پاپا۔۔

اودے - بس عجیب لگی l کیا بتاؤں l

مایا - اچھا پاپا۔۔۔ کیا varsha نے آپکو اپنی پھوٹو بھی بھیجی ہیں ؟

اودے - ہاں بیٹی بھیجی تھی۔۔۔ لیکن تم kaise۔۔۔جانتی ho۔۔۔

(مایا ka gussa ساتویں آسماں پے تھا۔۔ اسے varsha pe itna غصہ آ رہا تھا کی اگر وہ سامنے ہوتی تو وہ اسے کس کے تھپڑ لگا دیتی l)

مایا - ایک بات پوچھوں۔۔۔ سچ سچ بتانا آپکو میری قسم ہے l کیا آپ کل varsha se mil rahe ho ؟

(مایا کو لگا varsha jis online friend کی بات کر رہی تھی کہیں وہ پاپا تو نہیں )

اودے - یہ کیا کہہ رہی ہو بیٹی l nahi بالکل nahi l

مایا - پاپا۔۔۔ سچ بولو پاپا۔۔ آپکو میری قسم ہے l varsha kal kisi سے ملنے جا رہی hai۔۔۔ وہ آپ ہو na۔۔۔ bolo۔۔۔ چپ کیوں ho۔۔۔

(مایا بیڈ پے بیٹھی غصے سے آگ ببولا تھی )


اودے - بیٹی۔۔۔ میں اتنا کھدگرج نہیں جو اپنی خوشی کے لیے تمہے ذرا سا بھی ٹھیس پہچاؤں l (اودے کی آواز میں الگ بھاو the) اگر تمہے پسند نہیں بیٹی تو میں اسسے ملنا تو دور اسکا کبھی نام بھی نہیں لونگا l

فون کی line کٹ ہو گئی تھی، مایا ستبدھ سی بیٹھی سوچ میں پڑ جاتی ہے تبھی

اسکے موبائل پے فیسبک کا notification آیا، وہ open کی تو دیکھی اسکے پاپا نے varsha کو unfriend کر دیا تھا l

(مایا کے آنسو نکل آئے، اسنے سوچا varsha کی وجہ سے کتنی غلطفہمی ہو گئی میںنے یہ تک نہیں سوچا کی بھلا ek دن میں varsha کیسے پاپا کے پاس پہنچ جائیگی، اور پاپا سے کتنی berukhi سے بات کی )

مایا نے ترنت پاپا کو میسیج کی۔۔

مایا - پاپا im sorry

اودے - sorry کیوں بیٹی

مایا - میںنے آپسے اچھے سے بات نہیں کی، اس کتیا varsha کے کارن میں غصے میں thi۔۔۔ آپ مجھے معاف کر دو l

اودے - اوہ میری بیٹی گالی بھی deti hai؟

مایا - گندی گالی بھی دیتی ہوں میں۔۔۔ اور اس varsha کو تو بہت گندی گالی دوںگی، جسکی وجہ سے میںنے آپکو بھلا برا کہا l

اودے - باپ رے l کون سی گندی گالی دوگی۔۔۔

مایا - بہت گندی والی

اودے - de کے بتاؤ۔۔ میں بھی تو دیکھوں l

مایا - میں دے دوںگی سچ بول رہی ہوں l

اودے - تو پھر دو۔۔

مایا - varsha سالی کتیا۔۔ رن۔۔۔ آگے آپ سمجھ جاؤ

اودے - ہاہا باپ رے بہت بدمعاش ہو تم l

مایا۔۔۔ امم (مایا بیڈ پے لیٹ گئی )

مایا - پاپا۔۔۔

اودے - کیا بیٹی۔۔۔

مایا - غصہ نہیں ہو نا۔۔۔ ؟

اودے - نہیں بیٹی

مایا - مجھے hug چاہئے l

اودے - hug کیسے دوں l تم تو یہاں ہو nahi۔

مایا - مجھے نہیں معلوم۔۔۔ کیسے بھی دو۔۔۔

اودے - اوکے ویٹ کرو l

مایا سوچنے لگی پاپا کیا کریںگے l

تب ایک پھوٹو میسیج آیا، مایا اوپن کی تو اسکی ہنسی نکل گئی l

photo میں اودے ایک تکیے کو زور سے بانہوں میں کسا تھا l

نیچے لکھا tha a sweet hug for world best daughter اسکے بعد ایک اور pic ملا جو گوگل سے ڈاؤنلوڈ تھا جسمے ایک foreighner آدمی ایک لڑکی کو بانہوں میں لیے گال pe کس کر رہا تھا نیچے لکھا تھا miss you my lovely daughter۔


مایا خوش ہو گئی تھی، پھر اسنے لکھا کیا پاپا آپ نا ہی foreigner ہو نا ہی اتنے موٹے۔۔۔ آپکو تو pic bhi سیلیکٹ کرنے نہیں آتا l


اودے - اچھا تو کھوجنے دو کوئی pic۔۔۔

مایا بےصبری سے wait کرنے لگی۔۔۔ اسکے بعد جو pic اودے نے بھیجا وہ دیکھ مایا اور ناراض ho گئی l

pic mein ایک aadmi ladki کے gaal پے kiss کر رہا تھا مگر لڑکی کسی کاموالی جیسی دکھ رہی تھی۔۔۔ بدصورت l


مایا غصے میں چلائی۔۔۔ پاپا۔۔۔۔۔۔ اتنی خراب دکھتی ہوں کیا میں ؟

آپ مت کھوجو پلیز l

اودے - سوری سوری بیٹی ایک لاسٹ چانس l

اس بار اودے نے جو pic بھیجا، اسے دیکھ کر مایا شرما گئی l


Pic میں ایک آدمی ایک بہت ہی خوبصورت لڑکی کا chin اٹھا اسکی گردن کو چوم رہا تھا l chin پکڑنے سے اسکے ہاتھ کا elbow لڑکی کے بوبس کو ٹچ کر رہا تھا l لڑکی کے ہونٹھ بھی کھلے تھے ایسا لگ رہا تھا جیسے لڑکی گردن پے kiss ko sexually enjoy کر رہی ہو l بیشک یہ kiss کسی باپ بیٹی کے نہیں لگتے تھے l لیکن اودے نے شائد یہ pic لڑکی کی خوبصورتی دیکھ سیلیکٹ کر لیا تھا l


images-۵۷


اودے - یہ کیسا ہے بیٹی l

مایا - بہت اچھا ہے l

اودے - تم بھی bhejo نا کچھ l

مایا سوچ میں پڑ گئی l پھر وہ بیڈ pe اٹھ کر بیٹھی، front کیمرا on کیا اور کیمرا پے kiss دیتے ہوے کا ایکشن کر ایک پھوٹو بھیج دی l پھوٹو بھیجتے ہی blue ٹک لگ گیا، بعد میں اسنے جب خود اپنی pic گور se dekhi to شرما گئی l پھوٹو میں چہرے کا تو closeup تھا مگر اسکی کلیویج بھی نظر آ رہی تھی l


images-۵۶


لیکن اودے نے pic dekh li تھی مایا اب کچھ نہیں کر سکتی تھی l

تھوڑی دیر خاموشی کے بعد اودے بولا۔۔۔


اودے - بیٹی you look so beautiful

ویڈیو کال کروں۔۔۔


مایا کو کچھ سمجھ نہیں آیا کیا کرے، اسنے بہانا بنا دیا کی network بہت خراب ہے ویڈیو کال نہیں ہو پاییگا l


اودے - اوہ اچھا تو پھر اور پھوٹو بھیجو نا تمہے دیکھنے کا بہت من ہو رہا ہے l

مایا نے لیٹے لیٹے گردن گھما کے ۲-۳ pics لیں اور ساری بھیج دی l

اودے ساری پھوٹو کو چپچاپ ایک ایک کرکے دیکھتا رہا l سبھی pics میں مایا کے کلیویج دکھ رہی تھی اسکا دھیان بار بار مایا کے کلیویج پے چلا جاتا تھا l

تھوڑی دیر چپی کے بعد۔۔۔۔

مایا - کیا کر رہے ہو پاپا۔۔۔

اودے - تمہے دیکھ رہا ہوں بیٹی۔۔۔۔ تم بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔۔۔ اور تمپے sleevless کافی اچھا لگتا ہے l I miss you so much beti

مایا - امم پاپا۔۔۔ i miss you too۔۔۔ please میری بات کا برا مت ماننا، varsha کی vajah سے main اپنا آپا کھو دی تھی l

اودے - اوہ تو ابھی تک اسی بات کو سوچ رہی hai۔۔۔ بھول جا بیٹی میری بانہوں میں آ l

مایا - امم آ گئی پاپا l

اودے - امم۔۔۔ ایسے نہیں۔۔ اپنے بلینکیٹ سے نکل اور میرے بلینکیٹ میں آ جا l

مایا - ہیہی۔۔۔ لو آ گئی۔۔۔ امم پاپا آپکا بلینکیٹ تو بہت soft ہے l

اودے - ہاں مگر تم تو blanket سے بھی زیادہ سوفٹ ho۔۔۔ اممم آہ (اودے ن جانے کب اپنا ایک ہاتھ لنڈ پے رکھ لیا tha، وہ بات کرتے ہوے اپنے لنڈ کو مٹھی میں بھینچ رہا تھا l )


اودے - آہ بیٹی اور پھوٹو بھیجو نا۔۔ ( اودے کی آواز میں سرسراہٹ تھی )

مایا سمجھ نہیں پا رہی تھی کی پاپا بار بار پھوٹو کیوں مانگ رہے hain۔۔ یا پھر اس وقت وہ سمجھنا نہیں چاہتی تھی l اسے تو پاپا پے اپنا لاڈلاپن دکھانا تھا، اپنی غلطی کے لیے سوری بولنا تھا l

اسنے اس بار موبائل دور کیا اور pic li، بھیجنے سے پہلے وہ pic dekhi تو khud ہی شرما گئی l

 

Sorry readers۔۔ ایک trip کی وجہ سے بجی ہو گیا تھا l

 

Morningstar۱۷۳ said:

Bhai sorry ki bat nahi he yaar tum chate to story ko or hot kar ke likh sakte the hame to maza aa rahe he padhne me par ladki jawan he ghar me akeli he lund ke liye tadap rahi he dudh wale ke sath pehle hi masti kar chuki he dudh wala be uske badan ko dekh kar garam ho gaya tha to aise me to ek lekh banta tha na

Click to expand۔۔۔

Bhai samajh gaya main۔۔۔ Doodh wale ka episode khatm nahi huwa۔۔ Usko Launga۔۔۔۔ Main writer ke saath reader bhi hoon۔۔۔ Main apni kahaani mein etne character nahi daalunga ki reader yaad na rakh sake kiska kya naam aur relation hai۔۔۔ Meri kahaani mein kam log honge aur beech beech mein unka jikra karoonga jisase reader character bhoole nahi۔۔۔ Aur kaka ko bhi choot milegi befikra rahein ۔۔

kahani ki baat Karun to Sabki alag rai hoti hai kisi ko lamba seduction chahiye kissi ko boring lagta hai aur chudaai chahiye jald se jald۔ Agar kaka pe jyada dhyaan diya to bahut saare mere reader Kahte hain ki incest ki category se hatao۔۔۔ Lekin main suggestion lekar kahaani ko apne flavor mein monde ki koshish karta hun۔۔

 

Morningstar۱۷۳ said:

Bhai kya dudh wala kaka mar gaya he ya ab maya ke ghar dudh nahi aata he

Click to expand۔۔۔

Deleted

 

Nasn said:

بھائی کتنا گرم لکھتے ہو۔۔۔۔

بنا سیکس کروایے ہی۔۔۔

گرماگرم ویریہ نکلوا دیتے ہو۔۔


۔جو بھی پڑے مٹھ مارنے لگے۔۔۔۔۔




۔۔۔۔۔Outstanding Update۔۔۔۔۔

Click to expand۔۔۔

تھینک یو بڑے بھائی۔۔۔ میری سمجھ سے سیکس کا مزا صرف سیکس کرنا نہیں اسے فیل کرنا بھی ہے l کبھی کبھی لڑکی کو چودنے سے jyada اسکو چودنے کی لالسا زیادہ آننددایک ہوتی ہیثل کسی سنسکاری بہو کی بلاءوز کے اوپر سے چوچی دبانا رنڈی کو چودنے سے زیادہ مستی بھرا ہے l

 

Bhaiji said:

Kyaa bhaii ye bhi koi baat hai


Subah subah mutthi marni pad gayii


Bhai kamaal ho yaaar sach mein


Rockinggg


Aisi hi dirty and slow talk karwaye raho

Click to expand۔۔۔

Thank you brother۔۔۔

 

Raj_Singh said:

:yourock:


Umeed se kahi Jyada Behtar Update :yourock:


Aapki Story to Hum Ladko ka "Pani" hi nikalwa deti hai۔:yourock::vhappy۱:

Click to expand۔۔۔

Thnks bro paani nikalte raho

 

بھائیوں سٹوری کے بیچ gif image کیسے ڈالتے ہیں پلیز بتاؤ l

 

Raj_Singh said:

Manas jaise hi BHADWE PATI hote hai Jo PATNI ko Bhadka kar Dusri ke samne OPEN / FRANK karwate hai aur jab inhi Galtiyo ke karan PATNI Dusro se CHUDANE lagti hai to fir Patni ko ILJAM dete hai۔


PATI-PATNI me sirf SEX ya SEX EXPERIMENT hi nahi hota، Ek-Dusre ke prati PYAR، SAMMAN، MAN-MARYADA ka khayal bhi hota hai۔

Click to expand۔۔۔

بھائی کیا مطلب ہے آپکا story اچھی نہیں لگ رہی ہے ؟

 

مایا واپس آ کے پتی کی یہ حرکت دیکھتی ہے تو اسے مارنے کو دوڑتی ہے، لیکن مانس اسکا ہاتھ پکڑ اپنی اور کھینچ لیتا ہے l

اوپر سے ٹاپلیس مایا کی چوچی کو وہ کس کے رگڑ دیتا ہے l تبھی گھر کی door bell بجتی ہے اور دونوں alag ہوتے ہیں l


بھاگ ۴


مایا - صبح کے ۹ بج رہے ہیں، کون آیا ہوگا جاؤ دیکھو l

مانس - میں نہیں جا سکتا تم ہی دیکھو شائد دودھ والا ہو (مانس بیڈ پے ہی کروٹ بدلتا hai، تبھی ایک بار اور bell بجتی ہے )

مایا - میری برا تو تمنے خراب کر دی کیا میں بنا برا کے بلاءوز پہنو l

(مایا جھنجھلاتے ہوے جلدی سے بلاءوز پہنتی ہے)

مایا - ohoo تمنے یہ ہک بھی tod دی

مانس - یار پلو ڈال لو نا، دودھ والے نے اگر تھوڑی سی تمہاری چوچی دیکھ بھی لیں تو کون سی آفت آ جائیگی l الٹا بےچارے کا دن بن جائیگا میری سیکسی مایا کو دیکھ کر l

مایا - تم کبھی بھی نہیں سدھروگے l

(مایا ہلکی سی سمائل دیتی hai، اسے پرانے دن یاد آتے ہیں جب وہ مانس کے رکویسٹ پے کسی اجنبی کو اپنے جسم کی نمائیش کراتی اور پھر دونوں رات میں واقیا کو یاد کر جم کے سیکس کا مزا لیتے تھے )


تیسری بار bell بجی تو مایا ساڑی سنبھالتے تیز قدمو سے door کی طرف بھاگتی hai l

Door کھولی تو سامنے دودھ والے کاکا کھڑے ملے l

کاکا - بٹیا بڑی دیر لگا دی I

مایا - کاکا وہ میں نہا رہی تھی l ( مایا بنا سوچے ایک جھٹ سے بول di، ادھر مانس کمرے میں لیٹا مایا کی نہانے والی بات سن لنڈ پے ہاتھ پھیرا l)

کاکا - اوکے بٹیا، برتن لے آؤ l

(کاکا کی نظر سیدھے مایا کی گول ابھری چھاتیوں پے گئی، پھر کچھ سوچ وہ نظر ہٹا لیے )

مایا برتن لے کے واپس آئی، کاکا دھیرے دھیرے دودھ ناپ رہے تھے l

کاکا - بٹیا۔۔ صاحب آ گئے کیا ؟

مایا - ہاں کاکا آج ہی صبح آئے l

کاکا - اچھا بٹیا اسلئے آج بہت خوش لگ رہی ہو l صبح صبح نہا بھی لی l

مانس بیڈ سے اٹھ کر کپڑے پہنتے ہوے دونوں کی باتیں سن رہا تھا l خاص کر کاکا کے منہ سے اپنی بیوی کی نہانے والی بات سنکر اسکے لنڈ میں تھوڑی ہلچل مچ رہی تھی l

وہ کمرے سے باہر آیا، کاکا۔۔۔

کاکا - ارے صاحب آپ نمستے

مانس - نمستے l کیسے ہو راملال l

کاکا - بس دوا ہے مالک l

مانس مایا کے بغل میں آ کھڑا ہوا اور اپنا ایک ہاتھ مایا کی کمر پے ٹکا دیا l

مانس - بیوی بچے سب ٹھیک تو ہیں نا

کاکا - جی صاحیب

کاکا - اچھا ہوا صاحیب آپ آ گئے، مایا بٹیا بڑی اداس دکھتی تھی آپکے بنا l


مانس - ہاں آپکی بٹیا نے تو صبح صبح ہی تھکا دیا مجھے۔۔۔۔

۔

۔

۔

بہت ساری باتیں کر کر کے l


مایا مانس کی ڈبل meaning بات سمجھ رہی تھی وہ کمر پے پڑے مانس کے ہاتھ پے کس کے ناخون چبھا دی l

مانس - کاکا آئیے نا اندر، میں سوچ رہا تھا پچھلے month کا بھی پیسہ باقی ہے تو ابھی دے دوں سب جوڑ کے۔۔ کیوں مایا ؟ (کمر پے ہلکا سا دباو ڈالتے ہوے )

مایا مانس کا چہرا پڑھ رہی تھی آخر اسکے دماغ میں کیا چل رہا ہے l


مایا - ہاں آئییے نا کاکا l

کاکا - اوکے بٹیا l

تینو لونگ ہال میں صوفے پے بیٹھ جاتے ہیں l کچھ باتیں کرنے کے بعد مایا کچن میں آ جاتی ہے l

مانس ٹیبل پے پڑی ایک ڈائری اور پین اٹھتا ہیثل

مانس - یہ لو کاکا اسپے پچھلے month سے اب تک کا دودھ کا کرایا لکھ دو l

کاکا - جی صاحب ابھی لکھ دیتا ہوں l

مانس اٹھ کر کچن میں آتا ہے، مایا کی ساڑی میں ابھری گانڈ دیکھ وہ اپنا لنڈ سہلاتا ہے اور مایا کو بانہوں میں بھینچ پیچھے سے ہی لنڈ گانڈ کی درار میں چپکا دیتا ہے l

مایا سخت لنڈ کے احساس سے چونک جاتی ہے، تبھی مانس اسکی پیٹھ پے kiss کرتے ہوے اپنا ہاتھ آگے کیے ساڑی کی گانٹھ نیچے push کر دیتا ہے l

مایا کی گہری نابھی ننگی ہو جاتی ہے l آگے کی طرف آ کے وہ فرش پے گھٹنے کے سہارے بیٹھ جاتا ہے اور اپنا منہ سیدھا مایا کی نابھی میں گھسا دیتا ہے l

مایا کی سانسے تیز ہو جاتی ہے، وہ سوچنے لگتی ہے کی آج یہ مانس کو کیا ہو گیا ہے l


مانس کس کرنے کے ساتھ ساتھ دھیرے دھیرے اسکی ساڑی اٹھا لیتا ہے l ننگی جانگھو سے لیکر panty تک ہانتھ پھیرتا ہے l مستی میں ڈوبی مایا کی panty گھٹنو سے نیچے آ جاتی ہے، مانس اب نیچے کی طرف جاتے ہوے panty کو پورا نکال ہوا میں پھینک دیتا ہے l

مایا کو پتا تھا۔۔۔۔ آگے وہ ہونے والا تھا جو اسے سبسے زیادہ پسند ہے وہ مانس کا بال پکڑتی ہے اور پیر کھول دیتی ہے l مانس اپنے ہونٹھ کو مایا کی گرم چوت پے رگڑ رہا ہوتا ہے l مایا کی تیج سسکاری نکل جاتی ہے، وہ کاکا کا خیال کر اپنا منہ بند کرتی ہے l

لیکن مانس اسکا ہاتھ مہں سے ہٹا دیتا ہے اور چوت کے اندر تک جیبھ ڈال دیتا ہے l

مایا مانس کا ارادہ بھانپ لیتی ہے اور پیچھے ہٹتی ہوئی ساڑی نیچے کر دیتی ہے l پھر وہ مانس کا کان پکڑ کے اٹھاتی ہے l

کسی ٹیچر کی طرح اسے ڈانٹتے ہوے پوچھتی ہے


مایا - کیا کر رہے تھے تم ؟

مانس -کچھ تو نہیں l

مایا - سب سمجھتی ہوں میں، میرے مہں سے ہاتھ کیوں ہٹائے ؟


مانس - common مایا جبسے کاکا نے تمہارے نہانے کی بات کی ہے میرا لنڈ تن گیا ہے l تم بھی تو enjoy کرتی تھی یاد ہے new year کا دن ہم گوا گئے تھے اور ہوٹل میں تم باتھروم سے بنا برا کے باہر آ گئی تھی جبکہ روم سروس والا ladka وہیں تھا l تمہے ننگا دیکھ اسکی تو جیسے جان نکل گئی تھی، بعد میں ہم جہاں جاتے وہ وہیں آتا اور تمنے بھی تو اسے کئی بار اپنے بوب کے درشن کرایے تھے l


مایا - میںنے تمہارے کہنے پے دکھایا تھا l


مانس - جو بھی ہو لیکن اس رات ۴ بار ہم سیکس کیے تھے یاد ہے l اس سروس بائے ki باتیں کر سیکس کا کتنا مزا آیا تھا l


مایا - ہاں یاد ہے میں نشے میں تھی، اور وہ ایک اجنبی تھا لیکن کاکا (مایا کہتے کہتے رک گئی )


مانس - پلیز مایا پلیز


مایا - اوہ تم کبھی نہیں سدھروگے، اچھا کیا کروں بولو l


مانس - (خوش ہوتے huwe) ان کبوتروں کو بلاءوز سے آزاد کر دو اور کاکا کو enke درشن کرا دو l


مایا - چھی مانس تم پاگل ہو گئے ho؟


مانس - ہنستے huwe۔۔۔۔ ارے بابا مزاق کر رہا تھا، کمسے کم اپنی نابھی تو دکھا سکتی ہو l


مایا - حمم ٹھیک ہے l


مانس آگے بڑھ مایا کو چوم لیتا ہے، تم کتنی اچھی ہو l


مایا ساڑی کو اپنی چکنی گہری نابھی کے نیچے کرتی ہے، پلو سے ہلکا سا ڈھنکتے ہوے وہ living ہال میں آتی ہے l


کاکا - ارے بٹیا۔۔۔ (ڈائری بڑھاتے ہوے) لو ایک بار دیکھ لو سب ٹھیک ہے نا

مایا ڈائری پکڑتی ہے اور بڑی چالاکی سے باہں کو پیٹ سے رگڑتے ہوے ساڑی کا پلو نابھی سے دور کر دیتی ہے l


images-۳۵



کاکا صوفے پے بیٹھے ہوے جب مایا کی گوری کمر دیکھتے ہیں تو انکی آنکھ بڑی ہو جاتی ہے l وہ ٹکٹکی لگا کے کمر کو نہارتے ہیں، جبکہ مایا انجان سی ڈائری دیکھتی کھڑی رہتی ہیثل اسکا فائدہ اٹھا کے کاکا آنکھوں سے ہی نابھی کی گہرائی ناپتے ہوتے ہیں l دھوتی میں انکا لنڈ بیتحاشہ جھٹکے مارنے لگتا ہے l


تھوڑی دیر بعد مانس آتا ہے،


مانس - ارے مایا۔۔۔ کاکا کو پسینہ ہو رہا ہے fan چلا دو l

کاکا آپکی طبیت تو ٹھیک hai؟


کاکا - haan صاحیب

مایا اور مانس ایک دوسرے کو دیکھ ہلکا سا مسکراتے ہیں l

مایا - کاکا یہاں کچھ گڑبڑ ہے l


کاکا -کہاں بٹیا ؟


مایا کاکا کے بالکل قریب کھڑی ہو جاتی ہے اسکی کھلی نابھی کاکا کے فیس کے قریب تھا l

مایا - یہاں دیکھیے کاکا۔۔۔ ادھر ۲۵۰ ہونا چاہئے ۲۰۰ نہیں l

کاکا اتنے قریب سے گوری نابھی دیکھ پسینے پسینے ہو جاتیں ہیں l


کاکا - ہاں ہاں۔۔۔ آ ہاں۔۔۔ بیٹی۔۔ بٹیا۔۔۔ ٹوٹل ۱۵۔۔ ۲۵۰۰ ہو گیا

صاحب۔۔۔۔


کاکا کی زبان لڑکھڑانے لگتی ہے l


مانس - یہ لو کاکا ۲۵۰۰

مانس - کاکا آپکی طبیت تو ٹھیک hai؟


کاکا - جی جی صاحب وہ مجھے یاد آیا۔۔۔ مجھے ایک اور جگہ جانا ہے l

میں پھر کبھی آتا ہوں l

کاکا جلدی سے دھوتی سنبھالتے اپنے لنڈ کے آگے ہاتھ کیے door کی طرف بھاگتے ہیں l

مانس اور مایا دونوں ہی اپنی ہنسی دبا رہے ہوتے ہیں l


مایا - اوکے کاکا

کاکا بنا سنے تیزی سے سیڑھیاں اترتے دور چلے جاتے ہیں l

مایا door بند کرتی ہے دونوں صوفے پے آکر بیٹھتے ہیں اور زور زور سے ہنستے ہیں l


مانس - یار کاکا کا تو کام ہی ہو جاتا آج l


مایا - ہاہا اوہ مائے گاڈ انسے تو بولا ہی نہیں ja رہا تھا l

مانس - مایا کو بانہوں میں لیتے ہوے، تم ہو ہی اتنی ہاٹ l بےچارے کھڑے لنڈ کے ساتھ بھاگ گئے l تم تو کسی کو بھی اپنا دیوانا بنا دو l


مایا اپنی تعریف سن رومانچت ہوتی ہے l


مانس - اب تمہارا انعام l

مایا کو صوفے پے لٹا کے وہ اسکی ساڑی اٹھا دیتا ہے panty تو پہلے ہی نکل چکی تھی l

مانس اپنا مہں مایا کی چوت پے لگا دیتا ہے l چوت سے مادک گندھ آ رہی تھی l

مایا بھی ٹانگے پوری کھولے اپنی چوت چٹوانے کو بیقرار تھی l



images-۳۷



مانس منہ کھولے چوت کی پھینکو سے ہوتا ہوا اندر تک چاٹنے لگا

مایا - آہ آفہہہہہ ماانااس


مانس - مانس نہیں کاکا بولو l

مایا - aaah مانس سسسسس l


مانس - بولو نا بٹیا l

مایا - کاکا آٰا۔۔۔۔۔۔۔۔ آاہہ میری چوت چاٹو کاکا l

مانس کسی پاگل کتّے کی طرح چوت کو چاٹتا رہتا ہے l مایا کی چوت اب ڈھیر سارا پانی چھوڑنے لگتی ہے l


مایا - اوہ کاکا

مانس -(منہ اٹھا کر مایا کی طرف دیکھ ) مایا بٹیا کاکا سے chudwaogi نا

مایا - مایا آنکھ بند کیے ہوے جواب دیتی hai۔۔۔۔۔ ہاں کاکا chudwaungi


مانس تڑپ اٹھتا ہے وہ اپنا pant اور انڈرویئر کھولے مایا کے فیس کے قریب آتا ہے l اسکے لنڈ سے تیج بدبو آ رہی تھی، پھر بھی مایا ہاتھ میں لنڈ تھامتی ہے l لنڈ پہلے سے زیادہ گرم اور موٹا لگتا ہے l


