مزنی کا بس کا سفر (پارٹ 1) از ڈاکٹر امجد حسین
مزنی ابھی ابھی اٹھارہ سال کی ہوئی تھی اور اسکے والدین نے اجازت دے دی تھی کہ وہ اب اکیلے میٹرو سے سفر کرے۔ وہ خوش تھی کہ اب سینئر ایر میں اس کے اوپر کسی طرح کا دباؤ نہیں رہے گا۔ اس کا بدن گداز اور بھرا بھرا تھا، اس کے باوجود وہ اٹھارہ سال سے کم کی لگتی تھی۔ وہ سیاہ بال سیاہ آنکھوں اور درازقد کی مالک تھی۔ گداز بدن ہونے کا یہ ہرگز مطلب نہیں تھا کہ و مطلب نہیں تھا کہ وا یہ ہرگز مطلب نہیں تھا کہ و مطلب نہیں تھا کہ وہ موٹی تھی۔ مشکے سویٹر شیٹ اور جیکٹ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوتے،اس کے30ڈی سائز کے ممے چھپانے میں ناکام ہی رہتے۔ مردوں کو اس کا چلنا بہت ہی پسند تھبہت ہی پسند تھی پسند تھا،کیونکہ اس طرح وہ اس کے گداز کولھوںھوں اور ٹائٹ گانڈ سراہ سکتے تھے۔ اپنے کیتھولک سکول کے یونیفارم میں وہ ہر مرد کی تمنا تھی۔ اور اسی لئے اس کے والدین اس کیلدین اس کی حفاظت کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
بس میں مزنی کا پہلا دن یادگار رہا۔ یہ پہلی بار تھا کہ وہ بغیر اپنے والدین اور دوستوں کے اکیلے باہر نکلی تھی۔ لیکن وہ بس کے سفر کا خاطر خواہ لطف نہیں اٹھانہیں اٹھا سکی کیونکہ بس اس کے خیال میں بھری ہوئی تھی اور وہ اس کے پیچھے کے حصے میں کھڑی تھی۔۔۔ اسے حیرت تھی کہ اسے اتنا دھکا کیوں لگ رہا ہے جبکہ بس میں کافی جگہ تھی۔ ہفتہ بیت گیا اور اس کے بعد مزنی کو اپنے سوالات کا جواب مل گیا جب اگلے ہفتے چیزیں ذرا بدلنا شروع ہوئیں۔ جیسے ہی وہ اپنے مخصوص مقام پر آ کر کھڑی ھوئی،اس نے محسوس کیا کہ اس کے آس پاس وہی لوگ موجود ہیں جو ہفتے بھر تھے۔جس کو ایک جھٹکا لگا اور اس کی ابھری ہوئی گانڈ پر ایک ہاتھ آ ٹھہرا۔ اسے لگا کہ یہ غلطی سے ہوگیا ہوگا اور جیسے ہی اس شخص کے قدم جمیں گے وہ ہاتھ ہٹ جائے گا۔ سیکنڈز گزرتے رہے اور وہ ہاتھ ہلا بھی تو اس کی گانڈ پر پھیرنے کے لیے۔ مزنی گھبرا گئی اور وہ نہیں سمجھ پائی کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔ اس کی جھجک اس ہاتھ کے لیے حوصلہ افزا تھی، وہ اور بے باکی سے اس کی گانڈ مسلنے لگا۔ ہاتھ کی تعداد 2 ہوگئی اور پھر تین۔ مزنی کا چہرہ شرمندگی سے سرخ ہو گیا اور حدت سے دہکنے لگا لیکن اس نے کچھ نہیں کیا۔ جیسے جیسے بس لوگوں کو انکے مقامات پر چھوڑتی گئی، کم ہونے والے ہاتھ نئے ہاتھوں سے تبدیل ہوتے گئے۔ اسکول پہنچے تک مزنی کو پکڑا ،سہلایا اور رگڑا جاتا رہا۔بس سے اترتے وقت اس کا سارا بدن دہک رہا تھا اور اس کی سھا اور اس کی سانسیں تیز ہو گئی تھیں۔

0 comments:
Post a Comment