مایا - یہ کیا مانس تم تو بہت horny ہو l

مایا آگے بڑھ اسکے لنڈ کو چوم لیتی ہے l مانس ویسے ہی کھڑا رہتا ہے اسکا لنڈ بار بار مایا کے گال پے جھٹکے مار رہا ہوتا ہے l


مایا دیکھتی ہے تو مانس آنند سے آنکھے بند کیے ہوے ہے، وہ آگے بڑھ پورا لنڈ منہ میں بھر لیتی ہے l

مانس - aaaaaaaaaaaaaaaaaaaahhhhhhhhhh maaaaaayaaaaaa


دو تین بار لنڈ کو مہں کے لار سے بھگو کر مایا لنڈ چھوڑ دیتی ہے l


مانس مایا کو صوفے سے نیچے اترتا ہے اور اسپے سوار ہو کے لنڈ سیدھا چوت کے اندر پیل دیتا ہے l موٹا سخت لنڈ مایا کی چوت میں اندر تک گھس جاتا ہے l


مانس - آہ مایا بٹیا تمہاری بر کتنی گرم ہے اور گیلی ہے l


مایا - چھی مانس کتنا گندا بولتے ہو تم l

مانس - کاکا تو بر ہی بولتے ہوںگے اسے نا جانے کہاں وہ تمہارے نام کی مٹھ مار رہے ہوںگے l


مایا یہ سنکر اپنے دونوں جانگھو کو جکڈ لیتی ہے l مایا کا orgasm آ گیا تھا l وہ اپنی چوت سے پانی کا رسنا محسوس کر سکتی تھی l


مانس بھی مایا ki اتیجنا سمجھتے ہوے اسے کس کے چودنے لگتا ہے l


Aaah آہ aaah آاہ سسس آاہ

مایا کی moan تیج ہو جاتی ہے l چودتے چودتے مانس ایک جھٹکے سے لنڈ باہر نکلتا ہے اور لمبی سانس لیتے ہوے مٹھ کی پچکاری چھوڑتا ہے l مٹھ کی پہلی دھار تو مایا کے سر کے اوپر سے نکل جاتی ہے، دوسری مایا کے چہرے پے پڑتی ہے تیسری بوب پے اور باقی کی ۳-۴ دھار مایا کے پیٹ پے لنڈ سے

سیدھا نیچے کی طرف گرتی ہے l


مایا خود ہی ہانتھ آگے بڑھاتے ہوے مانس کے juicy لنڈ سے ویریہ کی آخری بوند نچوڑتی ہے l مانس مایا کے اوپر لیٹ کر اسے kiss کرتا ہے l


دونوں کے شریر اوپر سے نیچے تک مٹھ میں چپچپے سے ہو جاتے ہیں، باوجود اسکے مایا بنا کچھ کہے kiss کرتی ہوتی ہے l اور اپنے گال سے مٹھ پوچھتی ہے l تعجب کی بات تھی کی مایا جو تھوڑی دیر پہلے مٹھ کو چھونا بھی نہیں چاہتی تھی وہ اب اسی پھسلن کا مزا لے رہی تھی l


مایا - اوہ مانس صبح سے بھی زیادہ اچھے سے چودے تم i love u so much

مانس - i love you too


مانس - مایا کاکا کا رولپلے کیسا لگا l؟

مایا - (شرماتی ہوئی ) ہاں بہت اچھا l

مانس - کسکا لنڈ زیادہ اچھا تھا میرا یا کاکا کا ؟

مایا - تمہارا

مانس - سچ بولو نا l

مایا - اچھا بابا کاکا کا l

مانس - oh۔مایا مانس کا لنڈ پھر سے اٹھنے لگا تھا


مایا - (لنڈ پکڑتی ہوئی ) اب کاکا مجھے جانے دو رات میں پھر آ جانا l

مانس مسکراتا ہے l


تبھی فون کی گھنٹی بجتی ہے l

فون پے مانس کا باس تھا، کسی جرری کام کے لیے اسے آفس جانا تھا l

مانس - سوری مایا جانا ہوگا l

مانس مایا کو kiss کر bathroom کی طرف چلا جاتا ہے l

 

ایسی ہے مایا۔۔۔۔ :love۲:

 

Nasn said:

بہت ہی نمکین ٹیسٹی سٹوری ہے۔۔۔۔۔

بہو کی پانی کا ٹیسٹ بھی نمکین

ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


اگلے اپڈیٹ کا بےصبری سے انتظار ہے۔۔

Click to expand۔۔۔

بہو تو نا جانے کتنو کو اپنا بر پلائیگی l

 

مایا - اب چینج کر لوں ؟

اودے - پہنے رہو نا بیٹی پلیز l تمہے دیکھ کے بھی دل نہیں بھر رہا ہے l khaaskar تمہاری کمر سے تو نظر نہیں ہٹ رہی l

مایا کے لیے یہ کوئی آشچریہ کی بات نہیں تھی، اسکے بہت سارے male فرینڈ اسکی کمر کی تعریف کرتے تھے l یہاں تک کی مانس بھی انمے سے ایک تھا l اسے بھی کمر کا بھاگ بہت بھاتا تھا l


بھاگ ۲۳


اودے - بیٹی manas کب آ رہا ہے ؟

مایا - شائد next week تک، بتا رہے تھے کی کام بہت زیادہ ہے، سمیہ لگےگا l

اودے - ایک کام کر ساڑی میں اپنی کچھ پھوٹو le کے اسے بھی بھیج دے وہ سب کچھ بند کر دوڑا چلا آئیگا تیرے پاس l

مایا - ہاہا گڈ آئیڈیا پاپا l

(دونوں ہنسنے لگے )

اودے - جب میں کبھی کام سے باہر جاتا تھا، تو تیری ماں مجھے چٹھی لکھتی تھی اور ساتھ ہی apne کچھ پھوٹوگراپس بھیجتی تھی اور میں بھاگا چلا آتا تھا l

مایا - ریلی ؟ واؤ how رومانٹک

اودے - ہمارے jamaane میں whatsapp نہیں تھا نا بیٹی، ہوتا تو teri ماں آجکل کی لڑکیوں ko پیچھے چھوڑ دیتی l

مایا - وہ کیسے۔۔۔ ؟ میں سمجھی نہیں پاپا

اودے - ارے بیٹی کیسے بتاؤں پتی پتنی کے بیچ کی پرائیویٹ باتیں ہیں l (اودے جھوٹھی کہانیاں بنا رہا تھا )

مایا - اوہ

مایا کو لگا ki کوئی ایسی بات ہوگی جو شائد اسے نہیں پوچھنا چاہئے تو chup رہی، مگر دل ہی دل میں وہ سننا بھی چاہتی تھی l اودے بھی چاہتا تھا کی مایا پوچھے مگر جب مایا نے صرف hmm کیا تو اسنے ایک اور بات بولی l

اودے - but تو تو اب جوان ہو گئی ہے شادی شدہ ہے سب سمجھتی ہے l

مایا - تو پھر بتائیے نا l

(اودے یہی چاہتا تھا کی مایا پوچھے، اسکی chaal کامیاب ہو گئی تھی )

اودے - اوکے بیٹی لیکن تو کبھی یہ بات اپنی ماں کو تو نہیں بتائیگی ؟

(اودے کو ڈر تھا کی کہیں اسکی جھوٹھی کہانی نا پکڑی جائے )

مایا - نہیں بولونگی پاپا بتاؤ نا l

اودے - اچھا رک تو میں پشاب کر کے آتا ہوں l پھر بیڈ پے لیٹ کے آرام سے بتاتا ہوں l

مایا حامی بھر پاپا کا ویٹ کرنے لگتی ہے l

کچھ دیر بعد۔۔ اودے نے مایا کو کال کیا l


اودے - ہاں ہو گیا بیٹی، بستر پے آ گیا l تو کہاں ہے ؟

مایا - میں بھی بیڈ پے ہوں l

میںنے سوچا پوری کہانی ٹائپ کیسے کروں تو کال کر لیا تجھے۔۔۔

مایا - ہاں ٹھیک کیا پاپا l

اسکے بعد پاپا نے جو پوچھا وہ سنکر مایا چونک گئی l

اودے - بیٹی تجھے پشاب نہیں لگی ؟ کر کے آ جا تو بھی، کافی دیر سے بات کر رہے ہیں ہم l

(سوال اٹپٹا تھا لیکن مایا سوچی اتنے دنوں سے بات kar رہے ہیں دونوں to اتنا کھلنا تو بنتا ہے ویسے بھی یہ تو پراکرتک کریا ہے۔۔ تو its normal )

مایا - (شرماتے ہوے۔۔ ) نہیں پاپا میں ٹھیک ہوں l

اودے - ok

اودے - تو بیٹی بات اس سمیہ کی hai جب میں کچھ week کے لیا کولکاتہ گیا تھا l تو تو پیدا بھی نہیں ہوئی تھی l

مایا - (دھیان لگا کے سنتی ہوئی ) اوکے

اودے - ایک دن تیری ماں کو شرارت سوجھی، اس وقت ghar پے کیمرا تھا مگر اسے تیری ماں کو chalaane نہیں آتا تھا l

تو وہ پاس ke ایک سٹوڈیو گئی، اسنے ساڑی میں کچھ پکس کھچوایے سٹوڈیو میں cemera والا کچھ ۱۹-۲۰ سال کا لڑکا تھا l تیری ماں نے اسسے کہا کی اسے کچھ گندی پھوٹو کھچوانی ہے کیا وہ کھیچیگا ؟

مایا - گندی مطلب۔۔کیا پاپا ؟۔۔۔ ننگی تصویریں ؟

اودے - ہاں

مایا چونک سی گئی۔۔۔

مایا - اوہ مائے گاڈ ممی۔۔۔

اودے - ہاں beti، اور بھلا کون مرد اورت کی ننگی تصویر کھینچنے سے مانا کریگا l

مایا - ہاہا

اودے - تب تیری ماں نے بلاءوز کے بٹن کھول اپنے دونوں ننگے دودھ باہر کیے اور اس لڑکے نے پھوٹو کھینچا l


مایا پاپا کے مہں سے ننگے دودھ جیسے گندے ورڈ سنکر کچھ بھی کہہ نہیں پائی l وہ چپ تھی l

مایا کو تو یقین ہے nahi ہو رہا تھا l

مایا - باپ رے، اور انہوںنے آپکو تصویر پوسٹ کی l

اودے - ہاں بیٹی، تصویر دیکھتے ہے میںنے تو دوسرے ہے دن واپسی کی ٹرین پکڑ لی l ہاہا lll

مایا بھی ہنسنے لگی۔۔۔

مایا - بہت شرارتی تھی ممی۔۔ مائے گاڈ لیکن آپکا next ڈے ٹرین پکڑنا اس سو رومانٹک l

اودے - تھینک یو بیٹی، اس جمانے میں whatsup ہوتا تو تیری ماں نا جانے kya کیا کرتی l

اودے - ویسے تونے بھی کیا ہی ہوگا l

(مایا شرما گئی )

اودے - (موقعے کا فائدہ اٹھاتے ہوے۔۔۔ ) ہے نا بیٹی ؟ تیری چپی یہ بتا رہی ہے کی تونے بھی کیا ہے l سبھی ہسبینڈ وائف کرتے ہیں l کی ہو نا؟

مایا (دھیرے سے ) - ہاں

اودے - واؤ کیا کی تھی بتاؤ۔۔ (اودے کی جھوٹھی کہانی رنگ لایی وہ اتیجنا میں لنڈ سہلاتا ہے )

مایا - نہیں

اودے - بتاؤ نا پلیز۔۔ میںنے بھی تو بتایا نا ؟

مایا - hmm

مایا - Ok۔۔۔آپ daantoge تو نہیں l

اودے - نہیں بیٹی پتی کے ساتھ شرارت کرنا تو پتنی کا حق ہوتا ہے، بھلا میں کیوں daatunga۔۔

مایا - ہاں مگر یہ بات مانس کے پتی بنانے سے پہلے کی ہے l

اودے - ( excited ہوتے ہوے ) اوہ batao۔۔

مایا - ہماری انگیجمینٹ ہو گئی تھی، ہم فون پے باتیں کرتے تھے l ایک بار گھر پے بہت بھیڑ ہو گئی تھی، ماما جی کا پریوار آیا تھا l

اودے - ہاں یاد ہے مجھے

مایا - تو میں ان دنوں چھت پے چلی جاتی اور باتیں کرتی l

ایک دن مانس ضد کرنے لگےآل

اودے - کیسی ضد بیٹی ؟

مایا (شرماتے ہوے۔۔۔ ) - وہی آ اوپر۔۔ آ اوپر کا دیکھنے کے لیے

اودے - اوپر کیا beti۔۔۔ تیری دودھو ؟

(مایا کو پاپا کے مہں سے اپنے لیے دودھو ورڈ سن عجیب سا ہوا۔۔ اودے نے بھی جانبوجھ کر تیری دودھو بولا تھا )

مایا بس حمم کر کے رہ گئی، اور کرتی بھی کیا ؟

اودے - بہت بدمعاش تھا مانس بیٹا۔۔۔ پھر کیا ہوا بیٹی ؟

مایا - میں مانس کو بہت مانا کی مگر وہ نہیں مانے آخرکار میں چھت پے ایک کونے میں گئی اور پھوٹو کھینچ کے بھیج دی l (مایا جلدی سے بول گئی )

اودے - مطلب تم چھت پے ننگی ہوئی تھی l

(اودے۔۔ جانبوجھ کر انجان بنتے ہوے اور مایا سے ہر باریکی اگلوانے کے لیے بولا )

مایا - چھی نہیں نہیں۔۔ پاپا l

اودے - تو کیسے بتا نا۔۔۔

(ادھر اودے کھڑے لنڈ کا سکن کھول اسے اوپر نیچے کر رہا تھا )


۰۳۱۱۲۹۹


مایا - میں سائڈ میں بیٹھ گئی اور ٹاپ کے اندر ہاتھ پیچھے لے جاکر برا کا ہک کھول دی، بنا ٹاپ اتارے l

(مایا ایسے بتا رہی تھی جیسے اسکے پاپا کوئی نوسکھیا ہو، مگر اودے نے تو جانبوجھ کر پوچھا تھا تاکہ وہ بیٹی کی چوچی دکھانے کے واکیے کو امیجن کر لنڈ ہلایے )

اودے - پھر کیا کی بیٹی ؟ آہ۔۔

مایا - پھر آس پاس دیکھی کوئی نہیں تھا تو کیمرا on کر دھیرے سے ٹاپ اٹھائی

اودے - ٹاپ کے ساتھ ساتھ برا بھی اٹھائی ہوگی نا l

مایا - ہاں پاپا l

اودے - اوہ پھر تو تمہارے دونوں گول بوب باہر آ گئے ہوںگے l سسس۔۔۔

(مایا شرم سے جھینپ گئی )

مایا - دونوں نہیں پاپا ایک باہر کرکے کچھ پکس لے کر بھیج دی l

(مایا nadaani میں ہی صحیح لیکن اس وقت وہ اودے کے لنڈ کا تناؤ lagataar بڑھا رہی تھی )


images-۳۸


مایا شادی سے پہلے مانس کو اپنا بوب درشن کراتی ہوئی


اودے - wow شادی سے پہلے ہے مزا دے دیا ہوگا تمنے مانس کو l میں کہاں تھا اس وقت ؟

مایا - آپ نیچے روم میں ماما جی سے باتیں kar رہے تھے l

اودے - اوہ۔۔ اور میری بیٹی اسی گھر میں چھت پے بیٹھی ایک مرد کو اپنے گول ننگے بوبس دکھا رہی تھی l۔۔ وہ بھی شادی سے پہلے l

مایا - سوری پاپا۔۔ مانس بالکل سن نہیں رہی تھے میری کوئی بات l

اودے - چلو کوئی بات نہیں۔۔ بیٹی اب وہ تیرا پتی ہے l مانس کی تو لاٹری لگ گئی ہوگی تمہارا وہ دیکھ کے۔۔ کیا بولا اسنے l

مایا شرم سے پانی پانی ہوے جا رہی تھی۔۔۔

مایا - تعریف کر رہے تھے l

اودے - کیا بول رہا تھا۔۔ وہ بتاؤ۔۔

مایا - اوہ پاپا۔۔۔ وہ سب نہیں بتا سکتی۔۔ نا۔۔

اودے - کیوں بیٹی۔۔ اچھا سمجھا۔۔

(اودے ہنس دیا )

مایا - کیا۔۔۔ ؟ ہنس کیوں رہے ہو پاپا۔۔ ؟

اودے - کچھ نہیں بیٹی۔۔ دماغ میں ایک بات آ گئی تھی l

مایا - (اتسکتا سے ) کیا۔۔ ؟

اودے - نہیں بول سکتا beti۔۔۔

مایا کی اتسکتا اور بڑھ گئی۔۔ بولیے نا پاپا۔۔۔

اودے - ایک shart پے tum بھی بتاؤگی کی مانس تمہارے بوبس دیکھ کے کیا بولا

مایا - نہیں پاپا۔۔۔ وہ بہت بیشرم ہیں، میں وہ چیز نہیں بول سکتی

اودے - تو پھر رہنے دو بیٹی میں بھی نہیں بتاتا l ڈینر کیا کیا آج تمنے ؟

( اودے بھلی بھانتی جانتا تھا کی مایا کی اتسکتا badhegi اسلئے وہ باتچیت چینج کرنے کے لیے دوسرا سوال پوچھا تھا )

مایا اتاولی تھی l

مایا - پاپا وہ چھوڑو، بولو نا کیا سوچ رہے تھے آپ l

اودے - اوکے تو۔۔ تم بھی بتاؤگی ہے نا ؟

(مایا نے بنا سوچے ہاں کہہ دیا l)

مایا - ہاں بتا doongi۔۔۔ اب بولو نا

اودے - پرامس ؟؟

مایا - ہاں

اودے - برا تو نہیں manogi ؟

مایا - نہیں پاپا

اودے - اوکے میں اس وقت سوچ رہا تھا بیٹی کی۔۔ کی۔۔ شادی سے پہلے مانس اتنا betaab تھا تمہارا وہ دیکھنے کے لیے، تب تو utne بڑے بھی نہیں تھے تمہارے l اب شادی کے بعد تمہارا کافی بڑا اور سوڈول بھی ہو گیا، ایسے میں مانس ابھی تمہارے دودھ کو ننگے دیکھ لے تو وہ سارے کام چھوڑ آ جائیگا l

مایا پوری طرح شرمشار ہو گئی۔۔۔۔ خود اسکے پاپا اسکے بوبس کی سائز کے بات کر رہے تھے وہ وہ بھی بنا کسی jhjjhak کے l

مایا - پاپا۔۔۔ ( وہ آگے کچھ نہیں بول پائی )

اودے - اب تم bato بیٹی۔۔۔ کیا بولا مانس جب پہلی بار تمہارا دودھ دیکھا۔۔ l

(مایا بری طرح اپنی ہے باتوں میں پھنس سی ہے گئی تھی )

اودے - بولو بیٹی۔۔ l

مایا - وہ تعریف کیے اور بولے کی میرا وہ بہت گورا ہے l

اودے - وہ تو سچ ہی ہوگا بیٹی، تیرا رنگ دودھ کی طرح گورا اور تیرا بدن ملائی کی طرح ملایم معلوم ہوتی ہے l

مایا - امم

اودے - اور کیا کیا بولا مانس ؟

مایا - پاپا پلیز۔۔ میں نہیں بول سکتی l

اودے - تونے پرامس کیا تھا بیٹی، ٹھیک ہے اگر تو پرامس tod رہی ہے تو میں کیا بولوں l

(مایا پریشان ہو گئی )

مایا - پاپا ایسے نہیں hai۔۔ میں کیسے بتاؤں آپکو l

اودے - ٹھیک ہے چھوڑو بیٹی ۔۔۔ مت بتاؤ نا

مایا - پاپا پلیز آپ سمجھ نہیں رہے، میں آپسے وہ بات نہیں بول سکتی l

اودے - its ok بیٹی، میں کچھ نہیں کہہ رہا۔۔۔ پرامس ہی تو ہے l

مایا - پاپا۔۔۔

مایا - ok وہ بولے کی میرا وہ دیکھ کر انکو منہ میں لےنے کا من ہو رہا ہے l

(مایا شرماتے ہوے آخرکار بول گئی )

اودے نے بڑے صاف shabdon میں سنا تھا پھر بھی جیسے وہ دوبارا مایا کے مہں سے سننا چاہتا ہو l

اودے - کیا بیٹی کیا بولا مانس نے sorry۔۔۔ network خراب تھی آواز نہیں آ رہی تھی۔۔

مایا - (دہراتی ہوئی ) مانس بول رہے تھے کی میرے دونوں بوبس کو وہ اپنے مہں میں لےنا چاہتے ہیں l

(اودے جب خود اپنی بیٹی کے مہں سے بوبس والی بات جیسے اودے کے لنڈ نے سن li ہو۔۔۔۔، اسکا لنڈ پھچ پھچ کرتا اسکی مٹھی میں پانی چھوڑ دیا l

اودے بھی پیچھے ہٹنے والا نہیں تھا، وہ بھی چپچپے لنڈ کو رگڑتے bolta رہا )


images-۳۹


اودے - آہہ۔۔۔۔ ہاں بیٹی۔۔۔۔۔ بھلا مانس کی اسمیں کیا غلطی l تیری بوبس بھی تو lajawaab hai، اسکی تو گولائی دیکھکر لڑکے مچل جاتے ہوںگے l sssss aaaaah اور ایسے میں کوئی Khuskismat مرد تیری بوبس کو پورا ننگا دیکھ لے تو اسکی raaton کی نیند udd جائے l وہ تو دن رات تیرے بوبس کو منہ میں لے ke چوسنے کی khwahish رکھیگا l


(اودے bolta ہی جا رہا تھا، وہ ye ساری باتیں لنڈ سے پانی jhaadte ہوے بول رہا تھا l اودے آج بنا earphone کے بات کر رہا تھا تو مایا کو بالکل ہی پتا نہیں چلا کی پاپا اسسے باتیں کر لنڈ کا پانی گرا رہے ہیں l اپنی بوب کی خوبصورتی والی بات سے وہ بیحد خوش تو تھی، ساتھ ہے حیران بھی کی اسکے پاپا اسکے بوبس کو دیکھتے ہیں l)

 

میںنے تو چتیاپا کہنے پے جواب دیا l بیشک critics اچھا ہوتا hai، میںنے کئی ریڈر کے critics کا پہلے بھی سمان کیا ہے لیکن critics کا chutiyape کا نہیں l

ریڈر بیشک سوال کرے۔۔۔

لیکن آپ پیار سے softly سوال کریںگے تو پیار سے softly جواب ملےگا l


آپ ہی بتاؤ ریڈر میرے پوسٹ کو chuttiyapa بولے تو پھر بھی آپ کہتے ہو ریڈر صرف سوال کر رہا ہے l


میںنے سمجھداری اور گیانی جیسا word use کیا تو آپ اسے جواب نہیں mera attitude بولتے ہو l


آپ مجھے بول رہے ہو کی softly جواب دو۔۔ آپنے ریڈر کو بولا کی softly سوال کرو ؟

 

Alok said:

Super hot ؟؟؟؟

Click to expand۔۔۔

Thank you

 

Sexy launda said:

Bhai story me manas ka kuch role hai ya nhi،ya sirf wo side character hai

Click to expand۔۔۔

مانس نے چدائی کر دی نا پہلے کے episode mein۔۔

 

sharaabi said:

Bhai ye table wala part to full khara kardiya mera

Click to expand۔۔۔

Thank you bhai۔۔۔ امید ہے مایا آپکا مٹھ نکالنے میں کامیاب رہی

 

Morningstar۱۷۳ said:

؟؟؟

Click to expand۔۔۔

:thanks:

 

اودے اتنا سبکچھ کہہ گیا تھا، مایا کچھ نہیں بولی۔۔ اتنی دیر بعد بھی اسکے مہں سے صرف ایک بات نکلی

مایا - امم پاپاآاا۔۔۔۔ I miss you۔۔۔

اودے لنڈ کو رگڑتے ہوے یہ سمجھ چوکا تھا کی اسکی بیٹی مایا اب گرم ہو چکی ہے l


بھاگ ۲۵


اودے پاس میں پڑے earphone کو اٹھا کر موبائل میں لگا لیتا ہے تاکہ اسکے دونوں ہاتھ free ہو l

اودے - I miss you too بیٹی۔۔۔ آاہہ

(اودے کی اتیجنا ایک بار پھر بڑھنے لگتی ہے وہ دھیرے دھیرے اپنا لنڈ رگڑنے لگتا ہے )

اودے - آہ کاش بیٹی تو اس وقت میرے پاس ہوتی۔۔ سسسسس اعہہ

تو تجھے بتاتا میں تمہے کتنا مس کر رہا ہوں l

مایا بھی جیسے اس وقت آلنگنبدھ ہونا چاہتی تھی l


مایا - ہلکا معن کرتے ہوے۔۔۔ آہ پاپا۔۔۔ کیا کر رہے ہو آپ ابھی ؟

اودے - ایک تکیے کو کس کے دبا رہا ہوں بیٹی، تمہے سمجھکر l

مایا - آہ پاپا۔۔ میری جان نکلوگے کیا ؟ اتنا کس کے کیوں پکڑے ho مجھے امم ؟

اودے - ہاہا۔۔نہیں بیٹی تمہے پیار سے بانہوں میں لیا ہوں، اور تیرے اوپر ہوں l میرا وزن زیادہ تو نہیں ہے نا بیٹی ؟

مایا - تھوڑا ہے پاپا۔۔۔

اودے - تو tu آجا میرے اوپر l آ۔۔۔نا۔۔۔

مایا - امم اچھا جی۔۔۔۔ لو آا گئی پاپا آپکے اوپر l

اودے - سسسسس اعہہ بیٹی۔۔ مکھن سا بدن ہے تمہارا۔۔۔ تمہاری پیٹھ کتنی ملایم ہے ll اعہہ

(موقا دیکھتے he اودے نے گوگل سے ایک gif pic بھیج دی )


۶BTZG۷

مایا - امم

اودے - pic کیسا hai۔۔۔؟

مایا - اچھا۔۔

اودے - بیٹی تونے جو ابھی بلاءوز پہن رکھی ہے اسمے ایسی ڈوری ہے کیا؟

مایا - نہیں پاپا۔۔۔ کیوں ؟

اودے - یوںہی پوچھا مجھے ڈوری والی بلاءوز بہت پسند ہے l

مایا - اوکے

اودے - بیٹی ابھی جیسی بلاءوز ہے اسکی پھوٹو بھیجو نا، مجھے دیکھنا ہے l

مایا تھوڑی سوچتے ہوے۔۔ بلاءوز میں ایک سیلفی لی اور بھیج دی l


images-۳۶


اودے - آہحہ آہحہ بیٹی کتنا اچھا بلاءوز ہے اسمیں تو تمہارے اور بھی بڑے دکھ رہے ہیں l جی کرتا ہے تجھے کس کے گلے لگا لوں l

مایا - امم پاپا تو لگا لو نا۔۔۔ کسنے roka ہے l


اودے - ummmm۔۔۔۔ لو تمہے اپنی بانہوں میں بھر لیا بیٹی l

بالکل ایسے۔۔۔۔

اودے مایا کی رضامندی دیکھ اسے ہاٹ pics بھیجتا ہے l


BppQjd

۳k۱HX۹


مایا - امم پاپا۔۔۔

اودے - کیسا لگ رہا ہے تجھے بیٹی

مایا - اچھا لگ رہا ہے پاپا۔۔

اودے - جی کرتا ہے بیٹی، تجھے آج رات بھر پیار کروں میں سسسسسس۔۔۔ اعہہ

(اودے بات کرتے ہوے لنڈ کو چپ چپ مٹھ مارنے لگتا ہے )

مایا - سچ پاپا ؟

اودے - ہاں بیٹی۔۔۔ تو بھی اپنے پاپا کو پیار کریگی نا ؟

مایا - ہاں کرونگی papaaaa

اودے - کیسے کریگی l

مایا - آپسے لپٹ کر آپکو کس کر

اودے - بس اتنا ہی l اتنا پیار تو تو ہمیشہ کرتی ہے l

مایا - تو پھر میں کیا کروں ؟

اودے - کچھ سپیشل کرو نا بیٹی۔۔۔

(اس بیچ اودے نے ایک اور تصویر بھیجی جسسے مایا دیکھ کر وچلت ہو گئی l مایا سارے اشارے بھلیبھانتی سمجھ رہی تھی، پھر بھی انجان سی پرتیت ہوتی l شائد rishte کی ڈور اسے روک رہی تھی، لیکن دھیرے دھیرے اسکا بھی صبر ٹوٹ رہا تھا، اسکی چوت سے گرم بھاپ دھدھک رہی تھی، جسے وہ پینٹی کے اوپر سے اپنی ہتھیلی پے محسوس کر رہی تھی )


Limited-Illfated-Barebirdbat-size-restricted


جس پرکار gif image میں لڑکی کی چوچی کو سہلایا جا رہا تھا، ویسے ہی مایا بھی اپنے اروجوں کو کسی مرد کے ہاتھ میں دینا چاہتی تھی l


اودے - کیا کر رہی ہو بیٹی ؟

مایا - آپکی بھیجی ہوئی pic دیکھ رہی ہوں l

اودے - ااہہہہ مانس بھی تجھے ایسے ہی پریشان کرتا ہوگا ہے نا ؟

مایا - جی

اودے - اب اسے پریشان کرنے کی باری تیری ہے بیٹی، تونے pics بھیجی اسے ؟

مایا - نہیں پاپا ابھی نہیں

اودے - تو کھینچ نا ابھی بلاءوز اتار دو بیٹی l

مایا پاپا کی بات مان دھیرے سے بلاءوز kholi، بنا برا کے اسکے دونوں بوب بلاءوز کھلتے ہے باہر آ گئے l

مایا نے کچھ پکس کھینچے، سیلفی میں اپنے بھرے بوب دیکھکر وہ خود بھی لجا گئی l

اودے - کھینچ لی پھوٹو بیٹی ؟

مایا - جی پاپا۔۔

اودے - wow۔۔۔ دیکھنا تیری ننگی بوب دیکھ کیسے مچل جائیگا مانس l

مایا - ummm

اودے - بہت گوری ہوگی نا تم بلاءوز کے اندر ؟

مایا - جی پاپا l

اودے - ذرا مجھے بھی ایک pic بھیج دے بنا بلاءوز کے l مانس کو جیسا بھیجی ہے ویسا نہیں تو کم سے کم مجھے اپنا گوراپن ہی دکھا دو l

میں بھی تو دیکھوں میری بیٹی کتنی گوری ہے l

مایا - پاپا۔۔۔ اتنی بھی گوری نہیں ہوں l اور کمرے میں لائٹ کم ہے l

اودے - ارے دکھا تو۔۔۔ تو تو اتنی گوری ہے کی اندھیرے کمرے میں بھی اجیارا لا دے l

مایا - اچھا رکو۔۔ بھیجتی ہوں

(مایا نے اپنے ہاتھوں سے اپنا ننگاپن چھپاتے ہوے ایک سیلفی لی اور پاپا کو بھیج دی )

images-۳۶

(ادھر اودے نے یہ نہیں سوچا تھا کی مایا اتنی آسانی سے مان جائیگی، وہ پھوٹو کے انتظار میں لنڈ رگڑتا رہا، جیسے ہے مایا کی پھوٹو آئی وہ دیکھتے ہی اتیجنا سے بھر گیا، پہلے تو اسنے موبائل میں مایا کے پھوٹو پے اپنا کھڑا لنڈ رگڑا۔۔ جیسے مایا کو لنڈ پیلا رہا ہو پھر بولا۔۔ )


اودے - ااہہہ مایا۔۔۔ سسس کیا لگ رہی ہو۔۔۔ ننگی اپسرا۔۔۔ بانہوں میں آ جاؤ۔۔۔۔ آاہہہ مایاآا میری بیٹی۔۔۔ سسسسسس aaaaahhhh

(اودے کھل کر لمبی لمبی سسکاریاں بھرتا رہا، جیسے اسے کوئی فرق نہیں پڑتا ہو اگر مایا کو پتا لگے کی وہ اسے دیکھکر مٹھ مار رہا ہے l مایا بھی سمجھ چکی تھی، لیکن اسے کوئی اعتراض نہو تھا l وہ تو خود ساڑی اٹھایے پینٹی کے اوپر سے اپنی گرم چوت کو دبا رہی تھی l مایا بھی پاپا کا ساتھ دینے کی سوچی۔۔۔ )


مایا - اعہہ پاپا۔۔ آپکی بانہوں میں ہی تو ہوں l

اودے - آاہہہ (اودے نے گوگل سے ہاٹ gif بھیج دیا )


۵hHr۱k


مایا بھی کہاں پیچھے ہٹنے والی تھی l

مایا - اوہ پاپا۔۔۔ اس pic میں تو آپکی بیٹی نے برا پہن رکھی ہے l

(مایا نے جانبوجھ کر pic میں دکھ رہی لڑکی کو بیٹی کہہ کر سمبودھت کیا تھا، اودے بھی مایا کے اشارے کو سمجھ گیا اور اسنے اگلے جو کچھ gif بھیجی اسے دیکھکر تو مایا کا بر پچپچا گیا l)


۲۷۷۸۵۷۹۲


۰fcef۹abfcb۳c۰a۲۳۰c۲ce۶۴۸۷fc۳a۹۳


مایا - آاہہہ پاآپاا۔۔

اودے - کیا ہوا بیٹی۔۔۔

مایا - یہ کیا hai پاپا۔۔۔

اودے - oh بیٹی میں تو تجھے پیار کر رہا ہوں l کاش تو میرے پاس ہوتی تو تجھے ایسے ہے پیار کرتا۔۔۔۔

مایا - پاپا۔۔۔۔۔

اودے - بیٹی ایک بار ہاتھ ہٹا کے پھوٹو بھیج دے پلیز۔۔۔ ۔۔ بہت من ہو رہا hai تجھے دیکھنے کا

مایا مچل رہی تھی l

مایا - پاپا۔۔۔۔ no۔۔۔۔

اودے - پلیز بیٹی۔۔۔ بس ایک بار پلیز۔۔۔ تھوڑا سا ہاتھ ہٹا دے l

مایا - پاپا۔۔۔

اودے - پلیز بیٹی بس ایک بار

مایا - اوہ

مایا - ٹھیک ہے l

مایا اپنی ننگی بوب کا پھوٹو لی، اسکا دل زوروں سے دھڑک رہا تھا l پھر اسنے ٹھنڈی سانس لیتے پھوٹو بھیج دیا l


IMG-۲۰۲۰۰۸۲۷-۲۳۲۵۳۳


اودے کو تو اپنی قسمت پے یقین ہی نہیں ہو رہا تھا، اسکی بیٹی نے اسے اپنی ننگی پھوٹو بھیج دی تھی l


اودے - اعہہج بیٹی کیا بوب ہیں تیرے آاہہ ssssss۔۔۔۔

اودے بےشرمی سے معن کرنے لگا

اودے - جی کرتا ہے انہے مہں میں لے لوں l

مایا - پاپا۔۔۔ کیا ہو گیا آپکو

اودے - مت روکو مجھے بیٹی۔۔۔ ااہہہ پینے دو تیری چوچی l

(اودے اب کھل کے بول رہا تھا )

مایا - پاپا پلیز۔۔۔۔ گندے ہو آپ۔۔۔۔۔

ابھی کیا کر رہے ہو ؟

(مایا جانتے ہوے بھی پاپا کے مہں سے سننا چاہتی تھی، اور ہوا بھی ایسا ہے )

اودے - تیری گول بوبس دیکھتے ہوے ہلا رہا ہوں l

مایا کو بھی مزا آ رہا تھا،،،،،

مایا - کیا ہلا رہے ہو پاپا۔۔۔؟

اودے دھیمے آواز میں بولا۔۔۔

اودے - اپنا لنڈ۔۔۔۔

مایا - امم پاپا کیوں ؟؟

اودے - تیری ننگی پھوٹو نے میرا لنڈ کھڑا کر دیا ہے l

مایا - سچ پاپا ؟؟۔

اودے - ہاں بیٹی۔۔ dekhogi ؟

مایا - نو نو

اودے - دیکھ لو بیٹی بھیج رہا ہوں l دیکھو تیری چوچی نے میرے لنڈ پے کیا اثر ڈالا ہے

اودے نے اپنے لنڈ کو رگڑتے ہوے ایک چھوٹا ویڈیو بناکر بھیج دیا۔۔۔ جیون میں پہلی بار مایا خود اپنے پاپا کا کھلا لنڈ دیکھ رہی تھی l مٹھ میں چچپایا کھڑا لنڈ دیکھ وہ بھی مچلنے لگی l جیسے جیسے اسکے پاپا لنڈ اوپر نیچے سہلا رہے تھے ویسے hi لنڈ پھپھکار مار رہا تھا l لنڈ سے نکلتا precum مایا کو تڑپانے کے لیے کافی تھا l وہ hamesha،سے جوسی لنڈ دیکھنا پسند کرتی تھی l پاپا کے لنڈ سے اسکی نظر مانوں ہٹ ہی نہیں رہی تھی l


۶۹۹۱۴۶۸


مایا - او مائے گاڈ۔۔۔ پاپا۔۔۔۔

اتنا bada۔۔۔۔آپ تو بہت موڈ میں ہیں اور آپکا جوس بہہ رہا ہے l

اودے - یہ تو precum ہے بیٹی l جوس تو تب بہیگا جب تو اسے اپنے نرم ہاتھوں میں legi l

مایا - امم

مایا باتوں باتوں میں پینٹی کے اندر ہاتھ ڈال اپنی ننگی بر کو مثل رہی تھی l پاپا کے مٹھ مارنے کا ویڈیو وہ بار بار دیکھ رہی تھی l

اودے - لو ن بیٹی پلیز۔۔

مایا - پاپا۔۔۔ یہ غلط ہے

اودے - کچھ بھی غلط نہیں ہے بیٹی، مجھے پتا ہے تیری بھی بر چپچپا رہی ہے l

مایا - چھی پاپا ایسا مت کہو l

اودے - آ بیٹی تیری چپچپی گرم بر چاٹ لوں l

مایا - پاپا پلیز رک جاؤ۔۔۔

اودے - (اودے بولتا چلا گیا ) تیری بر کو تبتک چاٹتا رہونگا جبتک کی تو میرے مہں میں اپنا پانی نہیں چھوڑ دیتی l

مایا اتیجنا میں اپنے آپ ہوا میں کمر لہرانے لگی۔۔۔

مایا - ااہہہ پاپا nooooo۔۔۔۔

ٹھیک ہے میں آپکا لنڈ پکڑ لیتی ہوں آپ پلیز بولنا بند کریے l

مایا - لو پاپا پکڑ لی آپکا لنڈ اب گرا بھی دو اپنا ویریہ ummmmmm

مایا ایک pic بھیجی جسمے وہ پاپا ka لنڈ کو سہلا رہی تھی l


tumblr-ff۸۵a۵۲c۳af۲۴a۵۸۴۸bf۵۹۵۶۷۰۹۴۶fe۲-۲۹۴e۲۶۴۷-۵۰۰

 

سمیہ بیتتا جا رہا تھا، آخرکار بہو اور منیش بیڈروم میں جا چکے تھے l مہیندر کی باقی امید بھی ٹوٹ گئی l وہ نراش من سے اپنے کمرے میں آ گیا l


بھاگ ۶


کمرے میں پہنچکر مہیندر نے کپڑے چینج کیے ایک بنیان اور پایجاما پہن لیا l بستر پے لیٹنے کے بعد مہیندر کی نیند جیسے کوسوں دور تھی، لنڈ میں رہ رہ کر ہلکی ہلکی تناؤ آتی رہتی l بیچین سا وہ کروٹیں بدلتا رہا، پھر کچھ سوچ کر موبائل لے لیٹ گیا l وہ گوگل پے ایکٹریس کی سیکسی پکس سرچ کیا، پہلے پیج پے ایلیانا ڈکروجا کی پھوٹو آتے ہی وہ مچل سا گیا، ایک ایک کر ساری ایکٹریس کی ہاٹ پکس دیکھتا پھر کبھی دیسی ہاٹ گرلس، کبھی انڈین گرلس گانڈ سرچ کر ساری پھوٹوج دیکھنے لگا l مہیندر کے پرے شریر mein آج بیچینی تھی، آج اسے لڑکیوں کی گانڈ کی پکس بہت پسند آ رہی تھی l


images-۴۳

(مہیندر internet پے دیسی لڑکیوں کی بڑی گانڈ والی pic دیکھتے ہوے )



ننگی لڑکیوں کو گھورتے ہوے اپنا ایک ہاتھ پایجاما میں ڈال لیا اور لنڈ کو دھیرے دھیرے سہلانے لگا l مہیندر نے پھر سرچ کیا اور اس بار لکھا ننگی بہو، اسے technology پے غصہ آ رہا تھا، وہ سوچ رہا تھا برسوں ہو گئے مگر آوشکار ابھی بھی کتنا پیچھے ہے l وہ سوچ رہا رہا kaash ایسا ہوتا کی وہ گوگل پے ننگی بہو لکھتا اور مایا کی ننگی تصویر آ جاتی l


آخرکار اسنے ہندی پورن کھوجا اور دیکھنے لگا، پورن میں ادھیڑ عمر کا آدمی ایک جوان لڑکی کو صوفے پے لٹایے کس کر رہا تھا اور لڑکی اسکا لنڈ سہلا رہی تھی l پھر وہ آدمی اسکی چوت میں اونگلی کرتا ہے مہیندر موبائل بند کر سائڈ میں رکھتا ہے اسے آج پورن میں بھی مزا نہیں آ رہا تھا l


وہ بستر پے پڑی چادر کھینچتا ہے اپنے کو ڈھکتا ہے اور پایجاما کی ڈوری کھینچ اسے انڈرویئر سہت گھٹنو کے نیچے کر دیتا ہے l

پرے لنڈ کو رگڑتے ہوے وہ آنکھیں بند کیے سوچتا ہے جیسے وہ خود مووی جیسے ہی لڑکی کی پیٹھ چومتا ہوا گانڈ تک جا رہا ہو l لیگگنگ میں ایکٹریس کی گانڈ پے منہ رگڑتا ہے اور نیچے کرتا ہے، لڑکی سامنے گھوم جاتی ہے ددھیا بھری جانگھ اور کسی جانگھ کے اوپر پینٹی l وہ پینٹی سرکا لڑکی کی پھولی ہوئی بر چومتا ہے، لڑکی آہ آہ مہیندر کرتی ہے، ادھر مہیندر سوچ میں ڈوبا چادر کے اندر تیج تیج مٹھ مارنے لگا تھا l پورا بستر ہلنے لگا تھا، مووی والی ایکٹریس مہیندر کو بر چٹا رہی thi l تبھی مہیندر کی کالپنک لڑکی بولی اوہہ بابوجی۔۔۔۔ l مہیندر نے آنکھ کھول دی l ہانتھ بھی رک گیا l لیکن مہیندر رکنا نہیں چاہتا تھا اب بہت دیر ہو گئی تھی l مہیندر نے دوبارا آنکھ بند کری، اور اس بار وہ کالپنک لڑکی کا چہرا صاف تھا، وہ کوئی اور نہیں مہیندر کی بہو مایا تھی l


رک کیوں گئے بابوجی چاٹیے ن، مایا نے مہیندر کا سر پکڑا ٹانگ کھولی اور اپنے بر میں لگا دی l آہ بابوجی پی جائیے اپنی بہو کا بر l۔مہیندر بیتحاشہ بہو کی بر چاٹے جا رہا تھا l آہ بابوجی مانس کے آفس جانے کے بعد میں روز آپکو ایسے ہی بر پلاؤنگی l مہیندر اب چرم سیما پے تھا اسکا لنڈ الٹیاں کرنے لگا l آہ bahu۔۔۔آہ آنکھے بند کیے وہ دیر تک سکھلت ہوتا رہا l


پورا سنتشٹ ہونے ke بعد وہ آنکھ کھولا تو تو دیکھا مٹھ کے سیلاب میں لنڈ چپچپا رہا تھا اور اسپے پڑی چادر پوری بھیگ گئی l چادر کے اندر ویریہ کی تیج گندھ آ رہی تھی l مہیندر تھک چوکا تھا وہ انڈرویئر سے ہی اپنا ویریہ صاف کرتے ہوے پہن لیا l مہیندر کو جہاں ایک طرف اپنے کیے پے شرمندگی محسوس ہو رہی تھی وہیں چہرے پے ایک الگ سا satisfaction کا بھاو بھی تھا l اسے آزتک مٹھ مارنے میں اتنا مزا نہیں آیا جتنا کی آج l تھوڑی دیر بعد مہیندر کو نیند آ گئی l


Uncut-dick-shoots-out-thick-cum


مہیندر سنگھ اپنی بہو مایا کو سوچ کے ویریہ گراتے ہوے l

 

مہیندر کو جہاں ایک طرف اپنے کیے پے شرمندگی محسوس ہو رہی تھی وہیں چہرے پے ایک الگ سا satisfaction کا بھاو بھی تھا l اسے آزتک مٹھ مارنے میں اتنا مزا نہیں آیا جتنا کی آج l تھوڑی دیر بعد مہیندر کو نیند آ گئی l


بھاگ ۷


اگلے دن صبح مہیندر کافی دیر تک سوتا رہا l مایا جھاڑو لگا رہی تھی، اور مانس آفس کے لیے نکل چوکا تھا l

نیند کھلنے پے مہیندر سبسے پہلے پایجاما کی ڈوری باندھتا ہے جو کھلا ہی رہ گیا تھا کل رات l رات ہوی واکیے کو لے کر مہیندر بہت شرمندا تھا اسنے سپنے میں بھی نہیں سوچا تھا کی وہ کبھی اپنی بہو کے بارے میں اتنا گندا سوچیگا، خیر مہیندر باہر آیا وہ مانس کو آواز لگایا l


بہو روم میں جھاڑو لگا رہی thi، بابوجی کی آواز سن وہ باہر آئی، بابوجی اٹھ گئے آپ ؟

مایا اس وقت ایک ڈھیلے gown میں تھی اوپر سے نیچے تک dhaki ہوئی تھی l

Good morning بہو، ایک اچھی ہنسی دیتا ہوا وہ مایا کو greet کیا l

مایا - good morning بابوجی، مانس آفس نکل گئے، آپ اچھی نیند سو رہے تھے تو ڈسٹرب نہیں کی l آخر آپ گھر سے آنے کے بعد وکیل سے ملنے چلے گئے تھے din بھر آپھسیس کا چکّر کاٹتے تھک گئے ہوںگے l ہیں نا ؟


مہیندر من میں سوچتا ہے بہو اتنی اچھی ہے میرا کتنا خیال رکھتی ہے، اور ایک میں جو ایسی نیک بہو کے بارے میں گندا سوچ کے۔۔۔۔۔اپنا۔۔ چھی۔۔۔ مجھ جیسا پاپی کوئی نہیں ہوگا l یہ سب سوچ رہا تھا کی تبھی مایا نے چپی توڑی l بابوجی آپ پھریش ہو جائیے میںنے آپکی پسند کی بھنڈی بنائی ہے l


مہیندر - اوہ تھینک یو بہو، تم کتنی اچھی ہو l میں ابھی پھریش ہو لیتا ہوں l

(مہیندر واپس اپنے کمرے میں آتا ہے کپڑے لیکے وہ سیدھا باتھروم چلا جاتا ہے l ادھر مایا ناشتہ نکالتے ہوے مانس سے فون پے بات کر رہی ہوتی ہے l )


مایا - کیوں آفس میں کیوں نہیں من لگ رہا ؟

مانس - ۲ دن سے بھوکھ لگی ہے جان l

مایا - شرارت کرتے ہوے۔۔۔۔ اچھا تو بھوکھ مٹا لو l

مانس - کیسے مٹا لوں ؟

مایا - واشروم جا کے l

مانس - کیا مایا۔۔۔ tum ہو پھر بھی واشروم جاؤں l کبتک چلیگا ایسے l

مایا - کیا کر سکتے ہیں، بابوجی کو تمنے ہی تو بلایا l

مانس - ہاں مگر مجھے پتا نہیں تھا اتنی تڑپ ہوگی تمہارے پاس نا ہونے سیٹئل

مایا - تو اب ویٹ کرو انکے جانے تک l

مانس - مایا۔۔۔۔ تمہارا من کیا کہتا ہے، (مانس گرم آہیں بھرتے ہوے پوچھا )

مایا سمجھ گئی تھی کی اسکے پتی بہت پیاسے ہیں تو وہ بھی مانس کو سیکسی آواز میں بولی


مایا - تمہے ٹوٹ کے پیار کرنے کو جی کرتا ہے l

مانس - کیسے ؟؟

مایا - سارے کپڑے اتار کے tumhare سامنے پوری ننگی ہو کے l

مانس - اوہ مایا l اور کیا کروگی ؟

مایا - (ماحول کو اور گرم کرتے ہوے ) تمہارا pant کھولونگی اور بڑے پیار سے لنڈ bahafmuzha میں لے کر چوسونگی l

مانس - تم بہت چالاک ہو، فون پے سیکسی باتیں کرتی ہو اور سامنے ہونے پر لنڈ کو مہں نہیں لگاتی l

مایا - ارے نہیں بابا سچ، رات سے میں بھی بہت تڑپ رہی ہوں l

مانس - سچ مایا۔۔۔

لیکن میں کیسے وشواس کروں l

مایا - سچ۔۔۔ بہت پیاسی ہوں l

مانس - میں نہیں مانتا پروف دو l

مایا - proof ؟؟ وہ کیسے ؟

مانس - اپنی اونگلی چوت میں ڈالو اور اسکی پھوٹو بھیجو ابھی l

مایا - تمہے sach mein وشواس نہیں نا ruko۔۔۔۔ فون رکھ دیتی ہے اور مسکراتے ہوے اسے شرارت سوجھتی ہے l

وہ کچن mein چاسنی ڈھونڈتی ہے، اسمے دو اونگلی ڈال کر گیلا کرتی ہے اور اسکی پھوٹو مانس کو بھیج دیتی ہے l

مانس جب وہ pic دیکھتا ہے تو اتیجت ہو جاتا ہے، وہ ترنت مایا کو فون کرتا ہے l

مایا فون کا انتظار ہی کر رہی تھی l

مانس - اوہ مایا تم اتنی wet ہو l

مایا - ہاں my love دیکھو نا کتنی wet hu subah سے ہی l (من ہی من muskuraati ہوئی )

مانس - اوہ مایا۔۔ (مانس آفس میں اپنے کیبن میں بیٹھا لنڈ باہر نکال رگڑنے لگتا ہے، فون پے اسکی سانس تیج چلنے لگتی ہیں )

مایا سانسوں کی تیج آواز سن ستھتی کو بھامپتے ہوے پوچھتی ہے، کیا کر رہے ہو مانس ؟


مانس - اوہ مایا masturbate کر رہا ہوں، u میڈ me so crazy

مایا - چونکتے ہوے۔۔۔ اوہ مائے گاڈ آفس میں ؟؟

مانس - ہاں مایا door بند ہے کیبن کا اعہہ l

مایا - پاگل ہو تم، چاسنی اتنی اچھی لگی tumhe؟ کھلکھلاتے ہوے l

مانس - سپیڈ کم کرتے ہوے کیا مطلب ہے تمہارا l

مایا زور سے ہنس پڑی۔۔۔۔ مانس وہ میرا جوس نہیں۔۔۔ ڈبے سے نکلا چاسنی تھا جسے تم کچھ اور سمجھ رہے l اور مایا کھلکھلانے لگی l


مانس کو مایا کا یہ مذاق بالکل راس نہیں آیا، غصے سے اسکا face لال ہو گیا اسنے غصے میں فون کاٹ دیا l


مایا کی ہنسی بند پڑ گئی، وہ دوبارا فون کی لیکن مانس نے فون نہیں اٹھایا وہ کئی بار کوشش کی لیکن ہر بار مانس فون کاٹ دیتا l آخرکار مانس ne فون سوچ آف کر دیا l

مایا کسوٹ کے رہ گئی، اسے ایسا مذاق نہیں کرنا چاہئے تھا l وہ خود پے بہت شرمندا تھی l اسنے کئی بار sorry لکھا مگر کوئی فائدہ نہیں مانس تو موبائل بند کر دیا تھا l


وہ اداس سی کھڑی تھی جب مہیندر واشروم سے باہر آیا l


مہیندر - کیا ہوا بہو ؟ سب ٹھیک تو ہے l

مایا جھوٹھی ہنسی دکھاتی سب ٹھیک ہونے کا اشارہ کی، اسکا گلا بھر آیا تھا l

اداس من سے وہ ناشتہ دی l مہیندر سنگھ پیپر پڑھتے ہوے ناشتہ کیے l


پرے دن مایا مانس کو فون لگاتی رہی لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا l دیکھتے دیکھتے شام ہو گئی l

کافی دیر تک راہ دیکھنے کے بعد مانس گھر آیا l مایا مانس سے لپٹ گئی اور سوری بولی l مانس جھوٹی smile دے بیڈروم میں چلا گیا l بیڈروم سے attach واشروم میں وہ پھریش ہوا تبتک مایا ٹیبل پے کھانا saja دی l dining ٹیبل پے مانس اور مہیندر آمنے سامنے بیٹھے تھے l مہیندر کے سامنے ٹیوی تھا تو وہ بیچ بیچ میں نظریں ٹیوی پے gada دیتا جبکہ مانس کے پیچھے ٹیوی تھی اور وہ چپچاپ تھا l


مایا ٹیبل کے پاس آتی ہے، ٹیبل کافی بڑا تھا تو وہاں بہت سارے پلیٹس اور ہاٹ case رکھے تھے مہیندر اور مانس کے لیے الگ الگ l


مہیندر ڈھکن کھول کچھ curry لیتا ہے پلیٹ میں l مانس بھی ایک ہاٹ کیس کھولتا ہے curry لیتا ہے مگر دوسرا ہاٹ کیس کھولتے ہی اسے جھٹکا لگتا ہے l وہ ترنت اپنی ہتھیلی سے cover کرتا ہے اور پاپا کی طرف گھبرایے ہوے دیکھتا hai l مانس کے پاپا مہیندر singh تو ٹیوی میں busy the l


مایا وہیں کھڑی مسکرا رہی تھی l مانس واپس ڈھکن دھیرے سے کھول دیکھتا ہے تو اسمے brown کلر کی مایا کی پینٹی تھی l اور ساتھ میں ایک لیٹر l مانس ساودھانی سے لیٹر کھینچتا ہے l

تبھی مہیندر سنگھ دیکھتے ہیں۔۔۔


مہیندر سنگھ - ارے بیٹا یہ کیا تم کھانے کے ٹیبل پے بھی آفس کا کام لیے بیٹھے ہو l پہلے کھا لو l


مانس - ہاں پاپا its اوکے، wo ek client ka کچھ نوٹس تھا important main padh nahi paya۔۔ To socha dekh لوں l آپ کھائیے نا پاپا l


مہیندر - اوکے بیٹا l


لیٹر۔۔۔۔۔۔۔


My dear husband،


میں آج صبح کیے گئے مذاق کے لیے بہت شرمندا ہوں l میں آج سارا دن پریشان رہی اور dukhi بھی l غلطی میری تھی، مجھے maaf کر دو l میںنے بڑی محنت سے یہ dish خاص تمہارے لیے بنائی ہے l امید ہے تمہے پسند آئیگی l یہ پینٹی میں کل سے پہنی تھی اور ابھی ۵ min پہلے اتاری ہوں l yakeen نا ہو تو سونگھ کے دیکھ لو l اسمے میری چوت کی تیور مہک سمایی ہوگی l ہاں اور ایک بات پینٹی تمہارے سامنے ہے اور میں بھی تو تم سمجھ ہی گئے ہوگے کی میں اس وقت گاؤن کے اندر بنا پینٹی کے تمہارے سامنے کھڑی ہوں l مجھے subah کی حرکت کے لیے پلیز معاف کر دو l اگر تمنے میری پینٹی سونگھی تو میں سمجھونگی تمنے مجھے معاف کیا، اور اگر نہیں تو پینٹی نیچے پھینک دینا l مجھے تمہارا معاف نا کرنا بھی منظور ہوگا l


تمہاری مایا


اتنی pyaari letter پڑھ کے مانس کا غصہ ہی شانت ہو گیا l wo مایا سے نظریں ملایے اسکا ہاتھ pakad اپنے پاس بیٹھا لیا l اسنے ٹیبل پے پڑے fruits کی ٹوکری ہاٹ کیس کے سامنے رکھ دی l اور جھک کے ڈھکن کھولتے ہوے مایا کی پینٹی smell کیا l واقعی smell بہت strong تھی l مایا خوشی سے جھوم اٹھی l


تبھی مہیندر نے اسے ایسا کرتے دیکھ لیا l


مہیندر - کیا ہوا بیٹا کچھ بات ہے۔۔۔؟ کیا smell کر رہے ہو l

مانس - کچھ نہیں پاپا بہت بھوکھ لگی ہے اور یہ تو مایا نے سپیشل curry بنایا ہے خاص میرے لیے تو اسکی smell میں ہی اتنا مزا ہے کی بھوکھ بڑھ جا رہی ہے l کیوں maya۔۔ مانس مایا کو چھیڑتے ہوے کہا تھا l

مانس نے مایا کے جانگھو پے گاؤن کے اوپر سے ہاتھ پھیرا، دونوں ایک دوسرے کو دیکھ smile دیے l اب سب ٹھیک ہو گیا تھا مایا بہت خوش تھی، تبھی ایسا ہوا جسنے مایا کو شرم سے پانی پانی کر دیا l


مہیندر سنگھ ستھتی سے انجان بڑے بھولیپن سے بولے l

ہاں بہو تو تو بڑے سوادشٹ کھانے بناتی ہے جادو ہے تیرے ہاتھوں میں l ارے بہو ذرا مجھے بھی تو وہ curry دکھا تو۔۔۔ اگر مانس بیٹا کے لیے ہی سپیشل ہے تو کوئی بات نہیں لیکن ادھر لا کم سے کم مجھے بھی تو اپنی curry ki مہک لےنے دے بہو l


مہیندر سنگھ کا اتنا کہنا تھا مایا کو جیسے ۴۴۰ volt کا جھٹکا لگا ہو l وہ چونک کے کھڑی ہو گئی، جیسے کچھ کاٹ دیا ہو l


بابوجی اییئییئ۔۔۔۔۔۔۔ (منہ پے ہاتھ رکھے وہ چیخ پڑی اور شرمشار ہو گئی )


مہیندر - ایسا کیا کہہ دیا میںنے بہو l

مایا - ک ک ک۔۔۔ کچھ نہیں۔۔۔۔ آ ۔۔۔ (مایا کو کچھ نہیں سمجھ آ رہا تھا وہ کیا بولے۔۔۔ )

ادھر مانس کی ہنسی نہیں رک رہی تھی l


مانس - ہاں ہاں دے دو مایا l۔۔۔۔ (مانس ہنس ہنس کے پاگل ہوے جا رہا تھا، مایا کو چھیڑنے میں وہ کوئی کثر نہیں چھوڑ رہا تھا )


لیکن مایا کے لیے تو وہاں کھڑا ہونا بھی دوبھر ہو گیا تھا، وہ بھاگ کے کچن میں آ گئی l دل کی دھڑکن کسی جنریٹر کے سامان دھک دھک کر رہی تھی

۔۔۔

سوسائٹی ہور

ہی, میرا نام انجلی ہ اور میں 23 سال کہ ہو. میں ایک شادی-شدہ ہاؤسوئف ہو جو اپنی پتی کے ساتھ دلی م رہتی ہو. میری پتی ایک سرکاری نوکری کرتے ہ اور اسمے بوہت بسی بھی رہتے ہ وہ مجھے بوہت کم ٹائم دے پاتے ہ اور ہماری سیکس لائف بھی کافی نارمل سی ہ. پر م بھی کم نہی ہو م اپنے سکول کے ٹائم سے ہی بوہت رانڈی ٹایپی کہ لڑکی تھی, مجھے چھوٹے اور اپنی باڈی دیکھنے والے کپڑے پہنان پسند ہ میں شادی سے پہلے جڑا تر ایسے ہی کپڑے پہنتی تھی.

میںنے اپنی ورجنٹی سکول ٹائم م ہی کھو دی تھی وہ بھی ایک سینیر لڑکے کے ساتھ اور اسکے بعد اسنے اور اسکے دوستو نے مجھے خوب چھوڑ اور لنگا ناچیا تھا. میں جب کالج م پوہچی اور اور گھر سے دور آ گئی تو میری رانڈی پانے کا کوئی ٹھکانا نہی تھا. میںنے کالج م 5-6 بایفرینڈ بنائے تھے اور سبسے خوب چوڑ وایا تھا. یہا تک کہ کالج کے ٹیچرس نے بھی مجھے مارکس اور اٹینڈنس جیسے چیجو کے لیے خوب کٹیا بنایا تھا. میں کالج کہ بوہت فیمس رنڈ تھی جسکو لڑکے کبھی کبھی بایس ٹایلیٹ م تک لیجا کے چھوڑ چکے تھے. کالج کے لاسٹ سال م میرے گھر والو کو میرے کرنامو کے بارے م پتا چل گیا جب ایک لڑکے مے میرے پاپا کو میری ننگی پھوٹو بھیج دی تھی….تابھی میرے گھر والو نے فیزل کیا مے جلدی سے جلدی اس رنڈ کہ شادی کروا دیتے ہ.

کھانی پر واپس آتے ہ, میری سوسائٹی کہ رانڈی بننے کہ کہانو شرو ہیو میرے کالونی کے واچمین کے ساتھ جسکا نام انل ہے. میری سوسائٹی کافی بڑی ہ جسمے کہ 2 گیٹ ہ اور 6 واچ میں ہ 3 ہر گیٹ پر تو ایکدین جب میں اور پتی مہیش سندیہ کہ رات کو بہر سے کھانا کھا کر آ رہے تھے تب جب ہم گیٹ پر پوہس تو دیکھا گکی گیٹ بند ہ اور گیٹ پر کوئی بھی گارڈ نہی تھا. ہم لوگ وہا 5 مین تک ہارن بجاتے رہے لیکن کوئی نہی آیا..تھوڈڈر اور ہارن بجنے دے بعد وہا انل آیا اور گیٹ کھولنے لگا..

تب میںنے انل کو پہیلی بار دیکھا وہ کے لمبا چھوڑا تھوڑا کاکا پر ایک باڈی بلڈر ٹایپی جا آدمی ہا جو کہ لگ بھاگ 30 سال کا ہوگا….م اسے وقت بوہت غسی م تھی اور میںنے سوچا کہ اسکی کلاس لینی چاہیے. میں گدی سے اتری اور انل کے پاس گئی اور اسے داتنے لگی “کہا رہتے ہو تم کام چور لوگ اتنی در سے ہم یہا ویٹ کر رہے ہ کہا مر گئے تھے تم سب” پر میری ڈیٹا کا اس پر کوئی اثر نہی ہو رہا تھا اور وہ لگا تر میرے بوبس کو گھرے جا رہا تھا. میںنے اس دن ایک براؤن کلر کہ ٹائٹ سکرٹ اور ایک و نیک کا بلاؤس پہنا تھا جسمے کہ میرا کافی سارا کلیویج دکھ رہا تھا, میرے پتی کو بھی میرا چھوٹے کپڑے پہنا پسڈ ہ اور مجھے تو اپنی باڈی دکھانے مے الگ ہی مج آتا ہ.

میں جب تک اسے دات رہی تھی وہ میری ڈریس کو ہی گھرتا رہا. مجھے بھی اسے اپنے بوبس دکھا نے م بڑا مج آ رہا تھا, میں اسکی انٹنشن آچے سے سماج گئی تھی اور میں بھی اسے تھوڑے اور مجے لےنا چھتی تھی اسیلئے اسے جب میںنے اپنے کار کہ طرف واپس جانے لگی تو پیچھے مڑ کر میںنے اسے ایک سمت پاس کہ ایک سلٹی سمت. اور ادھر سے وہ بھی سب مماج گیا اور تھوڑا ہس پڑا. وہ سمت بعد م جاکے میری زندگی کہ سبسے غلطی بن گئی تھی. کچھ دنو تک یہی ہوا جب بھی م اسکو دیکھ تے ایک رانڈیو والی سمت ضرور دیتی تھی.

ایک دن میرے گھر م کک بجلی کا کام ہونا تھا تو میریپتی مے انل کو گھر پر بلایا وہ گھر آیا اور اسکی نظرے پورے گھر مے مجھے ہی دھنڈ رہی تھی پر م انڈر تھی….. اسنے موکا پانے کے لیے میری پتی کو بولا کہ سر آپ یہ سب سمن بازار سے لے آئئیے پھر م اسی صحیح کر دونگا.میری پتی نے اپنی کار اٹھائی اور سمن لےنے چلے گئے تابھی انل گھر کے انڈر گھس گیا اور مجھے دھنڈ نے لگا وہ مجھے دھنتا دھنتا کچن م آ گیا جہا م کہنا بنا رہی تھی.

انل کچن م گھس اور مجھے پیچھے سے پکڑ لیا اور میرے بوبس دبنے لگا پہلے مجھے لگا کہ وہ مہیش ہے “ کیسی ہو بابھی جی کے بوبس ہ آپکے” انل نے کہا میں اچناک سے در گئی اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ انل تھا “تم یہا کیا کر رہے ہو اور مہیش کہا ہ”,“تم یہا کیو آئے ہو تمہاری ہمت کیسے ہوئی یہا آکر مجھے چھیڑ نے کہ” میں اس پر چلینے لگی اور مہیش بو بلانے کہ دھمکی دینے لگی. “تیرا پتی تو تجھے میرے ساتھ اکیلیلا چھوڑ گیا ہ اب تو اتنی سیدھے بننے کا ناٹک مت کر مجھے پتا ہ کٹ ا کتنی بڑی رنڈ ہ سمجھی” ایسا بولکر انل نے میرے بال پکڑے اور مجھے کچن سے بہر کھیچے لایا.

میں اسے دور داکھا مرنے کہ کوشش کر رہی تھی پر وہ بوہت زور سے مجھے پکڑا تھا. “آج میں تیری ساری رانڈی والی سمائلس کا بدلا نکل لونگا رنڈ” وہ بول اور اسنے میری نگٹی اوپر اٹھائی اور اور میری اور دیکھا کہ میںنے کوئی پینٹی نہی پہنی تھی “بوہت بڑی رنڈ ہ تو” اسنے ایک ہاتھ سے میرے باب پکڑے اور دوسرے سے وہ میری چھٹ کو زور زور مے رگڑنے لگا اور مجھے کس بھی کرنے لگا.

میںنے اسے روکنے کہ جوشیش کہ پر وان ہی مانا. تھوڑی در تک میری چھٹ زور زور سے رگڑے نے کے بعد اسنے اپنی دو انگلی میری چھٹ مے گھس دی اور تیج تیج انڈر بہر کرنے لگا…… “ کیا چکنی چھٹ ہ تیری” وہ میری چھٹ مے انگلی کرتا رہا اور م دینے دھیمے آہ س آہ کہ اوازے نکل رہی تھی. اسکے میری چھٹ مے انگلی کرنے سے میری چت بالکل ویٹ ہو گئی تھی اور مجھے بڑا مج آ رہا تھا…میں بھول گئی تھی کہ وہ کوئی اور ہ اور مجھے زبردستی چھوڑ رہا ہے آہ آہ یہہ کہ زور زور سے اواز نکل رہی تھی.

تھوڑی در بعد اسنے میری چھٹ سے انگلی نکلی اور مجھے اپنے کنیس پر بیٹھنے کو بولا. میںنے اپنے پتی کے آنے کے در سے اسے مانا کیا اور تابھی اسنے میرے گال پر تھاپد مرنا شرو کیا اور جب تک مارتا رہا جب تک م اپنے کنیس پر نہی بیٹھ گئی. مجھے اس وقت بوہت مج بھی آ رہا تھا پر در بھی لگ رہا تھا…. میری کالج کہ ساری یادیں تاجا ہو رہی تھی جس ترہا لڑکے میری مرضی کے بنا چھوڑا کرتے تھے آج بھی میری ساتھ وہی ہو رہا تھا. انسے اجے انپی کنیس پر بیٹھیا اور اپنا پنت کھولا پر اپنا لنڈ میرے مہ کے سامنے رکھ دیا اور بولا “اسی چس”.

اسکا لنڈ میری پتی کے لنڈ سے لگبھگ دگنا بڑا اور موٹا تھا اور کلا بھی تھا…اتنا بڑا لنڈ دیکھ کر پہلے تو میں در گئی پر پھر سوچا یہ جب میری چھٹ اور گناڈ پڑھیگا تو میرا کیا ہال ہوگا. انل اپنا لنڈ زور زور ای میرے فیس پر مار رہا تھا اور میرے مہ مے دلنے کہ کوشش کر رہا تھا…..آخر کار میں بھی سماج گئی تھی آج مجھے کوئی نہی بچا سکتا اور میںنے اسکا لنڈ اپنے مت مے لیا اور مہ مے لےنے لگی.

پر جیسے ہی میںنے اسکا لنڈ اپنے ہاتھ مے لیا اسمے ہاتھ ہٹنے کو بولا اور کہا “اپنے ہاتھ لگایے بنا چس رنڈ” اسنے میرا مہ کھل وایا اور اپنا پورا لنڈ میرے مہ مے گھش دیا اور انڈر بہر کرنے لگا. اسکا لنڈ بوہت بڑا تھا اور میرے مہ مے فٹ نہی ہو پا رہا تھا پر بھی بھی وہ پورا لنڈ میرے گل تک گھسے جر آہا تھا اور میرے سانا کو رکھ رہا تھا.

میرے اکھو مے اسنو آنے لگے تھے اور میں کچھ بول بھی نہی پا رہی تھی صرف گگھگ گہاگگہا گگگےگ گہاگگہا گگگےگ گہاگہا گگگےگ گہاگہا گگگ گہاگہا گگگےگ گہاگگہا گگگےگ گہاہا گگ کہ اواز نکل رہی تھی. اسکا لنڈ میرے گل کے انڈر بہر ہو رہا تھا اور اسکی بالس میری تھوڑی سے ٹکرا رہی تھی. 20 مین تک ایسے مے میرا مہ چھوڑنے کے بد اسین اپنا فون نکلا اور میری وڈیو لےنے لگا میں در گئی اور بولی “یہ کیا کر رہے ہو” اسنے کوئی جواب نہی دیا اور چھپ چھاپ چستے رہنے کو بولا. میںنے اوپر اٹھ کر اسے موبائل لےنے کہ کوشس کہ لیکن اسنے میرے 4-6 تھاپد مر کر مجھے واپس نیچے بتا دیا اور وڈیو لیتا رہا.

وہ میرے مہ چھوڑنے کہ وڈیو لیتا رہا اور لاسٹ م میرے فیس اور مہ مے سارا سپرم گرا دیا اور یہ سب بھی شوٹ کر لیا تھا. “آہ کیا مست ارند ہے تو مج آ گیا” اسنے اپنا سپرم میرے مہ پر نکلتے ہوئے بولا. “پلز مجھے چھوڑ دو میرے پتی آنے والے ہوںگے” تابھی اسنے مجھے کھڑا کیا اور میرے فیس کا ایک کلوسپ لےنے لگا اور پھر چھوڑ دیا. میں بھاگ کر گئی اور اپنا مہ دھلا اور واپسی آ گئی. “اب سن رانڈی آج کے بعد تو میری رنڈ ہے م جو کہوگ وہ تجھے کرنا پڑےگا ورنہ یہ وڈیو تیرے پتی اور پوری سوسائٹی کو دکھا دونگا سمجھی” مجھے سماج نہی آ رہا تھا میں کیا کرو مجھے مج بھی آیا تھا پر اب در بھی لگ رہا تھا کہ کیا ہوگا. “پلج تم یہ وڈیو کسی کو مت دکھا نا میں جو تم بولوگے وہی کرونگی” میں انل کے سامنے رونے لگی.

“ٹھیک ہ نہی دکھاؤگا پر یاد رکھنا جو میں کاہو وہ کرنا ہے تجھے” انل بولا اور بہر چلا گیا. اس رات م کافی در ہوئی بھی تھی اور ایکسئٹیڈ بھی تھی انل کا بڑا لنڈ لےنے کے بعد میرے چھٹ بوہت گیلی ہو گئی تھی.

اگلے دن سبھا میرے پتی کے جانے کے ایک گھنٹے بعد انل گھر آیا اور آکے ڈرائنگ روم میں بیٹھ گیا اور “انجلی بابھی بابھی کرکے مجھے بلانے لگا” میں بھاگتی ہوئی اسک پاس گئی اور جاکے اسکی گوڑ میں بیٹھ گئی “تیرے لنڈ نے مجھے پوری رات جگایا رکھا اور میری چھٹ ابھی تک گیلی ہے” میں ہستے ہوئے بولا اور اکسو کس کرنے لگی میں اپنے پورے رانڈیو والے انڈج میں آ گئی تھی اور اسکے لمبے کالے لنڈ سے چڑنے تو ریڈی تھی……. “تجھے میرے ساتھ جو کرنا ہے کر بس وہ وڈیو کسی کو مت دکھا نا” پلج میںنے انل سے بولا. وہ کچھ نہی بولا اور سیدھے مجھے اٹھایا اور بیڈ پر الٹا گرا کے میرے نگٹی اوپر کاری اور پیچھے سے میری چھٹ کو مسلنے لگا “آہ” میں ہلکی ہلکی اوازے نکلا نے لگی.

2 مین بعد اسکا لمبا لنڈ میرے چھٹ مے انڈر بہر کر رہا تھا اور مجھے ایک کٹیا کہ ترہا چھوڑنے لگا. وہ زور زور سے میرے چھٹ میں جھٹکے دے رہا تھا اور میری گاڑ پائے تھاپد بھی لگا رہا تھا.

تھوڑی در تک اسی پازٹن میں چھوڑنے کے بعد وہ بیڈ پر لیٹ گیا اور مجھے اسکے لنڈ پر چڑھنے کو بولا, میں اپنے آپ کو کنٹرول نہی کر پایی اور جلدی سے اسکے لنڈ پر چد گئی اور اوپر نیچے ہونے لگی انل مجھے ایسے ہی ادھے گھنٹے تک چھوڑتا رہا اور میں چوڑوتی رہی پھر تھوڑی در بعد اسمے مجھے میرے گھٹنو پر بٹھایا اور اپنا سارا مٹھ میری فیس اور مہ پر چھوڑ دیا, اسنے میرا اورا مہ اپنے مٹھ سے بھر دیتا تھا اسکا مٹھ کا ٹیستے بڑا نمکن تھا پر مجھے اچھا لگا اور پھر مجھے اپنا لنڈ چسوانے لگا. یہ سب شام تک چلتا رہا اور اس دن کے بعد سے وہ روز میرے گھر آتا ہے اور کٹیا کہ ترہا مجھے چھوڑ تا ہے میں, میں کبھی بھی اسکا مانا نہی کرپتی ہو وہ جو چاہتا ہے مجھسے کروتا ہے اور اگر میں مانا کرو تو تھڑپد مار کر زبردستی سارے کام کروا لیتا ہے.

انل میری ننگی پھوٹوس اور وڈیوس بھی لیتا رہتا ہے اور یہا تک کہ میرے سے پیسے بھی لے جاتا ہے. یہ سب کچھ دنو تک چلتا رہا وہ روز میرے گھر آتا مجھے چھوڑتا اور چلا جاتا تھا پر کچھ دنو بعد انل 2-3 دنو تک نہی آیا اور نا ہی لوئی کال یا مسگ. میں اسکی یاد میں روز اپنی چھٹ رگڑ تت ہی اور اپنے آپ کو انگلی کرتی تھی. 2 دن بعد انل دوفر میرے گھر آیا جیسے ہی میںنے اسے دیکھا میں بھاگ کے گئی اور اسکے گل لگ گئی پھر اسے کس کرنے لگی “ کہا مر گیا تھے تم اتنے دنو سے” میںنے کہا.

انل نے مجھے پیچھے ہٹایا اور بولا “سن میری رانڈ کچھ دنو سے میری ڈیوٹی رات کہ ہو گئی ہے اسللے اب سے میں رات کو کالونی میں آیا کروگا” “ رات کو پھر ہم ملا کیسے کریںگے رات کو تو میرے پتی گھر پر ہوتے ہے” میںنے اداس ہو کر اسے پوچھا “اسی کا تو انعظام کرنے آیا ہو…. میرے ڈیوٹی یہا 9 بجے کہ ہسن آج رات کو 11:30 کے اس پاس میں یہا ڈیوٹی کے لیے آؤگا اور تو اپنے پتی کے سون ایکے بعد مجھے کال کرنا اور بہر آ جانا….اور سن بنا کپڑو کے بہر آنا.

تیرے لیے ایک سرپرائج ہے” انل ہس کر کر بولا. “ میں رات میں کیسے آؤگی مہیش جگ گئے تو بوہت پرابلم ہو جائیگی پلج رات میں نہی ابھی کر لو جو کرنا ہے” میںنے در کر اسے بولا. انل نے ایک ہاتھ سے میرے بال پکڑے اور ایک ہاتھ سے میرے چچیا مسلنے لگا اور بولا “مجھے کچھ نہی پتا تو رات کو بہر آئیگی ورنہ تو جنتی ہے تیرا کیا ہال ہوگا کسی کو مہ دکھانے لائق نہی رہیگی سمجھی” آہ پلج اتنی زور سے مت بڑاؤ آہ سیسی درد ہو رہا ہے “بتا آئیگی یا نہی” اجھہ “ہا ٹھیک ہے آجاؤگی پر پلج ابھی درد ہ رہا ہے چھوڑو مجھے” “ٹھیک ہے میں رات کو تیرے گھر کے بہر تیرا ویٹ کرونگا” اتنا بول کر وہ واپسی چلا گیا.

اب جیسی رات آئی میری دل بوہت زور زور سے دھڑک نے لگا تھا کیکی مجھے بہر بھی جانا تھا اور یہ بھی ڈارٹ ہا کہ اس بیچ مہیش جگ گئے تو کیا ہوگا. رات کو 10 بجے مہیش سونے چلے گئے میںنے 11:30 تک مہیش کے پوری ترہا سونے کا ویٹ کیا اور پھر ڈیہائڈ کیا کہ اب بہر جاجا چہیے. 11:30 بجے میںنے انل کو فون کیا اور گھر سے بہر آ گئی. انل میرے گھر کے سامنیہی کھڑا تھا.

رات کے ٹائم پر کالونی پوری کہلی تھی اور کوئی بھی نہی تھا. میں بھاگ کر انل کے پاس گئی اور اسے گل لگا لیا. مجھے لگا کہ وہ مجھے دیکھ کر خوش ہوگا لیکن وہ تو الٹا غصہ ہو گیا اسنے میرے بال پکڑے اور پیچھے کہچا اور زور زور سے تھاپد مرنے لگا 5-7 تھدپد مرنے کے بعد وہ بولا “سالی رنڈ میںنے کہا تھن آ کہ بنا کپڑو کے بہر آنا اور تو یہ سلوار سوٹ پہیں کر بہر آ گئی” اتنا بولنے کے بعد اسنے مجھے پکڑا اور میرے سوٹ کو سائڈ سے پھاد دیا اور سڑکا پر پھیک دیا پھر اسنے میری سلوار بھی میرے چھٹ والے ایریا سے پڑکی اور پھاد دی اور پھیک دی.

اب میں آدھی رات کو سڑکا پر اسکے سامنے صرف برا پینٹی میں کہدی تھی “یہ ہوئی نا بات پوری رانڈیوں والی” اتنا بول کے انل نے مجھے بالو سے پکڑا اور میں گیٹ کے پاس والے سیکیورٹی روم میں لے گیا. جیسے ہی ہم روم میں گھسے میںنے دیکھا کہ وہا اسکے 3 دوست پہلے سے ہی وہا تھے اور میں انہے دیکھ کر سماج گئی کہ انل کس سرپرائج کہ بات کر رہا تھا اور اب میرے ساتھ کیا ہوگا. میں وہا بیٹھے لوگو کو پہچن گئی وہ میرے کالونی کے 2 اور گارڈ اور ہمرا دودھ والا لکشمن تھا.

انل مجھے روم میں انڈر لے گیا اور ان تین کہ طرف پھیک دیا اور بولا “ چلو کھیل شرو کرتے ہے”. ان لوگو نے مجھے پکڑا اور اپنی گندی نرزو سے میری باڈی کو گھرن لگے اور تھوڑی ہی در میں وہ تینو میرے باڈی کے مجے لےنے لگے کوئی میرے بوبس دبنے لگا اور کوئی مجھے زور زور سے کس کرنے لگے.

تھوڑی یہی چلتا رہا اور انہوںنے میری پوری باڈی لال کردی تھی, انل نے مجھے بیڈ پر چڑھ کر اپنے گھٹنو پر جانے کو بولا اور پھر وہ چاروں بھی بیڈ پر مجھے غیر کر کہدے ہو گئے اور اپنے اپنے لنڈ بہر نکل لیے اور میرے مہ پر مرنے لگے اسنے سبکے لنڈ بوہت بڑے اور موتے تھے, انل نے میرا مہ چھوڑنے کہ شروعات کہ اور پھر ایک ایک کرنے چاروں نے میرے مہ مے اپنا لنڈ گھسیا اور میرے مہ کو چھوڑا. انہوںنے میرے ہاتھ میری برا سے میرے پیٹھ پر بنڈ دیے تھے اور بنا رکے میرے مہ کو چھوڑ رہے تھے, میرے مہ پورا لال اور گرم ہو گیا تھا. کافی در تک میرا مہ چھوڑنے کے بعد انہوںنے اپنی پازٹن بدلی اور انل بیڈ پر لیٹ گیا اور مجھے اپنے لنڈ پر چڑھا دیا اور پیچھے سے لکشمن میری گنڈ مے اپنا لنڈ گھسنے لگا اور دونوں گارڈ میرے مہ پر آ گئے.

انلوگو نے مجھے وہا 2 گھنٹے تک اپنی پازٹن بادل بدلا کر ایک کٹیا کہ ترہا چھوڑا اور کھل گندی گندی گیلن بھی دی اور کچھ پھوٹو بھی لیے ان سب نے اپنا سارا مٹھ میرے مہ مے چھوڑ دیا اور مجھے اسے پینے کو بولا….میرے پاس انکی بات مننے کے سوائی کو راستہ نہی تھا, میرا پورا فیس انکے موٹھ سے بھر گیا تھا. جب اس سب کا ہو گیا تو وہ سب اپنے اپنے کپڑے پہیں کر روم سے بہر نکل گئے اور لاسٹ مے انل نے مجھے اتیا اور بہر لا کر کالونی کے میں گیٹ کے سامنے کھڑا کر دیا اور بولا “یہی پر تونے مجھے ڈیٹا تھا نا اب دیکھ میں کیسے تیری اسسے گیٹ پر گنڈ پھڈتا ہو” اتنا بول کر اسنے میرے ہاتھ کھولے اور مجھے جھک کر کالونی کا گیٹ پکڑ کر کہدے ہونے کو بولا.

میں کافی دری ہوئی تھی اور میںنے ویصہ ہی کیا جیسا وہ بولا. انسے پیچھے سے میرے گنڈ ک چیڑ میں اپنے دونوں انگوتھے(ٹھمب) گھس دیے اور میرے چیڑ کو چھوڑنے لگا آہ اس نہی پلج مت کرو انیل بوہت درد ہو رہا ہے, میں بوہت تیج چلینے لگی پر اسنے میرے گنڈ اور جڑا چیری میرے حالت دیکھ کر وہ سب زور زور سے ہنسنے لگے. تھوڑی در ایسے ہی مجھے ٹارچر کرنے کے بعد ان سب نے میری گنڈ ایک بار پھر سے اسی گیٹ پر کھڑا کرکے ماری اور یہ سب لگبھگ 3 بجے تک کلتا رہا. “پلج اب مجھسے اور نہی ہوگا پلز مجھے گھر جانے دو” منین انل سے ریکویسٹ کہ “ارے اتنی جلدی کیا ہاؤ میری جان اس کالونی کے 2 گیٹ ہے ابھی تو صرف ایک ہو گیٹ پر تیرا کھیل ہوا ہے درس گیٹ پر میرے باقی دوست تیرا انتظار کر رہے ہے جا انہے خوش کر پھر گھر جانا” انل نے اپنے ایک گارڈ دوست سے مجھے کالونی کے دوسرے گیٹ پر لے جانے کو بولا جی کہ وہا سے 400-500 م دور تھا.

اس دوسرے گارڈ نے آ کر میرے گنڈ مے اپنی 2 انگلی ڈالی “چل رانڈ ابھی تجھے اور چوڑنا ہے” بولکر دوسرے گیٹ کو طرف لے جانے لگا اور وہ پورے راستے میری چچیا مسلتا رہا اور میرے گنڈ پر تھڑپ مار مار کر اسے لال کرتا رہا. درس گیٹ پر جانے کے بعد وہا بھی مجھے بری ترہا سے سبھا کے 5 بجے تک چھوڑا گیا اور مارا گیا اور گلیا بھی دی گئی

پھر انہوںنے مجھے ننگا ہی گھر بھجے دیا.اتنی در تک چڑنے کے بعد میں صحیح سے چل بھی نہی پا رہی تھی پھر بھی میں وہا سے چھٹ تے ہی میں گھر کہ طرف بھاگی اور میں اپنیں گھر کے سامنے پوچھوہی اور اپنے کپڑے اٹھایے اور انڈر جانے لگی تابھی مجھے پیچھے سے میرے کالونی کہ مینیجر نے گھستے دیکھ لیا. گھر میں گھستے ہی میںنے مہیش اپنا بیڈ روم چیک کیا اور مہیش سوئے ہوئے تھے مجھے انہے سوتا دیکھ بڑا سکون ہوا میںنے اپنے کپڑے انڈر رکھے اور باتھروم میں نہنے چلی گئی.

اس دن سے میری لائف میں رانڈیوں کہ ترہا چڑنے کے الوا کچھ نہی رہ گیا ہے…..کالونی کے ورکرس نے مجھے اپنی کٹیا بنا رکھا ہے میرے پتی کے آفس جانے کے بعد سسبسے پہلے لکشمن دودھ والا آتا ہے اور میرا دوتھ پیتا ہے اور مجھے پگلو کہ ترہا چھوڑتا بھی ہے پھر اسکے بعد دوفر کہ ڈیوٹی والے گارڈ کبھی کبھی آتے ہے اور مجھے بجا کے جاتے ہے اور پھر ہر رات میں کالونی کے گیٹ پر اپنی گنڈ پھٹ واتی ہو کبھی اکیکل تو کبھی 6 لوگو سے ساتھ. کبھی کبھی انل اور اسکے دوست رات میں میرے گھر آتے ہے اور مجھے میرے گھر آتے ہے اور ٹیریس پر لے جا کر مجھے چھوڑتے ہے.

ای’ل پوسٹ تھے نیکسٹ پارٹ سون. پلس سینڈ یور کمینٹس اینڈ سگیسٹان آن نہبرو@گمیل.کام

-0-0-0-

وہ سندیہ کا دن تھا اور میرے پتی مہیش گھر پر ہی تھے جسکا مطلب آج دوفر میں چڑنے سے بچ جاگی پر رات کا کوئی پتا نہی کون کون مجھے چھوجیگا.

جب سے انل کہ ڈیوٹی نائٹ کہ ہوئی ہے تب سے میں پوری کالونی کہ فیمس رنڈ بن گئی ہو ہر رات انل اور اسکے دوست مجھے کالونی کے گیٹ اور سڈکو پر چھوڑتے ہے اور دن میں لکشمن میرا دودھ والا اور دن کہ ڈیوٹی والا میرے گنڈ مرتے ہے. انہونے مجھے اپنی رنڈ بنا لیا ہے وہ لوگ میرا پورا استمال ایک پرسنل رانڈی کہ ترہا کرتے ہے وہ میری وڈیوس اور پھوٹوس سے مجھے بلیکمیل کرتے ہے اور مجھسے اپنی مرضی کا ایکٹ کروتے ہے اور کبھی کبھی پیسے بھی لیتے ہے.

مجھے رات میں سڈکو پر چوڑواتے ہو کفی لوگو نے دیکھا ہے اور انمیں سے ایک ہے مر. شرما جی جو کالونی کے مینیجر ہے اور لگ بھاگ 45-50 سال کے ہے. مر. شرما جی کہ ایک میریڈ بیٹی بھی ہے جو میری ہی عمر کہ ہا..ای ویسے تو شرماجی کہ امیج کالونی مے سیدھے سادے لوگو میں سے ہے پر جب بھی وہ مجھے ملتے ہے بوہت ہی گندی نظرو سے مجھے یا میرے بوبس کو دیکھتے ہے اور میںنے کئی بار سوچا کہ جلدی ہی شرما جی بھی مجھے چھوڑنے والو مے سے ایک ہوںگے پر ایسا کافی دنو تک نہی ہوا.

سبھا کے 10 باج رہے تھے تابھی گھر کہ بیل باجی میںنے گیٹ کھولا تو دیکھا کالونی کے مینیجر شرما جی گیٹ پر کھڑے تھے اور مجھے دیکھ کر مسکرا رہے تھے ….میں تھوڑا در گئی تھی کہ کہی شرما جی میرے بارے میں مہیش کو بتنے تو نہی آگیے.

میںنے شرما جی کو انڈر بلایا اور ڈرائنگ روم میں بیٹھا دیا اور انڈر چلی آئی مہیش کو بلانے. مہیش اور شرما جی انڈر باتے کرتے رہے اور میں تھوڑی در بعد ٹی لیکر آئی اور وہا رکھ دی. “اور انجلی بیٹا کیسی ہو” شرما جی مسکراتے ہوئے بولی. “میں ٹھیک ہو آپ بتائیے کیسے آنا ہوا” “ بیٹا ابھی میرے بیٹی اور سون ان لا گھر آئے ہوئے ہے تو میں آج آپ لوگو کو اپنے گھر ڈینر کا انوتشیشن دینے آیا ہو”.“شرما جی ہم بالکل آئینگے” مہیش بولی.

تابھی شرما جی نے اپنا فون نکلا اور مجھے اپنی اور بیٹی اور سون ان لا کہ پکس دکہنیکے بہنے سے نکلا پر شرماجی مجھے بس پکس نہی کچھ اور بھی دکھانا چتے تھے. شرما جی نے ایک وڈیو چلیا اور وہ وڈیو اور کوئی نہی تھا میری اور انل کہ پہیلی چڑائی کا وڈیو تھا جسمے می انل کا موٹا لنڈ مجے سے چس رہی ہو تابھی شرما جی نے سوفے کے نیچے سے میرے پیروں پر اپنا ہاتھ پھرنے لگے اور “کیسی ہے بیٹا” “کیاسی ہے” شرم جی نے ایک دیولش سمت دیتے ہوئے پوچھا “ اچھی ہے شرما جی بوہت پیاری ہے اپکی بیٹی” …..

میں اس ٹائم کفی در گئی تھی میرا پورا فیس شرم اور در سے لال ہو گیا تھا میرا دل زور زور سے دھڑک نے لگا کہی مہیش یہ وڈیو نا دیکھ لے اور میں شرما جی کو بڑی انکمپھرٹیبل سمت دے رہی تھی.

شرما جی نے اپنا فون بند کیا اور انڈر رکھ لیا اور تابھی میرے مہان پتی دیو کا فون بجا اور وہ فون پک کرکے بہر چلے گئے بات کرنے اب شرما جی کے پاس پورا موکا تھا اور انہوںنے اس موکے کا پورا پھائدہ اٹھایا اور مہیش کے بہر جاتے ہی شرما جی نے میری نگٹی نے نیچے سے ہاتھ ڈالا اور میری گنڈ مے اپنی 2 انگلیاں گھس دی اور میرا فیس سوفے کے ہیڈریسٹ پر رکھ دیا اور دونوں انگلیاں انڈر بہر کرنے لگے…..”آہ س پلج پلج مہیش دیکھ لےگا پلج شرما جی یہا نہی شرماجی آپ کیا کر رہے ہو مہیش آ جنگے پلج ابھی مجھے چھوڑ کو رات میں جو کرنا ہے کر لےنا پر پلز ابھی چھوڑ دو” شرما جی نے اپنی انگلی میری گنڈ سے نکلی اور میرے لپس پر رکھ دی

“مجھے انل نے سب کچھ بتا دیا ہے اب چھپ چاپ جو میں کاہو وہ کرنا ورنہ یہ وڈیو مہیش کو دکھانے میں مجھے کوئی پرابلم نہی ہوگی سمجھی” یہ میرے لیے کچھ نیا نہی تھا میں پہلے سے ہی انل اور اسکے دوستوں کہ رنڈ تھی ایک شرماجی اور صحیح, “ٹھیک ہے شرما جی آپ جو بولوگے میں وہ کرونگی پر پلج ابھی نہی پلج.

شرماجی نے میری گنڈ سے نیکیلی دونوں انگلیاں میرے مہ مے گھس دی اور چسنے کو بولا. میرے پاس اور کوئی آپشن نہی تھا سوائی جو وہ کہے وہ کرنے کے میںنے دونوں انگلیاں پکڑی اور انل کے لنڈ کہ ترہا انہے بھی چسنے لگی دوس ہاتھ سے شرما جی میری چچیا پکڑ کر انہے دبا اور مثال رہے تھے…..آہ ہن سی میں چستے چستے اواز نکل رہی تھی,

شرماجی نے اپنا ہاتھ میرے بوبس سے ہٹا کر میرے شارٹ سی نگٹی کے نیچے دال دیا اور میری چھٹ پر ہاتھ پھرنے لگے “ کتنی بڑی رنڈ ہے تو بیٹی انجلی کوئی برا نہی کوئی پینٹی بھی نہی شام کو میرے گھر پر بھی بنا برا پینٹی کے آنا سمجھی, آج رات کو چھوڑ چھوڑ کے تیری حالت خراب کر دونگا” شرماجی اب زور زور سے میری چھٹ میں انگلی کر رہے تھے اور مجھے میری گنڈ سے نیکیلی ہوئی انگلیا چوسا رہے تھے.

میری چھٹ بوہت گیلی ہو چکی ہی اور انی چھوڑنے لگی تھی مہے بوہت مج آ رہا تھا پر در بھی لگ رہا تھا تابھی گیٹ کھلنے کہ اواز آئی اور شرماجی نے مجھے چھوڑ دیا اوے دور کھڑے ہو گئے. “اچھا بیٹا میں چلتا ہو شام کو جرور آنا میں اپکا دونوں کا انتظار کرونگا” شرمضی ہنسکے بولی اور چلے گئے.

شرماجی کے جانے کے بعد میں کافی دری ہوئی تھی میں سوچ رہی تھی کہ مہیش کے سامنے وہ کیسے میرے ستھ کریںگے پتا نہی کیا ہوگا. اس دوفر مہیش پورے دن فون پر لگے رہے اور میں پورے ٹائم انل سے سیکسچھت کرتی رہی اور اسے شرماجی کے بارے میں بھی پوچھ لیا تو انل نے بتایا کہ وہ وڈیو انل نے ہی انہے دی ہے میںنے وڈیو انہے دینے لے لیے انل کو داتنے لگی تو اسنے اکتا مجھے رانڈی بول کر چھپ کرا دیا اور رات میں مجھے اسے ڈٹنے کے لیے پنیش کریگا بولا. اب سہام ہونے سے پیہہے مجھے ایک مسگ آیا جسمے ایک لڑکی کہ پک تھی اور لکھا تھا “یور ڈریس فار ٹانیٹس ڈینر سلٹ”

میں سماج گئی تھی کہ شرما جی آج میری کیا حالت کرنے والے تھے اور پھر مونے ڈیہائڈ کیا کہ میں وہی ڈریس پہنگی جو شرما جی نے بھیجی ہے کیکی انل کہ بتائی ہوئی ڈریس نا پہنے سے مجھے ایک اچھا سبک ملا تھا جب اسنے مجھے سڑک پر ہی تھاپڑپو سے مارا تھا اور ننگا گھمایا تھا تو میںنے سوچ اس بار میں ایسا کچھ نہی کرونگی .

میں اس پک کے حساب سے ریڈی ہو گئی اور کچھ جڑا ہی ریویلنگ لگ رہی تھی. میںنے ایک پنک کلر کہ ٹرانسپیرینٹ ساری اور اسکے انڈر بس ایک سٹرپلیس برا پہنی تھی جسمے میرا کافی سارا کلیویج دکجھ رہا تھا اور نیچے پینٹی کہ جاگھا صرف ڈارک کلر کا تھونگ پہنا تھا جومیری ٹرانسپیرینٹ ساری کے اوپر سے چمک رہا تھا. “یہ ڈریس کچھ جڑا اوپن نہی ہے بیبی” رمیش کے کہا “ا ڈدن’ٹ لیکے اٹ” میںنے رمیش کو ونک کرتے ہوئے کہا اور وہ مسکرا دیا اور ریڈی ہو گیا پر بےچارے رمیش کو کیا پتا تھا اسکی رانڈی وئف سے ساتھ آج کیا ہونے والا تھا. ہم گھر سے نکلے اور شرماجی کے گھر پوہاکے تو انکے سون- ان- لا امن نے ہمیں گریٹ کیا اور انڈر بلایا.

آنند نے مجھے مہیش کے سامنے ہی ہگ کر لیا اور میری ننگی پیٹھ پر ہاتھ پھر دیا اور اور “ا لک بیوٹیفل” کا کامپلمینٹ بھی دیا وہ بھی رمیش کے سامنے ہی میں تھوڑا در گئی تھی پر رمیش نے کچھ نہی بولا. تھوڑی در بعد شرماجی آ گئے اور ہمارے ساتھ آ کر بیٹھ گئے.

شرماجی مجھے نیچے سے عار تک گھر گھر کے دیکھ رہے تھے…انکے پنت کے اوپر سے انکا بڑا لنڈ بالکل صاف پتا چل رہا تھا وہ مجھے چھوڑنے کے لیے پوری ترہا سے ریڈی تھے. ہم لوگ وہا بیٹھ گئے اور چت-چھت کرنے لگے اور شرما جی پورے ٹائم میرے بوب کہ اور سہتن والی اکھوں سے دیکھہ جا رہے تھے وہ مجھے بیچ میں مسگ بھی کر رہے تھے اور بتا رہے تھے کہ آج میرے ساتھ کیا کیا ہونے والا ہے کیسے وہ مجھے کل تک چھوڑ چھوڑ کر رانڈی بنا دینگے اور مجھے ایسے چھوڑینگے جیسے پہلے جسی نے نہی چھوڑا ہوگا.

شرما جی سے مسگ پے بات کرتے کرتے میرے چھٹ بھی تھوڑی سے گیلے ہونے لگی تھی اور میری چچیا بھی ٹائٹ ہو گیائی تھی اور میری سٹرپلیس برا کے اوپر سے صاف دکھ رہی تھی……باتو باتو میں رمیش نے شرما جی سے انکی بیٹی کے بارے میں پوچھ تو شرما جی نے بتایا کہ وہ آج تھوڑی بیمار ہے تو اوپر ارم کر رہی ہے بیچاری…تھوڑی در بعد شرماجی کہ وئف آئی اور کھانا کھانے کو بولی اور ہم سب لوگ ڈینر کرنے پوچیچ گئے ڈینر کرتے ٹائم شرما جی اپنے پیر سے میرے ٹینگو سے ساری اٹھا رہے تھے اور میری تھیگھس تک اپنا پیر لک مجھے اور گلا کر رہے تھے وہ اپنی پتنی کے اسپاس ہوتے ہوئے بھی ایسا کر رہے تھے اور میری چھٹ اور گیلی اور چچیا اور ٹائٹ ہو رہی تھی……

ڈینر کے بعد ہم سب تھوڑی در اور باتیں کیا اور تب مجھے ایک مسگ آئی “اپنے گانڈو پتی سے بول کہ میں شرماجی کہ بیٹی سے ملنے جاتی اؤ آپ یہی بیٹھو” میں مسگ پڑتے ہی سماج گئی کہ اسمیں شرما جی کہ چھال ہے وہ مجھے اکیلے پکڑنا چتے ہے پر میںنے پاس اور کوئی آپشن نہی تھا “رمیش میں ذرا شرماجی کہ بیٹی سے ملکر آتی ہو آپ یہی رکیے” میںنے بولا “ٹھیک ہے ملاؤ میں یہی ہو آنند سے ذرا امپورٹنت بات کر رہا ہو اوکائے”

تابھی شرماجی اپنا پلان شرو کیا اور بولی “چلو انجلی بیٹا میں تمہے بیٹی کے روم تک لے چلتا ہو” میں شرماجی کے ساتھ چل دی اور مجھے پورا ایڈیا تھا کیا اب میرے ساتھ کیا ہونے والا ہے میری چھٹ کا سارا پانی اب نکیلنے والا تھا. شرماجی مجھے انڈر ایک بیڈروم میں لے گئے اور کنڈی بند کر لی…وہ روم پورا خالی تھے انکی بیٹی وہا نہی تھی شرماجی نے کنڈی لگتے ہی میرے گل کو پیچھے سے زور سے پکڑ لیا “بوہت تڑپایا ہے تونے آج یہ ساری اور برا پہیں کر اب سبھا ہمنے جہا چھوڑا تھا وہی سے شرو ہو جا شرماجی نے میرے گلا پکڑے پکڑے مجھے دیوار کے سہرے کھڑا کر دیا اور گنڈ بہر نکلینے کو بولا….

شرماجی نے میری ساری اوپر کاری اور مجھے اسے پکڑ کر کھڑے ہونے کو بولا میںنے اپنی ساری اپنی کرمر تک لک روک لی اور اپنی گنڈ بہر نکل کر اپنا سر دیوار سے لگا لیا اور اپنی گنڈ ماروانے کو ریڈی ہو گئی…

شرماجی نے میری پینٹی نیچے کاری اور اپنا موٹا لنڈ میری گنڈ کے چیڑ پر رکھ کر اسے انڈر گھس نے لگے “آہ سیس آہ شرماجی اپکا لنڈ تو بوہت بڑا ہے” میںنے بولا تابھی انہوںنے اپنا پورا زور لگایا اور اپنا موٹا لنڈ میری گنڈ میں دال دیا اور زور زور سے انڈر بہر کرنے لگے…مجھے بوٹ درد ہو رہا تھا پر میں جڑا تیج نہی چلا سکتی تھی میں آہ آہ س آہ آہ سسے سی کرکے ہلکے ہلکے موننگ کر رہی تھی…

شرماجی بیچ بیچ می میری گنڈ پر زور زور سے تھاپد مار رہے تھے اور “سلی کتی بڑی رنڈ ہے تو تیرا پتی بہر میتھا ہوا ہے اور تو یہ گنڈ ماروا رہی ہے….وہ مجھے اور زور زور سے اصلی رنڈ کے جیسے چھوڑنے لگے اور گلیاں دینے لگے 10 مین تک پاگل کتّے کہ ترہا میری گنڈ ماری اور میں آہ آہ آہ کرکے چلتی رہی شرماجی کا لونڈ اتنا بڑا تھا اور ٹائٹ تھا انسے گنڈ مرتے مرتے میری کا اکھوں سے اسو آ گئے

تھوڑی در بعد میرے گنڈ مرنے کے بعد شرماجی رک گئے اور اپنی پینٹ واپس پہیں لی اور بولی “تو یہی رک اور ایسے ہی گنڈ بہر نکل کر کہدی رہنا” اتنا بول کے شرماجی وہا سے کہلے گئے اور میں اپنے اسو پوچھنے لگی 2 مین بعد میںنے کسی کو انڈر آتے سنا مجھے لگا شرما جی واپس آ گئے پر وہ شرماجی نہی بلکہ انکا سون ان لا آنند تھا وو آہا آیا اور مجھے ایسے کھڑا دیکھ کر خوش ہو گیا…

میں شماج گئی تھی کہ یہ شرمجی اور انکے بêتے کا پلان ہے وہ بہر رہیش کو بسی رکھینگے اور ایکے ک کرکے میری چھٹ مارجنیگ….آنند میرے پاس آیا اور بولا “صحیح بولا صحیح کہا تھا پاپا نے کٹ ا کتنی بڑی رانڈی ہے یہا اپنی گنڈ کھول کے کھڑی ہے اور وہا تیرے پتی کو کوئی ایڈیا ہی نہی ہا” اتنا بول کے آنند نے اپنا پنت اتر اور اپنا موٹا لنڈ میرے گنڈ میں گھس دیا اور چھوڑنے لگا…

اسنے پیچھے سے ایک ہاتھ سے میرے بال پکڑے تھے اور ایک ہاتھ سے میری نپلس تو زور زور سے مثال رہا تھا اور میں آہ آہ سیس پلج پلج ارم سے کرو چلینے کے الو کچھ نہی کر پا رہی تھی.

مجھے اپنی گنڈ ماروانے آئی بوہت درد ہو رہا تھا پر سمی ٹائم میری چھٹ موتے سے لنڈ کے لیے پاگل ہو رہی تھی اور پانی نکلا رہی تھی کچھ 10-15 مین میری گنڈ پھاڈنے کے بعد آنند نے اپنا لنڈ میری گانڈسے نکلا اور مجھے ایونے کنیس پر بیٹھ کر میرے مہ میں دیدے لگا. “کیسا ہے تیری گنڈ کا ٹیستے رانڈی” بول کر وہ اپنا پورا لنڈ میرے مہ میں اور میرے گکے تک لے جر آہا تھا…..

میری آنکھوں سے آسو آ رہے تھے پر میں کچھ نہی کر سکتی تھی. تھوڑی در میں آنند نے میرے مہ میں کم کر دیا اور مجھے ایکے ک بند پینے کو بولا….. “ایک بھی بند ویسٹ ہوئی تو تیری گنڈ پھڈ دونگا رانڈی. میںنے ویسا ہی کیا جیسا اسنے بولا. “پلز مجھے اب رمیش کے پاس جانے دو اسے شک ہو جائیگا ورنہ” ایسے کیسے تجھے جانے دینگے ہم “تو یہی رک رنڈ میں تیرے رات میں یہی رکنے کا انعظام کرکے آتا ہو….

اتنا بول کے آنند بہر چلا گیا اور 15 مین بعد واپس آیا اور اسنے مجھے کپڑے پہیں کر نیچے چلنے کو کہا میںنے اپنا مہ دھویا اور آنند کے ساتھ نیچے چل دی نیسیہ شرماجی کہ وئف وہا پہلے سے ہی وہا تھی اور مجھسے بولی “انجلی آج تم یہی رک جاؤ دیا کہ طبیت خراب ہے اسکی کاری بھی جائیگی اور میں تمسے بوہت ساری باتے بھی کر پاؤنگی کیکی یہا کسیس کو جڑا جنتی نہی ہو تو بھور ہو جاتی ہو تو پلز تم رک جاؤ” میں سماج گئی تھی کہ اسمیں شرمضی کا کوئی نیا پلان ہے.

میںنے رمیش سے پوچھا اور انہوںنے مجھے رکنے کو بولا اور میں سماج گئی کہ آج جو میرے ساتھ ہونے والا ہے اسے کوئی نہی روک سکتا تھا 2 مین بعد رمیش وہا سے نکل گئے اور انکے بہر جاتے ہی شرما جی نے میرے بوبس کو پیچھے سے دبا لیا اور زور زور سے مثال نے لگے انہوںنے اپنی پتنی کے جانے کا بھی ویٹ نہی کیا, ادھر سے آنند آیا اور میرے صدی اوپر اٹھائی اور میرے چھٹ مے اپنی 3 انگلیا دال دی اور زور زور سے انڈر بہر کرنے لگا,میری چھٹ سے زورو کا پانی چھٹ رہا تھا..تابھی شرما جی نے اپنی پتنی کو پاس بلایا اور اسے 1000 رس کا نوٹ دیا اور کہا “ناٹک کرنیکے لیا تھانکس اب تو نکل ہمیں اس رانڈ کہ گرمی نکلنی ہے”…..

تب مجھے پتا چلا کہ وہ شرماجی کہ پتنی نہی تھی یہ سب ایک ناٹک تھا مجھے رات میں اپنے گھر پر روکنے کا…..اپنی نقلی پتنی کے جاتے ہی شرماجی اور آنند کو کوئی روکین والا نہی تھا وہ ڈوڈ بالکل پاگل ہو گئے تھے انہوںنے مجھے اٹھایا اور سائڈ رکھے بیڈ پر لیٹا دیا اور میرے مہ بیڈ کے سائڈ سے نیچے لٹکا دیا اتنی در میں ڈون نے اپنے کپڑے پوری ترہا سے اتر دیے تھے اور اپنے لمبے لمبے لنڈ میرے مہ کے سامنے لک میرے فیس پر مرنے لگے…انکے موتے اور لمبے لنڈ ایک روڈ کہ ترہا میرے مہ پر لگ رہے تھے آنند نے اور شرما جی نے ایکے ک کرک میرے مہ میں اپنا لنڈ گھسنا شرو کیا اور تیج سے انڈر بہر کرنے لگے…انکے لمبے لنڈ میرے گل تک جا رہے تھے اور میرے اکھو سے اسو بھی آ رہے تھے….

شرم جی اپنی پوری دم سے میرے مہ میں اپنا لنڈ فورس کر رہے تھے اور بیچ بیہس میں میری چچیا بھی دبا رہے تھے کافی در تک ایسا کرنے کے بعد وہ دونوں رک گئے اور مجھے سیدھے بتا دیا…میں زور زور سے خاص نے لگی اور وہ دونوں میری ایسی حالت دیکھ کر ہس رہے تھے… “یہ تو سب سٹارٹ ہے جان ابھی تو بوہت کچھ کرنا ہے تیرے ساتھ” آنند بولا.

میری سارے ابھی تک پوری ترہا سے نہی اتری تھی ان لوگو کو مجھے ایسی سکمپی ساری میں دیکھ کر بوہت مج آ رہا تھا پر اب وہ ٹائم آ گیا تھا شرما جی نے مجھے بیڈ سے نیچے اترا اور میرے ساری کو پوری ترہا کیچ کے اتر دائے اور میں انکے سامنے بس ایک پینٹی اور برا بلاؤس میں کھڑی تھی…وہ دونوں مجھے ایسے ڈیلک کر پاگل ہو گئے دونوں میری طرف آئے اور میری برا اتری اور دونوں میرے ایکے ک بوبس کو بوبس کو جانوروں کہ ترہا چسنے اور کٹنے لگے..آہ سی آہ پلج پلج درد ہو رہا ہے میں چلتی رہی پر انہے کوئی فرک نہی پڑا انجے چوسے اور کٹنے سے میرے بوبس پورے لال ہو گئے تھے اور انپر ان دن کے داتو کے نشان تکا آ گئے تھے

تھوڑی اور در بعد میرے بوبس کو گھیل کرنے کے بعد آنند نے مجھے اپنی گود میں اتایا اور اپنا لنڈ میری چھٹ پائے رکھا اور مجھے اوپر نیچے کرنے لگا….

اسکا موٹا لنڈ میری چھٹ کو بوہت مجے دے رہا تھا میںنے ایسا سیکس رمیش کے ستھ کبھی نہی کیا تھا میں 2 من کے انڈر انڈر ہی میرا پانی چھٹ گیا ہا اور میں اسکے پورے پورے مجے لے رہی تھی اہا آہ کرکے مجے لے رہی تھی کبھی وہ آہ آہ آہ کہ موننگ درد میں بادل گئی کیکی شامراجی نے پیچھے سے آکے اپنا لنڈ میرے گنڈ میں گھس دیا اور اب دونوں مجھے ایک ریتھیم میں چھوڑ رہے تھے…مجھے مجے بھی آ رہے تھے پر ستھ کہ ساتھ بوہت درد بھی ہو رہا تھا..

ان دونوں نے بیچ بیچ میں پازٹن چنگے کہ اور باری باری میری چھٹ اور گنڈ دونوں ماری ایک پازٹن تو ایسے ہی جسمے دونوں لنڈ میری چھٹ میں تھے اور میں درد کے میم زور زور سے انہے رکنے کو بول رہی تھی پر آہ پلج آہ بوہت پین ہو رہا تھا پلج رک جاؤ آہ س پر وہا میرے ڈارک کہ کوئی سنوائی نہی تھی…

کافی در تک چھوڑنے کے بعد انہوںنے مجھے اپنے کنیس پر بتیا اور سرا مٹھ میرے مہ پر مر دیا…میرا پورا فیس ان ڈون کے موٹھ سے بھر گیا تھا میرے بال اور فیس دونوں ماؤ چلا گیا تھا….اب رات مے 11 باج چکے تھے اور انکے مٹھ نکلا نے کے بعد مجھے لگا اب مجھے تھوڑا ریسٹ ملیگا پر ایسے کچھ نہی ہوا… آنند نے مجھے میری ساری پہنے کو بولا لیکن بنا پینٹی برا کے….

میںنے جیسے اسنے کہا ویسا ہی کیا اس پنک ساری کے میری بوبس اور چھٹ صاف دھکاہییں دے رہ تھی ان دونوں نے اپنا فون نکلا اور میری پکس اور وڈیوس لےنے لگے وہ میرے الگ الگ پوسے میں بوہت ساری پکس لے چکے تھے انل کے پاس بھی میری بوہت ساری پکس اور وڈیوس ہے جسمے میں اسکی کٹیا بنی ہوئی ہو…..اب پھوٹو سیشن خاتم ہونے کے بعد آنند نے مجھے اٹھایا اور اوپر 2ند پھلور کہ طرف مجھے لے جانے لگا…مجھے لگا وہ مجھے اپنے روم میں لے جا رہا تھا پر اسکا کچھ اور پلان تھا وہ مجھے شرماجی کہ ٹیریس پر لے گیا وہا 2-4 چیرس اور ایک ٹیبل راکھی ہوئی تھی میں سماج گئی تھی اب یہا میرا اور کام ہونے والا ہے …

تابھی شرما جی وہا 2 چھوٹے سپیکر اور 1 بوتل دارو اور گلاس لیکے اوپر آگیے “وہ پاپاجی کیا بات ہے آج اس رنڈ کو اصلی کوٹھے والی رانڈی بنا دینگے” شرماجی اور آنند وہا چیرس پر بیٹھ گئے اور مجھے اپنے پاس بلایا اور اپنا اور آنند کا پیگ بنویا انڈوں نے اپنے پیگ سے پینا شرو کیا اور ادھر کے مسلا در گنا چلا دیا “اب تو یہا ناچے گی جب تیرے ہم تیرے باقی اشقو کا انتظار کرتے ہے….. ناچا میری رنڈ”…

میں اس گنے پر ہلکے ہلکے اپنی کمر مٹکانے لگی اور پر انکے لیے وہ کافی نہی تھا شرماجی اٹھا کر میرے پاس آئے اور میرے گال پے دو تین تھاپد دیے اور کہا “سلی کٹیا ایک صلی رنڈ کہ ترہا ناچا ورنہ تجھے پوری کالونی کے سامنے ایسے ہی ننگا گھموگا سمجھی” میری آنکھوں مے آسو آ چکے تھے پر میرے پاس اور کوئی آپشن نہی تھا…میں زور زور سے گنو پر اپنی گنڈ اور کمر مٹکانے لگی اور وہ ڈونا اپنی دارو مستی سے پے رہے تھے…وہ ڈونا جانوروں کہ ترہا دارو پے دارو پیے جا رہے تھے اور مجھے گالیاں دیکے اور اچھے سے ناچنے کو بول رہے تھے…

تابھی آنند نے مجھے اپنے پاس بلایا میرے بال پکڑ کے میرے مہ اوپر کیا اور دارو کہ بوتل میرے مہ پے لگا دی اور مجھے دارو پیلانے لگا…کچھ در دارو چڑھنے کے بعد مجھسے جھیلا نہی گیا اور میںنے بوتل مہ سے ہٹا دی اور زور زور سے خاص نے لگی…

اسکی کافی ساری دارو میری صدی پر اور بوبس پر گر گئی… “سلی رنڈ جب تک میں آ کاہو یہ بوتل تو نہی ہٹیگی سمجھی” اور ایسا بول کے مجھے پکڑا اور پھر سے بوتل میرے مہ پے لگا دی اور آدھی خالی کر دی. تھوڑی در بعد مجھے اس دارو کا نشہ ہونے لگا اور اب میں بنا کسی پرابلم کے انکے سامنے ناچ رہی تیب اینا کسی پرابلم.

تابھی شرما جی نے مجھے پکڑا اور ٹیریس کہ گرل کے پاس لیگیے اور میرے ہاتھ گریل سے بندھ دیے اور پیہے سے میری گنڈ چھٹ میں اپنا لنڈ گھس دیا اور مجھے چھوڑنے لگے….نیچے سے گزر تے ہوئے 2-4 لوگو نے مجھے دیکھ لیا پر مجھے ناشے میں کوئی فرک نہی پر رہا تھا..

اب ٹائم کچھ 12 ہو گیا ہا کے تابھی وہا انل اور اسکے 3 دوست آ پہچے انل میرے پاس آیا اور میرے ہاتھ کھولے اور میں انل لو دیکھ کر اپنے پر کنٹرول نہی کر پایی اور جاکے اسے گل لگا لیا انل نئی مجھے زور سے گل لگایا اور شرماجی اور آنند کہ طرف دیکھ کر سمت کرنے لگا “میری رنڈ کے پورے پورے مجے لے رہے ہو سر جی” انل بولا.

“تیری رنڈ سے بڑی رانڈی ہمیں آج تک نہی دیکھی” آنند بولا. انل نے میری گنڈ پر ہاتھ پھریا اور پھر میرا مہ پڑک کے بولا “کیو رنڈ تہمے اتنی ہمت کہا سے آ گئی کٹ ا مجھفون پر سنا رہی تھی بھول مت تو میری رنڈ ہے اور میں جو چو تیرے ساتھ جر سکتا ہو” اتنا بول کے انل نے میرے بال پکڑ اور زور سے پیسیہ کھیک دیے “سمجھی??” “ ہا ہا میں سماج گئی میں تمہاری رنڈ ہو تم جو چو میرے ساتھ کر سکتے ہو” پھر انل نے مجھے میرے کنیس پر بتا دیا اور میں سماج گئی کہ مجھے کیا کرنا ہے…میںنے انل کا پنت کھولا اور اسکا لنڈ نکل کے اسکی رنڈ کہ ترہا چس نے لگی….

کچھ ہی در پیچھے سے کسی نے میرے ہاتھ بنڈ دیے اور پھر میرے فیس 6 موتے موتے لنڈو سے گرا ہوا تھا جنہے میں ایکے ک کرکے چس رہی تھی وہ میرے بال پکڑ کر زور زور سے اپنا لنڈ میرے مہ میں گھس رہے تھا….

انل نے میریبال پکڑے اور مجھے گھست کے گھر کے بہر لے آیا اسکے ساتھ باقی سارے لوگ بھی آ گئے پھر مجھے لگ بھاگ ایک گھنٹے تک شرماجی کے گھرکے سامنے روڈ پر چھوڑا گیا اور…. بعد مجھے کالونی کے پارک میلے گئے اور گھاس پر لیٹا کے میرے ہاتھ پیر باندھ کر مجھے سجاردست طرکے سے چھوڑ گیا میرے چلینے کہ اواز پور کالونی میں گنج رہے تھی……آہ آہ آہ آہ آہ آہ اور آنند یہ سب رکارڈ کر رہا تھا.

وہ لوگ پوسے بادل بادل کر میرے ہر چھیڑ کو چھوڑ رہے تھے تو کبھی کبھی ایک ہی چھیڑ میں دو دو لنڈ بھی گھس رہے تھے…آخر میں شرما جی کی بات سچ ہو گئی او لوگ مجھے ایسے چھوڑ رہے تھے جیسے آج تک کسی سے نہی چھوڑا تھا…..

یہ کام رات کے 3 بجے تک چلتا رہا جہا مجھے کالونی کہ ہر روڈ اور پارک میں چھوڑا گیا تھا. 4 بجے تک میں پورے طرکے سے بےہوش ہونے والی تھی تب مجھے اٹھا کے انڈر لے جیا گیا.

اب تک میرا پورا مہ انکے موٹھ سے بھر گیا تھا رات رات میں میںنے لگبھگ 6-7 بار انکا موٹھ پیا ہوگاور نا جانے کتنی بار میری چھٹ کا پانی چھوٹ ہوگا… انکا موٹھ میرے باڈی کے ہر چیڑ میں سے نکل رہا تھا…انڈر آنے کے بعد وہ مجھے باتھروم میں لے گئے اور ایکے ک کرکے پھر شاور میں میری چھٹ اور گنڈ ماری.

سب کچھ خاتم ہونے کے بعد سبھا 6 بجے انہوںنے مجھے گھر بھجے دیا میں ابھی بھی تھوڑے تھوڑے ناشے میں تھی اور میری باڈی زور زور سے پین کر رہی تھی پر مہیش نے میری ایسی حالت دیکھ کر پوچھا تو میںنے بولا کہ و میں رات بھر شرماجی کہ بیٹی سے ببتے کر رہی تو سوئی نہی اسیلئے تھکی ہوئی لگ راگو ہو,,,اور رمیش من گئے,…مہیش کے آفس جانے کے بعد میںنے سوچا کہ اب میں تھوڑا ارم کرونگی پر تابھی گھر کہ بیل باجی اور شرما جی اور آنند گیٹ پائی کھڑے مسکرا رہے تھے…..!!! تھے اینڈ

ای’ل پوسٹ تھے نیکسٹ پارٹ سون. اف یو ہوے انیہ سگیسٹان, کویسٹان اور کمینٹ پلس آن نہبرو@گمیل.کام ای عام واٹنگ فار یور پھیڈبک.

-0-0-0-

یہ میری سٹوری کا تھرڈ پارٹ ہے جمسے کہ میں بتاؤنگی کہ کس ترہا میری سوسائٹی ایکے ک نیتا ٹایپی ایڈمن اور اسکے دوستو نے رمیش کہ غیر موجدگی میں ایک ویک کے لیے اپنی رنڈ بنایا اور جو انکی مرضی آئی وہ میرے ساتھ کیا جسمے کہ شرما جی اور انل کا بھی ہاتھ تھا.

جس ترہا سے میں پہلے انل کہ پرسنل رنڈ تھی اب اسی ترہا مجھے شرما جی بھی اپنی رنڈ کہ ترہا اسے کرتے ہے وہ مجھے اپنے گھر بلتے ہے خوب بری ترہا سے چھوڑتے ہے اور نا جانے کیا کیا نہی کروتے. اور اوپر سے انل جو مجھے اپنے لنڈ کا دیوانا بنا چکا ہے اور مجھے خوب چھوڑتا ہے اور یہ بات اب سوسائٹی میں کافی فیل چکی ہے.

سٹوری پر وسپس آتے ہے.
وہ 31 ڈسیمبر کہ رات تھی اور ہماری کالونی میں نیو ایئر پارٹی آرگنج کاری جا رہی تھی اور سبھی لوگ انوئٹیڈ تھے, اور اب میں اب شرما جی کہ اتنی بڑی رنڈ بن چکی تھی کہ میں کپڑے بھی انکے حساب سے ہی پہنتی تھی…تو اس بار انہوںنے مجھے صرف کے برا اور ساری پہنے کے آنے کو بولا ہے. “آج رات تو بس ایک بلیک ساری اور اسکے انڈر ایک پنک برا پہیں کے آنا ہے اور ودوٹ انیہ پینٹی..سمجھی?” ہا ٹھیک ہے شرماجی آپ جیسا کہے” میںنے شرما جی کے مسگ کا ریپلی کیا. ج

ایسے ہی شام آیو ہم پارٹی کے لیے ریڈی ہونے لگے اور میںنے جیسے بولا گیا تھا اسی ترہا ریڈی ہوئی اور ایک ٹرانسپیرینٹ بلیک ساری پہیں لی اور جسکے انڈر ایک شننگ پنک برا تھی جسمے میرے بوبس صاف صاف دکھ رہے تھے….اب تو رمیش کو بھی عادت ہو گئی ہے مجھے اسی رانڈیو کہ ترہا ریڈیہ کرکے بہر لے جانے میں…اب ہم جب پارٹی میں پوہاکے وہا کافی لوگ تھے پر ایک بھی ایسا ایڈمن ہی تھا جسنے مجھے گھر کے مجھے نہی دیکھا,,کچھ در بار شرما جی اور انکا سون-ان-لا وہا آئے اور ہمسے باتیں کرنے لگے…

امن شرما جی کا سون-ان-لا نے مجھے رمیش کے سامنے ہی زور سے ہگ کر دیا اور دھیرے سے میری گنڈ بھی دبا دی تھی….پھر کچھ در باتے کرنے کے بعد اندونوں کو پتا چلا کہ کل رمیش اپنے آفس کے کام سے 1 ہفتے کے لیے بہر جا رہے ہے…اندونوں کے فیس پر ایک بڑی سے سمت آ گئی تھی اور میں سماج گئی تھی کہ میرا اگلا ویک کشی جانے والا ہے تھوڑی در کے انڈر انڈر امن نے رمیش کو اپنی باتوں میں فاسا کے اپنے ساتھ لے گیا اور مجھے شرماجی کے ساتھ اکیلا چھوڑ دیا….اب میں اور شرماجی اور میں وہا اکیلے کھڑے تھے اور وہ مجھے گندی نظرو سے گھر رہے تھے..تابھی وہ میرے پاس آئے اور میرے گل میں ہاتھ ڈالا اور بولی “چل رنڈ تجھے انلوگو سے ملواتا ہوں جنکے لیے تجھے ایسے رانڈی کہ ترہا ریڈی کرویا ہے میںنے” اتنا بول کے وی مجھے پارٹی ک ایک دوسرے سائڈ کے کونے میں لے گئے جہا 2-3 لوگ گروپ میں کھڑے تھے اور ہاتھ میں گلاس لیکر کھڑے تھے…میں انمیں سے 2 آدمی کو پہچان گئی تھی وہ دونوں میری ہی سوسائٹی میں رہنے والے تھے اور تھوڑے پالیٹیسینس ٹایپی کے آدمی تھے.

شرما جی مجھے وہا لے گئے اور انسے انٹروڈس کرایا “ سر جی یہ وہی لڑکی ہے جسکے بارے میں اپکو بتایا تھا….ہماری پرسنل رنڈ..اسکا پتی کہی اور ہی گھوم رہا ہے اتنی ہاٹ رنڈ جیسی بیوی کو یہا چھوڑ کے” اتنا سنتے ہی انلوگو کے مہ پر حسی آ گئی تھی اور جس ترہا شرما جی نے مجھے انٹروڈس کیا تھا میں شرم سے لال ہو گئی تھی….

تابھی انمیں سے ایک آدمی میرے پاس آیا اور میری ننگی کمر پر ہاتھ رکھ دیا اور سہلانے لگا..اسنے اپنا ڈرو کا گلاس میرے ہاتھ میں دیا اور پینے کو بولا “شرماجی یہ مال تو بوہت صحیح ہے ہمارے ساتھ جانے کو تیار ہوگی یہ کہ نہی” اسنے میری صدی کے اوپر سے گنڈ بدبتے ہوئے پوچھا….”آپ کھدی پوچھ لیجئے نا سر جی” شرما جی بولی. “بول چنلا ہے ہمارے ساتھ” اسنے میری گنڈ زور سے بڑا کے پوچھا پر میںنے شرم کہ وجھا سے کچھ نہی بولا اور چھپ رہی….اسنے ایک اور بار پوچھا پر اس بار اپنا ہاتھ میری گنڈ سے ہٹا کر اسنے اپنا ہاتھ میری برا کے انڈر دال دیا تھا اور میرے نپل سے کھیل رہا تھا پھر اسنے دھیرے دھیرے میرے نپل کو دبنا شرو کیا اور مجھسے چلنے کہ بار بار پوچھ تا رہا میںنے اسے پیچھے ہٹنے کہ کوشش کہ پر تابھی اسنے میرے نپل اتنی زور سے دبنے لگا اور میری چیک نکل گئی آہ سیہ آ اہاہاہہاہ آہ پلج ابھی مت کریے کوئی دیکھ لےگا آہ پر اسنے میری ایک نہی سنی اور اور زور سے میرے نپلس مسلنے لگا….میرے اکھوں سے آسو آ گئے تھے اوے پھر پھنلی میںنے گو اپ کر دیا “ہا ہا آہ چلونگی میں آپکے ساتھا پلج آپ جہا کہیگے وہا چلونگی پر پلج ابھی بس کریے بوہت درد ہو رہا ہے” میرے اتنا بولتے ہی انکے فیس پر بوٹ بڑی سمت آ گئی اور اسنے اسکے ساتھ والے 2 ایڈمیوں سے جوئن کرنے کو بولا “سر آپ چلیے ہم تھوڑی در میں جوئن کرتے ہے” ایسا بول کے وہ دونوں وہا سے نکل گئے.

وہ آدمی ابھی بھی میری برا کے انڈر اپنا ہاتھ ڈالے ہوئے تھا “تانک ا شرماجی فار تیس گفٹ” اسنے میری طرف دیکھ کر بولا “انیٹائم سر” شرماضی بولی. اتنا بول کے وہ وہا سے چلے گئے اور آدمی مجھے اپنے ساتھ لے جانے لگا….وہ مجھے پارٹی کے کونے کونے کے ہوکے اپنے گھر کہ طرف لے گیا اور پھر ڈائریکٹ گھر کے انڈر غوسا لیا. ہم دونوں سیدھے اسکے گھر کہ 3 پھلور پر پوچھوک گئے جہا ایک بڑا سا روم تھا جسمے سب کچھ تھا اور اس روم کہ بالکنی سے پوری پارٹی جا نظرا دک رہا تھا…وہ مجھے اسکا نام بھی پتا چلا “سننی” جو کہ اسکا نک نام تھا. سننی نے پھر مجھے بالکنی سے چپکا کے کھڑا کیا اور پیچھے سے میری صدی اتر کے سائڈ پھیک دی اور پیچھے سے میری چھٹ میں پھاسٹ پھاسٹ پھنگرنگ کرنے لگا آہ آہ آہ میں ہلکا ہلکا مون کر رہی تھی ڈیرے ڈیرے اسکے ایک سے 2 اور 2 سے 3 اور 3 سے انگلیاں میری چھٹ میں دال دی اور جب چار انگلیاں میری چھٹ میں گئی تو میرا ہال خراب ہو گیا اور میں زور زور سے چیک رہی تھی….

اگگھگھگھ ہگھ سیا اہاہ میری چھٹ سے لگتا پانی نکل رہا تھا اور میری پوری باڈی کاپ رہی تھی. میری اواز شیاد نیچے تک جا رائے تھی کیکی کچھ لوگ بار بار اوپر کہ طرف دیکھ رہے تھے کافی در تک پھنگرنگ کرنے کے با دب تک مائی 2 بار پانی چھوڑ چکی تھی اور کچھ در بعد سننی نے مجھے اٹھایا اور پاس رکھے سوفے پر بیٹھا دیا اور اپنے کپڑے اتر دیے اسکا موٹا لنڈ جب بہر نکلا تو میں اسے دیکھ کر سرپرائج ہی گیی تھی وہ انتا موٹا اور بوہت بڑا تھا اور ایک دم آئیرون روڈ کہ ترہا ٹائٹ تھا, پھر وہ میرے پاس آیا اور میرے بال پکڑ کے مجھے کھیچ کے میری پیٹھ سوفے کا ارم ریسٹ پر رکھ دی اور میرا ہیڈ نیچے لٹکا دیا اور پھر اسنے میرے فیس اپنا موٹا لنڈ دو چار بار مارا وہ مجھے ایک ڈانڈے کہ ترہا پھیل ہو رہا تھا پھر وہ اپنا لنڈ میرے مہ کے پاس لایا اور انڈر گھس دیا اسکا آدھ لنڈ بھی آسانی سے میرے مہ ما نہی جا پا رہا تھا, پر اسے اس بات سے کوئی فرک نہی پڑا اور اسنے پوری دم لگا کے میرے مہ مے اپنا لنڈ گھس دیا اور گلے تک دلنے لگا…. گگھگ گہاگگہا گگگےگ گہاگگہا گگگےگ گہاگگہا گگھگ گہاگگہا گگگےگ گہاگگہا گگگےگ گہاگگہا کرکے میں اوازے نکل رہی تھی جب اسکا موٹا لنڈ میرے گلے کہ انڈر تک جر رہا تھا. 20 مین تک ایسے چھوڑنے کے بعد اسنے اپنا لنڈ بہر نکلا اور میں زور زور سے خاسنے لگی اور پانی پینے کے لیے اٹھی تابھی مجھے ایک دوسرے 2 ایڈمیوں نے مہے پکڑا اور واپس اسی پازٹن میں گرا کر پھر سے اسی ترہا میرے آدھے گھنٹے تک میرے مہ میں لنڈ ڈالا میری شینیہ پنک برا میرے ڈرولنگ سے اب تک پوری گلّی ہو چکی تی پر ان لوگو نئی میری صدی ابھی تک نہی اترائی تھی, پر تھوڑی در میں وان ہی چنگے ہونے والا تھا ….!!

اب پارٹی کفی زورو سے چل رہی تھی اور سب مجے کر رہے تھے…اور اوپر ہم اپنے الگ مجے کر رہے تھے. اب سننی نے مجھے سوفے سے اٹھایا اور میری ساڑی اتر کے سائڈ میں پھیک دی میںنے ہمیشہ کہ ترہا کوئی پینٹی نہی پہنی تھی اور وہ لوہیے دیکھ کر بوہت خوش ہوئے, وہ لوگ اب میری اچھے سے ٹھکئی کرنے کو تیار تھے. سننی نے مہے سوفے سے اٹھایا اور خود اس پر بیٹھ گیا اور مجھے پیچھے کھیچا اور سوفے پر کھڑے ہونے کو بولا.میں سوفے کہ سیٹ پر چھپ چھاپ کھڑی ہو گئی اور پھر اسنے میری کمر پکڑی اور نیسیہ بیٹھا دائے اور اپنا موٹا لنڈ میری گنڈ کے چیڑ پر لگا دیا اور پھر مجھے اس پر اچل نے کو بولا. میں بنا کچھ بولی اسکے لنڈ پر دھیرے دھیرے اچلنے لگی اور آہ آہ کہ اوازے نکل نے لگی پھر سننی نے پیچھے سے اپنا ہاتھ میرے بوبس پر رکھا اور انے زور زور سے دبنے لگا اور میں ….آہ سدیسا کرکے چکنے لگی.

“بھوسدکی رنڈ یہ تیرے پتی کا لنڈ نہی ہے چھوٹا سا ہو جو اتن کم اچنے لر انڈر چلا جائے……زور زور سے اچل رنڈ سلی پورا لنڈ انڈر جانا چائیے ورنہ سڑک پر ننگا کریک بھیج دونگا تجھے تیرے پتی کے سامنے” ایسا بلوک سننی نے میرے بوبس اور زور سے بڑیب اور میں زور زور سے اسکے لنڈ پر اچل نے لگی اور اسکا پورا 9 اینچ کا لنڈ اپنی گنڈ میں لےنے لگی,اب وہا تاپ تاپ تاپ کہ اوازے آ رہی تھی اور میں اہا ہ کرکے خوب چلا رہی تھی…..10 مین لگتر اچلنے کے بعد میں رک گئی کیکی میں بوہت تھک گئی تھی…پر سننی کو میرا رکنا پسند نہی آیا اور جیسے ہی میں رکی اسنے میرے گال پر 5-6 تھاپد مر دیے. “سلی رنڈ تجھے رکنے کو کسنے بولا ہے…رک ابھی تیری گنڈ پھڈ تا ہوں” اتنا بول کر اسنے میرے لیگس کنیس سے پکڑے ر اوپر ہوا میں اٹھا لیے اب میری گنڈ کا چھیڑ سامنے کہ طرف آ گیا تھا اب اسنے اپنا لنڈ میری گنڈ میں ڈالا اور پھر ان دونوں ایڈمایوں کو وہا بلایا….

میں سماج گئی کہ اب ایک آدمی میری چھٹ بھی مریگا پر ایسا نہی تھا…ان میں سے ایک نے اپنا لنڈ نکلا اور میرے گنڈ کے چیڑ پر ہی رکھا اور انڈر گھسنے لگا میں در کے مارے اٹھ کے کھڑی ہوئی “پلج پلج ایسا مت کرو اب میں جیسا آپ کہوگے ویسا کرونگی پلج بوہت در ہو رہا ہے پلج” میں انسے بولنے لگی پر انپر کوئی فرک نا پڑا. سننی نے مجھے واپس سے پکڑ کے اسی پازٹن میں واپس لے آیا اور میرے گنڈ میں لنڈ دال دیا اور پھر ان دونوں میں سے ایک نے اپنا لنڈ میرے گنڈ کے چیڑ پر رکھا اور انڈر گھس نے لگا اور دھیرے دھیرے وہ انڈر بھی چلا گیا ر جیسے جیسے دوسرا لنڈ میری گنڈ میں جر آہا تھا میری چیک نکل رہی تھی آہ سیہ آ اہاہاہہاہ آہاہ سیہ آ اہاہاہہاہ آہ نہہی آہ پلج آہ ہاہا ہاہاہ ہاہا ہا آہ آہ مت کرو ایسا آہ پلج میں چیک رہی تھی پر ان پر کوئی فرک نہی پڑا اور وہ اپنی سپیڈ اور بڑنے لگے.

اب میری گنڈ میں 2 موتے موتے لنڈ گھسے ہوئے تھے اور میری گنڈ کا چیڑ بوہت چھوڑا ہو گیا تھا میں زور زور سے چیک رہی تھی. میں درد کے مارے ماری جا رہی تھی اور تابھی میرے درد اور بڑنے لے لیے سننی بولا “ ارے گپت جی آپ بھی آ جائیے اب اس رنڈ کا ایک چھیڑ اور بھی خالی ہے” “بالکل سر جیسا آپ کہو” گپت جی بولی. ایسا بول کے وہ وہا آئے اور اپنا لنڈ سیڈے میرے چھٹ میں انڈر گھس دیا. اب تو میرے حالت بوہت خراب ہو گئی تھی اور میں اور زور سے چلا نے لگی تھی ناہہہی آہ س پلج میں اٹھنے کہ پوری کوشش کر رہی تھی پر مجھے 6 سٹرونگ ہاتھو نے پکڑ رکھا تھا اور اب میری چڑائی پوری سپیڈ میں چل رہی تھی اور وہ میرے پورے پورے مجے لے رہے تھے. گھنٹہ بھر مجھے ایسے چھوڑنے کے بعد انہوںنے مجھے میرے کنیس پر بتا دیا اور اپنا سارا موٹھ میرے مہ میں بھر دیا اور پینے کو بولا اور میں چھپ چھاپ انکے موٹھ کو پی گگائی.

“پلج سر اب مجھے جانے دو میری پتی گھر پر آ گئے ہوںگے پلیج پکز” میں انسے ریکویسٹ کرنے لگی “رنڈ تجھے اتنی جلدی کیسے جانے دے ابھی تو شروعات ہے سلائی” سننی نے بولا پر میںنے پھر ریکویسٹ کہ “پلیج مجھے جانے دو میرے پتی کو پتا چل گیا ٹوپرابلم ہو جائیگی پلج” “چل ٹھیک ہے ابھی تو جا سکتی ہے پر کل جب تیرا پتی ہفتے بھر لے لیے چلا جائے تو چھپ چھاپ یہا آ جانا, ابھی تیرے ساتھ کرنے کے لیے بوہت چیزے باقی ہے” ایسا بول کے سننی نے میرے بوبسپکدے اور پوچھا “آئیگی نا” میںنے پہلے تو کچھ نہی بولا کیکی مجھے پتا تھا میں ایک بار یہا آ گئی تو یہ لوگ ایک ہفتے تک مجھے بنا رکے چھوڑینگے اور میری حالت خراب کر دینگے. “بول رنڈ” سننی نے چلایا اور میرے نپلس مسلنے لگا آہ ہہی آہ ہا ہا میں پکّا آؤنگی بت پلز ابھی مجھے جانے دو. اسنے مجھے چھوڑ دیا اور میںنے اپنی ساری اٹھائی اور لاڈلی سے پہیں لی اور جیسے ہی اپن برا اٹھائی تو سننی نے مجھے وہ چین لی بولا تو بنا برا کے ہی یہا سے جائیگی رنڈ. میں اسے پھر سے پلز پلز کرکے ریکویسٹ کرنے لگی اور تابھی اسنے میرے بال پکڑے اور مجھے گھاست کے نیچے لے گیہ اور گھر سے بنا برا کے ہی بہر نکلا دیا اور گیٹ بند کر لیا. میںنے دیکھا کہ اب پارٹی بالکل خاتم ہو چکی تھی اور رات کے 12 باج گئے تھے اور وہا بس لبور تھی وہ سمن صاف کر رہی تھی…میںنے جلدی سے اپنی صدی کا دوپتا ڈبل کرکے بوبس پر ڈالا اور گھر بھاگی.

جیسے ہی میں گھر پوہوچی میںنے دیکھا وہا انل, شرما جی اور آنند وہا پہلے سے ہی ہے اور رمیش وہا دارو کے ناشے میں پڑے تھے…..جیسے ہی میں انڈر گئی “دیکھ تیرا پتی تو پے پ ایکے لڈکا گیا اب تیرے کیا ہوگا” شرم جی بولی اور پھر جو ہونا تھا وہی ہوا ا تینو نئی رات بھر مجھے چھوڑا وہ بھی رمیش کے باغل میں لیٹا کر میںنے انہے بتایا کہ سننی کے گھر پر میرے ساتھ کیا ہوا اور پلج مجھے چھوڑ دو پر انہوںنے نہی سنی اور مجھے سہبھا 4 بجے تک چھوڑا اور بوہت ساری وڈیو اور پھوٹو بھی لی. اور انہوںنے مجھے بولا بھی کہ کل رمیش کے جاتے ہی سننی کے گھر پوچھوک جو.میںنے ہا بول دیا تھا. اب سبھا سبھا میری اور رمیش دونوں کہ نیند بوہت لتے کھلی انکی ڈرو کہ وجھا سے اور میری جو رات بھر گنڈ پھڈ چڑائی ہوئی تھی اسکی وجھا سے. سبھا اٹھتے ہی رمیش نے اپنے 7 ڈیس کے ورک ٹرپ پر جانے کہ تیاری شرو کر دی, انہوںنے اپنا سمن پیک کیا اور باقی ساری ضروری کام کیے.

جیسے جیسے انکے جانے کا ٹائم پاس آ راہ تھا میری دل کہ دھڑکن اور بھد رہی تھی کیو کہ مجھے سننی کے یہا جانا تھا اور چوڑنا تھا پر کل جو انہوںنے مجھے بری ترہا سے چھوڑا تھا اسکے بعد میں انکے پاس واپس نہی جانا چتی تھی اور پورے 7 دن کے لیے تو بالکل بھی نہی. مجھے پتا تھا کہ اگر میں وہا گئی تو وہ لوگ مجھے کیسے کیسے ترہا سے چھوڑینگے میں امینجنے بھی نہی کر سکتی ہوں تھی…وہ میںنے تب ڈیہائڈ کیا کہ میں سننی لے یہا نہی جاؤنگی اور گھر پر ہی رکونگی. 7 بجے کے اراؤنڈ رمیش نکل گئے اور میں اپنے روم میں جاکے سو گئی اور پھر میری نیند رات کو 12 بجے کے اراؤنڈ کھلی کیکی کوئی دور بیل بجا رہا تھا. میں سماج گئی کہ یہ مجھے چھوڑنے والو میں سے ہی کوئی اتنی رات کو یہا آئیگا میں بیڈ سے اٹھی اور گیٹ کھولنے گئی..میںنے دیکھا کہ وہا شرما جی,انل اور آنند تینو کھڑے تھے اور وہ مجھے غسی سے دیکھ رہے تھے اور میں سماج گئی کہ اب میرے ساتھ کچھ برا ہونے والا ہے…..میںنے جب گیٹ کھولا تو وہ تینو انڈر آ گئے اور مجھے غسی سے گھر نے لگے اور میںنے دیکھا کہ انل کے ہاتھ میں ایک سپنکنگ بیلٹ ہے میں اسے دیکھ جر بوہت در گئی کیکی مجھے پتا تھا کہ اسکا اسے میرے اوپر ہی ہونے والا ہے

..پھر شرماجی آگے بھڑے اور زور سے میرے بال پکڑ لیے اور بولی “کیو سلی رانڈد ہمنے تجھے بولا تھا نا کہ اپنے پتی کے جاتے ہی سننی سر کے گھر پوہاک جانا اور تو یہا مجے سے سو رہی ہے, کیو نہی گئی وہا رنڈ” اتنا بول کے شرماجی نے 5-6 تھاپد میرے گال پر زور زور سے مارے اور اور پھر پوچھا “ بول وہا کیو نہی گئی سلی تیری اتنی ہمت ہو گئی کہ تو ہراری بات نہی منیگی ہہ” اور پھر سے 5-6 تھاپد دیے. “کل رات انہوںنے نے اور آپ لوگو نے مجھے بوہت بری ترہا چھوڑا تھا اور میں درد کے مارے چل بھی نہی پا رہی تھی تو میںنے سوچا میں کل سننی سر یہ یہا چلی جاؤنگی پلج مجھے معاف کردو پلج” میں شرماجی سے سننی کے گھر نا جانے کے لیے سوری منگے لگی. “اچھا درد کہ وجھا سے تو وہا نہی گئی رنڈی تو تو اب رک اب ہم تجھے بتتے ہے اصلی درد کیا ہوتا ہے رک تو” اتنا بول کے شرماجی اور باقی دونوں مجھے انڈر لی آیے اور سیدھے بیڈ روم میں لے گئے انڈر جاکے انل نے شرما جی سے پوچھا “کیا سجا دی جائے اسی سر اپ بتاؤ” “ اس رنڈ کو بیڈ پر لٹاؤ پھر میں اسی بٹاتا ہوں” شرما جی بولی.

انل نے مجھے اٹھایا اور بیڈ پر زور سے پٹک دیا میں اپنے پاتے کے طرف سے بیڈ پر لیتی تھی شرماجی نے انل اور آنند کو میرے ہاتھ پیر زور سے پکڑ نے کو بولا اور پھر جو ہوا وہ تو میری اب تک کہ سبسے درد ناک رات بن گئی پھر شرماجی نے اپنی سپنکنگ بیلٹ نکلی اور پھر پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک…………پھاتاک………………. پھاتاک آہ اہپلزز نہی پلج شرماجی بوہت در ہو رہے ہے پلج ہ آہ آہ پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک…………وہ اپنی بیلٹ پوری دم سے میری سوفٹ سی گنڈ پر مر رہے تھے اور میں پگلو کہ ترہا چلا رہی تھی اس پزل نہہی کم سے کم 25-30 بیلٹ مرنے کے بعد انہوںنے ایل بریک لیا اور بولی “اب بتا کہا جڑا درد ہوا یہا یا سننی کے یہا….بول رنڈ..تجھے پتا ہے نا یہ تیرے ساتھ کیو ہو رہا ہے نا بول….” “ ہا شرماجی مجھے پتا ہے پلج مجھے اب چھوڑ دو اپ آج سے جو کہوگے میں ہیشا ویسا ہو کرونگی پلج اب مت کرو آپ جہا کہوگے میں وہا چلی جاؤنگی پر اب مت کرو پلج” میں شرماجی سے گدیانے لگی پر اسکا انپر کوئی اثر نہی ہوا اور انہوںنے وہ بیلٹ اب انل کو پکسا دی اور خود انل کہ جاگھا میرے پیر پکڑ کر کھڑے ہو گئے….اب میری گانڈ پوری ترہا سے لال ہو گئی تھی اور سپنکنگ کے نشان بھی پڑ گئے تھے اور بوہت درد ہو رہا تھا…میں من ہی من سوچ لے لگی کہ میں سننی کی آہا کیو نہی گئی جاب ہی ہوتا اسی جڑا دردناک تو نہی ہوتا اور طبی پھر سے انل نے میری ستائی کرنا شرو کیا پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک………… پھاتاک………… اس پزل نہہی آہ اہہ ہاہاہ ہاہا ہاہہا آہ آہ آہ آہ آہ میں بری ترہا سے رونے لگی اور انل نے صرف میری گنڈ پر نہی پر میری پیٹھ اور تھیگھس پر بھی سپنکنگ کاری اور تھوڑی در اور مجھے پنیش کرنے کے بعد وہ لوگ رک گئے اور “بتا رنڈ آج کے بعد ہمرا کہنا منگیی” انل نے پوچھا “ہا ہا بالکل میں آپ کہ رنندی ہوں اپ جو کہوگے میں وہ کرونگی پر ابھی بس کرو پلج بوہت درد ہو رہا ہے” میںنے روتے روتے انسے بولا.

اب تھوڑی اور در موجھے سپنک کرنے کے بعد وہ رک گئے پر انکا کام ابھی خاتم نہو ہوا تھا انہوںنے مجھے بال پکڑ کے اٹھایا اور سیدھے گھر کے بہر لے گئے اور پھر وہا سے کالونی کے گیٹ پر جہا باقی لوگ میرا انتظار کر رہے تھے, انل نے لے جاکے مجھے سیکیورٹی گورڈ والے روم میں پٹک دیا اور پھر انل, شرما جی اینڈ آنند روم میں انڈر آئے اور اپنے کپڑے اتر کر میرے اوپر چڑھ گئے اور تینو نے ایک ایکے چھیڑ پکڑ کر مجھے خوب چھوڑا انکا سارا مٹھ میرے مہ مے کود دیا اور میںنے وہ سارا پی بھی لیا اسکے بد وہ بہر گئے اور پھر بکی کے تین گرڈس انڈر آگے اور میرے اوپر پھر سے تین لوگ چڑھ گئے انہوںنے ایک نے میری چوٹ میں اپنا لنڈ ڈالا اور ایک سے میرے گنڈ پھڈدی اور ایک مہ چھوڑنے لگا اور تھوڑی در تک مجھے کٹیا کہ کرہا چھوڑنے کے بعد انہوںنے اپنا سارا مٹھ میرے مہ پر چھوڑ دیا اور میرے پورا مہ مٹھ سے بھر گیا تھا. اب انل انڈر آیا اور مجھے بال پکڑ کر اٹھایا اور گارڈ روم سے بھارا لے آیا اور کالونی کے گیٹ پر کھڑا کر دیا آرپھیر انل میرے قریب آیا اور مجھے سڑک پر ہی میرے گھٹنو پر بتا دیا اور اپنا سیمی ہارڈ لنڈ میرے فیس پر زور زور سے مرنے لگا اور دھیرے دھیرے وہ ایکڈم ہارڈ ہونے لگا پر تابھی گیٹ پر ایک کار کہ لائٹ چمکی اور میں سماج گئی کہ کوئی کالونی میں ہی اننے والا ہیا میں جلدی سے اٹھ کے گارڈ روم میں بھاگنے لگی تکی مجھے کوئی دیکھ نا لے پر تابھی انل نے میرے بوبس پکڑ کر روک لیا اور بولا “کہا بھاگ رہی ہو رانند” “پلج مجھے جانے دو کار والے مجھے دیکھ لیگنیگ تو پرابلم ہو جائیگی” میں انل سے بولی “پوری کالونی جنتی ہے کٹ ا کتنی بڑی رانڈد ہے ایک دو لوگ اور جان جائینگے تو کیا فرک پڑ جائیگا….چھپ چھاپ یہی کھڑی رہ” اتنا بول کے انل نے مجھے وہی کھڑا رکھا اور وہ کار انڈر آ گئی اور پھر تھوڑا انڈر آکے رک گئی. مجھے لگ رہا تھا کہ اب یہ کار کے انڈر والا انسان بھی مجھے چھوڑیگا اور یہ 6 سے 7-8 ہو جائینگے اور جیسے ہی کار کا گیٹ کھلا اسے میں سے اور کوئی نہی سننی بہاہر آیا وہی انسان جسنے مجھے چڑنے کے لیے گھر بلایا تھا پر میں ہی گئی تھی.

اب سننی میرے پاس آیا اور میرے بال پکڑ کر میرے گال پر زور زور سے 4-5 تھاپد لگیگ اور بولا “کیوں راند میں تجھے بولا تھا میرے گھر آنے کو تو کیو نہی آئی تھی” اتنا بولکے اسنے میرے نپلس پکڑے اور انہے زور سے دبنے لگا آہ پلج آہ س میں آواز نکلنے لگی “مجھے پھاف کردو سننی پلج مجھے غلطی ہو گئی اور آج کے بعد آپ لوگ جو کہوگے میا وہی کرونگی اور مجھے انل اور شرامجی نے اسکی پنیشمینٹ نہی دے دی ہے پلج مجھے چھوڑ دو” آہ “کیا پنیشمینٹ” سننی نے پوچھا. تابھی انل میرے پاس آیا اور میرے گنڈ سننی کہ طرف گھما دی اور میرے گنڈ پر سپنکنگ نے نشان سننی کو دکھا دیے اور تابھی سننی نے 2-3 بار میرے گنڈ سپنک کہ پھر وہ مجھے پکڑ کر اپنی کار کے پاس لے آیا اور اپنی کار کے بونیٹ پے لیٹیا اور اور پھر میری چوٹ میں پھنگرنگ کرنے لگا اور میں آہ آہ س کریک مون کرنے لگی تھوڑی در میں اسنے اپنا موٹا سا لنڈ نکلا اور سیڈدھے پورا میری چھٹ میں دال دیا اور پوری سپیڈ سے مجھے چھوڑنے لگا اور تھوڑی در چھوڑنے کے بعد اپنا سارا مٹھ میرے اوپر چھوڑ دیا اور بعد تو سب نے مجھے ایک ایک کرکے کار کے بونیٹ پر لیٹا کر چھوڑ.

اب یہ سب خاتم ہونے کے بعد سننی کے مجھے اپنی کار میں ڈالا اور سیدیہ اپنے گھر لے گیا اور اسکے بعد اگلے 5 دن تک سننی کے بڑے گھر میں میری لائف کہ سبدے زبردست چڑائی کہ گئی, میںنے اگلے 5 دن ٹکے ک بھی کپڑا نہی پہنا تھا دن میں سننی کے گھر پر اسکے دوست یا اور کوئی آتے تھے اور مجھے کٹیا بنتے تھے اور رات ما میں اپنی کالونی کے کونے کونے میں چوڑوتی تھی مجھے کالونی کے ہر پارک میں, ہر سڑک پر چھوڑا گیا تھا اور انل اینڈ شرما جی بھی کبھی کبھی مجھسے ملنے آ جاتے تھے,….مجھے انلوگو نے مجھے رمیش کے گھر اننے کے کچھ گھنٹو پہلے ہی چھوڑا تھا اور کالونی کے کافی ساری لوگو نے مجھے سڈکو پر چوڑتے دیکھ لیا تھا.

سننی ایک گھر 5 دن میرے ساتھ بوہت کچھ ہوا اور وہ پورا میں اس سٹوری میں نہی بتا سکتی بت کسی اور پارٹ میں بتاؤنگی.
ای’ل پوسٹ تھے نیکسٹ پارٹ سون. اف یو ہوے انیہ سگیسٹان, کویسٹان اور کمینٹ پلس آن نہبرو@گمیل.کام ای عام واٹنگ فار یور پھیڈبک

 
-0-0-0-

سننی کے گھر پر 5 دن تک لگتر چڑائی کروانے کے بعد میں 6تھ دیہ گھر واپس آئی. میری حالت پوری ترہا سے خراب ہو چکی تھی. میری گانڈ اور چھٹ پوری ترہا سے پھٹ چکی تھی, اور بوبس بھی سویل ہو گئے تھے. ان 5 دنو میں میرے ساتھ بوہت کچھ ہوا.

4-4 لنڈ میرے چھیڑو میں ڈالے گئے تھے اور 10-10 لوگو نے ایک بار میں مجھے چھوڑا تھا. مجھے رسی سے بنڈ کر لتکایا گیا تھا اور پھر چھوڑا گیا تھا. انل اور شرماجی بھی وہا کافی بار آئے تھے. میںنے ہر رات رانڈیو کہ ترہا ڈانس کیا تھا اور نا جانے کتنے بار متھ پیا تھا.

پر یہ سٹوری سننی کے گھر پر جو ہوا اسکے بارے میں نہی ہے. یہ سٹوری ہے ایک بار جب انل مجھے اپنے دوست کہ شادی میں لے گیا تھا اور وہا میرے ساتھ جو جو ہوا اسکے بارے میں ہے. گھر واپس آنے کے بعد میںنے کافی ریسٹ لیا. 2 دن تک مجھے کسی نے بھی نہی بلایا یا چھوڑا.

رمیش بھی واپس آ گئے تھے اور نارمل لائف سٹارٹ ہو گئی تھی. 2-3 دن بعد انل کا مجھے مساج آیا, “میری جان بوہت دن ہو گئے ہے تجھے اپنا لنڈ چسواتے ہوئے. تو آج رات کو آجا گیٹ پر میرا لنڈ تیرا انتظار کریگا. اور ہا تجھے تو پتا ہی ہے کہ کیا پہیں کر آنا ہے بھولنا مت.”

میںنے مساج پڑا اور سمجھ گئی کہ انلوگو کہ ہواس پھر سے جگ گئی ہے. یہ اب پھر سے مجھے کٹیا بنانا والے ہے. میں اپنی لاسٹ چڑائی سے آچے سے رکور بھی نہی ہوئی تھی. پر مجھ میں انل کو مانا کرنے کہ ہمت نہی تھی. لاسٹ ٹائم جب میںنے سننی کے گھر جانیز مانا کیا تھا تو مجھے بیلٹ سے سپنکنگ کیا تھا.

اب رات کے 12 باج گئے تھے اور انل کا مسیڈ کال آیا. میرے جانے کا ٹائم آ گیا تھا. انل نے بولا تھا کہ تجھے پتا ہے نا کیا پہیں کے آنا ہے. میں سمجھ گئی تھی کہ وہ چاہتا ہے کہ میں اسکے پاس بنا کپڑو کے جو. جیسے اسے پسند ہے.

میںنے اپنے سوٹ اور سلوار گیٹ پر اتری اور پینٹی برا تو میںنے پہنی ہی نہی تھی. کپڑے اتر کے میں سیدھے گیٹ کہ طرف چل پڑی اور وہا جاکے سیدھے گرڈس روم میں گھس گئی. وہا انل اور 2 لوگ میرا پہلے سے انتظار کر رہے تھے.

جیسے ہی میں انڈر گھسی انل نے بولا, “آ گئی میری رنڈ, آجا بوہت دنو سے تیری مہ میں اپنا لنڈ نہی ڈالا ہے.” اتنا بولکے اسنے مجھے اپنی گود میں بتا لیا اور میرے بوبس کے ساتھ کھیلنے لگا. اور انہے زور زور سے دبنے لگا اور چس نے لگا.

میں تب تک تو ہلکے ہلکے سے مون کر رہی تھی. پر تابھی اسنے زور سے میری گانڈ پر ایک تھاپد مارا. میں اچل پڑی اور زور سے چیک دی. “مت کرو پلس.” تابھی وہ بولا, “لگتا ہے سننی صاحب کے گھر ہوئی تیری چڑائی کا درد ابھی تک ہے.” ایسا بولکے وہ سب حسنے لگے.

میں اب تک اپنی کالونی کے سارے گرڈس تو جان چکی تھی. کیکی وہ اوبوسالی مجھے بوہت بار چھوڑ چکے تھے. پر 2 آدمی جو وہا انل کے ساتھ تھے وہ گورڈ نہی بلکہ انل کے بہر کے دوست تھے. جنکے بارے میں مجھے بعد میں پتا چلا تھا.

اب تک انل نے میرے بوبس چوس چوس کر پورے لال اور گیلے کر دیے تھے. اور پیچھے سے دوسرا آدمی میرا گانڈ پر ہاتھ پھرا رہا تھا. اور میری پیٹھ پر کس کر رہا تھا. تھوڑی در تک ایسے ہی چلتا رہا. اب انل اور اسکا ایک دوست میرے بوبس چوس رہے تھے اور ایک گانڈ سہلا رہا تھا.

“چلو اب اس رنڈ کا اصلی ٹیلینٹ تم لوگو کو دکھتا ہوں کس کام کے لیے یہ اتنی فیمس ہے.” انل نے یہ بولا اور ہس دیا. پھر مجھے اٹھا کر سامنے رکھے چھوٹے سے بیڈ پر پیٹھ کے سائڈ سے لیٹا دیا. میرا ہیڈ نیچے لٹکا دیا. میں انڈر ہی انڈر اپنے مہ اور گل کو انل کا لنڈ لےنے کے لیے تیار کر رہی تھی.

تابھی انل نے ایک اور برتل کام کیا. اسنے اپنی بیلٹ اتر کے میرے گل میں ایک پتّے کہ ترہا تھوڑا ٹائٹلی باندھ دی. “یہ کیا کر رہے ہو انل? نکلو اسے, مجھے آچے سے ساس نہی آ رہی ہے.” میںنے خاصطے ہوئے انل سے بیلٹ ہٹنے کہ ریکویسٹ کہ انل نے تابھی زور سے میرے نپلس دبایے.

وہ بولا, “یا تو یہ بیلٹ تیرے گل میں رہے گی یا تھوڑی در بعد تیری گانڈ پر پڑیگی. جیسے اس دن پڑی تھی اب تیری مرضی ہے. ڈیہائڈ کارلے کہا لےنا ہے تجھے یہ.” انل کے اتنا بولتے ہی اس دن کہ ساری باتیں میرے سامنے آ گئی. میںنے سوچا بیلٹ سے سپنکنگ سے اچھا یہ میرے گل کے اراؤنڈ ہی ہے.

اب انل نے وہ بیلٹ اچھے سے ٹائٹ کر دی تھی. پھر اسنے میرا سر بیڈ کہ ایج پر لٹکا دیا. اپنا موٹا لنڈ میرے سامنے لٹکا دیا. میرے گل کو چھوڑنے سے پہلے اسنے اپنی بڑی بڑی بالس میرے مہ پر لگا دی اور چسنے کو بولا. میں ترنٹ اسکی بڑی بڑی بالس کو عام کہ ترہا چسنے لگی.

پورا پورا مہ کے انڈر لےنے لگی. تھوڑی در ایسے کرنے کے بعد انل نے سبکو بولا. “چلو دوستو انتظار کس بات کا ہے, یہ رنڈ تیار ہے.” اتنا بول کے انل نے اپنا لنڈ میرے مہ میں گھس دیا. اور ہمیشہ کہ ترہا زور زور سے جھٹکے مرنے لگا.

لیکن اس بار میرے گل میں لگی بیلٹ کہ وجہ سے میرے کو بالکل بھی ساس نہی آ رہی تھی. میں بار بار ساس کے لیے تڑپ رہی تھی. تابھی ادھر سے انل کے دوست نے میری چھٹ میں لنڈ دال دیا تھا. وہ بھی کافی بڑا تھا اور اب جو 3رڈ آدمی خالی بچہ تھا.

اسنے میرے بوبس کے ساتھ کھیلنا شرو کر دیا اور انہے بےرحمی سے دبنے لگا. اب ادھر سے انل میرے گل میں بیلٹ بندھ کے میرے گل کو چھوڑ رہا تھا. اور ادھر اسکا دوست اپنا موٹا لنڈ میری چھوٹ میں ڈالے ہوئے تھا. میرا پورا فیس میرے سلیوا سے بھر گیا تھا.

انل مجھے اچھے سے گگ کر رہا تھا اور بار بار لنڈ بہر نکل کر میرے فیس پر جان کر اپنا لنڈ مر رہا تھا. میں بس آوازے نکل رہی تھی. تھوڑی در تک ایسی پازٹن میں وہ مجھے چھوڑتے رہے. پھنلی انل نے میرے مہ کے انڈر ہی اپنا کم چھوڑ دیا اور میںنے بنا اسکے کہے, ایک اچھی رانڈی کہ ترہا وہ پی لیا.

“یہ لے سلیم بھییا میری جگہ اور اس رنڈ کا مہ اسے کرکے دیکھ تیری لائف بن جائیگی” ایسا بول کے انل وہا سے ہٹ گیا اور اسکی جگہ اسکا دوست سلیم آ گیا اور میرا مہ چھوڑنے لگا اور انل اپنا پنت پہیں کے بہر چلا گیا اور مجھے ان دونوں کے لیے چھوڑ گیا.

ان دونوں ایک گھنٹے تک میرے ہر ایک چھید کو اچھے سے چھوڑ چھوڑ کے پورا کھول دیا تھا. اور میری گانڈ اور چھٹ میں ایک ساتھ لنڈ بھی ڈالا تھا. اینڈ میں انہوںنے اپنا کم میرے فیس پر گرا دیا اور ٹیستے کرایا. پر انل کے کم سے زیادہ ٹیسٹی کم میںنے آج تک نہی پیا تھا.

سب خاتم ہونے کے بعد وہ ڈوڈو بھی بہر آ گئے. مہے پتا تھا کہ ابھی یہ سب خاتم نہی ہوا ہے. کیکی ابھی صرف 2 ہی بجے تھے. مجھے پتا تھا کہ یہ لوگ آج تک مجھے 4 بجے سے پہلے نہی جانے دیے ہے تو آج کیسے جانے دینگے. میں وہا لیتی ہوئی ساس لےنے کہ کوشس اور راؤنڈ 2 کا ویٹ کر رہی تھی.

تابھی بہر سے آواز آئی, “رانڈی بھر تو آ.” وہ انل کہ آواز تھی میں جھت سے بیڈ سے کھڑی ہوئی اور بہر نکل کے کھڑی ہو گئی. اور دیکھا کہ وہ تینو تھوڑا دور ایک جگہ اگگ تاپ رہے ہے. “اس بیلٹ کے پتّے کے ساتھ اور پورا مح بھارا ہونے سے تو بالکل ایک کٹیا رنڈ لگ رہی ہے. اب جلدی سے اپنے گھٹنو اور ہتھا پر بیٹھا جا اور یہا آ.”

انل بولا اور زور زور سے حسنے لگا.میںنے کچھ ریکٹ نہی کیا اور وہا کھڑی رہی. “کیا سوچ رہی ہے رانڈی? تو آتی ہے یا میں آؤ اور پھر پوری کالونی کا راؤنڈ ایسے ہی لگواؤنگا کٹیا بنا کے.” میں در گئی کیکی مجھے پتا تھا کہ وہ میرے ساتھ ایسا صحیح میں کر سکتے ہے.

میں ترنٹ اپنے گھٹنو اور ہاتھو پر آ گئی (ڈاگی پازٹن) اور انل کہ طرف چلنے لگی. وہ میرے گل میں بیلٹ اور مح پر تین لوگو کا متھ سے میں صحیح میں ایک کٹیا کہ طرہا پھیل کر رہی تھی. میں انل کے پاس پوہوچی تو اسنے میرے بال پکڑے.

اپنے بالس میرے مہ میں گھسیا اور چسوانے لگا. “دیکھا سلیم اور جاوید بھائی. یہ میرے پرسنل رنڈ اور کٹیا ہے. میں جو کہونگا وہ یہ کریگی بنا کسی ناٹک کے. اور باقی ٹیلینٹ تو آپ اسکے دیکھ ہی چکے ہو. چوڑوانے میں ایکسپرٹ ہو چکی ہے یہ.”انل نے بولا میری گانڈ کو سپنک کرتے ہوئے.

“کیا بات ہے انل یار. میںنے ایسی رنڈ تو اپنی زندگی میں کبھی نہی دیکھی جو ایسے ہوکم منتی ہو اپنے مالک کا,” جاوید نے کمینٹ کیا. “ایک کام کرو انل بھائی اسکو اپنے سوربھ کہ بچیلر پارٹی پے کیو نہی لے آتے? اسکے وہا آنے سے پارٹی میں مز ہی کچھ اور آ جائیگا. کیا کہتے ہو?” سلیم نے کہا.

ایک اور پارٹی کے بارے میں سنکے میں ایکڈم در گئی. جو لاسٹ پارٹی میں سننی کے یہا میرے ساتھ ہوا تھا وہ میں ابھیتک نہی بھولی تھی. “کیا ایڈیا دیا ہے, سلیم بھائی. لیکن صرف بچیلر پارٹی ہی کیو? یہ تو پوری شادی میں ہمارے ساتھ رہہگی اور پورا اینٹرٹینمنٹ کریگی. اپ ٹینشن نا لو اسکا انتیظام میں کرتا ہوں.”انل نے بولا.

میں انل کو مانا کرنا چھہ رہی تھی. پر نہی کر پایی کیکی مجھے در تھا. اسکے دوستو کے سامنے میںنے مانا کیا تو وہ گھسی میں آکے نا جانے مجھے کیا پنیشمینٹ دیگا. اور میں چھپ چھاپ وہا بیٹھی بیٹھی انکی باتیں سنتی رہی.

وہ لوگ اپس میں باتیں کر رہے تھے. شادی کے ٹائم میں مجھے کیسے کیسے چھوڑینگے. اور میں یہ سب سن سن کے در رہی تھی. انل سے آنکھوں سے ریکویسٹ کر رہی تھی پر اسے کوئی فرک نہی پڑ رہا تھا. اسنے مجھے کھڑا کیا اور کھڑی کر کہ ٹرف اشارہ کیا.

بولا, “جا وہا جاکے کھڑی ہو جا, میں آتا ہوں وہا ابھی 2 منٹس میں.” میں چھپ چھاپ کھڑی ہوکے وہا چلی گئی. وہ لوگ باتیں کرتے رہے اور ہستے رہے. 5 منٹس بعد انل وہا سے کھڑا ہوا اور میرے پاس آیا اور بولا, “کیا پرابلم ہے? اس دن کو بھول گئی ہے کیا?”

“نہی انل میں کچھ بھولی نہی ہوں. پر پورے 1 ویک کے لیے میں کیسے آؤنگی اور پلس یہ کیسے کیسے چھوڑنے کہ باتیں کر راہے ہے یہ لوگ. تھوڑا تو رحم کرو مجھپے.”

“کیا رحم کرو سلی رنڈ? یہ پہیلی بار ہے کیا تیرا ایسے چوڑنا? اور 1 ویک کہ چنتا مت کر. گھر پر بول دیو کہ دوست کہ شادی میں جا رہی ہوں. تیرا گانڈو پتی مان جائیگا, سمجھی.”

“پلس انل مت کرو یہ میرے ساتھ.” میں اسے اور ریکویسٹ کہ اور پھر وہ غصہ ہو گیا اور میرا گلا پکڑا اور اس گدی کے بیک سیٹ کہ ونڈو میں میرا ہیڈ گھس دیا. اور پیچھے سے میرے چھوٹ پر زور سے ایک تھاپد دیا. میں اتنی زور سے چلائی کہ وہ دونوں بھی پیچھے دیکھنے لگے.

“رنڈ ہے میری اور میں جو کہونگا وہ کر بس. زیادہ دماغ مت چلا,” یہ بولکے انل نے اپنا لنڈ میری گانڈ کے چھید میں ڈالا. ایک ہاتھ سے میرے بال اور دوسرے سے اس بیلٹ کو پورا پیچھے کھیچ کے پکڑ لیا. میری نیک والی بیلٹ اور ٹائٹ ہو گئی اور سانس کہ اور کمی ہونے لگی.

پھر انل میری گانڈ چھوڑنے لگا. میرے بوبس گھڑی کے گیٹ سے ٹکرا رہے تھے. انل زور زور سے میری گانڈ چھوڑتا رہا اور میں وہا زور زور سے چلتی رہی. پھر جاتے جاتے دونوں نے میری ایک ایک بار گانڈ ماری. پھر مجھے گھٹنو پر ڈاگی شیلی میں ہی گھر بھیجا.

وہ بیلٹ لاسٹ ٹائم تک میرے گل میں لگی رہی تھی. میں گھر جاکے نہا کر سو گئی. سبھا میرے گل کے نشان چھپانے کے لیے میںنے ایک ہائی نیک ڈریس پہنی جیسے مہیش کو پتا نا چلے.

ای’ل پوسٹ تھے نیکسٹ پارٹ سون. اف یو ہوے انیہ سگیسٹان, کویسٹان اور کمینٹ پلس آن نہبرو@گمیل.کام ای عام واٹنگ فار یور پھیڈبک.

-0-0-0-

اب اگلے دن مجھے سبھا سبھا ایک مساج آیا. جسمے انل کے دوست سوربھ کہ شادی اور بچیلر پارٹی کہ ڈیٹس اور ایک ہوٹل کا ایڈڈریس بھی دیا تھا. مجھے جانا تھا بچیلر پارٹی لے لیے. اسکی پارٹی کہ ڈیٹس 3 دن بعد کہ تھی اور میں کافی در چکی تھی.

ان درندوں کے ساتھ 1 ویک بتانے کے خایال سے ہی مجھے در لگ رہا تھا. اور پھر باقی کہ کثر انل نے اس رات میرے گھر آکے پوری کر دی. اسنے میرے گھر آکے مجھے ٹیریس پر لیجا کر پہلے تو خوب چھوڑا. پھر بچیلر پارٹی اور شادی میں میرے ساتھ کیا کیا کرنے کا پلان ہے وہ بھی بتایا. وہ بوہت ڈرونا تھا.

میںنے رمیش کو بولا تھی کہ میں اپنی ایک فرینڈ کہ شادی کے لیے 1 ویک کے لیے جےپور جا رہی ہوں اور رمیش مان بھی گئے. اب نیکسٹ دن تھا بچیلر پارٹی تھی. میں تب تو صرف ایک ریڈ ساری اور برا بلاؤس میں تیار ہو گئی تھی. رمیش کے آفس جانے کے بعد انل نے ایک گھڑی بھیجی.

جیسے ہی وہ کار وہا آئی میں جاکے اسمے بیٹھ گئی. تب دیکھا کہ جاوید ہی چلا رہا تھا وہ. مجھے بلاؤس اور ساری میں دیکھ کر بوہت خوش ہوا اور مجھے آگے والی سیٹ پر بتا لیا. اب وہ مجھے پورا اوپر سے نیچے تک گھر رہا تھا.

تھوڑی در تک ڈرائیو کرنے کے بعد اسنے اپنا ایک ہاتھ اتیا اور میرے بلاؤس پر رکھا. ہاتھ انڈر دال دیا اور بوبس کو دبنے لگا. میںنے ہلکا سا مون کہ.
اور 2 منٹس کے انڈر میرا بلاؤس پورا نیچے آ چکا تھا. وہ میرے بوبس سے ساتھ کھیلے جا رہا تھا.

پھر اسنے اپنا ہاتھ اپنی پنت کے انڈر ڈالا اور اپنا موٹا لنڈ بہر نکل کر میرے ہاتھ میں دے دیا. اس ٹائم میںنے نوٹس کیا کہ اسکا لنڈ بوہت موٹا تھا اور میری گانڈ پھاڈنے لے لیے کافی تھا. وہ میرے ہاتھ کو اپنے ہاتھ سے اپنے لنڈ کو اوپر نیچے کرنے لگا.

دیکھتے دیکھتے وہ لنڈ ایک دم ٹائٹ ہو گیا اور بڑا بھی, “چل آجا رنڈ ذرا میرے لنڈ کا بھی سواڈ لیلے آکے.” اسنے میری گردن پکڑی اور اپنے لنڈ کہ طرف جھکا دیا. پر میںنے ریسسٹ کیا اور بولا, “تھوڑا انتظار کارلو یہا سڑک پر مت کرو. کوئی دیکھ لےگا تو پرابلم ہو جائیگی. ہوٹل جاکے جو کرنا ہے کر لےنا.”

“ہوٹل جاکے تو جو کرنا ہے وہ کرونگا ہی. پر ابھی کیا کرو چل جلدی آجا ورنہ انل کو فون کرنا پڑےگا. اور بتانا پڑےگا کہ اسکو رانڈ میری بات نہی من رہی ہے.” اسنے اتنا بولا اور اپنا موٹا سا لنڈ میرے مح پر لگا دیا.

میںنے چھپ چھاپ اپنا مہ کھولے کے اسکا لنڈ انڈر لے لیا اور چس نے لگی. وہ اوپر سے میرے ہیڈ کو اور فورس کرنے لگا. اسکا لنڈ اتنا موٹا تھا کہ وہ میرے ہاتھ سے بھی پورا پکڑ میں نہی آ ارہا تھا. میرے مہ کہ تو اور بھی حالت خراب ہو گئی تھی.

کچھ در بعد اسنے مجھے اپنے متھ کا بھی سواڈ کرا دیا. پھر لنڈ واپس انڈر کر لیا اور ہم ہوٹل کہ طرف چل دیے. اب ہم ہوٹل پوہوک گئے تھے اور وہ ایک ٹھیک ٹھاک سا ہوٹل لگ رہا تھا. انڈر جاتے ہی جاوید مجھے سیدھے ایک روم میں لے گیا.

وہا انل اور کچھ اور لوگ پیہہے سے ہی بیٹھے ہوئے تھے. انل میرے بکھرے بال دیکھ کر سمجھ گیا کہ گھڑی میں میرے ساتھ کیا ہوا ہے. اور جاوید کو دیکھ کر ہنسنے لگا. تب انل میری طرف اٹھ کے آیا اور پیچھے سے میرے بلاؤس کے ہوک کھولے اور اسے اتر کے سائڈ میں پھیک دیا.

وہ زور زور سے میرے بوبس مسلنے لگا اور پیچھے سے جاوید نے میرے ساری کھولنا سٹارٹ کیا. 2 منٹس کے انڈر میں ان سبکے سامنے ننگی کھڑی تھی چڑنے کو ریڈی. تھوڑی در تک میرے باڈی سے کھیلے نے کے بعد انل مجھے انڈر کے روم میں لے گیا.

وہا جاکے ایک بڑا سا پکیٹ دیا اور بولا یہ پہیں لے ریڈی ہو جا, “کیا ہے یہ?” میںنے پوچھا. “آج تو صرف ایک رانڈی نہی ایک دلہن بھی بنانے والی ہے.” اتنا بولکے انل وہا سے چلا گیا. میں وہ پکیٹ کھولکے دیکھنے لگی تو اسمے ایک لہنگا ٹایپی کہ ڈریس تھی جو مجھے پہنی تھی.

اسکے بعد پتا نہی کیا کرنا تھا. میںنے وہ ڈریس پہن لی. میںنے وہ لہنگا بنا کسی برا اور پینٹی کے پہیں لیا. جب اپنے آپ کو مرر میں دیکھا تو پتا چلا وہ لےگنہا کتنا سکمپی تھا. میں بالکل ایک رانڈی دلہن کے جیسے لگ رہی تھی.

اسکے بعد اچانک سے روم میں 2 لڑکیاں آئی اور مجھے میکاپ کروانے کو بولا. 10 منٹس میں انہوںنے میرا میکاپ کیا اور مجھے ایک دلہن کہ ترہا سجا دیا. اب 2 منٹس بعد انل اور باقی لوگ انڈر آئے اور مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھنے لگے.

“کیا لگ رہی ہے یہ انل بھائی, میرا تو اسے ابھی ہی چھوڑنے کا من کر رہا ہے.” جاوید نے مجھے گھرتے ہوئے کمینٹ کیا. “اپنا نمبر بھی آئیگا جاوید بھائی تھوڑا انتظار کرو. پر ابھی اسی جس کام کے لیے ریڈی کیا ہے وہ تو کارلو.” انل نے ریپلی کیا.

اب انل آگے کا پلان مجھے بتنے لگا. “سن, اب تجھے نیکسٹ روم میں جاکے آج رات کے لیے رنڈ نہی پر ہمارے دوست سوربھ کہ دلہن بنانا ہے. اسے مز دینے ہے, سہاگراٹ کا ایکسپیرئینس دینا ہے.” مجھے پھر وہ دوسرے روم میں لے گئے اور بیڈ پر بتا دیا گھونگھٹ اڑا کے. وہ روم بھی پورا سجا ہوا تھا.

انل مجھے وہا بٹھاکر اور پوری بات پھر سے سمجھا کر چلا گیا. میں وہا انتظار کرنے لگی. 2 منٹس بعد سوربھ انڈر آیا اور میرے سامنے آکے بیٹھ گیا. ہم باتین کرنے لگے اسنے مجھے کچھ سوال پوچھے. پھر ایک دم سے مجھے کس کرنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے دونوں پورے ننگے ہو گئے.

سوربھی کا لنڈ بھی بڑا تھا. میں اسکی ہونے بیوی کے لیے خوش تھی. سوربھ نے مجھے پہلے توہ بوہت پیار اور ارم سے چھوڑا. نا کہ انل اور جاوید کہ ترہا جو ہمیشہ مجھے کتون کہ ترہا چھوڑتے ہے. راؤنڈ 1 میں تو سوربھ نے اپنا متھ کنڈوم میں ہی چھوڑ دیا.

پر جب راؤنڈ 2 آیا تو اس بار اسنے مجھے پہلے سے جڑا دم اور بری ترہا چھوڑا. لیکن انل اور جاوید سے وہ ابھی بھی کم ہی تھا. پر آخر کار سوربھ نے بھی مجھے ایک رانڈ کہ ترہا ٹریٹ کیا. لاسٹ میں اپنا متھ میرے مہ پر چوڑ دیا اور پیلا بھی دیا.

اس ادھے گھنٹے کہ چڑائی سے میں تھوڑی تھک گئی تھی. اب سوربھ نے اپنے کپڑے پہنے اور بہر چلا گیا اور میں وہا ننگی لیتی رہی. 10 منٹس لیتے رہنے کے بعد کچھ 6 لوگ اس روم میں آئے. انل, جاوید, سوربھ, سلیم اور 2 انجان لوگ وہا آئے اور مجھے ننگا پڑا دیکھ خوش ہو گئے.

“یہ لو جاوید بھائی اب اس رانڈ کا میں کام خاتم ہو گیا ہے. اب اگلے 7 دنو لے لیے یہ یہی رہیگی چڑنے کو ریڈی ہر وقت ہر تئیکے سے.” اتنا بولکے انل نے مجھے کھڑا ہونے کو بولا اور اپنے پاس بلایا. میں اسکے پاس گئی. اب تک سبھی لوگ سیویہ انل کے سوفے پر جاکے بیٹھ چکے تھے.

انل نے میرے مہ انکی طرف فیس کیا اور بولا, “اب تیرا جو موتے موتے لنڈو کو اچھے سے چسنے کا ٹیلینٹ ہے نا ان سبکو دکھا دے.” اسنے مجھے میرے کنیس پر بتا دیا اور میں سمجھ گئی کہ اب کھیل شرو ہو چکا ہے. میںنے بنا انل کے بولی ہی اسکا پنت کھولا اور یہ بڑا سا لنڈ میرے سامنے آ گیا.

مجھے انل کا لنڈ سبسے جڑا پسند تھا. میںنے بنا ٹائم ویسٹ کرے انل کا لنڈ مہ میں لےنا سٹارٹ کر دیا. دھیرے دھیرے پورا لنڈ انڈر گل تک لےنے لگی. “کیا بات ہے انل بھائی, اتنی مست ٹریننگ دی ہے اپنے اسکو. لنڈ چسنے کہ اتنا بڑا لنڈ بھی ارم سے پورا چھوسا رہی ہے” جاوید نے پیچھے سے بولا.

“تم لوگ کسکا انتظار کر رہے ہو? یہ ایک سے جڑا لنڈ لےنے کے لیے بھی ٹرینڈ ہے.” انل نے ہنسکے ریپلی کیا. پھر 2 منٹس بعد مجھے 6 بڑے بڑے لنڈو نے گھر لیا تھا. جو ایک ایک کرکے یا کبھی ایک ہی ساتھ میرے مہ میں جا رہے تھے. مجھے اٹھا کے بیڈ پر پھیکا گیا.

جاوید نے سبسے پہلے میری گانڈ پکڑی. وہ خود بیڈ پر لیٹ گیا اور مجھے اپنے اوپر بتا کے لنڈ میرے گانڈ میں دال دیا. اوپر سے سلیم نے میری چھوٹ پر وار کیا اور لنڈ انڈر دال دیے. اوپر سے انل اور دوسرے آدمی میرے مہ میں اپنا لنڈ گھس نے لگے وہ بھی ایک ساتھ.

اب میرے صہیر کا ہر ایک چھید لنڈ سے گرا ہوا تھا. وہ سب پورے دم اور جوش میں مجھے چوڑ رہے تھے. میں چلا تک نہی پا رہی تھی اور صرف ہلکی ہلکی موننگ کہ آوازے نکل رہی تھی. کچھ در تک چھوڑنے کے بعد انلوگو نے پازٹن چنگے کہ.

اب سوفے پر لے آئے تھے اور پورا سوفا میرے زور دار چڑائی سے ہل رہا تھا جیسے کہ ٹوٹ ہی جائیگا. آخر میں 2 گھنٹے بعد یہ گنگبنگ رکا. جب سبنے اپنا متھ میرے ہر ایک چھید میں بھر دیا. میری چھٹ, میری گانڈ اور مہ اور فیس پر متھ لگا ہوا تھا. کافی سارا تو میرے مہ میں بھی بھارا تھا جو کہ میں پی گئی تھی.

اب راؤنڈ 1 خاتم ہونے کے بعد وہ سب سوفے پر جاکے بیٹھ گئے. میں زمین پر پڑی زور زور سے ساس کے رہی تھی اور تھک گئی تھی. اب تھوڑی در تک پڑے رہنے کے بعد مجھے ذرا ہوش سا آیا. میںنے باتھروم میں اپنا مہ صاف کیا اور سب جگہ سے انکا متھ ہٹایا.

پھر بہر آئی. انل مجھے اپنی طرف بلایا اور بلا کے اپنی گود میں بتا لیا. اسکا لنڈ میرے گانڈ کو چو رہا تھا اور اسمے ابھی بھی ہارڈنیس تھی. اسکا مطلب تھا کہ راؤنڈ 2 بھی جلدی ہونے والا ہوگا. “مز آیا?” انل نے دھیرے سے میرے کان میں پوچھا.

“ہا بوہت آیا,” میںنے ریپلی کیا. “ابھی تو بوہت کچھ باقی ہے میری جان.” انل نے اپنا فون نکلا کے ڈائل کرنے لگا اور بولا. “ہا آجاؤ جاؤ روم میں اور سنو سب کچھ ریڈی کرکے آنا.” میں سمجھ گئی کہ اب اور لوگ آنے والے ہے اور میرے ساتھ کچھ خطرناک ہونیوالا ہے.

2 منٹس تک انل میرے بوبس سے کھیلتا رہا اور پھر روم کہ بیل باجی. میں سمجھ گئی کہ جسکو فون کیا تھا وہ لوگ آ چکے ہے. اب انل نے میری طرف دیکہ اور مجھے گیٹ کھولنے جا اشارہ کیا. میںنے بولا کہ میںنے کپڑے نہی پہنے ہے پر اسنے میری ایک نا سنی اور میری گانڈ کو سپنک کرکے گیٹ کھولنے کو بھیج دیا.

اب میں کافی دری ہوئی تھی پر میرے پاس اور کوئی آپشن ہی نہی تھا. میںنے دھیرے سے گیٹ کھولنا شرو کیا. جیسے ہی وہ گیٹ پورا کھلا میں سامنے دیکھ کر ایک دم در گئی اور ساتھ ساتھ چوک بھی گئی. وہا 2 لوگ کھڑے تھے ایک کمرہ لیکے.

میں انہے دیکھا اور جلدی سے انڈر آگئی اور اپنی ساری کا پلو اپنے بوبس پر دال لیا. انل کو بولی, “ایسا مت کرو پلس. تمہارے پاس تو انتی ساری پھوٹوس پہلے سے ہی ہے اور وڈیو کیو بنانا ہے?”

“ارے یہ تو بس ایک گفٹ ہے ہمرا تیرے لیے اور سوربہ کے لیے. اسے یاد تو رہنا چاہیے نا کہ اسکی بچیلر پارٹی کیسے تھی.” انل نے ان دونوں کو پاس بلایا اور میرے فیس کمرہ کہ طرف کر دیا اور پلو ہٹا دیا.

اب تک تو میری 12-13 وڈیو تھی جو کہ صرف انل کے پاس تھی اور تھوڑے شرما جی کے پاس. پر اس دن کے بعد میں سمجھ گئی تھی کہ اب میں ایک پورن سٹر بننے والی ہوں ادھر کمرہ والا آیا اور وہا سبکے لنڈ راؤنڈ 2 کے لیے ریڈی ہو گئے تھے.

تابھی انل نے اپنا پھیوریتے کام کیا. میرے ہاتھو کو پیچھے بندھ دیا اور پھر گیٹ سے بال پکڑ کے سوفے سے پاس لے آیا. وہاں سب لوگ مجھے کٹیا بنانے کے لیے تیار بیٹھے تھے. اب انل نے مجھے میرے گھٹنو پر بتا دیا اور پھر 7 لنڈو نے میرے فیس تو ہر جگہ سے گھیر لیا تھا.

جاوید نے شروٹ کہ. میرے بال پیچھے سے پکڑے اور اپنا موٹا لنڈ میرے مہ کے انڈر تک دال دیا اور انڈر بہر کرنے لگا. وہ کمرہ والا اس سمیہ کمرہ بالکل میرے فیس کے پاس لے آیا اور میرے مہ کہ چڑائی رکارڈ کرنے لگا تھا.

“ذرا کمرہ میں بھی دیکھ رنڈ” انل نے پیچھے سے بولا. میںنے جاوید کا لنڈ چستے چستے کمرہ سے انکائیں ملایی. اب سبنے 7-8 منٹس تک میرے مہ کو چھوڑا اور میرے پورا فیس اور بوبس گیلے ہو چکے تھے. وہ لوگ بیچ بیچ میں مجھے آچے سے سپنک بھی کر رہے تھے اور گلیاں بھی دے رہے تھے.

یہ سب آچے سے رکارڈ ہو رہا تھا. اب جب میرے مہ کہ چڑائی خاتم ہو گئی تو جاوید نے مجھے اٹھایا اور سوفے پر پٹک دیا. خود سوفے پر لیٹ گیا اور مجھے اسکے اوپر چڑھنے کو بولا. بنا کچھ بولی میں وہا چڑھ گئی اور زور زور سے اسکے لنڈ اچل نے لگی.

پھر کچی در میں میرا خالی چھید بھی ایک موتے سے لنڈ نے بھر دیا اور پھر مہ بھی. جو مجھے پوری سپیڈ میں اور پوری دم سے چھوڑ رہے تھے. میں انکے روکنے کے لیے کچھ بھی نہی کر پا رہی تھی کیکی میرے ہاتھ پیچھے باندھے ہوئے تھے. اگر میں انکے روکنے کی کوشش بھی کرتی تھی تو وہ رکیتے تو نہی تھے.

اب وہ لوگ پوسے بادل بادل کے مجھے 1-2 گھنٹے تک چھوڑتے رہے. آخر میں متھ نکلے نے کے ٹائم انل نے ایڈیا دیا کہ آج اسکو سبکا متھ ایک ساتھ پلتے ہے. یہ سن کر میں در گئی اور سوچنے لگی کہ یہ کیا کریںگے. انل نے مجھے اپنے پاس بلایا اور بولا, “یہا بیٹھ اور اپنا مہ کھولکے رکھنا. میں جبتک نا کاہو کچھ بھی سوالو مت کرنا.”

میں چھپ چھاپ وہا مہ کھول کے بیٹھ گئی. ایک ایک کرکے ان سبنے اپنا متھ میرے مہ میں بھر دیا. مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ کسی نے ایک گلاس متھ بھرکے میرے مہ میں دال دیا ہے. متھ اتنا جڑا ہو گیا تھا کہ وہ میرے مہ سے بہر نکل کر زمین پر بھی گر گیا تھا.

مجھے بوہت گندا لگ رہا تھا پر میں کچھ نہی کر سکتی تھی. پھر وہ کمرہ والا میرے مہ کے پاس آیا. انل نے بتایا کہ کیسے اس رانڈ نے 7 لوگو کا متھ اپنے مہ میں بھر رکھا ہے. “چل, اب اسے پی رنڈ.” انل نے بولا. میںنے سارا متھ ایک بار میں پینے کہ کوشش کہ پر نا کر پایی.

کافی سارا متھ میرے مہ سے اچل کر زمین پر جا گرا. مجھے الٹی سی آ رہی تھی پر میںنے کیسے بھی کرکے اسے کنٹرول کیا. تابھی انل نے میرے بال پیچھے سے پکڑے اور 2 تھاپد میرے گال پر دیے. “صلی رنڈ اتنا کمتی مح تونے زمین پر کیسے گریا?”

“وہ بوہت جڑا ہو گیا تھا, انل” میںنے اسے بولا. انل نے میرے مہ زمین سے لگایا اور بولا, “چھات کے صاف کر اسکو رانڈ, بالکل صف کر ایک ایک بند بھی نہی بچنی چاہیے, سمجھی.” اور تابھی پیچھے سے کسی نے میرے چھٹ میں زور سے سپنکنگ کہ.

میںنے پھر اپنی جیب نکلی اور دھیرے دھیرے وہ سارا متھ چھات کر صاف کرنے لگی. کمرہ من یہ سب رکارڈ کر رہا تھا. کچھ در میں وہ سب میںنے چھت کے صاف کیا. اب انل نے کمرہ والا کو پاس بلایا اور میرے فیس کے سامنے روکا. پھر مجھے سے گندے گندے سوال پوچھنے لگا.

“بتا رانڈ اتنے سارے لوگو کا متھ ایک ساتھ پیکے مز آیا تجھے?”

“ہا بوہت آیا.”

“بتا سبکو کہ تو کیا ہے میری اور میں تیرے ساتھ کیا کرتا ہوں.”

“میں انل کہ پرسنل رنڈ ہوں. وہ مجھے جیسے چاہے جہا چاہے اور جب چاہے وہا چھوڑ تا ہے. اسکے دوست بھی مجھے چھوڑتے ہے. وہ مجھے اپنی کٹیا بنا کے رکھ تے ہے.”

“تجھے سبسے جڑا کسکا لنڈ پسند ہے?”

“مجھے سبسے جڑا انل کا لنڈ پسند آتا ہے کیکی وہ بوہت بڑا اور موٹا ہے اور مجھے بنا رکے چوڑتا ہے.”

“تجھے اپنے پتی سے چوڑوانا کیسا لگتا ہے?”

“مجھے اسسے چوڑوانے میں بالکل مج نہی آتا ہے. انکا لنڈ چھوٹا ہے اور وہ جلدی جھڑ جاتے ہے.”

“تجھے یہ سب کرنا کیسا لگتا ہے?”

“مجھے یہ سب کرنے میں بوہت مز آتا ہے. انل اور اسکے دوستو کا لنڈ مجھے بوہت پسند ہے.”

انل نے کافی سارے ایسے سوال پوچھے اور میں رنڈ کہ ترہا انکے جواب دیے جا رہی تھی. اب جب یہ سوال جواب خاتم ہو گئے تو جاوید نے مجھے اٹھایا اور اٹھکے باتھروم میں لے گیا. وہا جاکے کمرہ من کو انڈر بلایا اور وہا اسے باتھروم میں کمرہ سیٹ کروا لیہ.

کمرہ من اینڈ جاوید اب پورے ننگے ہو گئے. سبسے پہلے توہ میںنے اندونوں کہ گانڈ چتی اور پھر اسکے بعد دونوں نے مجھے شاور نے نیچے اچھس سے چھوڑا. اینڈ میں اپنا متھ میرے فیس پر چھوڑ دیا اور صاف کرنے کا آرڈر بھی دیا.

تھوڑی در بعد میں باتھروم سے ننگی ہی بہر آ گئی. دیکھا کہ روم میں کوئی نہی تھا. میںنے اس بات کا پھائدہ اٹھایا اور جلدی سے جاکے بستر میں سو گئی. مجھے پتا تھا کہ اگلے 7 دن مجھے یہا کوئی ارم نہی ملنے والا ہے.

نیکسٹ پارٹ میں ایک سپیشل انسان کہ اینٹری ہوتی ہے جسی آپ بوہت آچے سے جانتے ہو. ویٹ فار تھے نیکسٹ پارٹ. ای’ل پوسٹ تھے نیکسٹ پارٹ سون. اف یو ہوے انیہ سگیسٹان, کویسٹان اینڈ کمینٹ, سینڈ آن نہبرو@گمیل.کام. ای عام واٹنگ فار یور پھیڈبک.

-0-0-0-

0 comments:

Post a Comment